232

اقبال اور تسخیر کائنات. ڈاکٹررحیق احمد عباسی

65 / 100

اقبال اور تسخير کائنات

ڈاکٹررحیق احمد عباسی

اگرچہ جدید راکٹ کے پیچھے انسانی عقل کا صدیوں کا سفر اور علمی ارتقاع شامل ہے لیکن انسانی تاریخ کا پہلا راکٹ جو خلا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا تھا وہ جرمنی کا وی ٹو میزائل تھا جس کو سب سے پہلے 1942 میں لانچ کیا گیا۔ یعنی 1942 سے پہلے انسان کا خلائی سفر ایک خواب اور سائنس فکشن ہی تھا۔جبکہ انسان کو راکٹ کے ذریعے کسی اضافی شے کو خلا میں پہچانے میں مزید 15 سال لگے اور 4 اکتوبر 1957 کو پہلے مصنوعی سیارہ خلا میں بھجوایا گیا۔ علامہ اقبال کی وفات 1938 میں ہوئی لہذا ان کی ذندگی میں انسان کا خلائی سفر ایک تخیل ہی تھا۔ لیکن اقبال شاید وہ پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے انسان کے خلائی سفر کی پیشن گوئی کی تھی اور بتا دیا تھا کہ یہ سبق ان کو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ۔

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

اقبال نے ان اشعار میں جہاں فراخی افلاک کی ترکیب کے ذریعے خلا کی بے کراں وسعتوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہاں خوار کے ذریعے ستاروں اور کہکشاوں کے سفر مسلسل اور زبوں کے ذریعے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہر ستارے کا مقدر بالآخر گل ہو کر وسیع و عریض کائنات میں بے وجود ہوجانا ہے ۔ اقبال نے معراج مصطفے سے استنباط کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جلد انسان خلاوں اور ستاروں کو تسخیر کرنے والا ہے ۔ اہم امر یہ ہے کہ اقبال اس وقت جب ابھی کوئی ایسا راکٹ بھی ایجاد نہیں ہوا تھا جو زمین کی فضا سے باہر تک پہنچ سکتا کہ خلا و گردوں کو انسان کی زد میں قرار دے رہے تھے ۔ اقبال اپنے فہم اسلام میں اپنے دور کےمذہبی زعماء سے کس قدر آگے تھے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ان کے ہم عصروں میں علوم مذہبیہ اور فنون ریاضی میں مہارت رکھنے والے امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ علیہ جن کو برصغیر کے اہل سنت کا ایک طبقہ گزشتہ صدی کا مجدد مانتا ہے اس دور میں زمین کو ساکن ہی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس موضوع پر ان سے ایک کتابچہ کو بھی منسوب کیا جاتا ہے۔

آج جب ایک طرف انسان چاند سے آگے مریخ پر ربورٹ اتار کر اس کی سیارے کی ساخت اور فضا پر تحقیق کر رہا ہے اور دوسری طرف وہ خلا میں موجود حبل دوربین کے ذریعے کائنات کے مسلسل پھیلاؤ کے نتیجہ پر پہنچ چکا ہے اقبال کا ایک صدی قبل لکھا گیا یہ شعر بھی اقبال کی فکر و سوچ کی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آرہی ہے دما دم صدائے ’کُنْ فَیَکُوںْ

گردوں کی تسخیر کی پیشن گوئی اور توسیع کائنات کے نظریہ کے سائنسی حقائق کے بیان سے ایک دم ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ اقبال کے کلام میں اس طرح کی باتیں ان کے انگلستان اور یورپ قیام کے اثرات کا نتیجہ ہیں اور وہ مغرب کے جدید علوم سے متاثر ہو کر اس طرح کے سربستہ رموز عالم سے واقف ہوئے ۔ اقبال نے اگر چہ اس بات کا رد بہت سے دیگر مقامات پر بھی کیا لیکن اس غزل میں بھی وہ اس بات کو رد کئے بغیر آگے نہیں بڑھے

علاج آتشِ رومیؔ کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

اُسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن

اُسی کے فیض سے میرے سبُو میں ہے جیحوں

یعنی عشق کی وہ آگ جو فکر رومی نے اقبال کے سینہ میں روشن کی تھی اس سےپیدا ہونے والا سوز اگر تمہیں میسر ہو تو تمھاری عقل و خرد کبھی فرنگی نظریات سے مرعوب نہیں ہو سکتی۔ اسی سوز نے میری نگاہ کو روشن کیا کے اور اسی کے فیض سے میرے جام فکر میں علم و فکر کا جیحوں جیسے دریا سمویا ہوا ہے ۔

آج جب انسان مریخ کو مسخر کرنے کی دھن میں مگن ہے لیکن یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اقبال نے جاوید نامے میں ایک مثالی شہر کا نقشہ کھینچا ہے جس کو وہ  شہر مرغدین کہتے ہیں کو بھی فلک مریخ میں شامل کیا ہے

علامہ اقبال سائنس اور روحانیت کی ہم آہنگی کے قائل ہیں ۔ ان کے ہاں انسان کی ترقی کے لیے سائنسی علوم میں مہارت ناگزیر ہے لیکن انسانیت کا حقیقی ارتقاع و ارتفاع روحانیت کے بغیر نا ممکن ہے ۔ان کے نزدیک قرآن کی بنیادی روح بھی استقرائی ہے اور مسلمانوں کے زوال کا بنیادی سبب اس استقرائی استدلال سے دوری ہے جو سائنس کی بنیاد ہے۔

اقبال کی فکر کے مطابق جدید طبیعیات دراصل روحانیت کی طرف ہی محو سفر ہے کیوں کہ یہ مادیت سے اپنا رشتہ توڑتی چلی جا رہی ہے اور اس سفر میں یہ منزل ضرور آئے گی جب طبیعیاتی اور مابعدالطبیعیاتی حقائق ایک ہو جائیں گے۔ اقبال کا فکر و فلسفہ مذہب، فلسفہ اور سائنس کے بہترین عناصر کی ہم آہنگی پر مشتمل ہے اور اس کا ایک واضح مقصد انسان کی مکمل اور ہمہ گیر فلاح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں