imam kaba ka khutba 162

امام کعبہ کا خطبہ. مفتی گلزار احمد نعیمی

امام کعبہ کا خطبہ

مفتی گلزاراحمد نعیمی

آجکل دنیائے اسلام میں لمحہ بلمحہ نئے سے نئے فتنے سر اٹھارہے ہیں۔ہر فتنہ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوتا ہے۔پاکستان میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔پاکستان کےحقیقی اہل سنت جس متزلزل اور خوفناک صورت حال سے دوچار ہورہے ہیں اس پر بھی لکھنا ضروری ہے۔سردست ہم امام کعبہ قاری عبدالرحمن السدیس کے خطبہ پر بات اپنا نقئہ نظر بیان کریں گے۔گزشتہ جمعہ کو امام کعبہ نے اپنے خطبہ میں کہا” یہودی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوس میں تھے۔وہ آپکا اخلاق دیکھ کر مسلمان ہوگئے۔آپ کی ایک تلوار آپکے پردہ فرمانے کے وقت ایک یہودی کے پاس رہن تھی اس لیے ہمیں یہودیوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے۔۔”اس خطبہ کو اسرائیل کے بہت ہی مشہوراخبار رونامہ یروشلم پوسٹ نے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
امام کعبہ کا خطبہ پوری دنیا میں زیر بحث ہے۔اس خطبہ کے حوالہ سے پوری اسلامی دنیا میں تشویش کی لہردوڑ گئی ہے۔خود سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر بحث ہورہی ہے۔بعض سعودی عرب کے شہریوں نے سعودی بادشاہت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے اپنے عوام کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔آل سعود نے حجاز مقدس پر قبضہ کرتے ہوئے وہاں کی باسیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حرمین شریفین کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کبھی استعمال نہیں کریں گے۔امام کعبہ کو لکھی ہوئی تقریر ہاتھ مین تھما کر اسے جمعہ کے اجتماع میں پڑھنے کا حکم دیا گیا۔یہ وقت بھی امت نے دیکھنا تھا کہ پورے روئے زمین کی مقدس ترین جگہہ خانہ کعبہ کے محراب و منبر یہودیوں اور اسرائیل کی حمایت میں استعمال ہونے لگے ہیں۔یی ایسا بڑا المیہ ہے جس پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
آئیں اب کچھ بات سرکار کے حسن سلوک پر کرتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن سلوک اور حسن تعامل صرف یہودیوں کے لیے خاص نہیں تھا بلکہ تمام غیر مسلموں کے لیے تھا۔صرف یہودیوں کےساتھ اس کو خاص کرنا میری دانست میں کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے ہے۔یہ رسول اللہ کی عظیم سیرت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے مترادف ہے۔رسول اللہ کے مخاطبین عرب کے مشرک، عیسائی ،یہودی اورآتش پرست سب تھے۔آپکی امت کو جب دوحصوں ( آپ کی دعوت کو قبول کرنے اور نہ کرنے والوں )میں تقسیم کرتے ہیں تو جنہوں نے ہیغام حق پر لبیک کہا وہ امت اجابت ہے اور جنہوں نے انکارکیا یا جن تک پیغام نہ پہنچ سکا وہ امت دعوت ہے۔امت دعوت میں سب غیر مسلم شامل ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے آپ کو گالیاں دیں دکھ پہنچائے ان کے ساتھ بھی آپ نے حسن سلوک کا اظہار فرمایا۔آپ رسول اللہ کے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی بات کرتے ہیں آپکو تکلیف دینے والے یہودیوں کےساتھ بھی آپ حسن سلوک فرماتے ہیں۔ایک یہودی زید بن سعنہ سے آپ نے قرض لیا ہوا تھا وہ قرض کی تاریخ واپسی سے تین دن قبل ہی آگیا۔نہایت بدتمیزی سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگا۔کہنے لگا تم بنی عبدالمطلب ہو ہی ایسے کہ وقت پر قرض نہین لوٹاتےاور بہت وعدہ خلافی کرتے ہو. سرکار کے شانہ اقدس پہ پڑی چادر کو کھینچنا شروع کردیا جس سے سرکار کی گردن مبارک سرخ ہوگئی۔۔۔۔آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہودی سرکار کے کتنے گستاخ تھے۔ یہودی کی اس گستاخی پر بھی سرکار بدستور مسکراتے رہے۔پاس کھڑے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سخت غصے میں آگئے، اسے برابھلا کہااور اسے سبق سکھانے کے لیے آگے بڑھے توسرکار نے فرمایااے عمر۔! تو نے ہم دونوں کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار نہیں کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔جسکی ہم دونوں کو ضرورت تھی۔تم مجھے قرض ادائیگی اور وعدہ وفائی کا کہتے جبکہ اسے آپ نرمی سے قرض واپسی کا مطالبہ کرنے کا کہتے۔آپ نے حضرت عمر سے فرمایا کہ اسکا قرض بھی ادا کرو اور اس کے ساتھ جو تو نے سخت رویہ رکھا یے اس کے معاوضہ کے طور پر ا سے بیس صاع جو زیادہ ادا کرو۔حضرت عمر نے یہ قرض اور جو بیت المال سے ادا کردیا۔یہ قرض سرکار نے اپنے لیے نہیں لیا تھابلکہ ایک علاقہ میں قحط پڑ گیا تھا ان کی مدد کے لیے رقم بھیجی تھی۔اس سے بہت سے شرعی مسائل کا استنباط ہوتا ہے مگر میں اس طرف نہیں جاؤں گا ورنہ طوالت ہو جائے گی۔
آپ ذرا غور فرمائیں ابھی قرض کی واپسی کی تاریخ کے تین دن باقی ہیں۔یہودی آگیا بدتمیزی کی مگر آپ نے اس کے ساتھ وہ حسن سلوک کیا جو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔آپکا یہ حسن عمل کسی سیاسی مقصد کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ اخلاق اسلامی کا اظہار عظمت اسلام کے لیے تھا تاکہ یہ اسلام کی طرف راغب ہو۔
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حسن سلوک کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں جو بہت برا ہے۔پھر یہ سب لوگ ریاست مدینہ کے شہری تھے۔آپ جب مدینہ تشریف لائے تو اس وقت یہودیوں کے تین بڑے قبائل بنو قینقاع، بنونضیر اور بنوقریضہ مدینہ میں ہی آباد تھے۔آپ نے انسانی تاریخ کاعظیم معاہدہ” میثاق مدینہ”کی صورت میں تمام اہل مدینہ کے درمیان فرمایا تھا۔اس سے اسلام کی عظمت کو چار چاند لگ گئے اور سب کمیونٹیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبطور حکم تسلیم کرلیا۔اس سے اسلام کی نوزائیدہ تحریک کو تحفظ حاصل ہوگیا۔
آپ رسول اللہ کے حسن تعامل کی مثالوں کویہودیوں اور اسرائیل سے تعلقات کوفروغ دینے کے لیے استعمال کررہے ہیں یہ قابل افسوس ہے۔رسول اللہ نےیہودیوں کے ساتھ حسن معاشرت مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ایک معین عرصہ تک فرمائی تھی پھرجب مسلمانوں کے خلاف انکی ریشہ دوانیاں بڑھنے لگیں توانہیں مدینے سے نکال دیا۔آپ اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے فلسطینی شھداء کی قبروں پر اتحاد کی عمارت کھڑی کررہے ہیں۔رسول اللہ نے انہیں ختم کرنے کے لیے ان کے ساتھ میثاق فرمایا تھا اور آپ گریٹر اسرائیل کے لیے ان کے حق میں اللہ کےعظیم گھر کعبۃ اللہ سے خطبے دلوا رہے ہیں۔رسول اللہ کی حکمت عملی نے تو یہودیوں کا حجاز مقدس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفایا کردیا تھااور آپ ہیں کہ اسرائیل کو گریٹر بنانے کے لیے انکی معاونت کررہے ہیں تاکہ وہ امت مسلمہ پر ہمشہ ہمیشہ کے لیے مسلط ہوجائیں۔جس ریاست کو خود انصاف پسنداور اصول پسند یہودی تسلیم نہیں کرتے وہ اسے ظالم اور جابر ریاست کہتے ہیں اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں، آپ اس ریاست کو تسلیم کررہے ہیں۔آپکی اس بزدلانہ حکمت عملی سے انتشارزدہ امت مسلمہ مزید انتشار کا شکار ہوگی۔
یہ بات طے ہے کہ امریکہ اپنے عرب حواریوں کے ساتھ ملکر اسرائیل کو جتنا سپورٹ کر لے، بچانے کی کوشش کر لے نہیں بچا سکے گا۔اگر چین، روس پاکستان، ایران اور ترکی ایک مضبوط معاہدہ میں منسلک ہوجاتے ہیں تو امریکہ مسلمانوں پر اپنے ظلم مزید جاری نہیں رکھ سکے گا۔وہ وقت بہت قریب ہے جب امریکہ اپنے حواریوں کی بادشاہتوں کو اپنے ہاتھوں سے خود ختم کرے گااور انہیں کوئی پناہ دینے والا نہیں ہوگا۔ہم دیکھیں گے کہ ناجائز ریاست اسرائیل بھی خریطئہ عالم پر نظر نہیں آئے گا۔
ہم بطور پاکستانی شہری وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کےاسرائیل کو نہ تسلیم کرنےکے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے شعور کے ساتھ اس فیصلہ کو مبنی بر حق سمجھتے ہیں۔اللہ میری ریاست کے تمام اداروں کو حق کی نمائندگی کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں