پیام کربلا اور اتحاد امت کانفرنس 142

اعلامیہ. پیام کربلا اور اتحاد امت کانفرنس

اعلامیہ

پیام کربلا اور اتحاد امت کانفرنس

20 ستمبر 2020 بمقام الائیڈ سکول جنڈ

1- ہم اللہ سبحانہ وتعالی کو وحدہ لا شریک مانتے ہیں۔وہی لائق عبادت ہے۔اسکی ذات وصفات میں اسکا کوئی شریک نہیں ہے۔
2-ہم تمام انبیاء کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور تاجدار کائنات جناب محمد رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو آخری رسول مانتے ہیں۔عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔آپ کے بعد نبوت و رسالت کے اعلان کرنے والوں کو کذاب اور دائرہ اسلام سے خارجسمجھتے ہیں۔
3-خلفائے راشدین کی محبت و اطاعت کو اپنے ایمان کاحصہ سمجھتے ہیں۔اہل بیت رسول کے ساتھ محبت ایمان کا لازمی جزو سمجھتے ہیں اور انکی اتباع کو سفینہ نجات سمجھتے ہیں۔
3- آل رسول،امہات المؤمنین اور اصحاب پیغمبر کی توہین کرنے والوں سے مکمل برآت کا اظہار کرتے ہیں۔مشاجرات صحابہ میں اکابرین امت کی پیروی کرتے ہیں۔
5-نواسہ رسول حضرت امام عالی مقام حضرت امام حسین اور شھدائے کربلا کے غم کو امت کی مشترکہ میراث سمجھتے ہیں۔یزید اور اس کے حواریوں کو فاسق فاجر ،گمراہ اور باطل کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔
6- اتحاد امت کو اللہ کا حکم سمجھ کر اس کے حصول کے لیے کوشاں رہنے کا عہد کرتے ہیں،پاکستان کی سالمیت،بقاء اور استحکام اور ترقیاتی منصوبوں کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کرنے کو دین کا حکم اور تقاضہ سمجھتے ہیں۔
7- قائد اعظم کے نظریات کے مطابق وزیراعظم پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اعلان کی تحسین کرتے ہیں۔اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے مکمل حمایت کرتے ہیں۔
8- کشمیر وفلسطین پر مسلمانان اسلام کے دیرینہ موقف پر کھڑے ہوکر ان مظلوموں کی مدد کرناایک اسلامی فریضہ سمجھتے ہیں۔
9. اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتے ہیں۔گریٹر اسرائیل کا منصوبہ بنانے والی صیہونی اور استعماری قوتوں کی مذمت کرتے ہیں۔اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک سے اپنے فیصلے سے دستبردار ہونے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
10 وطن عزیز کے امن وامان کو برقرار رکھنے کے لیے اسلامی سزاؤں کے عملی نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
والسلام
اسلام زندہ باد پاکستان پائندہ باد
جماعت اہل حرم اٹک یوتھ ونگ کے صدر محمد طاہر نعیمی نے کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ پیش کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں