58

امریکہ افغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد اب وہاں خانہ جنگی پیدا کرنے کے درپے ہے، ایران

5 / 100

ایران کی وزارت خارجہ کے شعبہ جنوبی ایشیا کے سربراہ نے افغانستان کے موجودہ حالات کو انتہائی اہم اور حساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں عبرتناک شکست کھانے کے بعد اب وہاں خانہ جنگی پیدا کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے جبکہ افغان عوام ملک میں قیام امن کے خواہاں ہیں۔


فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے شعبہ جنوبی ایشیا کے سربراہ سید رسول موسوی نے سرکاری ٹی وی چینل دو کے ایک پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہا: “امریکہ نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بہانے افغانستان پر حملہ کیا اور بعد میں اپنے اہداف میں توسیع کر دی۔ افغانستان پر فوجی قبضے کے 20 سالوں کے دوران امریکہ نے مختلف قسم کی اسٹریٹجیز آزمائیں اور اس ملک کو اپنا اسلحہ چیک کرنے کی لیبارٹری میں تبدیل کر ڈالا جس میں mother of bombs نامی بم بھی شامل تھا۔ لیکن اس کے باوجود اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور افغانستان میں اپنا مستقبل تاریک دکھائی دینے لگا۔” انہوں نے مزید کہا: “جب امریکی حکام کیلئے افغانستان میں اپنی شکست پوری طرح واضح ہو گئی تو انہوں نے اس ملک سے نکلنے کے راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔ یوں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکہ درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں آج امریکہ کیلئے افغانستان سے فوجی انخلاء ممکن ہوا ہے۔”

ایرانی وزارت خارجہ کے شعبہ جنوبی ایشیا کے سربراہ نے کہا کہ افغانستان میں صرف امریکہ کو شکست نہیں ہوئی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نیٹو اور امریکی اتحادیوں کو بھی شکست ہوئی ہے۔ سید رسول موسوی نے کہا: “ویت نام میں صرف امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن افغانستان میں امریکہ کے ساتھ ساتھ نیٹو اور امریکی اتحادی ممالک بھی شکست کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے پچاس ممالک کے ساتھ مل کر القاعدہ اور طالبان کے خلاف اتحاد تشکیل دیا تھا۔ یہ اتحاد افغان عوام کے خلاف نبرد آزما رہا اور آخر میں ذلت آمیز شکست کھا کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہو گیا۔” انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ ایران نے طالبان سے مذاکرات کیوں انجام دیے اور تہران میں بین الافغان مذاکرات کی نشست کیوں منعقد کی؟ کہا: “جب محمد حنیف آتمر، افغانستان کے موجودہ وزیر خارجہ، قومی سلامتی کے مشیر تھے، اس وقت انہوں نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب شمخانی سے درخواست کی کہ وہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا زمینہ فراہم کر دیں۔”

سید رسول موسوی نے مزید کہا: “اگرچہ طالبان سے مذاکرات کی درخواست افغان حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تھی لیکن اور جناب شمخانی نے کابل دورے کے دوران حکومتی عہدیداروں کو اس بات سے آگاہ بھی کیا کہ طالبان ان سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، لیکن امریکی اثرورسوخ کے باعث یہ مذاکرات منعقد نہ ہو سکے۔ یہ بات چار سال پہلے کی ہے۔ لہذا اب جبکہ امریکہ افغانستان سے نکل چکا ہے تو افغان حکام آسانی سے تہران آئے اور طالبان سے مذاکرات انجام دیے۔” انہوں نے کہا کہ اسی وقت یعنی چار سال پہلے سے ایران نے افغانستان میں قیام امن کیلئے قومی حکومت کی تشکیل کا منصوبہ پیش کر دیا تھا۔ لیکن امریکہ نے ایران کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہننے سے روک دیا اور طالبان سے براہ راست مذاکرات کر کے ایسی صورتحال پیدا کر دی جس کا نتیجہ ہم آج افغانستان میں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی وقت بین الافغان مذاکرات انجام پا جاتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں