Mufti gulzar Ahmed Naeemi 68

امریکہ دنیا کو امن نہ دے سکا. تحریر مفتی گلزاراحمد نعیمی

60 / 100

امریکہ دنیا کو امن نہ دے سکا.

تحریر مفتی گلزاراحمد نعیمی

آج کابل سے امریکی ڈرون حملہ کی خبر آئی دس سے زیادہ انسانی جانیں تلف ہوئیں۔افغانستان میں جب امریکہ داخل ہوا تو اس نے آغاز بھی باردو سے کیا اور آج نہایت بری شکست سے دوچار ہوگر افغانستان سے بھاگا تو اسکا آخری عمل بھی اپنے بارود کے ذریعے انسانوں کا قتل ہی ٹھہرا۔انہدام روس کے بعد امریکہ نے تقریبا چالیس سال سے زائد تک پوری دنیا پر بطور سپر پاور کے اپنی دھاک بٹھائے رکھی۔اگر وہ چاہتا تو اپنی اس شان وشوکت کو مزید برقرار رکھ سکتا تھا مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔افغانستان سے دم دبا کر بھاگ جانے کے بعد وہ اپنے آپ کو سپر پاور کہلانے کا حقدار نہیں رہا۔
ابھی تک امریکہ نے انسانیت کو دکھ درد اور رنج والم سے ہی دوچار کیا ہے۔اس نے پوری دنیا سے قدرتی وسائل لوٹے اور اپنی تجوری کو ہی بھرا۔دنیا کے غریب ممالک بے شمار انسانی مسائل کا شکار رہے مگر امریکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک چھڑکتا نظر آیا۔آج تیسری دنیا غذائی قلت کا شکار ہے تو اسکی وجہ امریکہ ہے، آج دنیا میں ادویات کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں تو اسکی وجہ امریکہ کا جنگی جنون ہے۔آج کمزور اقوام غلامی کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہیں تو اس کے پیچھے بھی امریکہ کی دنیا کو غلام بنائے رکھنی کی حکمت عملی کارفرما ہے امریکہ چاہتا تو اسلامی دنیا کے دو اہم مسائل مسئلہ کشمیر و مسئلہ فلسطین حل ہو سکتے تھے مگر اسکی پالیسی مسلمانوں کو ہمیشہ مسائل سے دوچار رکھنے کی رہی۔فلسطینی مسلمان ہوں یا شام وعراق کے، سب پر امریکی اسحلہ ہی موت بکھیرتا نظر آیا۔اہل کشمیر پر بزدل مودی کو اگر امریکہ کی اشیرباد حاصل نہ ہوتی تو وہ خود کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے کبھی قابل نہ ہوتا۔
یہ ایک یاد رکھنے والی بات ہے جو تاریخ عالم ہمیں بتاتی ہے کہ اجسام پر حکومت کبھی دیر پا نہیں ہوتی اصل حکمرانی دلوں پر ہوتی ہے جو عدل وانصاف اور انسانیت کو اسکا شرف دینے سے حاصل ہوتی ہے۔امریکہ نے اپنے جبرو استبداد کے ذریعے اجسام کو جھکانے کی پالیسی اپنائی وہ کسی خطے کے عوام کے دلوں کو کبھی بھی نہ جیت سکا۔بادشاہوں اور ڈکٹیٹرز کے ذریعے اس نے مختلف ممالک میں دہشت پھیلائی۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ بادشاہ بھی ذلیل ہوتے رہے اور ڈکٹیٹر بھی ذلت آمیز شکستوں سے دوچار ہوتے رہے۔آج ان بادشاہوں اور ڈکٹیٹرز کا سرپرست بھی بہت بری طرح عبرتناک شکست سے دوچار ہوکر بھاگ نکلا ہے۔اگر پاکستان کی افواج اور سیکورٹی کے ادارے امریکہ اور اسکی اتحادی افواج کی مدد نہ کرتے تو افغانستان سے سب کی سربریدہ لاشیں اپنے ملکوں کو جاتیں۔امریکہ اور اسکے حواریوں کو ریاست پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے انکی جان بچائی۔لیکن ایک بے وفا اور روایات سے بے بہرہ امریکہ کو اخلاقیات کون سکھائے۔ تاریخ یہی لکھے گی کہ اگر امریکہ کی پاکستان مدد نہ کرتا تو افغانستان امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیے جہنم بن جاتا۔
تاریخی حقیقت کا یہ سبق ان مسلمان ممالک کے لیے بھی ہے جو امریکہ کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔انکو سوچنا ہوگا کہ عالم اسلام کی اصل طاقت پاکستان ہے۔اگر پاکستان مضبوط ہے تو عالم اسلام مضبوط ہے اگر یہ کمزور ہے تو پھر کوئی اسلامی ملک محفوظ نہیں ہے۔خصوصا مشرق وسطی کے عرب ممالک کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے مقابلے میں امریکہ اور بھارت کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟؟؟ عالم اسلام کو مضبوط کرنے کے لیے انہیں پاکستان کا ساتھ دینا ہوگا۔
افغانستان کی طویل جنگی تاریخ کا تو یہی سبق ہے۔
وماتوفیق الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں