alp arslan 36

الپ ارسلان کی زندگی پر ایک مختصر خلاصہ

الپ ارسلان

تعارف:
سلطان شجاع محمدالپ ار سلان ولد داؤد بیگ دو لتِ سلجو قیہ(موجودہ ترکی اور ایران دونوں پر مشتمل ملک) کا دوسرا حکمران تھا ۔ وہ 20جنوری 1029 میں خوارزم میں پیدا ہوا ۔ اس کا اصل نا م محمد جعفر بیگ تھا لیکن بہا دری اور شجا عت کے سبب الپ ار سلان کے نام سے مشہور ہوا۔ تر کی زبان میں اس لفظ کے معنی ببرشیر کے ہیں ۔اس نے اپنے چچا طغر ل بیگ کے مر نے کے بعد بڑی آ ن بان اور شان و شو کت کے سا تھ اپنی حکومت شر وع کی اور اپنی سلطنت کو روزبر وزو و سعت دینے میں مصروف رہا۔الپ ار سلان ایک سلجو ق سلطان تھا جو اپنے چچا طغرل بیگ کے بعد تخت پر بیٹھا ۔اس نے 1063 ء سے لیکر 1072 تک حکو مت کی۔
مشہور مد بر نظام الملک طو سی کو اپنے با پ طغرل بیگ کی سفا رش پر وزیر سلطنت بنایا ۔ اس کے عہد میں سلجو قی سلطنت کی حد ود بہت وسیع ہوئی۔اسلام سے پہلے عر بوں کے قبا ئلی نظام میں اور ظہور اسلا م کے بعد عہد رسا لت کے شورائی نظا م حکو مت میں موروثی یا خا ندانی بنیاد و ں پر و لی عہد کا نظا م مطلقاً را ئج نہ تھا لیکن عجمی اثرات کے نتیجے میں جب سے ولی عہد کے نظام میں مسلما نوں میں را ہ پا ئی تب سے با ہمی رقیبا نہ کشمکش اور بغض و عدا وت نے امت کا شیرازہ پراگندہ کر نا شروع کر دیا۔ہر چند خلا فت را شد کے بعد خلا فت امو یہ کا ڈھا نچہ مور و ثی یا خا ند انی بنیا وں پر قا ئم ہوا ۔ تا ہم عر بی عنصر کے غا لب ر ہنے کے سبب مر کز یت قا ئم ر ہی۔ پھر امو یو ں کے بعد جب خلا فت عبا سیہ کا قیام عمل میں آ یا تو خلا فت کے پہلے دو ر تک تو مر کز یت قا ئم ر ہی اور بقول سر ٹا مس آ ر نلڈ :’’ یہی دور اسلا می حکو مت کے انتہا ئی عر و ج کا ز ما نہ ہے لیکن اس کے بعد جب عر بی عنصر مغلو ب ہو نے لگا اور اس کی بجا ئے ابتدا ء میں ایرانیوں کو جگہ د ی گئی تو پھر ایرانیوں کے بڑ ھتے ہو ئے اثر و نفو ذ سے خلا فت عبا سیہ کو خطرا ت لا حق ہونے لگے۔ان کا زور توڑ نے کے لیے تر کو ں کو بھر تی کر نا شروع کر دیا گیا۔ یہی وہ زما نہ شروع تھا جسے خلا فت عبا سیہ کے زوال کی تمہید کہا جا تا ہے پھر جب تر کوں نے زور پکڑ لیا اور وہ اس قدر طا قتو ر ہو گئے کہ خلیفہ کا تقر روتنزل انہی کی مر ضی و منشا پر منحصر ہو گیا تو خلا فت عبا سیہ دو لت عجمی میں بد ل کر رہ گئی اور خلیفہ کا و جو د محض ایک عضو معطل کی حیثیت اختیار کرگیا۔
ذاتی زند گی :
سلطان الپ ار سلان جہانبا نی او صا ف میں اپنے جد امجد طغرل بیگ سے بالکل ملتا جلتا تھا۔ اس کے زما نے میں سلجو قی حکو مت سیا سی وتمدّ نی الغر ض ہر اعتبار سے مضبو ط اور مستحکم ہو گئی اور اس کا رقبہ اس قدر و سیع تھا کہ اس کا ایک سرا تر کستان سے جا ملتا تھا اور دوسرا شا م سے ۔ اس کی سطو ت و ہیبت دشمنوں کے دلو ں پر بیٹھ چکی تھی۔ اسلا م کی تا ریخ میں سلطان الپ ار سلان پہلا فر ماں روا ہے جس نے دریائے فرا ت کو عبور کر کے سر زمین شا م میں قد م رکھا اور تر کستان تک پہنچ گیا۔سلطان الپ ار سلان کے سامنے ایک دنیا جھک گئی۔ جس کسی نے ایک مر تبہ سر اُٹھا یا وہ ہمیشہ کے لیے سر نگوں ہوگیا۔
ابن اثیر سلطان کے مزا ج اور اس کی طبیعت کے با رے میں ذکر کر تے ہوئے لکھتا ہے کہ سلطان طبعاً بے حد نر م دل اور غر یب پر و ر تھا۔ و ہ غر یبوں میں بکثر ت خیرا ت کر تا تھا۔ رمضان المبارک کے مہینے میں پند رہ ہزار شر فیاں تقسیم کر تا تھا۔ سا رے ملک کے فقیر وں اور مسکینوں کے نا م ر جسٹر میں در ج تھے اور حکو مت ان سب کی کفا لت کر تی تھی۔ خا ص پا ئی تخت کے محتا جوں اور غر یبوں کے لیے شا ہی مطبخ خانے میں روزا نہ پچا س بکر ے ذبح کیے جا تے تھے۔ اس کے علا وہ سلطان علم وفن کا بھی نہا یت قدر دان تھا۔ اس نے بغداد میں ایک عظیم الشان مد ر سہ بنوا یا جو مدر سہ نظا میہ کے علاوہ تھا اور اس کی تعمیر اور اخراجات پر بے شمار دو لت خر چ ہو ئی ۔سلطان کی سطو ت و عظمت اور شان و شو کت کا اندازہ کچھ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کے تخت کے گر د بارہ سوفر ما نروا اور شہزا دے دست بستہ کھڑے رہتے تھے ۔
سلجوقیوں کی اہمیت:
سلجو قی سلطنت 11 ویں تا 14 ویں صدی عیسوی کے درمیان مشرقی وسطیٰ اور وسطی ایشا ء میں قا ئم ایک مضبوط مسلم با د شا ہت تھی۔اس کے حاکم نسلاً ترک تھے ۔ مسلم تا ریخ میں اسے بہت اہمیت حا صل ہے کیو نکہ یہ دو لت عبا سیہ کے خا تمہ کے بعد عا لم اسلا م کو ایک مر کز پر جمع کر نے والی آخری سلطنت تھی۔ سلجو قیوں کے زوال کے سا تھ ہی امت مسلمہ میں جس سیا سی انتشار کا آ غاز ہوااس کا فا ئدہ اٹھا تے ہو ئے اہلیان یو رپ نے مسلما نوں پر صیلبی جنگیں مسلط کر دیں اور عا لم اسلام کے قلب میں مقدس ترین مقام بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔
عملی زندگی :
سلطنت کے نظم و نسق اور انتظا مات کے لیے اس نے اپنے تد بر سے کچھ ایسا کا م کیا کہ تمام ملک سے جر ائم با لکل ختم ہو گئے اور ہر طرف امن و امان اور سکون پیدا ہو گیا۔ اس کی حکو مت میں ر عیت کے مال و جان کی پوری پوری حفا ظت کی جاتی تھی اور اصل محا صل کے سوار عیت سے ایک پیسہ بھی نا جا ئز نہیں لیا جا تا تھا۔ ایک مر تبہ کسی غلام نے ایک دیہا تی سے اس کاتہ بند چھین لیا ۔ الپ ار سلان کو اطلا ع ملی تو فوراً غلا م کو گر فتارکر کے سولی پر چڑ ھادیا۔ اگر چہ جر م کے مقابلے میں سزا بے حد سنگین تھی تا ہم اس کانتیجہ یہ نکلا کہ آ ئند ہ کسی شخص کو دوسروں کے ما ل کی طرف ہا تھ بڑ ھا نے کی جرا ت نہ ہو سکی ۔ایک مر تبہ سلطان سے کسی نے لکھ کرشکایت کی کہ نظام الملک طوسی لو گوں سے نا جا ئز طور پر رو پیہ حا صل کر کے اکٹھا کر تا رہتا ہے ۔ ہر چند نظام الملک طوسی دو لت سلجو قیہ میں بڑے مر تبے کا وزیر تھا اور عا لم ہو نے کی حیثیت سے سلطان کے مزاج میں خاصا اثرو ر سوخ رکھتا تھا۔ تا ہم سلطان نے ان تمام باتوں کو نظر انداز کر تے ہو ئے لکھی ہوئی شکایت نظا م الملک کے حوالے کر تے ہو ئے کہا کہ اگر یہ تحر یر صحیح ہے تو تم پر لا زم ہے کہ تم اپنے رو یے کی اصلا ح کر و ۔اور اگر غلط ہے توجھو ٹی شکا یت کرنے وا لے کومعاف کردو۔
کار نامے:
جن ملکو ں کو اب تک طغرل بیگ فتح نہیں کر سکا تھا۔ الپ ار سلان نے انھیں بھی فتح کر لیا ۔اس کے علا وہ اس نے ملک شا م پر فو ج کشی کی ۔ حتیٰ کہ تمام شہروں کو فتح کر تا ہوا شہر حلب تک پہنچ گیا اور اس کا محا صرہ کر لیا۔ قلعہ کا گورنر ایک مدّت تک اس سے لڑ تا ر ہا ۔با لاآ خر اس نے بھی مجبو ر ہو کر الپ ار سلان کی اطا عت قبول کر لی۔ لیکن ارا دہ کیا کہ اپنے قلعے ہی میں ر ہے۔ الپ ار سلان کو منہ نہ دکھا ئے مگر سلطان نے کہلا بھیجا کہ تمھیں ہمارے حضور میں پیش ہو نا ہی پڑے گا ۔ چنا نچہ قلعدار حلب محمود بن نصر بن صا لح جو عر بی النسل تھا۔مع اپنی وا لدہ کے اس کی خد مت میں حا ضر ہوا۔ سلطان اس سے نہایت مہر بانی اور محبت سے پیش آ یا ۔ دونوں کی بڑی تعظیم و تکر یم کی ۔ بہت عزت سے اسے اپنا مہمان کیا اور خلعت و انعا م دے کر رخصت کیا۔ الپ ارسلان اس اعتبار سے بڑی فضلیت ر کھتا تھا کہ وہ تر کی فر مانر و اؤں میں پہلا فر ما نر وا ہے جس نے در یا ئے فرا ت سے اتر کر ایشیا کے مغر بی ممالک پر قبضہ کیا ۔اب ایشیا کا بہترین علا قہ اس کی قلم ر و میں دا خل تھااور خراسان سے انا طو لیا تک تمام مما لک اس کے فر مان کے نیچے تھے۔ ایشیا ئے کو چک میں جب الپ ار سلان کی قوت بڑ ھی تو روم کے یو نانی با د شا ہوں کو اپنی فکر پڑ گئی ۔ وہ ڈر نے لگے کہ اگر الپ ار سلان کی شان و شو کت کا یہی عا لم ر ہا تو وہ دن دور نہیں جب ہما ری با د شا ہت اس کے قد موں کے نیچے ہو گی ۔
اس زما نے میں قسطنطنیہ روم کی حکو مت کا دا را لسطنت تھا۔ رومی باد شاہ ارمانوس نے اسی خطر ے کو سا منے ر کھتے ہو ئے الپ ارسلان سے لڑ نے کی ٹھان لی۔ چنا نچہ ایسے عا لم میں جبکہ خلیفہ بغداد نے رو می باد شاہ ار مانوس اور الپ ارسلان کے در میان ایک طرح صلح کرا دی تھی اور الپ ار سلان کا لشکر شا می علا قوں میں قحط پھو ٹ پڑ نے کے سبب خود سلطان ہی کے حکم سے خراسان جا چکا تھا۔ ار مانوس بد عہدی کر تا ہواسلجو قیہ مملکت کی سر حد پر حملہ آ ور ہوا ۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ ارمانوس کے ہمراہ اس وقت تین لا کھ سپا ہی تھے اور اس کے بر عکس الپ ار سلان کے سا تھ صرف چا ر ہزار غلا م تھے۔ الپ ار سلان کو بد عہد عیسا ئی با د شا ہ ار مانوس کے حملے کی اچا نک خبر ملی۔ حا ل یہ تھا کہ ارما نوس کے ہمراہ سینکڑوں گا ڑیا ں تھیں جن پر سا مان لدا ہوا تھا۔ اور منجنیقوں ،عر ا دوں اور دبا بوں کی بھی کا فی تعدا د تھی۔ بعض منجیبقیں اتنی بڑی بڑی تھیں کہ بارہ بارہ سو آ د می مل کر کھینچتے تھے۔ اندازاہ کریں، ایک طرف تین لا کھ ٹڈی دل انسانوں کا جم غفیر تھااور دوسری طرف سلطان الپ ارسلان کے پاس صرف چار ہزار غلام فوج کے اصلی سپا ہی و طن جا چکے تھے۔
قدر تی بات ہے کہ یہ مو قع الپ ار سلان کے لئے سخت آ زما ئش کا وقت تھا لیکن اس نے اپنے قلب میں قوت محسوس کی ۔ جمعہ کا دن تھاجب دونوں ایک دوسرے کے مقا بل صف آ را ہو نے وا لے تھے۔ الپ ارسلان جمعہ کی نماز کے لئے مسجد میں آ یا۔ خداکی با ر گاہ میں سر رکھ کر خو ب رویا ۔چہرے پر خا ک ملی اور ادا ئے نماز کے بعد اپنے سا تھیوں سے خطاب کر کے کہا :’’ آ ج با دشا ہی اور افسری ختم ہو چکی ۔اب میر ی حیثیت اسلا م کے صرف اد نیٰ خا دم سے زیا دہ نہیں۔ میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ کسی حا ل میں بھی اسلا م کے اس دشمن کے مقا بلے میں ہر گزپیٹھ نہ پھیروں گا۔ چا ہے ما را ہی جا ؤں یا اللہ تعالیٰ مجھے کا میابی عطا فر ما ئے۔ تم لوگوں کو اختیار ہے جس کا جی چا ہے اس جہاد میں میرے سا تھ ر ہے اور جو چا ہے چلا جا ئے۔‘‘
اس کے بعد سلطان نے اپنے سر پر کفن با ند ھا ۔تیرو کمان تر کش سب کو پھینک کر ہا تھ میں گرز لیا۔ گھو ڑے پر سوارہو ا۔دشمن کی ٹڈی دل فوج پر غضب نا ک شیر کی طرح ٹو ٹ پڑا ۔ سلطان کو دیکھ کر اس کے غلا موں نے بھی جان پر کھیل کر دشمن کی فو ج میں گھسنے میں بڑی سر عت سے کا م لیا۔ سلطان جس جذبے اور جوش سے قلب دشمن میں جا گھسا تھا،وہ اپنا کا م کر گیا۔ یہ اس کا اثر تھاکہ تھوڑی دیر بھی نہ گز ر نے پا ئی تھی کہ رومیوں کے قد م اُکھڑ گئے، جو لو گ جان بچا کر بھا گ سکے، وہ بھا گ نکلے بہت بڑی تعدادماری گئی۔ باقی جو رہے گئے وہ سب کے سب گر فتار کر لیے گئے۔ انہی گرفتار ہو نے والوں میں شا ہ روم ار مانوس بھی شا مل تھا ۔
سلطان نے اپنے جان نثاروں کو حکم دیا کہ ار مانوس جس حال میں بھی ہے پا یہ زنجیر کر کے اُس کے سامنے حا ضر کیا جا ئے ۔چنا نچہ بیڑیوں اور زنجیر وں میں جکڑا ہوا ار مانوس سلطان کی خد مت میں پیش کیاگیا۔ سلطان نے ارمانوس کے غیر متو قع حملے کی خبر سن کر سب سے پہلے اسے اس کا وعدہ یا د دلا یا تھاکہ خلیفہ بغدا د نے میرے اور تمھارے درمیان چو نکہ صلح کا معا ہدہ بھی کر ا یا ہے اس لیے تمھیں بد عہدی نہیں کرنی چا ہیے اور اس کے جوا ب میں ار مانوس نے یہ پیغام بھیجا تھا کہ میں نے اس مہم کی تیاری میں بہت بڑی رقم صرف کی ہے مختلف ملکو ں سے بہادر وں اور جنگجوؤں کو جمع کیا ہے۔ اس لیے اب میرے اور تمھارے در میان معا ہد ہ نہیں چلے گا ۔ چنا نچہ سلطان نے ار مانوس کے یہ آ خری الفاظ د ہرا تے ہو ئے تین کوڑے اس کی پیٹھ پر رسید کر دئیے ۔سلطان نے صرف یہی نہیں کہ ار مانوس کی جان بخشی کر دی بلکہ زادِراہ کے طور پر اُسے دس ہزار اشر فیاں بھی عطاکر دیں اور اس کے تمام سر داروں کو بھی رہا کر دیا۔ نیز تین میل تک ار مانوس کے ساتھ گیا۔ ار مانوس نے تعظیم کے طور پر خلا فت اسلا می کے پا یہ تخت اور خلیفہ بغداد قا ئم با امر اللہ عباسی کی طرف سرجھکا لیا۔
عباسی خلیفہ سے تعلقات:
خلفا ئے مصر جو اپنے فا طمی ہو نے کے مد عی تھے اور شیعہ ہو نے کی وجہ سے عبا سیوں کے حر یف سمجھے جاتے تھے اور ان کے خلاف روز بر و ز سا ز شیں کر تے رہتے تھے۔ الپ ار سلان نے کما ل حکمت و شجا عت سے اُن کا زور بھی توڑ دیا۔ حتیٰ کہ لو گ خو د بخود و سلجو قیوں کی طرف رغبت کر نے لگے ۔چنا نچہ محمد بن ابی ہا شم امیر مکہ نے فا طمیوں سے قطع تعلق کر کے الپ ار سلان کی اطا عت قبول کر لی اور مکہ میں اس کے نا م کا خطبہ جا ری کر دیا۔ الپ ار سلان نے اس کے صلے میں خلعت اور بیس ہزار نقد نذر انہ بھیجا اور دس ہزار سالا نہ و ظیفہ مقر ر کیا۔ ابھی سلطان حلب سے آ گے بڑ ھنے ہی کو تھا کہ اُسے خراسان پر رومیوں کی چڑھائی کی اطلا ع ملی ۔ سلطان نے شام کی مہم سرکر نے کا ارادہ تر ک کر کے فوراً خرا سان کی را ہ لی پھر اس سے فراغت پا نے کے بعد عسقلان کے علا وہ اس نے سا رے فلسطین پر بھی قبضہ کر لیا۔سلطان الپ ارسلا ن نے خلیفہ بغداد قا ئم با مر اللہ عباسی سے اجا زت لے کر اپنے بیٹے ملک شاہ سلجو قی کو با قاعدہ طور پر ولی عہد سلطنت بنا یا۔ خلیفہ نے اس کے لیے ایک خلعت بھجوا ئی اور اپنے بیٹے مقتدی عباسی ولی عہد خلا فت کے لیے سلطان الپ ار سلان سے اُس کی بیٹی سفر خا تون کا ر شتہ ما نگا جسے الپ ارسلان نے بڑی مسرت کے سا تھ گرا ں ما یہ اعزاز خیال کر کے فوراً قبول کر لیا اور عمید الملک اور نظام الملک طوسی کی موجودگی میں نیشا پو میں غا ئبا نہ عقد کر دیا۔ نکا ح کے بعد عمید الملک نے خلیفہ کی طرف سے عطا کی ہوئی خلعت ملک شا ہ سلجو ق کے زیب تن کیا ۔الپ ارسلان کے بعد سلجو قیہ خاندان کا تیسرا حکمران اسکا بیٹا ملک شاہ سلجو قی ہواجو اپنے نا مور مقتدر باپ الپ ار سلان ہی کی طرح نا مور مقتد ر تا جدار کہلا یا ۔
نظام الملک طوسی :
سلجو قی سلطنت کی شا ن و شو کت اور عظمت در حقیقت خواجہ ابو علی حسن قوام الدین نظام الملک طوسی کی گونا ں گو ں خوبیوں اور ذہنی صلا حتیوں کا نتیجہ تھی جسے الپ ارسلان نے عمید الملک وزیر کو بر طرف کر کے اپنی وزارت کے نظام کے لیے منتخب کیا۔ بلا شبہ الپ ارسلان کا نام حسن انتخاب کے باب میں اور نظام الملک کا نام وزراء کی تا ریخ میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے ۔ نظام الملک طوسی بہت بڑا عا لم اور علم دوست وزیر تھا۔ اُس کا در بار اکثر علما ء و فضلا ء اد باء و شعرا سے معمور رہتا تھا۔ اس نے تمام سلطنت میں اعلیٰ قسم کے مد ر سے قا ئم کئے جنھیں مدا رس نظا میہ کے نام سے شہرت حا صل ہو ئی ۔مثلاً اصفہان ، نیشا پور،بلخ ، ہرات ، بصرہ اور بغداد میں عا لیشان مد ر سے تعمیر کرا ئے اور ان کے اخرا جات پورا کرنے کے لیے سر کاری خزا نے سے بڑی بڑی رقمیں منظور کیں ۔ وہ طالب علم جو دیگر شہروں سے چل کر آ تے تھے۔ ان کے ٹھہر نے ،ر ہنے سہنے اور کھا نے پینے کا انتظام مد ر سے کی طرف سے کیاجا تا تھا۔ اور جب تک وہ فا رغ التحصیل ہو کر مد رسہ چھوڑ تا اسے برا بر و ظیفہ ملتا رہتا تھا تا کہ وہ اپنی دیگر ضر و ریا ت کے لیے کسی قسم کی پر یشانی کا شکار نہ ہو اور نہا یت سکون و اطمینان کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کر سکے ۔
مدارس نظا میہ میں در س و تد ریس کے فرائض جولوگ ادا کر تے وہ اپنے زمانے کے بہت بڑے عا لم اور منتخب افراد ہو تے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مد ر سوں سے جو طلبہ فا ر غ التحصیل ہو کر نکلتے وہ اپنا نام ثبت کر جا تے تھے۔ مثلاً شیخ سعدی ، سید عبد القادر جیلانیؒ ، ظہیر فار ابی اور انوری و غیرہ مدارس نظامیہ سے فا ر غ التحصیل تھے۔ تمام مد ارس میں نظامیہ مد رسہ بغداد سب سے بڑھ کر تھا ۔خواجہ نظام الملک طوسی نے اس مد رسہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔اس کی تعمیر دوسال میں مکمل ہو ئی۔مد رسہ نظا میہ بغداد کا انتظام براہ راست خود نظام الملک طوسی کے ہاتھ میں تھا۔ اس مد ر سے کے مد رس اعلیٰ علا مہ ابن جوزی ؒ تھے جن سے شیخ سعد ی نے تعلیم حا صل کی۔ آ ٹھو یں صدی ہجری میں مشہور سیاح ابن بطو طہ بغداد گیا اور وہاں مد رسہ بغداد کا جو حا ل دیکھا اسے اپنے سفر نامے میں بیان کیا ہے۔ وہ اس کی تعریف میں رطب السان ہے کہ دنیا میں ایسے مد ر سے کی کو ئی نظیر نہیں ملتی ۔
فتوحات:
ملک شاہ سلجو قی کازما نہ ہر لحاظ سے ممتاز اور قا بل ذکر ہے ۔ ملک شا ہ نے تا ئید ا یز دی سے جس طرف رُخ کیا فتو حا ت پر فتوحات حا صل کر تا چلا گیا۔ انطاکیہ سے لے کر قسطنطیہ تک کے تمام رو میوں کو اس نے پا ؤں تلے روند ڈا لا اور ان کے ملک میں جگہ جگہ کو ئی پچا س منبر قا ئم کیے ۔ قیصر روم نے ایک ہزار دینار سالا نہ جزیہ کے طور پر ادا کر نے کا اقرار کر کے صلح کی در خواست کی جسے ملک شا ہ نے منظور کر لیا ۔ مشر قی میں سمر قند کو فتح کیا اس کے بعد اسکندریہ پر قبضہ جما یا ۔مختصر یہ کہ اس کے قر ب و جوار کے تمام امرا ء نے ہد یے اور اطا عت نا مے بھیج کر ملک شا ہ سلجو قی سے اپنی و فاداری اور اطا عت گزاری کا اظہار کیا اور یہ اگر ایک طرف نتیجہ تھا ملک شا ہ سلجو قی کی شجا عت اور اس کے زور شمشیر کا ، تو دوسری طرف نظام الملک طوسی کا حسن تد بیر اور زور قلم بھی دو لت سلجو قیہ کی شان و شو کت بڑ ھا نے میں برابر کا حصہ رکھتا ہے ۔
الپ ارسلان کی اولاد:
ملک شاہ سلجو قی کے چار بیٹے تھے بر کیا رق، محمد ،سنجر اور محمود ۔ ملک شا ہ کے انتقال کے بعد تخت و تاج کے حصو ل کے لیے بر کیا روق اور محمد کے درمیان جنگ شروع ہوگئی جسکا نتیجہ بہت برا نکلا۔ خانہ جنگی سے فا ئدہ اُٹھا تے ہو ئے کئی سلجو قی خاندانوں نے مر کزی حکو مت سے علیحدہ ہو کر اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا حتیٰ کہ آخری سلجوقی حکمران سلطان سنجر کی حکو مت صرف خراسان تک محد ود رہ گئی ۔ کر مان ، عراق، روم ، اور شام کے سلجو قی خاندان بھی اپنی الگ الگ ریا ستیں قا ئم کر کے بیٹھ گئے جس سے دو لت سلجو قیہ کی مر کزیت ختم ہو گئی ۔آذر بائیجا ن ، ترکستان کے علاقے سلجو قی خاندان سے الگ ہو گئے ۔ بالاآخر اس تفریق و انتشار سے دو لت سلجو قیہ کا انجام یہ ہوا کہ مشرق میں خوار زم شا ہی غالب آ گیا اور اس نے سلجو قیوں کو کچل ڈالا۔آذربائیجان ، فارس، الجزیرہ اور دیا ر بکر میں سلجو قی فوج کے ان افسروں نے قبضہ کر لیا جنھیں اتابک کہا جا تا ہے ۔ روم کے سلجوقیوں پر تر کمان عثمانی مسلط ہو ئے اور انھو ں نے روم کی سلجو قی حکومت ختم کر کے دولت عثما نیہ کی بنیاد رکھی۔
و فات:
منزیکرت کی فتح کے بعد سلطان الپ ارسلان کی حکومت مغربی ایشیا تک پھیل گئی ۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بہت جلد ترکستان کو بھی اپنی حکومت کا حصہ بنا لے گا جو اس کے آباؤاجداد کا اصل گھر تھا۔اس نے دریائے آمو کی طرف پیش قدمی کی۔اس دوران اس کے محافظوں نے یوسف الخوارزمی کو گرفتار کر کے سلطان کے سامنے پیش کیا ۔ جب یوسف کو سلطان کے قریب لایا گیا تو سلطان نے اسے تن تنہا زیر کرنے کی ٹھان لی۔الپ السلان کو بطور تیر انداز اپنے اوپر بہت ناز تھا اور اس نے اپنے محافظوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بالکل مداخلت نہ کریں۔ اس دوران یوسف سے دو بدو لڑتے ہوئے الپ ارسلان کا پاؤں پھسل گیا جس سے اس کا تیر خطا چلا گیا اور اس نے یوسف کا خنجر اپنے سینے میں پیوست پایا۔ سلطان اس زخم سے چار دن بعد 25نومبر 1072کو چل بسا ۔اس وقت اس کی عمر 42 سال تھی۔
مر تے وقت سلطان نے اہل دربار سے کہا کہ میں جس لڑائی میں بھی گیا ،میرا بھروسہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر رہالیکن یہا ں جب ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر میں نے اپنے لشکر کا جا ئزہ لیا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اب دنیا کی کو ئی طا قت میرا مقا بلہ نہیں کر سکتی ۔ یقیناًمیں سا رے چین کو فتح کر لو ں گا ۔ غالباً یہی میری نا کا می کا سبب ہے کہ میں اپنی فو ج اور اپنے زور بازو پر بھر وسہ کیا۔ الپ ارسلا ن کو اس کے چچا طغرل بیگ اور باپ دا ؤ د بیگ کی قبروں کے پاس مرو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں