mazhar-barlas 29

افریقی ملکوں کی کہانی. مظہر برلاس

21 / 100

افریقی ملکوں کی کہانی. مظہر برلاس
براعظم افریقہ میں 55ممالک ہیں، اس پورے خطے میں بیش بہا قدرتی وسائل ہیں مگر ان وسائل کے باوجود یہاں کی بستیوں میں غربت آباد ہے، یہاں کی سڑکوں اور عمارتوں سے غربت بولتی بھی ہے، ٹپکتی بھی ہے۔ اس کی حالیہ بڑی وجہ تو ان ملکوں کی کرپٹ ترین لیڈر شپ ہے مگر ماضی میں اس کی بڑی وجہ غلامی کی داستان ہے۔ یہ واحد براعظم ہے جس میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ افریقہ میں 50فیصد مسلمان جبکہ 44فیصد عیسائی آباد ہیں۔ دنیا میں مذاہب اور ان کے ماننے والوں کو دیکھا جائے تو عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔ الہامی مذاہب میں تیسرا مذہب یہودیت ہے جبکہ غیر الہامی مذہبوں میں بدھ مت، ہندو مت اور سکھ ازم بڑے مذاہب ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ الہامی اور غیر الہامی مذاہب کا آغاز براعظم ایشیا ہی سے ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے الہامی مذاہب کا مرکز خطہ عرب ہے جبکہ تینوں غیرالہامی بڑے مذاہب کا آغاز پاکستان سے ہوا۔ بدھ مت کے ماننے والے جانتے ہیں کہ بدھا کی یادگار کہانی کے مقدس ترین سلسلے ٹیکسلا کے آس پاس ہی تو ہیں۔ بدھ مت کے چھ مقدس مقامات ٹیکسلا اور تخت بائی میں ہیں۔ اسی طرح ہندومت کے سب سے مقدس مقامات کٹاس راج اور شاردہ پاکستان میں ہیں۔ آج بھی ہندو پنڈت بھجن گاتے وقت اپنے منہ کا رخ کٹاس راج کی طرف رکھتے ہیں۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک کا جنم استھان ننکانہ صاحب اور مرن استھان کرتار پور صاحب پاکستان میں ہیں۔ ان کی ایک معروف عبادت گاہ گورو دوارہ پنجہ صاحب ٹیکسلا کے پاس ہے۔ پاکستان ڈھائی سے تین ارب انسانوں کی مذہبی سیاحت کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس کے لئے توجہ کی ضرورت ہے۔ خیر بات افریقہ کی ہو رہی تھی، درمیان میں مذاہب کا تذکرہ اس لئے کرنا پڑا کہ براعظم افریقہ سے دنیا کے کسی بڑے مذہب کی ابتدا نہیں ہوئی۔

افریقہ کے 55ملکوں نے طویل عرصہ جبر کے سایوں میں گزارا، ان کی غلامی کی مدت خاصی طویل ہے لہٰذا ان پر ہونے والے ظلم اور تشدد کی داستانیں بھی خاصی طویل ہیں۔ افریقہ میں بسنے والے انسانوں کے ساتھ انسانوں ہی نے غیر انسانی رویے اپنائے۔ تین کروڑ تیس لاکھ اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے براعظم افریقہ کے تمام ملکوں کو غلامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پچپن افریقی ممالک کو برطانیہ، فرانس، جرمنی،ا سپین، پرتگال، اٹلی اور بلجیم نے غلام بنائے رکھا۔ کہنے کو تو ان ملکوں کو آزادی مل گئی مگر طویل مدت تک غیرملکی آقائوں کی کالونیاں رہنے والے یہ ملک غلامی کی زنجیروں سے ابھی بھی نہیں نکلے۔ آج بھی افریقہ کے اکثر ملکوں کی سرکاری زبان فرنچ، انگریزی اورا سپینش ہے۔ ان ملکوں کے اقتدار پر قابض لوگ آج بھی اپنے غیرملکی آقائوں کی پسند و ناپسند کا خیال رکھتے ہیں بلکہ افریقی ملکوں میں غیرملکی اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ افریقی ملکوں کے عوام میں ابھی تک خوف کی لہر ہے۔ غلامی ان کے لہجوں سے بولتی ہے۔ ان کی غربت کا سبب پہلے غیر ملکی آقا تھے، اب اس غریبی میں ان کے اپنوں کا دخل ہے۔ افریقی ممالک کی کرپٹ ترین قیادت نے خود تو قدرتی وسائل سے دولت کے انبار لگائے مگر اپنے لوگوں کو غربت کی چکی میں پسنے دیا، جہاں غربت ہو، وہاں بیماریاں بھی ڈیرے جما لیتی ہیں، ایک افریقی ملک لیبیا کے حکمران کرنل معمر قذافی نے اپنے عوام کے ساتھ بھلائی کا رویہ رکھا، اپنے لوگوں کی بہتری کے لئے کام کیا، لیبیا کے لوگ قذافی کے دور میں خوشحال تھے مگر یہ خوشحالی سامراجی طاقتوں سے نہ دیکھی گئی، سو انہوں نے قذافی کو ختم کردیا، آج لیبیا برباد ہے، اسے جمہوریت کے نام پر بھوک اور غربت میں دھکیل دیا گیا ہے۔

خواتین و حضرات! افریقی ملکوں پر غلامی کے سائے گہرے بھی ہیں اور طویل بھی۔ کیا بادشاہت کے طولانی سلسلے تھے۔ نائیجریا، گھانا، کینیا، سائوتھ افریقہ، زمبابوے، گیمبیا، مصر، سوڈان، زمبیا، صومالیہ، سرالیون، تنزانیہ اور یوگنڈا پر برطانوی راج کا سورج چمکتا رہا جبکہ نائیجر، مالی، برکینا فاسو، موریطانیہ، سینیگال، ایوری کوسٹ، بنین، گنی بسائو، گنی کوناکری، تیونس، الجیریا، جبوتی، کمرئوس، کیمرون، چاڈ، سینٹرل افریقین ری پبلک، ٹوگو اور مراکو، یہ سب فرانس کے زیر تسلط تھے۔ کبھی جرمنی تنزانیہ، ٹوگو اور آدھے صومالیہ پر قابض رہا۔ موزمبیق اور انگولا پر پرتگالی قابض رہے، اٹلی نے لیبیا، ایتھوپیا، ایریٹیریا اور صومالیہ کے آدھے حصے پر قبضہ کئے رکھا۔ کانگو، روانڈا اور برونڈی جیسے ملک بلجیم کے زیر قبضہ رہے۔ آج بھی افریقہ کے کئی جزیروں پر انہی سات ملکوں کی حکمرانی ہے جنہوں نے لمبے عرصے کے لئے افریقی ملکوں کو غلام بنائے رکھا۔

افریقی ملکوں سے ان کی زبانیں چھین کر انہیں اپنی زبانیں اور غلامی کے اثرات دینے والوں نے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے اقوام متحدہ نامی ادارہ بنایا۔ اب وہ غلام ملکوں کو اس ادارے کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر مذاہب کی نگا ہ سے دیکھا جائے تو اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والوں میں چار بڑے عیسائی ملک شامل ہیں، پانچواں بدھ مت ہے۔ دنیا کے دوسرے بڑے مذہب اسلام کے ماننے والوں کا کوئی ملک ایسا نہیں جس کو ویٹو پاور حاصل ہو، حالانکہ دنیا میں 58مسلمان ممالک ہیں، آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پونے دو ارب مسلمان ہیں۔ اگر ملکوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو افریقہ کے 55ملکوں میں سے کسی ایک کے پاس بھی ویٹو پاور نہیں، یعنی پورا براعظم ہی فارغ ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کے حامل ملک تین براعظموں سے ہیں، باقی براعظم طاقت کے توازن میں فٹ نہیں ہو سکے۔ عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے کی غرض سے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک بنا دیے گئے۔ اپناقبضہ رکھنے کے لئے دنیا پر ڈالر مسلط کردیا گیا اور دنیا کی کرنسی کو سنٹرل بینک آف امریکہ سے جوڑ دیا گیا، میڈیا پر بھی اپنی اجارہ داری قائم کی گئی بلکہ بقول ڈاکٹر مقصود جعفری ؎

جب شہر کے مجرم کو منصف کا ملے درجہ

وہ جرم تو کرتا ہے بدنام نہیں ہوتا
براعظم افریقہ میں 55ممالک ہیں، اس پورے خطے میں بیش بہا قدرتی وسائل ہیں مگر ان وسائل کے باوجود یہاں کی بستیوں میں غربت آباد ہے، یہاں کی سڑکوں اور عمارتوں سے غربت بولتی بھی ہے، ٹپکتی بھی ہے۔ اس کی حالیہ بڑی وجہ تو ان ملکوں کی کرپٹ ترین لیڈر شپ ہے مگر ماضی میں اس کی بڑی وجہ غلامی کی داستان ہے۔ یہ واحد براعظم ہے جس میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ افریقہ میں 50فیصد مسلمان جبکہ 44فیصد عیسائی آباد ہیں۔ دنیا میں مذاہب اور ان کے ماننے والوں کو دیکھا جائے تو عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔ الہامی مذاہب میں تیسرا مذہب یہودیت ہے جبکہ غیر الہامی مذہبوں میں بدھ مت، ہندو مت اور سکھ ازم بڑے مذاہب ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ الہامی اور غیر الہامی مذاہب کا آغاز براعظم ایشیا ہی سے ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے الہامی مذاہب کا مرکز خطہ عرب ہے جبکہ تینوں غیرالہامی بڑے مذاہب کا آغاز پاکستان سے ہوا۔ بدھ مت کے ماننے والے جانتے ہیں کہ بدھا کی یادگار کہانی کے مقدس ترین سلسلے ٹیکسلا کے آس پاس ہی تو ہیں۔ بدھ مت کے چھ مقدس مقامات ٹیکسلا اور تخت بائی میں ہیں۔ اسی طرح ہندومت کے سب سے مقدس مقامات کٹاس راج اور شاردہ پاکستان میں ہیں۔ آج بھی ہندو پنڈت بھجن گاتے وقت اپنے منہ کا رخ کٹاس راج کی طرف رکھتے ہیں۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک کا جنم استھان ننکانہ صاحب اور مرن استھان کرتار پور صاحب پاکستان میں ہیں۔ ان کی ایک معروف عبادت گاہ گورو دوارہ پنجہ صاحب ٹیکسلا کے پاس ہے۔ پاکستان ڈھائی سے تین ارب انسانوں کی مذہبی سیاحت کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس کے لئے توجہ کی ضرورت ہے۔ خیر بات افریقہ کی ہو رہی تھی، درمیان میں مذاہب کا تذکرہ اس لئے کرنا پڑا کہ براعظم افریقہ سے دنیا کے کسی بڑے مذہب کی ابتدا نہیں ہوئی۔

افریقہ کے 55ملکوں نے طویل عرصہ جبر کے سایوں میں گزارا، ان کی غلامی کی مدت خاصی طویل ہے لہٰذا ان پر ہونے والے ظلم اور تشدد کی داستانیں بھی خاصی طویل ہیں۔ افریقہ میں بسنے والے انسانوں کے ساتھ انسانوں ہی نے غیر انسانی رویے اپنائے۔ تین کروڑ تیس لاکھ اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے براعظم افریقہ کے تمام ملکوں کو غلامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پچپن افریقی ممالک کو برطانیہ، فرانس، جرمنی،ا سپین، پرتگال، اٹلی اور بلجیم نے غلام بنائے رکھا۔ کہنے کو تو ان ملکوں کو آزادی مل گئی مگر طویل مدت تک غیرملکی آقائوں کی کالونیاں رہنے والے یہ ملک غلامی کی زنجیروں سے ابھی بھی نہیں نکلے۔ آج بھی افریقہ کے اکثر ملکوں کی سرکاری زبان فرنچ، انگریزی اورا سپینش ہے۔ ان ملکوں کے اقتدار پر قابض لوگ آج بھی اپنے غیرملکی آقائوں کی پسند و ناپسند کا خیال رکھتے ہیں بلکہ افریقی ملکوں میں غیرملکی اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ افریقی ملکوں کے عوام میں ابھی تک خوف کی لہر ہے۔ غلامی ان کے لہجوں سے بولتی ہے۔ ان کی غربت کا سبب پہلے غیر ملکی آقا تھے، اب اس غریبی میں ان کے اپنوں کا دخل ہے۔ افریقی ممالک کی کرپٹ ترین قیادت نے خود تو قدرتی وسائل سے دولت کے انبار لگائے مگر اپنے لوگوں کو غربت کی چکی میں پسنے دیا، جہاں غربت ہو، وہاں بیماریاں بھی ڈیرے جما لیتی ہیں، ایک افریقی ملک لیبیا کے حکمران کرنل معمر قذافی نے اپنے عوام کے ساتھ بھلائی کا رویہ رکھا، اپنے لوگوں کی بہتری کے لئے کام کیا، لیبیا کے لوگ قذافی کے دور میں خوشحال تھے مگر یہ خوشحالی سامراجی طاقتوں سے نہ دیکھی گئی، سو انہوں نے قذافی کو ختم کردیا، آج لیبیا برباد ہے، اسے جمہوریت کے نام پر بھوک اور غربت میں دھکیل دیا گیا ہے۔

خواتین و حضرات! افریقی ملکوں پر غلامی کے سائے گہرے بھی ہیں اور طویل بھی۔ کیا بادشاہت کے طولانی سلسلے تھے۔ نائیجریا، گھانا، کینیا، سائوتھ افریقہ، زمبابوے، گیمبیا، مصر، سوڈان، زمبیا، صومالیہ، سرالیون، تنزانیہ اور یوگنڈا پر برطانوی راج کا سورج چمکتا رہا جبکہ نائیجر، مالی، برکینا فاسو، موریطانیہ، سینیگال، ایوری کوسٹ، بنین، گنی بسائو، گنی کوناکری، تیونس، الجیریا، جبوتی، کمرئوس، کیمرون، چاڈ، سینٹرل افریقین ری پبلک، ٹوگو اور مراکو، یہ سب فرانس کے زیر تسلط تھے۔ کبھی جرمنی تنزانیہ، ٹوگو اور آدھے صومالیہ پر قابض رہا۔ موزمبیق اور انگولا پر پرتگالی قابض رہے، اٹلی نے لیبیا، ایتھوپیا، ایریٹیریا اور صومالیہ کے آدھے حصے پر قبضہ کئے رکھا۔ کانگو، روانڈا اور برونڈی جیسے ملک بلجیم کے زیر قبضہ رہے۔ آج بھی افریقہ کے کئی جزیروں پر انہی سات ملکوں کی حکمرانی ہے جنہوں نے لمبے عرصے کے لئے افریقی ملکوں کو غلام بنائے رکھا۔

افریقی ملکوں سے ان کی زبانیں چھین کر انہیں اپنی زبانیں اور غلامی کے اثرات دینے والوں نے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے اقوام متحدہ نامی ادارہ بنایا۔ اب وہ غلام ملکوں کو اس ادارے کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر مذاہب کی نگا ہ سے دیکھا جائے تو اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والوں میں چار بڑے عیسائی ملک شامل ہیں، پانچواں بدھ مت ہے۔ دنیا کے دوسرے بڑے مذہب اسلام کے ماننے والوں کا کوئی ملک ایسا نہیں جس کو ویٹو پاور حاصل ہو، حالانکہ دنیا میں 58مسلمان ممالک ہیں، آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پونے دو ارب مسلمان ہیں۔ اگر ملکوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو افریقہ کے 55ملکوں میں سے کسی ایک کے پاس بھی ویٹو پاور نہیں، یعنی پورا براعظم ہی فارغ ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کے حامل ملک تین براعظموں سے ہیں، باقی براعظم طاقت کے توازن میں فٹ نہیں ہو سکے۔ عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے کی غرض سے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک بنا دیے گئے۔ اپناقبضہ رکھنے کے لئے دنیا پر ڈالر مسلط کردیا گیا اور دنیا کی کرنسی کو سنٹرل بینک آف امریکہ سے جوڑ دیا گیا، میڈیا پر بھی اپنی اجارہ داری قائم کی گئی بلکہ بقول ڈاکٹر مقصود جعفری ؎

جب شہر کے مجرم کو منصف کا ملے درجہ

وہ جرم تو کرتا ہے بدنام نہیں ہوتا

براعظم افریقہ میں 55ممالک ہیں، اس پورے خطے میں بیش بہا قدرتی وسائل ہیں مگر ان وسائل کے باوجود یہاں کی بستیوں میں غربت آباد ہے، یہاں کی سڑکوں اور عمارتوں سے غربت بولتی بھی ہے، ٹپکتی بھی ہے۔ اس کی حالیہ بڑی وجہ تو ان ملکوں کی کرپٹ ترین لیڈر شپ ہے مگر ماضی میں اس کی بڑی وجہ غلامی کی داستان ہے۔ یہ واحد براعظم ہے جس میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ افریقہ میں 50فیصد مسلمان جبکہ 44فیصد عیسائی آباد ہیں۔ دنیا میں مذاہب اور ان کے ماننے والوں کو دیکھا جائے تو عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔ الہامی مذاہب میں تیسرا مذہب یہودیت ہے جبکہ غیر الہامی مذہبوں میں بدھ مت، ہندو مت اور سکھ ازم بڑے مذاہب ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ الہامی اور غیر الہامی مذاہب کا آغاز براعظم ایشیا ہی سے ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے الہامی مذاہب کا مرکز خطہ عرب ہے جبکہ تینوں غیرالہامی بڑے مذاہب کا آغاز پاکستان سے ہوا۔ بدھ مت کے ماننے والے جانتے ہیں کہ بدھا کی یادگار کہانی کے مقدس ترین سلسلے ٹیکسلا کے آس پاس ہی تو ہیں۔ بدھ مت کے چھ مقدس مقامات ٹیکسلا اور تخت بائی میں ہیں۔ اسی طرح ہندومت کے سب سے مقدس مقامات کٹاس راج اور شاردہ پاکستان میں ہیں۔ آج بھی ہندو پنڈت بھجن گاتے وقت اپنے منہ کا رخ کٹاس راج کی طرف رکھتے ہیں۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک کا جنم استھان ننکانہ صاحب اور مرن استھان کرتار پور صاحب پاکستان میں ہیں۔ ان کی ایک معروف عبادت گاہ گورو دوارہ پنجہ صاحب ٹیکسلا کے پاس ہے۔ پاکستان ڈھائی سے تین ارب انسانوں کی مذہبی سیاحت کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس کے لئے توجہ کی ضرورت ہے۔ خیر بات افریقہ کی ہو رہی تھی، درمیان میں مذاہب کا تذکرہ اس لئے کرنا پڑا کہ براعظم افریقہ سے دنیا کے کسی بڑے مذہب کی ابتدا نہیں ہوئی۔

افریقہ کے 55ملکوں نے طویل عرصہ جبر کے سایوں میں گزارا، ان کی غلامی کی مدت خاصی طویل ہے لہٰذا ان پر ہونے والے ظلم اور تشدد کی داستانیں بھی خاصی طویل ہیں۔ افریقہ میں بسنے والے انسانوں کے ساتھ انسانوں ہی نے غیر انسانی رویے اپنائے۔ تین کروڑ تیس لاکھ اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے براعظم افریقہ کے تمام ملکوں کو غلامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پچپن افریقی ممالک کو برطانیہ، فرانس، جرمنی،ا سپین، پرتگال، اٹلی اور بلجیم نے غلام بنائے رکھا۔ کہنے کو تو ان ملکوں کو آزادی مل گئی مگر طویل مدت تک غیرملکی آقائوں کی کالونیاں رہنے والے یہ ملک غلامی کی زنجیروں سے ابھی بھی نہیں نکلے۔ آج بھی افریقہ کے اکثر ملکوں کی سرکاری زبان فرنچ، انگریزی اورا سپینش ہے۔ ان ملکوں کے اقتدار پر قابض لوگ آج بھی اپنے غیرملکی آقائوں کی پسند و ناپسند کا خیال رکھتے ہیں بلکہ افریقی ملکوں میں غیرملکی اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ افریقی ملکوں کے عوام میں ابھی تک خوف کی لہر ہے۔ غلامی ان کے لہجوں سے بولتی ہے۔ ان کی غربت کا سبب پہلے غیر ملکی آقا تھے، اب اس غریبی میں ان کے اپنوں کا دخل ہے۔ افریقی ممالک کی کرپٹ ترین قیادت نے خود تو قدرتی وسائل سے دولت کے انبار لگائے مگر اپنے لوگوں کو غربت کی چکی میں پسنے دیا، جہاں غربت ہو، وہاں بیماریاں بھی ڈیرے جما لیتی ہیں، ایک افریقی ملک لیبیا کے حکمران کرنل معمر قذافی نے اپنے عوام کے ساتھ بھلائی کا رویہ رکھا، اپنے لوگوں کی بہتری کے لئے کام کیا، لیبیا کے لوگ قذافی کے دور میں خوشحال تھے مگر یہ خوشحالی سامراجی طاقتوں سے نہ دیکھی گئی، سو انہوں نے قذافی کو ختم کردیا، آج لیبیا برباد ہے، اسے جمہوریت کے نام پر بھوک اور غربت میں دھکیل دیا گیا ہے۔

خواتین و حضرات! افریقی ملکوں پر غلامی کے سائے گہرے بھی ہیں اور طویل بھی۔ کیا بادشاہت کے طولانی سلسلے تھے۔ نائیجریا، گھانا، کینیا، سائوتھ افریقہ، زمبابوے، گیمبیا، مصر، سوڈان، زمبیا، صومالیہ، سرالیون، تنزانیہ اور یوگنڈا پر برطانوی راج کا سورج چمکتا رہا جبکہ نائیجر، مالی، برکینا فاسو، موریطانیہ، سینیگال، ایوری کوسٹ، بنین، گنی بسائو، گنی کوناکری، تیونس، الجیریا، جبوتی، کمرئوس، کیمرون، چاڈ، سینٹرل افریقین ری پبلک، ٹوگو اور مراکو، یہ سب فرانس کے زیر تسلط تھے۔ کبھی جرمنی تنزانیہ، ٹوگو اور آدھے صومالیہ پر قابض رہا۔ موزمبیق اور انگولا پر پرتگالی قابض رہے، اٹلی نے لیبیا، ایتھوپیا، ایریٹیریا اور صومالیہ کے آدھے حصے پر قبضہ کئے رکھا۔ کانگو، روانڈا اور برونڈی جیسے ملک بلجیم کے زیر قبضہ رہے۔ آج بھی افریقہ کے کئی جزیروں پر انہی سات ملکوں کی حکمرانی ہے جنہوں نے لمبے عرصے کے لئے افریقی ملکوں کو غلام بنائے رکھا۔

افریقی ملکوں سے ان کی زبانیں چھین کر انہیں اپنی زبانیں اور غلامی کے اثرات دینے والوں نے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے اقوام متحدہ نامی ادارہ بنایا۔ اب وہ غلام ملکوں کو اس ادارے کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر مذاہب کی نگا ہ سے دیکھا جائے تو اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والوں میں چار بڑے عیسائی ملک شامل ہیں، پانچواں بدھ مت ہے۔ دنیا کے دوسرے بڑے مذہب اسلام کے ماننے والوں کا کوئی ملک ایسا نہیں جس کو ویٹو پاور حاصل ہو، حالانکہ دنیا میں 58مسلمان ممالک ہیں، آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پونے دو ارب مسلمان ہیں۔ اگر ملکوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو افریقہ کے 55ملکوں میں سے کسی ایک کے پاس بھی ویٹو پاور نہیں، یعنی پورا براعظم ہی فارغ ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کے حامل ملک تین براعظموں سے ہیں، باقی براعظم طاقت کے توازن میں فٹ نہیں ہو سکے۔ عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے کی غرض سے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک بنا دیے گئے۔ اپناقبضہ رکھنے کے لئے دنیا پر ڈالر مسلط کردیا گیا اور دنیا کی کرنسی کو سنٹرل بینک آف امریکہ سے جوڑ دیا گیا، میڈیا پر بھی اپنی اجارہ داری قائم کی گئی بلکہ بقول ڈاکٹر مقصود جعفری ؎

جب شہر کے مجرم کو منصف کا ملے درجہ

وہ جرم تو کرتا ہے بدنام نہیں ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں