70

امام روح اللہ خمینیؒ کی زندگی کا مختصرتعارف

Ruhoallah Khomeini
امام روح اللہ خمینیؒ کی زندگی کا مختصرتعارف

تعارف :
ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی امام روح اللہ خمینیؒ بیسویں صدی کے عظیم مذہبی اور سیاسی راہنماہیں،جنہوں نے 1979ء میں صدیوں سے قائم بادشاہت کا خاتمہ کر کے ایران میں اسلامی نظام نافذ کردیا۔ انہوں نے اسلامی انقلاب کے لئے قید وبند کی اذیتوں کے ساتھ ساتھ طویل جلاوطنی کاٹی۔ شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی ساری ریاستی طاقت اور عالمی طاقتوں کی زبردست سیاسی و فوجی حمایت کے باوجود انہوں نے عوامی حمایت سے ایران میں اسلامی حکومت قائم کی۔ نہ صرف حکومت قائم کی بلکہ آج ایران ہر لحاظ سے ایک مضبوط ملک سمجھا جاتا ہے۔ 3 دسمبر 1979سے لے کر3 جون 1989 ء تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔
ابتدائی زندگی :
امام خمینی 24 ستمبر 1902 ء کو ایران کے مرکزی صوبہ خمینی میں سید مصطفی ہندی اورآغاخانم کے ہاں پیداہوئے ۔ ان کی پیدائش کے پانچ ماہ بعد والد کا انتقال ہوگیا۔ روح اللہ خمینی نے چھ برس کی عمر میں قرآن مجید کی تعلیم اورفارسی سیکھنا شروع کی ۔ وہ ایک علاقائی سکول میں داخل کروائے گئے،جہاں انہوں نے مذہبی تعلیم کے علاوہ نوحہ خوانی اوردوسرے روایتی مضامین میں دلچسپی لی ۔ ان کی تعلیم وتربیت میں ان کی والدہ ، رشتہ داروں اوربڑے بھائی مرتضیٰ کی مددشامل تھی ۔ ان کی زوجہ کا نام خدیجہ صقیفہ تھا۔ ان کے بچوں کے نام مصطفی، ظہرا ، صدیقہ ، فریدہ اوراحمد ہیں۔
امام صاحب کا ہندوستان سے تعلق:
روح اللہ خُمینیؒ کے آباد اجداد ہندوستان کے شہر لکھنو کے رہنے والے تھے۔ اس زمانے میں لکھنو صوبہ اودھ کا دارالخلافہ تھا۔ان کے دادا کا نام سید احمد موسوی ہندی تھا ۔ سیداحمد ہندی لکھنو سے 1830 ء میں عراق چلے گئے تاکہ نجف میں امام علیؓ کے مزار کی زیارت کرسکیں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ انگریزوں کی حکومت کی وجہ سے انہوں نے ہندوستان کو ہمیشہ کیلئے خیر آباد کہا اور ایران کے شہر خمینی میں 1839 ء میں مقیم ہوئے ۔ روح اللہ خمینی نے بعض غزلوں میں اپنے نام کے ساتھ بطور تخلص ہندی کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ تاہم روح اللہ خمینی اسلامی دنیا میں امام خمینی کے نام سے مشہور ہیں۔
تعلیم :
امام خمینی نے پہلی جنگ عظیم کے بعد اصفہان کے ایک مشہور دینی مدرسہ سے مذہبی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آذن کے ایک اسلامی مدرسہ میں داخل ہوئے جہاں وہ استاد آیت اللہ عبدالکریم یازدی کے زیر سرپرستی تعلیم حاصل کرنے لگے ۔ اس کے بعد وہ تہران کے مقدس شہر ” قم ” کے ایک دینی مدرسہ میں تربیت حاصل کرنے چلے گئے اور کافی عرصے تک قم کے مشہور سکول دارالشفا میں مقیم رہے ۔ یہاں امام خمینی نےشریعت اورفقہ (اسلامی قانون) کی تعلیم حاصل کی ۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ امام خمینی نے شعروشاعری اورفلسفے (عرفان ) میں بھی گہری دلچسپی لی۔ مرزا علی اکبر یازدی سے انہوں نے شاعری اورفلسفہ سیکھا ۔ مرزا علی اکبر جواد آقا تبریزی ، مرزا محمد علی شاہ آبادی اوررفضی قزوینی ان کے مشہور اساتذہ ہیں۔ حضرت امام خمینی نے یونانی فلسفہ بھی پڑھا ۔ وہ افلاطون ،ارسطو اور سقراط کے فلسفے سے بہت متاثر ہوئے ۔ وہ بوعلی سینا اور ملا صدرا کے اسلامی فلسفے سے بھی متاثر تھے ۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد وہ کئی دہائیوں تک نجف کے مختلف مدرسوں اورسکولوں میں پڑھاتے رہے ۔ بہت جلد وہ شیعہ مسلک کے سکالر اورسیاسی لیڈر بن گئے ۔ وہ سیاسی فلسفہ ، اسلامی فلسفہ ، تاریخ اور اخلاقیات کا درس دیتے رہے ۔ انہوں نے اسلامی فلسفہ ، تاریخ اوراخلاقیات پر بہت کچھ لکھا ۔ وہ ایک اعلیٰ درجے کے اسلامی فلاسفر تھے ۔ وہ فلسفہ ،تصوف اورنظریہ عرفان میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
اسلامی تحریک کا آغاز:
تعلیم سے فارغ التحصیل ہو کر انہوں نے ایران کے مختلف دینی درسگاہوں اورسکولوں میں پڑھانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پڑھانے کے دوران اس وقت کے دینی ،معاشی ، سیاسی اورمعاشرتی مسائل پر زیادہ زور دیا اورسیکولر ازم (لادینیت ) کے خلاف باقاعدہ تحریک شروع کی۔ امام خمینی نہ صرف گفتار کے غازی تھے بلکہ قلم کو بطور تلوار استعمال کیا ۔ انہو ں نے 1942 ء میں سیاسی مسائل پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’کشف الا سرار ‘‘ہے ۔ ایران میں بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے پردے پر پابندی لگا رکھی تھی اور نیم برہنہ لباس پہننے کاعام رواج تھا۔ لوگ مختلف قسم کی عیش وعشرت کی محفلیں منعقد کرتے تھے، جہاں سرعام شراب عام ملتی تھی۔ اسی طرح ناچ گانے کی محفلیں عام تھیں۔ اس زمانے میں موسم بہار کی آمد پر نوروز کا تہوار منایا جاتا تھا ،جس میں لوگ مختلف قسم کی اخلاقی برائیوں کے شکار ہوتے تھے ۔ ان تمام غیر اسلامی تہواروں اورحرکات کے خلاف امام خمینی نے باقاعدہ تحریک چلائی۔ خصوصاًپردے (حجاب ) کے بارے میں ان کی تحریک بڑی مشہور ہوئی اور آج بھی ایرانی خواتین کا حجاب پوری دنیا میں مشہور ہے ۔ ایرانی عورتیں پردے کی اتنی پابند ہیں کہ ہاتھ اورپاؤ ں بھی نظر نہیں آتے ۔ یوں امام خمینی آج بھی ایران کے اصلاحی تحریک کے بانی کی حیثیت سے ہر مسلمان کے دل میں زندہ ہیں۔
علماء کی قیادت:
انہو ں نے ایرانی علماء پر زور دیا کہ شاہ ایران کے رائج کردہ مغربی رسم ورواج سے ہٹ کر قوم کی اصلاح میں اپنا فرض ادا کریں۔ امام خمینی کی وجہ سے انیسوی صدی میں علماء ایک مضبوط طاقت بن کر ایران میں اُبھرے۔ انہوں نے ملک کی سیاست میں عمل دخل دینا شروع کردیا اور پہلی بار انگریزوں کی رائج کردہ رسم سگریٹ نوشی کے خلاف تحریک شروع کی ۔ شاہ ایران، رضاشاہ پہلوی کے بیٹے محمد رضاشاہ نے علماء حق کے خلاف (White Revolution ) کے نام سے تحریک چلائی۔ جنوری 1963 ء میں شاہ ایران نے سفید انقلاب
(White Revolution )کے نام سے ایک انقلاب متعارف کروایا جوکہ چھ نکاتی پروگرام تھا۔ جنگلات کو قومی تحویل میں لینا ، قومی اداروں کو فروخت کرنا ، مسلم اورغیر مسلم عورتوں کا انتخابات میں حصہ لینا اور مختلف سیاسی عہدوں پر فائز ہونا ،منفعت بخش اداروں میں حکومت کا حصہ مختص کرنا ،سکولوں میں مغربی طرز کی ادبی تحریک چلانا اور بعض علماء کو زیادہ بااختیار بنانا۔ امام خمینی نے اس سفید انقلاب کے بعض نکات کو اسلام پرحملہ کے مترادف قرار دیا۔
انقلاب کی تیاری:
انہوں نے اس تحریک اورانقلاب کو اسلام دشمن قرادیا اوراس کے خلاف باقاعدہ بغاوت کردی۔ حضرت امام خمینی نے تما م مذہبی سکالر ز اوراصلاح پسندوں سے ملاقات کی ۔ایک مجلس منعقد کروائی جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ White Revolution کا بائیکاٹ کیا جائے اورسفید انقلاب کے ریفرنڈم میں حصہ نہ لیا جائے ۔ حضرت امام خمینی کے باقاعدہ طورپر اپنی تقریر وں اور خطبوں میں شاہ ایران کے اسلام دشمن منصوبہ بندی کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا ۔ انہوں نے اس انقلاب کے خلاف باقاعدہ فتویٰ جاری کیا جس پر ایران کے مشہور آٹھ مذہبی سکالروں کے دستخط تھے۔ اس فتویٰ میں انہوں نے غیر اخلاقی قومی تہوار وں ، شاہ ایران کی اسرائیل اورامریکہ سے دوستی اورنوروز کے خلاف اقدامات درج تھے۔ ایرانی حکومت کے لئے امام خمینی کا یہ فتویٰ بہت زہریلا ثابت ہوا ۔ امام خمینی نے 3 جون 1963 ء کو یوم عاشورہ کے موقع پر شاہ ایران پرشدید تنقید کی ۔ اسی روز انہوں نے فیضیہ مدرسہ میں ایک خطبہ دیاجس میں انہوں نے شاہ ایران کی حکومت کو یزید کی حکومت کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے خطبہ میں شاہ ایران کو ایک فاسد ، گناہ گار اور جابر حکمران جیسے القابات سے نوازا ۔ انہوں نے سرعام کہا کہ یزید کی حکومت اور شاہ ایران کی حکومت میں کوئی فرق نہیں ۔
حراست اور نظر بندی:
امام خمینی کا شاہ ایران محمد رضا پہلوی پر اس تنقید کے دو دن بعد 5 جون 1963 ء کو دن کے تین بجے انہیں حراست میں لیکر شہر قم سے تہران بھیج دیا گیا۔ ان کی حراست کیوجہ سے ایران میں تین دن تک قتل وغارت اورفسادات کا بازار گرم رہا ۔ ان کی حراست چار سو (400 ) افراد کی موت کا باعث بنی۔ خمینی کو گھر پر نظر بند کردیا گیا۔دوماہ کے بعد ان کی نظر بندی ختم کر دی گئی اور اگست میں انہیں آزاد کردیا گیا۔ 26 اکتوبر 1964 ء کو امام خمینی نے ایک دفعہ پھر ایران اور امریکہ کے خلاف اس وقت آواز بلند کردی جب دونوں میں ایک فوجی معاہدے پر دستخط ہو رہے تھے اور جس کی رو سے امریکہ کی فوج کو ایران میں رہائش پزیر ہونے اوراپنی عدالتوں کے قیام کا حق حاصل تھا۔ اس بغاوت پر ان کو ایک دفعہ پھر قید کرکے چھ مہینے جیل میں ڈال دیا گیا۔ رہا ہونے پر انہیں ایران کے وزیر اعظم حسن علی منصور کے پاس بھیج دیا گیا تاکہ وہ انہیں بغاوت سے دور رہنے اورایرانی حکومت سے معافی مانگنے پر قائل کرسکے ۔ امام خمینی کے انکار پر وزیر اعظم منصور علی سخت برہم ہوا۔ دوماہ کے بعد وزیر اعظم کو پارلیمنٹ جاتے ہوئے راستے میں کسی نے گولی مار کر قتل کردیا۔ اس قتل کی پاداش میں فدایا ن اسلام کے چار ارکان کو پکڑکر ان پر مقدمہ چلایا گیااورانہیں پھانسی دے دی گئی ۔ایران کے سیاسی حالات اور بھی سنگین ہو گئے ۔
جلاوطنی:
اس سانحہ کے بعد خمینی کیلئے ایران میں ٹھہرنا خطرے سے خالی نہ تھا ،لہذا انہوں نے ایران سے جلاوطنی اختیار کی۔ امام خمینی 14 سال تک عراق کے شہر نجف میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔ نجف جانے سے پہلے وہ ایک سال کیلئے ترکی گئے اور وہاں ترکی فوج کے ایک کرنل کے گھر قیام پزیر رہے ۔ اس کے بعد وہ عراق چلے گئے اور1978 ء تک وہاں مقیم رہے ۔ ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہونے پر عراقی صدر صدام حسین نے انہیں عراق سے نکال دیا ۔ عراق کے بعد وہ فرانس کے شہر پیرس چلے گئے۔ چارماہ کے بعد وہاں ان پر مقدمہ چلایا گیا ۔ کیونکہ وہ سیاحتی ویزہ (Tour Visa ) پر گئے ہوئے تھے ۔ لیکن بعد میں میڈیا اورسیاست دانوں نے ان کی مدد کی اور ان پر مقدمہ ختم کر دیا گیا۔
اسلامی حکومت کے قیام کا اعلان:
1970 ء کی دہائی میں انہوں نے ” اسلامی حکومت ” کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے یہ بتایا کیا کہ موجودہ حکومت اسلامی شریعت کے مطابق نہیں ۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اسلامی حکومت کے خدوخال پیش کئے:
1 ۔ معاشرے کے قوانین کو اسلامی شریعت کے مطابق ہونا چاہیے ۔ زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق امور کیلئے اللہ تعالیٰ کے قوانین کو سپریم درجہ حاصل ہونا چاہیے ۔ معاشرہ کیلئے بنایا گیا ہر قانون اللہ تعالیٰ کا قانون ہونا چاہیے کوئی ایسا قانون نافذ نہ کیا جائے جو قرآن وسنت کے مخالف ہو ۔
2 ۔ عام حکومتی عہدہ داروں کو فقہ یعنی شرعی قوانین کو تسلیم کرنا چاہیے ۔ تمام سرکاری افسر جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ان سب کو اسلامی قوانین کا پابند ہونا چاہیے ۔
3 ۔ موجودہ منتخب اسمبلیاں اسلامی قانون اورشریعت کے مطابق درست نہیں کیونکہ پارلیمنٹ کے اراکین کو اسلامی قوانین کاعلم نہیں ہے ۔ لہذا موجودہ آمریت اور پارلیمنٹ اسلامی قوانین کی رو سے اسلام کے منافی ہے ۔ موجودہ آئین اسلامی قوانین کے مطابق نہیں ۔ آئین کا زیادہ تر حصہ مغربی طورطریقے پر قائم ہے ۔
4 ۔ مذہبی علماء پر مشتمل نظام ناانصافی ، بدعنوانی اورکمزور پر طاقتور کی حکمرانی کا ادراک کرسکتا ہے ۔ اسلام کے خلاف تاثرات اور بیرونی غیر مسلم طاقتوں کی اسلام دشمن سازشیں ختم کرنا ضروری ہیں ۔ فرانس میں قیام کے دوران انہوں نے باقاعدہ شاہ ایران کے خلاف ایک دفتر کھولا ۔ امام خمینی نے فرانس میں اپنے گھر کے سامنے پریس کانفرنس منعقد کی جس میں انہوں نے شاہ ایران کو یہودی اورامریکہ کا دوست کہا ۔ اسلامی دنیا میں امام خمینی ایک اسلامی مصلح کی حیثیت سے ابھر ے۔ ایرانی عوام خمینی کو ایک روحانی اورمذہبی پیشوا تسلیم کرنے لگے اوران پر جان قربان کرنا مذہبی فرض سمجھنے لگے ۔ زندگی کے ہر طبقہ کے لوگ خمینی کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ 1977 ء میں علی شریعتی جو کہ ایرانی نوجوانوں میں اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی وجہ سے بہت مشہور تھے کی موت کے بعد امام خمینی نوجوان طبقہ میں بہت مقبول گئے اورشاہ ایران کے مخالفین میں ایک سرکردہ لیڈر بن کر اُبھرے ۔ انہو ں نے حضرت امام موسیٰ کاظم کے مشہور قول” شہر قم میں سے ایک آدمی ابھرے گا جو لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف بلائے گا” کی تبلیغ شروع کی جس کی وجہ سے ایران کے نوجوان طبقہ امام خمینی کے گرویدہ ہو گئے اور انہیں اپناروحانی اورمذہبی رہنما تسلیم کرنے لگے۔ امام خمینی نے شاہ ایران کے خلاف ہزاروں میل دور فرانس میں انقلاب برپا کیا اور ایرانیوں پر زور دیا کہ شاہ ایران کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ اس کے نافذ کردہ قوانین اور حکومت کے خلاف اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں جب تک ایران میں اسلامی حکومت قائم نہ ہو جائے۔
وطن آمد:
یکم فروری 1979 ء کو جب خمینی وطن واپس لوٹے تو ان کے استقبال کیلئے 5 ملین لوگ ایئر پورٹ پر موجود تھے جوکہ اسلام زندہ باد اور امام خمینی روحانی پیشوا اور مذہبی لیڈر کے نعرے لگارہے تھے۔ فرانس سے واپسی پر ہوائی سفر کے دوران، ان کے ساتھ 120 صحافی بھی موجودتھے ۔ اس وقت ایران میں شاہ پور بختیار کی عبوری حکومت قائم تھی ۔امام خمینی نے مہدی بزرگان کو اپناوزیر اعظم مقرر کیا اور ساتھ یہ اعلان کردیا ” کہ چونکہ یہ خداکی حکومت ہے ،اس لئے ہر ایک پر اس کی فرمانبرداری فرض ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو تنبیہ کی کہ اگر کسی نے خمینی یا مہدی کی مخالفت کی تو گویا اس نے خدا سے بغاوت کی ۔
اسلامی حکومت کا قیام:
امام خمینی کی تحریک نے زور پکڑا ۔فوج کے اکثر سپاہیوں نے امام خمینی کا ساتھ دیا ۔ امام خمینی نے اعلان کردیاکہ اگر کوئی سپاہی ان کا ساتھ نہ دے تو وہ بڑا بدقسمت تصور کیا جائیگا ۔ 11 فروری 1979 ء میں یہ بغاوت پورے ملک میں پھیل گئی ۔فوج مکمل طور پر غیر جانبدار رہی اور بختیار کی حکومت کا تختہ الٹ دیاگیا ۔ 30 تا 31 مارچ 1979 ء میں ایک ریفرنڈم منعقد کیا گیا،جس میں یہ کہاگیا آیا کہ موجودہ آمریت کی جگہ اسلامی حکومت ہونی چاہیے یا نہیں ۔ 98 فیصد لوگوں نے اسلامی حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔ امام خمینی نے صحیح معنوں میں ایک اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالنا شروع کردی،جس کا انہوں نے 1977 ء میں اپنی کتا ب ” حکومت اسلامی ” میں تذکرہ کیا تھا۔ تمام باغیوں کا خاتمہ کردیا گیا۔غیر اسلامی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی گئی ۔ انتخابات میں امام خمینی کے حمایتیوں نے قومی اسمبلی میں واضع اکثریت حاصل کرلی ۔ انہوں نے ملک کا آئین تبدیل کردیا اورتمام قوانین شریعت کے مطابق کر دئیے اورصحیح معنوں میں ایک اسلامی سلطنت قائم کی 4 فروری 1980 ء کو ابوالحسن ایران کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اور خمینی ایک عظیم مذہبی لیڈر کے نام سے دنیا میں متعارف ہوئے ۔ 22 اکتوبر 1979 ء کو شاہ ایران امریکہ چلا گیاجہاں وہ کینسر کا علاج کروانے لگا ۔
امریکی سفارت خانے پر حملہ:
ایران نے شاہ ایران کو واپس بلانے اور ان پر مقدمات چلانے کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کیا جو بے سود رہا ۔ جب ایرانیوں کو معلوم ہوگیا کہ امریکہ کسی قیمت پر شاہ ایران کو واپس کرنے پر رضامند نہیں تو ایرانی نوجوانوں نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کردیا اور 52 امریکن سٹاف کو 44 دن تک یرغمال بنائے رکھا ۔ امریکہ نے اس عمل کو بین الاقوامی قوانین کو پامال کرنے کے مترداف قرار دیا ۔اس طرح امریکہ اور ایران میں مخالفت کی خلیج حائل ہو گئی جو آج تک برقرار ہے۔
ایران اور عراق جنگ :
ایران میں امام خمینی کا اسلامی انقلاب کے بعد اس کے اثرات ایران سے باہر دوسرے اسلامی ممالک پر پڑنے لگے ۔ عراق ، ایران کا پڑوسی ملک ہے جہاں اکثریت شیعہ مسلک کی تھی جبکہ حکمران طبقے کا تعلق سنی مسلک سے تھا۔ عراق نے ایران پر اس وقت حملہ کر دیاجب ایران دنیا میں بالکل تنہا رہ گیاتھا۔ ایران کے شہر تہران میں اسلامی جذبہ سے سرشارچند نوجوانوں نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کرکے 52 امر یکن سٹاف کو یرغمال بنا دیا جس کی وجہ سے ایران کے تعلقات امریکہ کے ساتھ کافی حد تک خراب ہو چکے تھے ۔دوسری طرف روس کے افغانستان پر حملہ کے خلاف ایران نے آواز اٹھائی، لہذا روس بھی ایرن کے خلاف ہوگیا۔ عراق کو ڈر تھا کہ کہیں ایرانی انقلاب کے اثرات عراق پر نہ پڑیں ۔ اس اثر کو زائل کرنے کیلئے عراق نے ایران کے صوبہ خوزستان پر حملہ کر دیاجو عراق اپنا علاقہ سمجھتا تھا۔ ایران ، عراق جنگ میں ایران کی قیادت امام خمینی کر رہے تھے جبکہ عراق کو صدام حسین لیڈ کر رہے تھے۔ یہ جنگ 1980 ء سے لیکر 1988 ء تک جاری رہی ۔ اس جنگ میں دونوں ممالک کے تقریباًڈھائی لاکھ فوجی ہلاک ہوئے اور ڈھائی لاکھ کے قریب فوجی زخمی ہوئے اور مالی نقصان بھی زیادہ ہوا۔ ابتداء میں جب عراق نے ایران پر حملہ کیا توایرانی ذہنی طورپر جنگ کیلئے تیار نہ تھے۔ اس لئے عراق کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ عراق نے نہ صرف ایران کے صوبہ خوزستان کو فتح کیابلکہ کئی دوسرے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا لیکن دوسال کے اندراندر ایران نے بہت سی فوج اکٹھی کرلی ۔ ایران نے نہ صرف مقبوضہ علاقے عراق سے واپس لے لئے بلکہ عراق کے کئی اور علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اگلے پانچ سال تک ایران کا پلڑا عراق پر بھاری رہا اور ایران ، عراق پر فوجی لحاظ سے غالب ہوگیا ۔ اس جنگ میں مغربی ممالک پڑوسی خلیجی ریاستوں اور روس نے عراق کی مددکی کیونکہ یہ ممالک چاہتے تھے کہ اسلامی انقلاب ایران سے باہر نہ نکل پائے ۔ مغربی ممالک اورخلیجی عرب ممالک خمینی انقلاب کو سخت خطرہ سمجھتے تھے۔ ان تمام مخالفتوں کے باجود ایران کو ہرمیدان میں عراق پر برتری حاصل رہی کیونکہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے دور حکومت میں ایران نے امریکہ سے کافی تعداد میں جنگی اسلحہ حاصل کیا ہوا تھا، جو اب کام آ رہا تھا۔ 1988 ء میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے بالآخر دونوں ممالک میں جنگ بندی ہوگئی۔
امام خمینی کی اہم تصانیف :
امام خمینی کی اہم کتب اور رسالے مندرجہ ذیل ہیں:
1 ۔ اسلام اورانقلاب
2۔ دعا کا بھید
3 ۔ چالیس احادیث
4 ۔ جہاد اکبر
5 ۔ ادب از صلوٰۃ
6 ۔ شراب محبت ۔ The Wine of Love
7 ۔ تحریر ابوسیلہ والیم 1 ، والیم 2 ۔
8 ۔ اسلامی حکومت ۔
9 ۔ عورتوں کی حالت ۔
10 ۔ آخری پیغام ۔
11 ۔ انقلابِ امام خمینی ۔
12 ۔ صدرگو رباچوف کو دعوت اسلام
13 ۔ امام خمینی کا فرمان اوروصیت نامہ ۔
14۔ امام خمینی کے اقوال زریں ۔
15 ۔ وصیہ ۔
16 ۔ فلسطین ۔
17 ۔ شفیع یاامام
18 ۔ اللہ کی راہ میں عظیم جہاد
وفات:
بیسوی صدی کے عظیم ایرانی مذہبی رہنما، امام روح اللہ خمینی کی صحت موت سے چند سال پہلے ہی خراب رہنے لگی ۔ وہ جمران ہسپتال میں گیارہ دن داخل ہونے کے بعد 3 جون 1989 ء کو دل کے عارضہ کیوجہ سے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کے بعد علی خامنئی جانشین مقرر کئے گئے اور ان کو تہران میں دفنایا گیا ۔ اس وقت ان کی عمر 86 برس تھی۔ ان کے گھر سے تہران کے قبرستان ” بہشت زہرا” تک 32 کلومیٹر لمبی سٹرک پر لوگوں کی قطاریں بنی ہوئی تھیں۔ ان کے جنازے میں 3.5 ملین لوگوں نے شرکت کی ۔ ان کی موت کے غم کی وجہ سے 10 افراد صدمے سے مرگئے اور 400 افراد سخت زخمی ہو ئے اور جو ہزاروں معمولی زخمی ہو ئے ان کا کوئی حساب نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں