96

اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا پر پاکستانی قرارداد منظور، بھارت کو اعتراض کیوں؟

بھارت کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کے حوالے سے پاکستانی قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ ایک مذہبی پلیٹ فارم میں تبدیل ہو سکتا ہے اور دیگر مذاہب کے سلسلے میں بھی قراردادیں آ سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 مارچ کو ‘انٹرنیشنل ڈے ٹو کامبیٹ اسلاموفوبیا‘ یعنی اسلاموفوبیا مخالف عالمی دن منانے کی پاکستان کی طرف سے پیش کردہ قرارداد منظور کر لی۔ تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) کے 57 رکن ممالک کے علاوہ چین اور روس سمیت آٹھ دیگر ملکوں نے بھی قرارداد کی تائید کی تھی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا ایک حقیقت ہے اور جنرل اسمبلی کے اراکین نے نشان دہی کی کہ یہ رجحان بڑھ رہا ہے اور اس کا ازالہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے نتائج نفرت انگیز تقریر، تفریق اور مسلمانوں کے خلاف جرائم ہیں اور یہ دنیا کے کئی خطوں میں پھیل رہا ہے۔ یہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور عقائد کے خلاف ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں شدید تکلیف محسوس کی جارہی ہے۔
قرارداد منظور کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک، اس کے متعلقہ اداروں، دیگر علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں، سول سوسائٹی، نجی شعبہ اور مذہبی تنظیموں کو مناسب انداز میں عالمی سطح پر یہ دن منانے کی دعوت دی گئی ہے۔
بھارت کا اعتراض
بھارت نے اس قرارداد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص مذہب کے سلسلے میں خوف اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ اس کے لیے ایک بین الاقوامی دن منانے کی ضرورت پڑ گئی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دیگر مذاہب بالخصوص ہندو، بدھ مت اور سکھ مذہب کے خلاف بھی خوف کا ماحول بڑھ رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر ٹی ایس تریمورتی کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا کے حوالے سے قرارداد کی منظوری کے بعد دیگر مذاہب کے سلسلے میں بھی اسی طرح کی قراردادیں آ سکتی ہیں اور اقوام متحدہ ایک مذہبی پلیٹ فارم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس قرارداد کو مثال نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ”اقوام متحدہ کو ایسے مذہبی معاملات سے دور رہنا ضروری ہے۔ اس طرح کی قرارداد دنیا کو ایک خاندان کی طرح دیکھنے اور ہمیں امن اور خیر سگالی کے پلیٹ فارم پر ایک ساتھ لانے کے بجائے تقسیم کر سکتی ہے۔‘‘
بھارتی سفیر کا کہنا تھا کہ درحقیقت اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ مذاہب کے سلسلے میں اسی طرح کے خوف کے ماحول نے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی متاثر کیا ہے، ”بالخصوص ہندو، بودھ اور سکھوں کے سلسلے میں خوف کے ماحول میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے اس سلسلے میں افغانستان کے بامیان میں گوتم بدھ کے مجسمے کو تباہ کرنے ، گوردوارے کی توہین، سکھوں کے قتل عام، مندروں پر حملے اور مورتیوں کو توڑنے کو جائز ٹھہرانے کی کوشش جیسے متعدد واقعات کا حوالہ دیا۔
بھارتی سفیر نے اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منانے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ پہلے سے ہی 22 اگست کو مذہب کے نام پر قتل کیے جانے والوں کی یاد میں دن منایا جاتا ہے جبکہ 16 نومبر کو بین الاقوامی یوم رواداری کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ایسے میں اسلاموفوبیا کے خلاف بین الاقوامی دن منانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو اپنے مذہبی تکثیریت پر فخر ہے۔ بھارت نے مذہب کے نام پر زیادتی کا شکار ہونے والوں کو ہمیشہ پناہ دی ہے۔
عمران خان نے کیا کہا؟
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد منظور ہونے پر امت مسلمہ کو مبارک باد دی۔ انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا، ”اقوام متحدہ نے بالآخر آج دنیا کو درپیش اسلامو فوبیا، مذہبی رسومات کی تعظیم، منظم نفرت انگیزی کے انسداد اور مسلمانوں کے خلاف تفریق جیسے بڑے چیلنجز کا اعتراف کیا۔ اس تاریخی قرارداد کا نفاذ یقینی بنانا اب اگلا امتحان ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”میں امت مسلمہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر کے خلاف ہماری آواز سنی گئی اور 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے طور پر مقرر کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے او آئی سی کی ایما پر پاکستان کی پیش کردہ تاریخی قرارداد منظور کی۔‘‘
15 مارچ ہی کیوں؟
15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے تدارک کا عالمی دن قرار دینے کی وجہ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی مسجد پر حملے کی یادیں تازہ کرنا ہے، جہاں سن 2019 میں نماز جمعہ کے دوران اندھادھند فائرنگ میں 51 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ اسلاموفوبیا کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں ہے اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے ملک کو مسلمانوں کے لیے محفوظ بنائیں گے۔ جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی کہا تھا کہ پیغمبر اسلام کی توہین، آزادی اظہار نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں