24

الیکشن کمشنر کی گارنٹی نیوٹرلز نے دی تھی چیئرمین پی ٹی آئی

الیکشن کمشنر کی گارنٹی نیوٹرلز نے دی تھی چیئرمین پی ٹی آئی
اسلام آباد(ایجنسیاں)تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے موجودہ اتحادی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بھیجنے کی تیاری ہم نے مکمل کر لی ہے‘ ہم حکومت سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں گے اور جلد یہ حکومت گھٹنوں پر ہو گی‘ عمران خان کا نام ای سی ایل پر ڈالنا صرف ایک اور حماقت ہے‘پی ٹی آئی اور عمران خان پر پابندی لگانا ان کے بس کی بات نہیں ‘ کوئی مائی کا لعل انہیں دیوار سے نہیں لگا سکتا جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم نے کسی ملک سے فنڈنگ نہیں لی ‘ اوور سیز پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھاکیا‘ کمپنیوں سے پیسہ 2012میں اکٹھا کیا جبکہ قانون 2017میں آیا۔ تحریک انصاف نے کوئی قانون نہیں توڑا‘ ان کو خوف ہے کہ یہ الیکشن ہار جائیں گے اس لئے یہ ہمیں ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنا چاہتے ہیں ‘ الیکشن کمیشن کی رپورٹ جیسی احمقانہ رپورٹ نہیں دیکھی ‘ الیکشن کمیشن نے دو رپورٹ بنائیں‘ایک رپورٹ کسی کی فرمائش پر شامل کی جس میں کہا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈڈ ہے‘ میرے لندن میں اثاثے ہیں نہ میں باہر جانا چاہتا ہوں‘اگر حکومت نے مجھے ای سی ایل میں ڈالا توان کا شکریہ ادا کروں گا‘ آرمی چیف کی تعیناتی سے زیادہ اہم فوری عام انتخابات ہیں اور نومبر کا سوچنے سے قبل یہ سوچنا چاہیے کہ ابھی کیا ہوگا‘ کیا ہم آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سارے ملک کو جمود کردیں، فوج ملکی سالمیت کا اہم حصہ ہے مگر ملک کے لیے معیشت بھی بہت اہم جز ہے‘نیوٹرلز نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی‘ہم نے بڑی حماقت کی کہ ہم نے اس آدمی کو تسلیم کر لیا‘ امریکا کو ڈرون حملوں کی اجازت دی تو قبائلی علاقے متاثر ہوں گے‘ کیا نیوٹرلز کو نظرنہیں آرہاملک میں کیا ہورہاہے ۔بدھ کو ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں نومبرکی بجائے ابھی کا سوچنا چاہیے کیونکہ حالات بہت خراب ہیں‘ مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تو ایسی صورت میں ہمیں معیشت کا سوچنا چاہیے‘ حکومت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردے پھر ہم بیٹھ کر بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں مگر ن لیگ، پی پی کے ذہن میں بس ایک بات ہے کہ یہ کسی بھی طرح پی ٹی آئی کو کھیل سے باہر کردیں مگر یہ کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ 2012میں ہماری پارٹی کو دو غیر ملکی حکومتوں نے پیسے کی آفر کی، شاہ محمود گواہ ہے جب ایک غیر ملکی حکومت نے مجھے پیسےکی آفر کی، غیرملکی حکومت نے کہا کہ ہم پہلے فلاں پارٹی کو پیسے دیتے تھے اب آپ کو دیں گے، میں نے کہا یہ غیرآئینی و غیر قانونی ہے، جب ہم حکومت میں آئیں تو آپ سرمایہ کاری کریں۔عمران خان کا کہنا تھاکہ سب نے استعفے دیے ہوئے ہیں، تمام نشستوں پر انتخابات کرادیں،یہ تھوڑے تھوڑے الیکشن کرا کے مینیج کرنا چاہتے ہیں‘پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکومت کیساتھ سازش میں ملوث ہے، پی پی اور ن لیگ نے بڑے بڑے سیٹھ پالے ہوئے ہیں جن سے یہ پیسے لیتے ہیں اور پھر اس کو الیکشن میں استعمال کرتے ہیں۔ہم الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل میں جائیں گے اور الیکشن کمیشن کے باہر پُرامن احتجاج بھی کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ہماری توہین کی ہے، اس نے لکھا ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈڈ ہے۔حکومت اور الیکشن کمشنر کی وجہ سے آج ہماری قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں‘ ہمارے ملک کی پوزیشن ہر گزرتے دن کے ساتھ نیچے جارہی ہے۔ شہباز شریف اور زرداری الیکشن میں ہار کے ڈر سے انتخابات کا اعلان نہیں کررہے۔ عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں ق لیگ کی صرف دس جبکہ163ہماری سیٹیں ہیں، اس حساب سے کابینہ کی تشکیل نو ہوئی ہے مگر وقت کے ساتھ کابینہ کو مزید بڑھایا جائے گا اور مستقبل میں مسلم لیگ ق کے اراکین کو بھی عہدے دیے جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہم کسی صورت قومی اسمبلی میں واپس نہیں جائیں گے‘ اگر وہاں جاکر بیٹھ گئے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ان کے سہولت کار ہیں‘ عمران خان نے دعویٰ کیاکہ اقتدار سے جانے سے قبل دو ملکوں نے پیسوں کی پیشکش کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ایفیڈیوٹ پر آپ حلف لیتے ہیں۔ جبکہ پارٹی کے اکاؤنٹس کو سرٹیفائی کیا جاتا ہے۔ میں اکاؤنٹینٹ تو نہیں ہوا۔ وہ مجھے پریزنٹیشن دیتے ہیں۔ جب میں اس پر دستخط کرتا ہوں تو کہتا ہوں میری معلومات کے مطابق یہ اکاؤنٹس ٹھیک ہیں۔ ادھر ایک بیان میں فوادچوہدری کا کہناتھاکہ عمران خان حکومت جانے کے بعد ایک بار بھی ملک سے باہر نہیں گئے‘ ان کا نام ای سی ایل پر ڈالنا صرف ایک اور حماقت ہے۔تحریک انصاف پر پابندی لگانا( ن )لیگ کے بس کی بات نہیں۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی پارٹی کو تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ہے،ہمیں امید ہے کہ عدالت میں یہ فیصلہ کالعدم ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں