166

اغتنم خمسا قبل خمس(پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو)

اغتنم خمسا قبل خمس(پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو)

تحریر : مفتی گلزار احمد نعیمی

عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اغتنم خمسا قبل خمس: شبابك قبل هرمك،وصحتك قبل سقمك، وغناك قبل فقرك، وفراغك قبل شغلك، وحياتك قبل موتك(مشکوۃ ،کتا ب الرقاق)
اس حدیث کو بہت سے رواۃ نے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی نے شعب الایمان امام سیوطی نے جامع الصغیر میں،منذری نے الترغیب وا لترھیب میں،البانی نے اس حدیث کوصحیح کہا ہے اور بعض دیگر محدثین نے بھی اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں احساس دلایا ہے کہ پانچ امور کی طرف بہت خصوصیت کے ساتھ توجہ دو قبل اس کے کہ یہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائیں اور تمہیں ان سے برعکس صورت حال کا سامنا کرنا پڑے۔ آپﷺ نے ہمیں تنبیہہ فرمائی کہ ان احوال کو غنیمت جانواور ان سے استفادہ کرو۔ قبل اس کے یہ احوال اٹھ جائیں اور انکی جگہ ایسے احوال لے لیں جو تمہارے حق میں نہ ہوں۔
(1) شبابك قبل هرمك(جوانی کو بڑھاپے سے قبل)
فرمایا کہ اپنی جوانی کو غنیمت جانو اور اس کو اطاعت خدا وندی اور عبادت خداوندی میں گزارو، طول قیام، طول سجدہ ، حج اورجہاد یہ تمام اعمال ایسے ہیں جو جوانی میں ہی احسن طریق سے سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ قوت کی وجہ سے انسان پہاڑوں کے سینے چیر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دریائوں کے پانیوں کو شکست دے سکتا ہے۔سمندر کی بپھری لہروں پر راج کر سکتا ہے۔ مگر جب جوانی ختم ہو جاتی ہے تو بندہ زمین پر کھڑا ہونے پر قادر نہیں رہتا۔کسی سہارے کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا، بڑھاپا اسے چلنے پھرنے سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ وہ کسی سہارے کے بغیر واش روم تک نہیں جا سکتا ۔ جسمانی ضعف کی وجہ سے وہ کرسی پر نماز پڑھتا ہے اور ویل چیر پر طواف اور سعی کرتا ہے۔ اس کے جسم کی ضعیف ہونے کی وجہ سے اسکی اطاعت بھی ضعیف ہو جاتی ہے۔
2. وصحتك قبل سقمك(اپنی صحت کو بیماری سے پہلے)
جو نیک اعمال حالت صحت میں کیے جا سکتے ہیں وہ حالت بیماری میں نہیں،یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان جو اعمال خیر صحت کی حالت میں کر سکتا ہے وہ بیماری کی حالت میں انجام نہیں دیے جا سکتے ۔صحت ایک ایسی نعمت ہے کہ جسکا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔دنیا جہان کی نعمتیں بے مقصد ہوجاتی ہیں جب صجت نہ ہو۔
3. وغناك قبل فقرك(اپنی دولتمندی کو اپنے فقر سے پہلے)
یہاں اللہ کے رسول ﷺنے مالی عبادات کی طرف متوجہ فرمایا ہے غنا کی قوت انسان کو ایک مضبوط صاحب ایمان بناتی ہے۔ ایک غنی اور مالدار مسلمان مالی صدقات پر قدرت رکھتا ہے اور وہ اس صدقہ کی وجہ سے دوسرے مسلمان بھائیوں میں ممتاز مقام حاصل کر لیتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ غنا کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ حالت فقر بہت پریشان کن صورت حال ہوتی ہے۔ اس حالت میں اپنے ایمان کو سلامت رکھنا بہت کھٹن مرحلہ ہوتا ہے۔ فقر میں انسان نہ صرف مخلوق خدا پر شکوہ کناں ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ پر بھی شکوہ کرتا ہے اور بلکہ اس حد تک پہنج جاتا ہے کہ وہ اللہ کی تقسیم پر بھی معترض بنتا نظر آتا ہے۔ اس لیے بعض میں روایات یوں بھی آیا ہے”کاد الفقر ان یکون کفرا” ممکن ہے کہ فقرکفر ہو جائے۔ یعنی اللہ پر اعتراض کرنے اور اسے منصف نہ ماننے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے۔ (العیاذ باللہ)
4۔وفراغك قبل شغلك ( اپنی فراغت کو اپنی مصروف )
انسان ابتدائی زندگی میں معیشت اور ضروریات زندگی کے حصول کے لیے اپنے والدین پر منحصر ہوتا ہے۔ اس کے والدین اس کا سب کچھ پورا کرتے ہیں۔ یہ اس کی فراغت کے دن ہوتے ہیں۔ لیکن جب انسان شادی کے بندھن میں بندھ جاتا ہے،اولاد ہو جاتی ہے اور طلب رزق وحصول معیشت اور دنیا داری کے دھندوں میں پڑ جاتا ہے تو وہ فراغت اس کے پاس نہیں رہتی۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی فراغت کے لمحات کو غنیمت جانوں اور اللہ سبحانہ وتعالی کی عبادت کی طرف مکمل رغبت اختیار کرو ۔ جب دنیاوی امور تمہاری زندگی پر غالب آجائیں گے تو پھر تمہارے پاس وقت نہیں ہوگا۔اللہ تعالی کے لیے، اپنے والدین کے لیے بھی اور بعض اوقات اپنے لیے بھی۔
5۔ وحياتك قبل موتك(اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے قبل)
یعنی اپنی زندگی کو غنیمت جان کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اس لیے کہ جب موت آئے گی تو وہ یہ سب کچھ تم سے چھین لے گی۔
حضرات گرامی قدر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پانچ امور کو بطور مثال ہمارے لیے بیان فرمایا ہے۔ انسانی زندگی میں صرف یہ پانچ امور ہی نہیں ہیں بلکہ لا تعداد امور ہیں۔ اس فرمان ذیشان کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں ہر چیز کا وقت سے پہلے احساس کرنا چاہیے ۔ اپنا وقت صحیح جگہ پر صرف کرنا چاہیے ۔ قبل اس کے کہ ایسا وقت آئے کہ ہم اس قابل ہی نہ رہیں کہ وقت کو درست طریقے سے استعمال کر سکیں ۔ ہمیں تمام حالتوں میں اعمال صالحہ کا خواہشمند رہنا چاہیے۔ دل اور وقت بہت اہم چیزیں ہیں ہمیں ان دونوں کو فانی چیزوں پر صرف نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ رہنے والی چیزوں پر انکو متوجہ رکھنا چاہیے۔ اگر دل اور وقت کو ہم نے مندرجہ بالا نصیحتوں کے مطابق استعمال نہ کیا اور ہم اللہ کا قرب حاصل نہ کر سکے تو زندگی کامیاب نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
نوٹ: سرکار نے فرمایا: نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحۃ والفراغ۔ الترمذی 2304 دو نعمتیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں وہ صحت اور فراغت ہے۔خواجہ میر درد نے کہا تھا۔۔
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی کہاں
اللہ تعالی ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں