20

امریکا میں بجلی کے ذرائع اور پاکستان.فرقان مجید

51 / 100

امریکہ میں بجلی بنانے کے بہت سے ذرائع کو بروئے کار لایا جاتا ہے یا یوں کہیے کہ کوئی طریقہ ایسا نہیں چھوڑا جاتا جس سے بجلی بن سکے، آپ یہ بات سن کر حیران ہو جائیں گے کے امریکہ میں چھوٹے بڑے تقریباً 84 ہزار ڈیمز ہیں یعنی جہاں ان کو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے یہ اس جگہ بقدر جثہ ڈیم بنا دیتے ہیں، جن میں اچھی خاصی تعداد ایسے ڈیمز کی ہے جہاں بجلی پیدا کی جاتی ہے اور باقی ماندہ پانی کے ذخیرے علاقائی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔

آپ کو یہاں بڑے بڑے سولر پاور سیٹیز نظر آئیں گے، جس علاقے میں ہوا زیادہ چلتی ہے وہاں تا حد نگاہ ونڈ پاورپلانٹس نظر آتے ہیں، گیس اور نیوکلیئر انرجی کو بھی بجلی بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح پورے امریکہ میں تقریباً 241 کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹس ہیں جو بڑے بڑے دریاؤں کے کنارے بنائے گئے ہیں تاکہ کوئلے کی ترسیل میں پانی کے ذریعے چھوٹے بحری جہازوں کی مدد سے آسانی رہے۔ گو کہ بجلی بنانے کے لئے یہ کچھ خاص ماحول دوست طریقہ نہیں ہے بین الاقوامی سطح پر وقت کے ساتھ دیگر توانائی پیدا کرنے کے ذرائع پر زور دیا جا رہا ہے جو کم سے کم آلودگی کی وجہ بنیں اور تیزی سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی پر بھی نظر رکھی جا سکے۔

پاکستان میں گزشتہ دنوں صرف ایک کوئلے کا پاور پلانٹ بنایا گیا جو کہ ساہیوال میں موجود ہے، جس پر ملکی سطح پر بہت لے دے ہوئی اس وقت کی اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف کا موقف تھا کہ بجلی بنانے کے دوسرے طریقوں پر زور دیا جائے، جب کہ اس وقت کی حکومت مسلم لیگ نون کا موقف تھا کے کہ ملک میں شدید توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ہمیں ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو ہمیں فوری توانائی فراہم کرسکیں وہ اسے کڑوا گھونٹ بھی قرار دیتے رہے ہیں یہاں یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ماضی قریب میں امریکہ اور یورپ میں بہت سے کوئلے کے پاور پلانٹ ریٹائر کر دیے گئے ہیں اور جتنے بھی نئے منصوبے لگائے گئے ہیں وہ ایشیا میں ہی لگائے گئے ہیں جو سب کے سب چائنا فنڈڈ ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی پولیوشن کو کافی حد تک کم کیا گیا ہے، ایسے انٹرنیشنل معاہدے ہو چکے ہیں جن کے بنائے ہوئے رولز کے بغیر کوئی ملک کوئلے کے پاور پلانٹس نہیں بنا سکتا، امریکہ میں چلنے والے کوئلے کے پلانٹس پر گہری نظر رکھی جاتی ہے اور آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لئے بہت سے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ان سب اقدامات اور دنیا کی کل توانائی کا ایک تہائی پیدا کرنے کے باوجود کوئلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبوں کا مستقبل مخدوش ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کہہ چکے ہیں کے ”او ای سی ڈی“ ممالک 2030 تک کوئلے کے پاور پلانٹ بند کر دیں اور باقی ماندہ دنیا 2040 تک۔

پاکستان پانی، سولر اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک بہترین سرزمین ہے لیکن بدقسمتی سے قومی اتفاق رائے کے فقدان کی وجہ سے ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں، آمریت کے زمانے میں بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا حالانکہ اس وقت کے حکمران ملک کے طاقتور ترین لوگ تھے جن کو کسی قومی اتفاق رائے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی کسی کے دباؤ میں کوئی فیصلہ نہ کرنے کی کوئی وجہ، وہ جو چاہتے کر سکتے ہیں لیکن طاقت کے ساتھ ویژن کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم جناب عمران خان نے الیکشن سے پہلے بہت سے وعدے کیے تھے جن میں توانائی کے متبادل ذرائع اور ڈیم بنانے کے وعدے بھی شامل تھے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان منصوبوں پر قومی اتفاق رائے پیدا کر کے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں