Seerat-ul-Nabi 60

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺاللہ کی تلوار

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺاللہ کی تلوار
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پرچم سنبھالتے ہی دشمن پر زبردست حملہ کیا، اس طرح جنگ کا پانسہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں پلٹ گیا، اس طرح کفار پر مسلمانوں کا رعب چھاگیا اور وہ مزید لڑائی سے کترانے لگے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے باہمی مشورے سے اس حد تک کامیابی حاصل کرنے کے بعد واپسی اختیار کی۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فوج کا امیر بنتے ہی لشکر کا اگلا حصہ پیچھے کردیا اور پچھلے حصے کو آگے لے آئے، اسی طرح دائیں حصے کو بائیں جانب، اور بائیں حصے کو دائیں جانب سے لے آئے، اس طرح انہوں نے پورے لشکر کی ترتیب بدل کر رکھ دی۔جب رومیوں سے آمنا سامنا ہوا تو انہیں ہر طرف نئے لوگ نظر آئے۔اس طرح انہوں نے خیال کیا کہ مسلمانوں کو کمک پہنچ گئی ہے۔
یہ جنگ مسلسل سات دن تک جاری رہی تھی، امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جنگ موتہ کے موقع پر ان کے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹیں ، صرف ایک یمنی تلوار باقی رہ گئی تھی، جو آخر تک ان آپ کے ہاتھ میں رہی۔
ادھر تو موتہ کے مقام پر یہ جنگ ہورہی تھی اور ادھر مدینہ منورہ میں کیا ہورہا تھا، وہاں کا منظر یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو سارا حال بتادیا، آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو جنگ کی خبریں سنانے کے لیے مسجد نبوی میں بلایا اور خود منبر پر تشریف فرما ہوئے، اس وقت آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو تھے…. آپ نے بتانا شروع کیا۔
“لوگو! خیر کا دروازہ… خیر کا دروازہ… خیر کا دروازہ کھل گیا ہے، میں تمہیں ، تمہارے لشکر کے بارے میں بتاتا ہوں ، ان غازیوں کے بارے میں بتاتا ہوں ، وہ لوگ یہاں سے رخصت ہوکر چلے گئے، یہاں تک کہ دشمن سے ان کی مڈبھیڑ ہوگئی اور زید بن حارثہ شہید ہوگئے، ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگو، پھر جعفر نے پرچم لیا اور بڑی ثابت قدمی سے لڑے، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہوگئے، ان کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو، پھر عبداللہ بن رواحہ نے پرچم اٹھایا اور وہ بھی شہید ہوگئے، پھر خالد بن ولید نے پرچم اٹھالیا، وہ لشکر کے امیر نہیں تھے، وہ خود اپنی ذات کے امیر تھے…. مگر وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ۔اس لیے اللہ کی مدد تیار ہے، اللہ تعالیٰ نے اس تلوار کو کافروں پر سونت دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے دشمن پر فتح نصیب فرمائی۔”
اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں دعا فرمائی۔
“اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، تو اس کی مدد فرما۔”
اسی دن سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ کہا جانے لگا۔
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ۔جس روز اس لڑائی میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہید ہوئے، نبی اکرم ﷺ ان کے گھر تشریف لائے اور فرمایا:
“جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ۔”
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بچوں کو آپ کے پاس لے آئیں ، حضور اکرم ﷺ انہیں پیار کرنے لگے اور ساتھ میں روتے بھی رہے، یہاں تک کہ حضور اکرم ﷺ ڈاڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی…. حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو حیرت ہوئی، پوچھنے لگیں :
“اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان! آپ کیوں رورہے ہیں ، کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کوئی خبر آئی ہے؟ ”
جواب میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
“ہاں ! وہ اور ان کے ساتھی آج ہی شہید ہوئے ہیں ۔”
وہ یک دم کھڑی ہوگئیں اور رونے لگیں …. یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس وقت حضرت جعفر اور ان کے ساتھی مدینہ منورہ سے بہت فاصلے پر ملک شام میں لڑرہے تھے اور وہاں سے کسی طرح بھی خبر آنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اب ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی خبر حضور اکرم ﷺ کو دی تھی، آپ نے حضرت اسماء کو بلند آواز سے روتے دیکھا تو فرمایا:
“اے اسماء نہ بین کرنا چاہیئے اور نہ رونا پیٹنا چاہیئے۔”
جلد ہی وہاں عورتیں جمع ہوگئیں … وہ بھی یہ خبر سن کر رونے لگیں ، نوحہ اور ماتم کرنے لگیں کسی نے حضور اکرم ﷺ کو آکر بتایا۔
“عورتیں بہت ماتم اور نوحہ کررہی ہیں ۔”
آپ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا:
“جاکر انہیں خاموش کرو۔”
وہ گئے اور جلد ہی واپس آکر بولے:
“اللہ کے رسول! وہ خاموش نہیں ہورہیں ۔”
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“جاؤ! انہیں خاموش کرنے کی کوشش کرو اور اگر نہ مانیں تو ان کے منہ میں مٹی پھینکو۔”
اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے بارے میں دعا فرمائی۔
“اے اللہ! جعفر بہترین ثواب کے حقدار ہوگئے ہیں ، تو ان کی اولاد کو ان کا بہترین جانشین بنا۔”
اس کے بعد آپ ﷺ وہاں سے واپس تشریف لائے اور اپنے گھر والوں سے فرمایا:
“جعفر کی بیوی بچوں سے غافل نہ ہو جانا، آج وہ بہت غمگین ہیں ، ان کے لیے کھانا تیار کرکے بھیجو۔”
حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالی نے جعفر کے دونوں بازؤوں کی جگہ پر دو پر لگا دیے ہیں وہ ان کے ذریعے جنت میں اڑتے پھرتے ہیں ۔”
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی لاش پر ان کے سینے اور مونڈھوں کے درمیانی حصے میں نوے زخم آئے تھے یہ تلوار اور نیزے کے تھے۔
حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اس روز تھے بھی روزے سے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت جعفر کے پاس شام کے وقت پہنچا، وہ میدان جنگ میں زخموں سے چور پڑے تھے، میں نے انہیں پانی پیش کیا تو انہوں نے فرمایا:
“میں روزے سے ہوں ، تم یہ پانی میرے منہ کے پاس رکھ دو، اگر میں سورج غروب ہونے تک زندہ رہا تو اس پانی سے روزہ افطار کر لونگا۔”
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی وہ شہید ہوگئے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، اچانک آپ ﷺ نے آسمان کی طرف منہ اٹھایا اور وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ فرمایا، لوگوں نے عرض کیا: “اے اللہ کے رسول! یہ آپ نے کیوں فرمایا؟”
جواب میں ارشاد فرمایا:
“ابھی میرے پاس سے جعفر ابن ابی طالب فرشتوں کے جمگھٹ میں گزرے ہیں ، انہوں نے مجھے سلام کیا تھا۔”
غزوہ موتہ سے واپس آنے والا لشکر جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچا، تو وہیں آکر اللہ کے رسول اور مسلمانوں نے ان سے ملاقات کی، شہر میں بچوں نے اشعار گا کر انہیں خوش آمدید کہا، اس وقت آپ ﷺ اپنی سواری پر تشریف لا رہے تھے، ان بچوں کو دیکھ کر فرمایا:
“انہیں اٹھا کر سواریوں پر بٹھا لو اور جعفر کے بچوں کو میرے پیچھے بٹھا دو۔”
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اس طرح یہ لشکر مدینہ منورہ میں داخل ہوا، تین لاکھ دشمنوں کے مقابلے میں صرف تین ہزار صحابہ کا مقابلہ کرنا اور ان کے بے شمار لوگوں کو قتل کر کے لشکر کا صحیح سلامت واپس مدینہ منورہ لوٹ آنا ایک بہت بڑی کامیابی تھی… اس بہت بڑی کامیابی پر جس قدر بھی خوشی محسوس کی جاتی تھی کم تھی۔
اس جنگ کے بعد مکہ فتح ہوا۔ یہ غزوہ رمضان 8ھ میں پیش آیا، حضور ﷺ اور قریش کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا، اس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ دوسرے عرب قبیلوں میں سے کوئی قبیلہ بھی دونوں فریقوں میں سے کسی بھی طرف سے اس صلح نامے میں شامل ہوسکتا ہے، یعنی اگر کوئی قبیلہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، اس صورت میں وہ ان شرائط کا پابند ہوگا، جن کے پابند قریش تھے۔
اس شرط کی رو سے بنی بکر کا قبیلہ قریش کی طرف سےاور بنی خزاعہ کا قبیلہ رسول اللہ کی طرف سےاس صلح میں شامل ہوا، جب کہ ان دونوں قبیلوں میں بہت پرانی دشمنی تھی، دونوں کے درمیان کافی قتل و غارت گری ہو چکی تھی، خون کے بدلے باقی تھے…
لیکن اسلام کی آمد نے ان دشمنیوں کو دبا دیا تھا۔
اب ہوا یہ کہ بنی بکر کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں توہین آمیز شعر لکھے اور ان کو گانے لگا، بنی خزاعہ کے ایک نوجوان نے ان اشعار کو سن لیا، اس نے بنی بکر کے شخص کو پکڑ کر مارا، اس سے وہ زخمی ہوگیا، اس پر دونوں قبیلے ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے کیونکہ پرانی دشمنی تو ان میں پہلے سے چلتی آرہی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں