18

امام باقر علیہ السلام

امام باقر علیہ السلام
تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
آج یکم رجب المرجب ہے اور آج کےدن امام باقر علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔آپ حضرت علی بن حسین المعروف امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزند ارجمند ہیں۔آپ سلسلہ امامت کے پانچویں امام ہیں۔ آپ کا نام ابوجعفر محمد باقر بن علی تھا۔باقر کا معنی ہےپھاڑنے والا یا کشادہ کرنے والا۔آپ مدینہ منورہ کے اعاظم فقہاء میں سے تھے۔آپ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے۔اپ نے اپنے والد گرامی،حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری جیسے جلیل القدر اصحاب رسول سے روایت کی ہے۔خصوصا آپ اکثر حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری جیسے عظیم صحابی کے پاس اکثر آتے جاتے تھے۔علماء نے لکھا ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر کو فرمایا تھا کہ میری اولاد میں سے ایک شخص تجھ سے تحصیل علم کرے گا۔
تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ جب آپ حضرت جابر کے پاس تشریف لاتے تو آپ امام باقر کو حد درجہ عزت اور اکرام دیتے تھے۔جب امام باقر حضرت جابر کے پاس تشریف لاتے تو آپ پوچھتے ” آپ کون ہیں”(حضرت جابر بہت بوڑھے اور نابینا ہوچکے تھے)تو آپ جواب دیتے میں محمد بن علی ہوں۔تو جابر یہ سن کر کہتے “مرحبا مرحبا یا ابن رسول اللہ و ولد سبطیہ وریحانیہ”خوش آمدید خوش آمدید اے رسول اللہ کے بیٹے اور رسول اللہ کے نواسوں اور پھولوں کے صاحبزادے۔پھر حضرت جابر ان کے گریبان میں ہاتھ ڈالتے اور انکی گردن اور بغلوں میں ہاتھ ڈالتے۔اور پھر ان کے ہسینے کی خوشبو سونگھتے۔انکے پسینے کی خوشبو سے مشام جان کو معطر کرتے کہ حضرت امام باقر خون رسول تھے فرزند رسول تھے، ان کے ہسینے سے بھی رسول اللہ کی خوشبو آتی تھی۔جابر انصاری اخلاص و محبت سے خوشبوئے رسول سونگھتے تھے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا۔
اے گل ز تو خوشنودم کہ تو بوئے کس داری
اے سرو ز تو نازم قدت بکس ماند
ترجمہ: اے گل میں تجھ سے بہت خوش ہوں کیونکہ تجھ سے کسی کی خوشبو آتی ہے۔اے سرو مجھے تجھ پہ ناز ہے کہ تیرا قد کسی(محبوب)کی مانند ہے۔
والسلام مع الاکرام
طالب دعا
گلزار احمد نعیمی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں