38

امریکہ مخالف بیانیہ USAID کی خیبرپختونخوا میں 1427 ملین ڈالر کی امدادی سرگرمیاں جاری

امریکہ مخالف بیانیہUSAID کی خیبرپختونخوا میں 1427 ملین ڈالر کی امدادی سرگرمیاں جاری
پشاور(نیوز رپورٹ) عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیے کے باوجود تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت کے امریکہ کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات ہیں۔امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) صوبے میں مختلف شعبوں میں 1427 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ اورسابقہ حکومت کے دور میں 21منصوبوں کا اغاز کیا گیا ۔امریکی عوام کی طرف سے 130 ملین ڈالر کے عطیہ کے ذریعے، امریکی حکومت پہلے ہی صوبے میں گومل زام ڈیم کو مکمل کر چکی ہے۔یو ایس ایڈ 2022-23 کے دوران خیبرپختونخواکے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 19 ارب 81کروڑ روپے کی گرانٹ کے ساتھ سب سے بڑا ڈونر ہے۔امریکی عوام کے ٹیکسوں سے صوبے میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، توانائی، گورننس، انسانی امداد، اقتصادی ترقی اور ثقافت کے تحفظ اور بحالی کے منصوبوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں۔جنگ کے پاس دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یو ایس ایڈ خیبرپختونخوا حکومت اور صوبے کے مختلف اداروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔یو ایس ایڈ دہشتگردی سے متاثرہ سرکاری اسکولوں، صحت اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے پروگرام پر124 ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے تاکہ ضروری فرنیچر اور لیبارٹری کا سامان فراہم کرکے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا جائے اور 2010 کے سیلاب سے تباہ شدہ آبپاشی اور مواصلاتی ڈھانچے کو بحال کیا جاسکے ۔یہ منصوبہ دیر اپر، دیر لوئر، مالاکنڈ، سوات، شانگلہ، بونیر، پشاور، نوشہرہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 2010 میں شروع ہوا اور ستمبر 2023 میں مکمل ہوگا۔اسی طرح میونسپل سروسز ڈیلیوری کا ایک اور اہم منصوبہ 2011 میں 56 ملین ڈالر کی رقم سے شروع کیا گیا اور امید ہے کہ ستمبر کے رواں مہینے میں مکمل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد خیبرپختونخوا کے چھوٹے اور درمیانے شہروں بشمول مالاکنڈ، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شہریوں کی بنیادی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے کے لیے میونسپل سروس کی فراہمی میں مسلسل بہتری لانا تھا۔گومل زام ڈیم کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ ستمبر 2015 میں شروع کیا گیا تھا اور یہ جون 2024 میں 12.9 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوگا۔اس سے کمانڈ ایریا میں191,000 ایکڑ رقبے پر پانی دستیاب ہوگا، جس سے کمانڈ ایریا کی مربوط ترقی، فارم واٹر مینجمنٹ، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ اور ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں موثر مارکیٹنگ ہوگی۔امریکی حکومت پہلے ہی گومل زام ڈیم کو مکمل کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی توانائی کی صلاحیت میں 17 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے جو کہ 20ہزار سے زیادہ گھروں کو بجلی فراہم کرنے اور 30ہزارگھرانوں کے لیے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کی کافی صلاحیت رکھتا ہے۔فاٹا ریفارمز سپورٹ ایکٹیوٹی کا آغاز 2018 میں 7 15.ملین ڈالر کی لاگت سے کیا گیا تھا، کے پی ریونیو موبلائزیشن ایکٹیویٹی کا منصوبہ 2020 میں 8 ملین ڈالر کی رقم سے شروع ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں