43

اعلیٰ عدلیہ ججز تعیناتی جوڈیشل کمیشن ممبران کی تعداد دیگر قوانین

اعلیٰ عدلیہ ججز تعیناتی،جوڈیشل کمیشن ممبران کی تعداد دیگر قوانین
اسلام آباد (نمائندہ نیوز) سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی، جوڈیشیل کمیشن میں ممبران کی تعداد اور دیگر قوانین کی تبدیلی کےلئے آئینی ترمیمی بل سینٹ میں پیش کردیا گیا ، گزشتہ روز سینٹ میں فاروق ایچ نائیک نے آئین کے آرٹیکل 142 اور 175 الف میں ترمیم کے بل کے حوالے سے بتایا کہ یہ بل بہت اہم ہے اور بل پاکستان کی عدلیہ سے متعلق ہے،جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے 4 کی بجائے 3 جج ہونے چاہئیں ، ریٹائڑڈ جج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے]فیملی قانون کو پورے ملک میں یکساں ہونا چاہئے،پارلیمان کو صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان تک اختیارات ہونے چاہئیں، آرٹیکل 175 الف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز سے متعلق ہے، 18ویں ترمیم کےبعد یہ سارے اختیارات جوڈیشل کمیشن کے پاس آگئے جس کی توثیق پارلیمانی کمیٹی کرتی ہے، جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر ملک میں تنقید ہو رہی ہےجوڈیشل کمیشن میں ایک چیف جسٹس ، چار سپریم کورٹ کے ججز اور ایک ریٹائرڈ جج صرف تین ممبر وزیر قانون ، اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ ہیں ،اس طرح کمیشن کا جھکائوججز کی طرف ہو جاتا ہے، تین کی آواز دب جاتی ہےجوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے 4 کی بجائے 3 جج ہونے چاہئیں ، ریٹائڑڈ جج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے، اس وقت 13 افراد ہائی کورٹ کے ججز کو منتخب کرتے ہیں انکی تعداد 11 کرنے کی تجویز کی ہے،آئین خاموش ہے کہ کون سے ایڈوکیٹ نامزد کئے جائیں گے، ایک کمیٹی قائم کی جائے جیسے جگہ خالی ہو یہ کمیٹی 60 دن میں نامزدگی بھجوائے گی، اس وقت چاروں ہائی کورٹس میں آسامیاں خالی ہیں،ججز کی تقرری نہیں ہو رہی ہے، یہ کمیٹی نامزد کرے گی کہ یہ وکیل لائق ہے، میرٹ پرپورا اترتا ہے عدلیہ کے اپنے اختلافات سامنے آئےجو انکے اپنے لئے اچھا نہیں،سپریم کورٹ جج کے لئے بار کونسل کہتے ہے سینئر جج کو لیا جائے وہ کہتے ہیں جج فٹ نہیں ہے ، بھئی اگر فٹ نہیں تو اسے چیف جسٹس کیوں بنایا گیا،اطہر من اللہ کو سپر سیڈ کیا، اگر وہ فٹ نہیں تو انھیں رکھا کیوں گیاہے، یہ صوبے کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے،یہ ناانصافی ہے آئین میں لکھا ہے کہ سینئر ترین جج چیف جسٹس بنے گا لیکن ہائی کورٹ ججز کے لئے نہیں،یہ تضاد کیوں ہائی کورٹ کا سینئر ترین جج چیف جسٹس بنے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا پارلیمانی کمیٹی 14 دن میں کیسے ججز تقرری کا فیصلہ کر سکتی ہے، اسے 30 دن کیا جائےپارلیمانی کمیٹی کو ربڑ اسٹامپ بنا دیا گیا ہے، پارلیمان کے پاس اختیار آنا چاہے پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ کسی کورٹ میں چیلنج نہ ہو سکے ، ہر طرف سے ہم کو مار پڑ رہی ہے ، قانون بنانا ہمارا کام ہےہم آزاد ججز چاہتے ہیں لیکن ہمیں موثر ججز چاہئیں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ریٹائرججز پر مشتمل مانیٹرنگ کمیٹی بنائیں جو ججز کی ایفیشنسی دیکھیں جو ہائی کورٹ کا جج کام نہیں کرتا تو انکو نکالیں، اچھے ججز رکھیں جو قانون کیلئے کام کریں ، اس بل کو جلد سےجلد پاس کریں اس میں قانون اور آئین کی بھلائی ہے، قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں اس بل کو سراہتا ہوں،چاہے ہم جدھر بیٹھے ہیں یہ ہمارا ملک ہے، ہمیں ایک ہو کر کام کرنا ہو گا ہماری عدلیہ پر انگلیاں اٹھتی ہیں ، ترامیم پر بہت کام کیا گیا ہے ،اعظم سواتی نے کہاکہ فاروق ایچ نائیک جوڈیشری کی ساکھ کوتقویت دینےکیلئے یہ ترامیم لائے ہیں ، اس وقت ہماری بدنامی ہو رہی ہے ،جس طرح ان کی انڈکشن ہوتی ہے دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں ، پارلیمنٹری کمیٹی کو بھی بہتر بنانا پڑے گا ، یہ کاوش پورے سسٹم کیلئے بہتر ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں