61

افغانستان کیلئے اسلامی فنڈ!

ہمسایہ برادر اسلامی ملک افغانستان چار عشروں سے زائد عرصے سے جنگ و جدل، دہشت گردی، معاشی بدحالی، بھوک اور افلاس سے دو چار ہے۔ پہلے روس اور اُس کے بعد امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے تقریباً چار کروڑ آبادی کے اِس غریب ملک کو تاراج کیا۔ امریکہ کھربوں ڈالر اور جنگی مشینری استعمال کرنے کے باوجود یہاں اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکا نہ نظام۔ امارت اسلامی کے داعی طالبان نے طویل جدوجہد اور بےپناہ قربانیوں کے بعد حکمرانی کا حق تو واپس لے لیا لیکن دنیا سے ابھی تک اپنی حکومت تسلیم کرانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ امریکہ نے اس کے اربوں ڈالر دبا رکھے ہیں۔ مالی وسائل سے محروم اور طویل جنگ سے تباہ حال افغانستان اس وقت بہت بڑے انسانی المیے کے خطرے سے دوچار ہے۔ ان حالات میں پاکستان آگے آیا اور اسلامی اخوت اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے افغان عوام کی مدد کیلئے پوری دنیا میں مہم چلائی۔ اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا غیرمعمولی اجلاس، جس میں طالبان کے مخالف امریکہ، جاپان، جرمنی اور اٹلی کے نمائندے بھی شریک ہوئے، اسی سلسلے کی کڑی تھا جو اتوار کو تفصیلی اعلامیہ جاری کرنے کے ساتھ ختم ہوا۔ اعلامیہ میں افغانستان کو بدحالی اور تباہی سے بچانے کیلئے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سب سے اہم خوراک اور نقد امداد کی فراہمی کیلئے فوڈ سیکورٹی پروگرام اور ہیومینیٹیرین ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے پر اتفاقِ رائے ہے۔ ایک خصوصی نمائندہ بھی مقرر کر دیا گیا ہے جو اجلاس کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی نگرانی کرے گا۔ اجلاس میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں زور دیا گیا کہ افغانستان میں معاشی بدحالی، مہاجرین کے بڑے پیمانے پر انخلا کا باعث بنے گی اور انتہا پسندی، دہشت گردی اور عدم استحکام کو فروغ ملے گا جس کے سنگین نتائج علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام پر پڑنے والے اثرات کی صورت میں برآمد ہوں گے۔ یہ بھی کہا گیا کہ غربت سے نمٹنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اپنے شہریوں کو ضروری خدمات خاص طور پر صاف پانی، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں افغانستان کی مدد کرنا ہوگی۔ انسانی امداد کی فراہمی میں بین الاقوامی برادری، پڑوسی ممالک ڈونر ایجنسیوں اور دیگر عالمی اداروں کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغانستا ن کی 60فیصد آبادی کو بھوک کے بحران کا سامنا ہے جو روز بروز بڑھ رہا ہے رواں سال جنوری سے ستمبر تک 6لاکھ 65ہزار افراد افغانستان کے اندر بےگھر ہوئے جبکہ 29لاکھ پہلے سے بے گھر ہیں۔ کانفرنس میں جن امور پر اتفاق کیا گیا ان پر عملدرآمد سے افغان عوام کو بہت بڑا ریلیف ملے گا جس کا کریڈٹ مسلم سربراہوں خاص طور پر وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے جنہوں نے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھایا اور دنیا کو خبردار کیا کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے کوئی بڑا اقدام نہ اٹھایا گیا تو صورتحال تباہ کن ہو سکتی ہے۔ خصوصاً معاشی بدحالی دہشت گردی کے پھیلائو کا سبب بن سکتی ہے۔ اجلاس میں منظور قراردادوں میں زندگی کے تمام شعبوں میں افغان خواتین کی شرکت، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق، توانائی، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی شعبوں میں منصوبوں پر عملدرآمد پر زور دیا گیا اور افغان قیادت کا موقف بھی سنا گیا۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بتایا کہ افغانستان میں امن اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ہمارے ساتھ اور مددگار ہیں۔ داعش کو کنٹرول کر لیا ہے کسی اورکو بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اسلام آباد کا اجلاس افغانستان کے بہتر مستقبل کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں