peace in afghanistan 27

افغانستان کا مکہ اعلامیہ

63 / 100

افغانستان کا مکہ اعلامیہ
اس حقیقت سے پوری دنیا شناسا ہو چکی ہے کہ جب تک افغانستان میں پائیدار قیامِ امن عمل میں نہیں آتا، خطہ کیا پوری دنیا میں امن کی کوئی بھی ضمانت نہیں دے سکتا۔ امریکہ یہاں سے جس سرعت سے نکلنا چاہتا ہے، قابلِ تشویش ہے۔ ماضی میں بھی امریکہ نے ایسا ہی کیا تھا جس کے نتیجے میں دہشت گردی دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں پھیل گئی۔ پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات کے ذریعے افغان قضیے کا حل چاہتا ہے، اس کیلئے اس کی کاوشیں بھی دنیا بھر کے سامنے ہیں جن کے بارآور ہونے کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے منتخب علما نے افغانستان میں قیامِ امن کے تاریخی اعلان پر خانہ کعبہ کے سائبان تلے دستخط کر دیے ہیں۔ علما نے مکہ مکرمہ سے افغانستان میں ’’اعلانِ امن‘‘ کی دستاویز جاری کی جس سے افغان بحران کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔ ’’افغان امن کانفرنس‘‘ میں پاکستان کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری اور افغانستان کے وزیر حج و اوقاف شیخ قاسم حلیمی نے متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کی نمائندگی کی۔ رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد العیسی، جو مجلس علما المسلمین کے سربراہ بھی ہیں، اس تقریب میں شریک تھے۔ کانفرنس میں افغان بحران کا جامع اور حتمی حل نکالنے پر اتفاق رائے کیا گیا تاکہ خونریزی بند ہو۔ یہ بات تسلیم کی گئی کہ ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پیدا ہونے والے تشدد اور خودکش حملے اسلام کے بنیادی عقائد کے منافی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے علما نے افغانستان میں امن و استحکام کی سرپرستی پر سعودی شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔ مکہ اعلامیہ بلاشبہ ایک اہم اور تاریخی واقعہ ہے اس لئے بھی کہ خانہ کعبہ کے سائے تلے ہونے والے اس معاہدے سے کوئی بھی روگردانی نہیں کر سکے گا۔ امن کی راہیں کھلیں گی، خونریزی ختم ہو گی اور افغانستان میں امن و استحکام آئے گا جو پاکستان کی دیرینہ خواہش ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں