16

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے. مفتی عبدالواحدقریشی

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے

(کائنات ِ خداوندی کامقدس ترین خطہ)

مفتی عبدالواحدقریشی

یوں تواللہ تعالیٰ نے کائنات میں بڑی عظیم مخلوقات پیدافرمائی ہیں۔ مگرجومرتبہ انبیاء علیھم السلام کوملاکسی اورکونہ ملااوراس طرح جس مقام ومرتبہ سے ہمارے پیارے پیغمبرامام الانبیاء‘ وجہ تخلیق کائنات‘سرکاردوعالم‘ تاجدارختم نبوت حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کونصیب ہواکسی کونہ ہوا۔ آپ علیہ السلام 63برس تک اس زمین کے اوپررہے تووہ زمین بھی آپ علیہ السلام کے قدم بوسی کے شرف سے منور ہوتی رہی۔
قدم قدم پہ برکتیں ‘ نفس نفس پہ رحمتیں
جہاں جہاں سے وہ شفیع عاصیاں گذر گیا
جہاں نظر نہیں پڑی وہاں ہے رات آج تک
وہیں وہیں سحر ہوئی جہاں جہاں گزر گیا
بالآخرجناب نبی کریمﷺ اپنی پیاری زوجہ مطھرہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ صدیقہ کے حجرہ مبارکہ کے اندرآرام فرماہوئے۔ توآج وہ عظیم جگہ سبزروضہ کی شکل میں مسجدنبویﷺ کے ایک گوشہ میں قبلہ کے بالمقابل جنوب کی طرف ہمیں نظرآتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے حجرہ میں دفن کرنے کی وجہ سیدناصدیق اکبرؓ کا وہ روایت کردہ فرمان نبویﷺ ہے۔ مادفن نبی الَّاحیث یموت ۔
ترجمہ: نبیﷺ جس جگہ فوت ہواُسے وہیں ہی دفن کیاجائے ۔
توآپ ﷺ کی وفات حضرت عائشہ صدیقہؓ کے کمرے میں ہوئی توآپﷺ کی قبرمبارک بھی وہیں ہی بنائی گئی۔
یہ بات آسمان کے چمکتے سورج سے زیادہ روشن اورواضح ہے کہ مکین کی عظمت وشرف کی بناء پرمکان کی عظمت کوجانااورپہچاناجاتاہے۔ اگرچہ مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق ہمارے ہاں ایک مستقل بحث ہے ان میںسے ہردوکی افضیلت پرتواختلاف ہوسکتاہے۔ مگراس بات پرسب کااتفاق ہے کہ روضہ اقدس میں زمین کاوہ ٹکڑاجس سے نبی کریمﷺ کاجسم مبارک مس ہورہاہے یہ عرش معلی‘کعبہ وکرسی سے بھی اعلیٰ اورافضل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پرصبح وشام 70ہزارفرشتے آسمان سے نازل ہوکرسرکاردوعالم کی قبرپرآپ ﷺ کو سلام کاتحفہ پیش کرتے ہیں(فضل الصلوۃ علی النبی لابن اسحاق القاضی، رقم الحدیث 102، طبع سعودیہ1996) جوفرشتہ ایک بارحاضرہوکرسلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرلیتاہے قیامت تک پھراسکی حاضری کی باری نہیں آتی۔
یہاں پرغورطلب بات یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے امتیوں اورغلاموں پراللہ تعالیٰ کے کرم اورعنایات کی کس قدروسعت ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ کی نظرالتفات کے طفیل جب چاہیں جتنی بار چاہیں اسی منبع سخاوت سے اپنی جھولیاں بھرلیں۔ جب چاہیں اس چشمہ نورکے جلووںسے اپنے دل ودماغ کی دنیامنورکرلیں۔جب چاہیں رحمت وبرکت کی دولت کوسمیٹ لیںحضورسرورکائناتﷺ نے امتی زائرین کوروضہ اقدس کی حاضری اوراپنی قبرمبارک کی زیارت کے متعلق بے شماربشارتیں بھی دی ہیں
ادب گا ہیست زیرآسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنیدؒ و بایزیدؒ ایں جا
آمدم برسرمطلب: صحیح بخاری وصحیح مسلم میںنبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبرمبارک سے متعلق آٹھ رویات آئی ہیں جس میں 5روایات صحیح بخاری میں اور3صحیح مسلم میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ایک حضرت عبداللہ بن زیدالمازنی ؓسے اورچارروایات حضرت ابوہریرۃ ؓ سے مروی ہیں۔
عن عبداللہ بن زیدالمازنی رضی اللہ عنہ انّ رسول اللّٰہ ﷺ قال مابینی بیتی ومنبری روضۃ من ریاض الجنۃ۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن زیدالمازنیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں میرے گھراور میرے منبرکے درمیانی حصہ جنت کے باغوں میںسے ایک باغ ہے۔(یادرہے کہ یہ وہ حدیث ہے جوآج بھی روضہ اقدس پرلکھی ہوئی ہے)
سیدناحضرت علی المرتضیٰ ؓ کافرمان:
انہ لیس فی الارض بقعۃ اکرم علی اللہ من بقعۃ قبض فیھانفس نبیہٖ۔
ترجمہ: زمین میں کوئی خطہ ایسانہیں جواللہ تعالیٰ کے ہاں اس خطہ سے زیادہ معززہوجس میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض فرمائی۔
ان احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح میں حضرات محدثین وفقہاء کرام نے بہت زیادہ تفصیل سے کلام فرمایاہے ۔
شارح مسلم‘محدث کبیر‘فقہ شافعی کے عظیم سرخیل ‘حضرت امام ابوزکریامحی الدین یحییٰ بن شرف المتوفی ٰ 676ھ۔
باب فضل مابین قبرہ ومنبرہ وفضل موضع منبرہ ۔ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ مابین بیتی ومنبری روضۃ من ریاض الجنۃ ذکروافی معناہ قولین احدھماان ذلک الموضع بعینہ ینقل الی الجنۃ والثانی ان العبادۃ فیہ تؤدی الی الجنۃ قال الطبری فی المرادبیتی ھناقولان احدھماالقبرقالہ زیدبن اسلم کماروی مفسرابین قبری ومنبری والثانی المرادبیت سکناہ علی ظاہرہ وروی مابین حجرتی ومنبری قال الطبری والقولان متفقان لان قبرہ فی حجرتہ وھی بیتہ۔
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبراورمنبرکے درمیانی حصہ کی فضیلت : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادمابین بیتی ومنبری… الخ کے معنی میں دوقول ہیں۔
( 1)یہی جگہ بعینہ جنت سے آئی ہے۔ (2)اس میں عبادت کرناجنت لے جائے گا۔ امام طبری کہتے ہیں کہ یہاں’’بیت‘‘کے بارے میںدوقول ہیں۔(1)قبراورزیدبن ا سلم نے کہاہے ’’اورجیساکہ بین قبری ومنبری بھی واضح آیاہے۔( 2) رہائشی گھرمراد ہے اورحجرتی ومنبری کی روایت بھی آئی ہے۔ طبری کہتے ہیں کہ دونوںقول اتفاقی ہیں۔ کیونکہ آپ کی قبرآپ کے حجرے میں ہے اوروہی آپﷺ کاگھرہے۔
دوسرے مقام پرحضرت امام نووی ؒ استدلالاًفرماتے ہیں۔
2) اجمعواعلی ان موضع قبرہٖ ﷺ افضل بقاع الارض۔
ترجمہ: علماء کرام کااجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کی جگہ روئے زمین کی سب جگہوں سے افضل ہے۔
3) محدث وقت‘فقہ مالکی کاعظیم فقیہ حضرت علامہ قاضی عیاض مالکی المتوفی544ھ فرماتے ہیں ’’ولاخلاف ان موضع قبرہٖ افضل بقاع الارض۔‘‘
ترجمہ : اس بات میں کسی کابھی اختلاف نہیں ہے کہ آپﷺ کی قبرمبارک کی جگہ روئے زمین کے سب مقامات سے افضل ہے۔
4) علمائے احناف کے سرتاج‘محدث جلیل‘امام وقت علامہ بدرالدین ابی محمدمحمودبن احمدالعینی (المتوفی 855ھ)اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
المطابقہ بین الترجمۃ والحدیث غیرتامۃٍ لانّ المذکورفی الترجمۃ القبروفی الحدیث البیت۔ واجیب بان القبرفی البیت لانّ المراد بیت سکناہ والنبی دفن فی بیت سکناہ وحمل کثیرمن العلماء الحدیث علی ظاہرہٖ۔
ترجمہ: ترجمہ الباب اورحدیث پاک میں مطابقت نہیں ہے کیونکہ عنوان میں قبراورحدیث پاک میں بیت(گھر)کاذکرہے (اس کایہ )جواب دیاگیاہے کہ آپ ﷺکی قبرمبارک گھرمیںہے اور اس بیت سے مرادآپ کارہائشی گھرہے اورنبی کریمﷺ کی وفات اپنے رہائشی گھرمیںہوئی۔ حضرات محدثین اس حدیث کوظاہرپرمحمول کرتے ہیں (گویاکہ آپﷺ کی قبرمبارک کوحقیقتاًجنت مانتے ہیں
5) قال العینی وحمل کثیرمن العلماء الحدیث علی ظاہرہٖ فقالواینتقل ذالک الموضع بعینہٖ الی الجنۃ۔
ترجمہ: اکثرمحدثین اس حدیث سے ظاہری مطلب مرادلیتے ہیں اورفرماتے ہیں کہ یہی جگہ بعینہ جنت کی طرف منتقل کی جائے گی۔
6) وکذاوقع فی حدیث سعدبن ابی وقاص اخرجہ البزاربسندصحیح‘علی ان المرادبقولہؐ: بیتی‘ احدبیوتہٖ لاکلھا‘وھوبیت عائشہؓ الذی دفن ﷺ فیہ فصارقبرہ‘ وقدوردفی حدیث:مابین المنبروبیت عائشہؓ روضۃ من ریاض الجنۃ‘ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط۔
ترجمہ: اور اس طرح حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت میںآتاہے جس کوامام بزارنے صحیح سندکے ساتھ نقل فرمایاہے کہ بیتی کے لفظ سے مرادنبی کریمﷺ کاایک ہی گھرمرادہے نہ کہ تمام گھراوروہ گھرحضرت عائشہؓ کاحجرہ مبارکہ ہے جس کے اندرآپﷺ اپنی قبرمیںآرام فرماہیں اورحدیث پاک میں آیاہے کہ میرے منبراوربیت عائشہؓ کادرمیانی مقام جنت کے باغوں میںسے ایک باغ ہے۔ امام طبرانی ؒ نے اس کواوسط میں روایت کیاہے۔
فقہ شافعی کے عظیم مفسر‘محدث‘فقیہ‘مورخ‘ جلال الدین سیوطیؒ (متوفی 911 ھ) فرماتے ہیں
7) اماھوفافضل البقاع بالاجماع نبہ علی ذالک القاضی عیاض وغیرہ بل ا فضل من الکعبۃ بل رائیت بخط القاضی تاج الدین السبکی عن ابن عقیل الحنبلی انہ افضل من العرش۔
ترجمہ: آپﷺ کی قبراطہرسب روئے زمین سے افضل ہے اوراس بات پرامت کااجماع ہے اس پرقاضی عیاضؒ وغیرہ نے تنبیہ فرمائی ہے بلکہ کعبہ سے بھی افضل ہے بلکہ میں نے قاضی تاج الدین سبکی کے ہاتھ کالکھاہوادیکھاہے کہ امام ابن عقیل حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ قبراطہرعرش معلی سے بھی افضل ہے۔
عظیم مفسرقرآن ‘سرخیل احناف ‘ حضرت علامہ السیدمحمودآلوسی البغدادی المتوفی 1270ھ
8) ان الامکنۃ والازمنۃ کلہامتساویۃ فی حدذاتہالایفضل بعضہابعضاالاَّ بمایقع فیہامن الاعمال ونحوھاوزادبعضھم اویحل لتدخل البقعۃ التی ضمتہ ﷺ فانھاافضل البقاع الارضیۃ والسماویۃ حتی قیل وبہٖ اقول انھاافضل من العرش۔
ترجمہ: بے شک تمام زمانے اورمقامات برابرہیں ایک دوسرے پرفضیلت نہیں رکھتے مگروہ مقام الگ ہے جس میں اچھے اعمال وغیرہ کیے جائیں یازمین کی وہ جگہ جوآپﷺ کواپنے اندرلیے ہوئے ہے۔یہ قبراطہرزمین وآسمان کے سب خطوںسے افضل ہے یہاں تک بھی کہاگیاہے اورمیں(علامہ آلوسیؒ) بھی اسکاقائل ہوں کہ قبراطہرعرش معلی سے بھی افضل ہے۔
ملاعلی قاری رحمہ اللہ المتوفی ص1014 ھفرماتے ہیں :
9) فیہ تصریح بان مکۃ افضل من المدینۃ کماعلیہ الجمھورالاالبقعۃ التی ضمت اعضائہ علیہ الصلوۃ والسلام فانھاافضل من مکۃ بل من الکعبۃ بل من العرش اجماعاً۔
ترجمہ: اس حدیث شریف میں صراحت ہے کہ مکہ مکرمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے یہی جمہورامت کامسلک ہے مگروہ حصہ زمین جوآپﷺ کے اعضاء مبارکہ سے ملاہواہے وہ مکہ مکرمہ سے بلکہ کعبہ مشرفہ اورعرش معلی سے باجماع افضل ہے۔
ایک دوسرے مقام پرفرماتے ہیں:
10) ولیس فیہ دلالۃعلی افضلیۃ المدینہ بل لافضلیۃ البقعۃ المکینۃ وقدقام الاجماع علٰی انھاافضل من مکۃ بل من الکعبۃ بل من العرش العظیم۔
ترجمہ: اس بات میں اس چیزکی کوئی دلالت نہیں کہ مدینہ طیبہ (مکہ مکرمہ سے افضل ہو)بلکہ فضیلت تواس مبارک جگہ کی ہے جس جگہ آپﷺ آرام فرماہیں (قبرمبارک) اوریقینا امت کااجماع قائم ہوچکاہے کہ یہ جگہ(قبراطہر)مکہ مکرمہ‘کعبۃ اللہ بلکہ عرش عظیم سے بھی افضل واشرف ہے۔
فقہ حنفی کے عظیم فقیہ النفس‘ محدث وقت‘ اصولی دوراں‘علامہ محمدامین عمربن عبدالعزیز الشھیر ابن عابدین الشامی الدمشقی المتوفی 1252ھ فرماتے ہیں:
11) والخلاف فیماعداموضع القبرالمقدس‘فماضم اعضاء ہ الشریفۃ فھوافضل بقاع الارض بالاجماع ۔۔۔۔۔۔وقدنقل القاضی عیاضؒ وغیرہ الاجماع علی تفضیلہٖ حتی علی الکعبۃ‘وان الخلاف فیماعداہ ونقل عن ابن عقیل الحنبلی ان تلک البقعۃ افضل من العرش وقدوافقہ السادۃ البکریون علی ذلک وقدصرح التاج الفاکھی بتفضیل الارض علی السموات لحلولہٖ ﷺ بھا وحکاہ بعضھم علی الاکثرین لخلق الانبیاء منھا ودفنھم فیھا۔
ترجمہ: اس بات میںکسی کااختلاف نہیں کرقبرمقدس اوروہ جگہ جس سے آپ ﷺ کے اعضاء مبارکہ مس کیے ہوئے ہیں یہ روئے زمین کے سب مقامات سے افضل ہے اوراس پر امت مسلمہ کااجماع ہے۔ …حضرت قاضی عیاضؒ نے قبرمبارک کے کعبۃ اللہ پرافضل ہونے میں امت کااجماع نقل فرمایاہے۔ امام ابن عقیل حنبلیؒ سے نقل کیاگیاہے کہ یہ جگہ عرش معلی سے بھی افضل ہے اوررؤسأبکریون نے بھی اس بات پرامام ابن عقیلؒ کی موافقت کی ہے۔ امام تاج الفاکھی ؒ نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے کہ قبرمبارک کی جگہ آسمان زمین کے سب مقامات سے زیادہ مقدس ومطہرہے کیونکہ یہ جگہ خودنبی کریمﷺ کومس کیے ہوئے ہے اس طرح علمائے کرام کی جماعت انبیاء کرام ؑ کے خمیرکی جگہ اورمدفن کواعلیٰ و اشرف بتاتی ہے۔
محدث وقت‘ شارح بخاری شریف ‘حضرت امام کرمانی ؒ اورصاحب مجمع البحار‘عظیم محدث علامہ محمدبن طاہرپٹنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
12) وقال (صاحب مجمع البحار)نقلاًعن الکرمانی ای کروضۃ فی نزول الرحمت اوہی منقولۃ من الجنۃ کالحجرالاسودوالبیت فسربالقبروقیل بیت سکناھاولا تنافی لانّ قبرہ فی حجرتہٖ ۔
ترجمہ: حضرت علامہ طاہرپٹنیؒ اپنی کتاب مجمع البحارمیں حضرت امام کرمانی ؒ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ باغ ہے رحمت الہٰی کے نزول کایایہ جگہ واقعی جنت سے منتقل ہوکرآتی ہے حجراسودکی طرح اورحضرت کرمانی ؒنے بیت کی تفسیرقبرمبارک سے کی ہے اوریہ بھی کہاگیاہے کہ آپﷺ کارہائشی گھرمراد ہے اوردونوں معنوں میںکوئی منافات نہیں ہے کیونکہ آپﷺ کی قبرمبارک اپنے گھرمیںہی ہے۔
منبع العلوم والفیوض ‘محدث جلیل‘سرخیل احناف حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒالمتوفی 1642ء
13) وفی اللمعات قال اھل التحقیق ان الکلام محمول علی الحقیقۃ بان ینقل ھذاالمکان الٰی الجنۃ الفردوس الاعلیٰ لایستہلک مثل سائربقاع الارض۔
ترجمہ: محققین فرماتے ہیں کہ یہاں کلام کاحقیقی معنی مرادہے کہ یہی جگہ جنت الفردوس میں منتقل کی جائے گی اوریہ جگہ زمین کے باقی خطوں کی طرح ہلاک وبربادنہ ہوگی (کیونکہ جنت الفردوس کاٹکڑاہے اورجنت کوہلاکت وبربادی لازم نہیں ہے)
الشیخ ‘المحدث‘ محشی بخاری شریف‘استادحضرت نانوتویؒ حضرت مولانااحمدعلی سہارن پوری المتوفی 1297ھ فرماتے ہیں۔
14) روضۃ من ریاض الجنۃ حقیقۃ بان یکون مقتطعاًمنھاکما ان الحجرالاسودوالفرات والنیل منھا۔
ترجمہ: یہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یہ حقیقتاًبھی ممکن ہے کہ یہ جنت سے کاٹ کریہاں لایاگیاہوجیسے حجراسودیادریافرات ودریانیل ہیں۔
فقیہ النفس‘ابوحنیفہ وقت‘محدث العصر‘سرخیل علماء دیوبندحضرت مولانارشیداحمدگنگوہیؒ المتوفی 1323ھ 1905ء فرماتے ہیں۔
15):ان تلک الارض اخرجت من الجنۃ ثم تنتقل الیھاعلم منہ ان المختارعندالشیخ الجنجوہی ان الحدیث محمول علی ظاہرہ واختلف الشراح فی معناہ علی اقوال ذکرت فی الشروح وقولہﷺ منبری علی حوضی الی یکون یوم القیمۃ علی حوض۔
ترجمہ: یہ زمین جنت سے نکالی گئی ہے پھروہیں منتقل کی جائے گی۔ اس سے پتہ چلاکہ حضرت گنگوہیؒ کے نزدیک حدیث اپنے ظاہرپرمحمول ہے۔ شراح حدیث کے ہاں اس کے معنی میں کئی اقوال ہیں جوشروح میں مذکورہیں۔ اورمنبری علی حوضی کاارشادکامطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن حوض پرہوگا۔
خاتم المحدثین ‘امام العصر‘نمونہ اسلاف ‘علمائے دیوبندکے عظیم مفسر‘محدث ‘اصولی ‘علامہ سیدانورشاہ کشمیری ؒ سابق صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند‘ شیخ الحدیث دارالعلوم ڈابھیل فرماتے ہیں:
16):قیل انہ ترجم بالقبرمع انہ اخرج فی الحدیث لفظ البیت……قلت واخرج الحافظ رحمہ اللہ تعالٰی فیہ لفظ القبرایضاً علی انّ بیتہ کان ھوقبرہ عالم التقدیرفصح کونہ بیتاًوقبراًوحینئذٍفیہ اخباربالغیب واصح الشروح عندی ان تلک القطعۃ من الجنۃ ثم ترفع الٰی الجنۃ کذلک فھی روضۃ من ریاض الجنۃ حقیقۃ بلاتاویل لاعلی نحوقولہﷺ اذامررتم بریاض الجنۃ فارتعوا……(
ترجمہ: عام طورپرکہاجاتاہے کہ امام بخاریؒ نے عنوان میں لفظ قبراوراورحدیث میں بیت کالفظ ذکرفرمایاہے میں(انورشاہ)کہتاہوںکہ حافظ ابن حجرؒ عسقلانی نے لفظ قبرکے ساتھ حدیث بھی ذکرکی ہے۔ نیزعالم تقدیرمیںانکی قبراپنے گھرمیں بننے والی تھی توانکاگھراوراورلفظ قبردونوں صحیح اوراس وقت اس میں عالم غیب کی خبریں ہیں(یعنی نبی علیہ السلام یہ پیش گوئی فرمارہے ہیں کہ میراگھرمیری قبربنے گا…ازناقل)اورمیرے نزدیک سب سے زیادہ صحیح تشریح یہی ہے کہ یہ ٹکڑاجنت میں سے ہے اورپھرجنت کی طرف اٹھالیا جائے گابس یہ حقیقت میں بغیرتاویل کے جنت کے باغوں میںسے ایک باغ ہے اذاامررتم …الخ کی طرح نہیں ہے۔
الشیخ ‘المحدث ‘شارح ابی دائود‘مناظرعلمائے دیوبند‘حضرت مولاناعلامہ خلیل احمدؒسہارن پوری ‘ صدرالمدرسین مظاہرالعلوم سہارن پورالمتوفی 1346ھ
علمائے دیوبندکی پہلی اجماعی دستاویزالتصدیقات لدفع التلبیسات المعروف بہ المہندعلی المفندمیںہے جس پر اس وقت کے جیدعلمائے دیوبندحضرت شیخ الہندمولانامحمودحسن ؒ ‘مولانااشرف علی تھانویؒ ‘ مولانامفتی کفایت اللہ دہلویؒ ‘ مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری ؒ ‘مولانامحمداحمدؒابن مولاناقاسم نانوتویؒ، مفتی اعظم دارالعلوم دیوبندمولانامفتی عزیزالرحمن ؒ کے تصدیقی دستخط ثبت ہیںمیںفرماتے ہیں۔
17):اوالبقاع ھوفضلھاالمختص بھاوھومع الذیادۃ موجودفی البقعۃ الشریفہ والرحبۃ المنیفۃ التی ضم اعضائہ صلی اللہ علیہ وسلم افضل مطلقاًحتی من الکعبۃ ومن العرش والکرسی کماصرح بہ فقھائنارضی اللہ عنھم…
ترجمہ اورقبرمبارک کی یہ جگہ زیادہ فضیلت وبزرگی رکھتی ہے اس لیے کہ یہ جناب نبی کریمﷺ کے اعضاء مبارکہ کومس کیے ہوئے ہے یہ مقام علی الاطلاق سب مقامات سے افضل ہے یہاں تک کہ کعبۃ اللہ اورعرش وکرسی پربھی اسکوفضیلت ودرجات حاصل ہیں چنانچہ ہمارے فقہاء کرام رحمھم اللہ نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے۔

دنیائے اسلام میں سب سے پہلے شیخ الحدیث کالقب پانے والے‘ پڑوسی ٔ رسولﷺ‘مکین ِ جنت البقیع‘ مصنف کتب فضائل واوجزالمسالک ‘حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریاکاندھلوی مہاجرمدنی شیخ ا لحدیث جامعہ مظاہرالعلوم سہارن پوری فرماتے ہیں :
18):ایک چیزیہ بھی قابل غورہے کہ باجماع امت قبراطہرکاوہ حصہ جوجسداطہرسے متصل ہے۔ کعبہ شریف بلکہ عرش معلی سے بھی افضل ہے (کیونکہ یہ جنت کاوہ حصہ ہے جس میں نبی کریمﷺ خودتشریف فرماہیں۔ بخلاف غیرہا۔ازناقل)
توکیایہ فضیلت صرف اس جسداطہرکی ہے جس کیساتھ کبھی روح مبارک تھی۔ اب نہیں ہے؟ اگرایساہوتاتوموئے مبارک جوبدن اطہرسے جداہوچکے ہیں ان کابھی یہی حال (حکم) ہوتا بلکہ لباس مبارک جوکبھی جسداطہرپرپڑچکاہے اسکابھی یہی حکم ہوتاوغیرہ وغیرہ (تویعنی دوسری اشیاء کے ساتھ روح مبارک کاتعلق نہ تھا تو ان کا حکم بھی یہ نہیں ہے تومعلوم ہوا کہ جسم اطہرکے ساتھ روح مبارک کاتعلق ہے (اسی تعلق کی وجہ سے نبی علیہ السلام اپنی قبرمبارک میں زندہ ہیں اوراسی تعلق ہی کی بنیادپرروضہ اقدس پرحاضرہونے والوں کاصلوٰۃ سلام خودسنتے ہیں) اسی لیے اسکاحکم یہ ہے کہ سب مقامات سے افضل ہے۔ … ازناقل)
شیخ الاسلام ‘محدث ِ علمائے دیوبند‘تحریک پاکستان کے عظیم سپوت ‘صاحب ِ تفسیرعثمانی ‘ علامہ شبیراحمدعثمانی ؒ المتوفی1949 ء
19):قولہ مابین بیتی الخ ووقع فی حدیث سعدبن ابی وقاص عندالبزاربسندرجالہ ثقات وعندالطبرانی من حدیث ابن عمربلفظ القبر‘ قال القرطبی وکانہ بالمعنیٰ لانہٗ دفن فی بیت سکناہٗ فعلی ھذاالمرادبالبیت فی قولہ بیتی احدبیوتہٖ لاکلھاوھوبیت عائشہؓ الذی صارفیہ قبرہ… وان المرادانہ روضۃ حقیقۃ بان ینتقل ذلک الموضع بعینہ فی الاخرۃ الٰی الجنۃ ھذامحصل مااولہ العلماء فی ھذاالحدیث وقال فی المواہب ویحتمل الحقیقۃ بان یکون مااخبرعنہ ﷺ بانہ من الجنۃ مقتطعاًمنھاکماجاء فی الحجرالاسود……قلت والحق ان کونہ روضہ حقیقۃ بحیث ینتقل ذلک الموضع بعینہ فی الاخرۃ الٰی الجنۃ لایستلزم ترتب احکام الجنۃ وآثارھاعلیہ فی الحالۃ الراھنہ ۔
ترجمہ: امام بزارؒ نے حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ایک روایت جوقابل اعتماد رایوںسے مروی ہے نقل کی ہے جس میں لفظ بیت کی جگہ لفظ قبرموجودہے اور اس طرح امام طبرانی ؒنے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھماکی روایت ذکرکی ہے۔امام قرطبی ؒفرماتے ہیں لفظ بیت سے مرادنبی کریمﷺ کی وہ گھرہے جس میں آپ ﷺ دفن ہوتے ہیں نہ کہ ہرگھرمرادہے اوروہ بیت عائشہؓ ہے جس میں آپ ﷺ کی قبرمبارک بنی ہے۔ ……پس یہی مرادہے کہ یہ جگہ مبارک جنت ہی کاٹکڑاہے اورآخرت میں جنت ہی کی طرف دوبارہ منتقل کیاجائے گااوریہی بات حضرات محدثین کرام رحمھم اللہ کے اقوال کاخلاصہ ہے اورمواہب میںہے کہ یہ حدیث مبارک اس کااحتمال رکھتی ہے کہ یہ جنت کاٹکڑاہواجنت سے کٹاہواجس طرح حجراسودکے بارے میں آیاہے۔ …میں( شبیراحمدعثمانی ؒ) کہتا ہوںکہ یہی بات حق ہے کہ یہ ٹکڑاجنت کاہی ٹکڑاہے اورحقیقتاًقیامت میںجنت ہی کوجائے گااورفی الحال اس پرجنت کے احکام لاگونہیں ہوسکتے (کہ دخول کفارممکن نہ ہو…یہ اوربات ہے کہ وہاں کفارکاداخلہ ممنوع ہے اوریہی حق ہے …ازناقل )
محقق دوراں‘المحدث ‘الشیخ ‘العالم‘ حضرت مولاناحافظ احمدمکی ؒبن ضیاء الدین ؒفرماتے ہیں۔
20: عرش معلی‘مکہ مکرمہ سمیت روئے زمین کاکوئی حصہ آپﷺ کی تربت(روضہ مبارکہ)سے افضل نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں