253

امت کو درپیش چیلنجز کے حل کیلئے مسلم ممالک میں اتحاد ناگزیر ہے،سعودی فرمانروا

امت کو درپیش چیلنجز کے حل کیلئے مسلم ممالک میں اتحاد ناگزیر ہے،سعودی فرمانروا
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ امت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مسلم ممالک میں اتحاد ناگزیر ہے جبکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جانا چاہیے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں پارلیمانی وفد نے سعودی شاہی محل میں شاہ سلمان سے ملاقات کی۔

ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، مسلم امہ کو درپیش چیلنجز اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی وفد میں اسپیکر قومی اسمبلی سمیت حکومتی و اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل تھے۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسلم امہ کو درپیش چیلنجز اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہیے۔

اسد قیصر نے سعودی فرمانروا کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 141 دنوں سے جاری کرفیو کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو چکے ہیں اور اس صورتحال کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور سعودی عرب پاکستان کا سچا دوست اور مخلص بھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام، سعودی عرب اور حرمین الشریفین کے خادمین کے ساتھ گہری دلی وابستگی رکھتے ہیں جبکہ پاکستان پارلیمانی اور اقتصادی شعبوں میں تعلقات کو فروغ دے کر دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستانی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مسلم ممالک میں اتحاد ناگزیر ہے، خطے میں امن اور مسلم ممالک میں اتحاد کے لیے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جانا چاہیے جبکہ سعودی عرب مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا ایک اہم ملک ہے، اس کی تعمیر و ترقی کے لیے سعودی عرب ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ شاہ سلمان کا مسلم ممالک میں اتحاد کا یہ بیان گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والی کوالالمپور کانفرنس کے بعد سامنے آیا ہے۔

18 دسمبر سے شروع ہونے والی کانفرنس میں 52 ملکوں کے مسلمان رہنما، دانشور، اسکالر اور مفکرین نے شرکت کی جبکہ 19 دسمبر کو سربراہان مملکت کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مسلم امہ اور اسلامی ممالک کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کی کوششوں پر غور کیا گیا۔

تاہم پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تحفظات کے سبب ملائیشیا میں منعقد ہونے والی چار روزہ کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔

دوسری جانب سعودی عرب نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ پونے 2 ارب مسلمانوں کے اہم مسائل پر گفتگو کے لیے یہ سمٹ غلط فورم ہے، تاہم چند ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کو خطرہ ہے کہ ایران، ترکی اور قطر جیسے علاقائی حریف اسے مسلم دنیا میں تنہا کر دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں