147

اسوہ کامل بتول سلام اللہ علیہا. اظہر علی عابدی

8 / 100

اسوہ کامل بتول سلام اللہ علیہا
اظہر علی عابدی

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ” میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخواست میں آپ سے زیادہ مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ” (ترمذی الجامع الصحیح)۔ ام المومنین کی یہ روایت جناب سیدہ کائنات فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظیم الشان ہستی کی تمام فضیلتوں، مدحتوں، سعادتوں اور اعلیٰ ترین صفتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جب کسی شخصیت کی تعریف کی جاتی ہے تو عموما اس کی بڑائی بیان کرنا مقصود اور اسے خراج تحسین پیش کرنا مد نظر ہوتا ہے، مگر اگر کسی ہستی کی مدحت و فضیلت قرآن و حدیث میں بیان ہو تو جہاں مقصوداس ملکوتی شخصیت کی فضیلت و شان کا بیان ہے،وہاں عالم انسانیت کے لیے اسے ایک نمونہ عمل کے طور پر روشناس کرانا بھی ایک اہم مقصد ہوتا ہے۔ چنانچہ ذات پروردگار نے قرآن پاک میں شان رسالت کا جگہ جگہ ذکر کرتے ہوئے، ختمی مرتبت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو عالم بشریت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔ ” یقیناً رسول اللہ کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے ”( سورہ احزاب،آیت 21 )۔
جناب عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا جب یہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ کے کردار اور آپ کی سیرت پاک کا کامل عکس اور مکمل پرتو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہ کی ذات بابرکت میں ملتا ہے تو اس سے آپ کا مطلب امت مسلمہ کو یہ رہنمائی فراہم کرنا ہے کہ سیرت سیدہ کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا دراصل سیرت مصطفیٰ کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔ خود ختمی مرتبت اپنی حیات مبارکہ میں بارہا حضرت سیدہ کا تعارف پیش کرتے اور مدحت فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جب آپ یہ فرما تے ہیں ” فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، جس نے اسے غضب ناک کیا اس نے مجھے غضب ناک کیا” (صحیح بخاری)- یا یہ فرماتے ہیں کہ ”فاطمہ کی رضا میں خدا کی رضا ہے”، تو جہاں اس سے مطلوب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے با برکت، پر فضیلت اور بلند ترین مقام و منصب اور حیثیت و شان کو بیان کرنا ہے، وہاں امت کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ سیدہ کائنات ایک اسوہ کاملہ ہیں۔ ہمیں اس دنیا میں جو کہ ایک جادہ عمل اور آزمائش گاہ ہے، عمل کی منازل میں سیرت سیدہ سے روشنی و ہدایت کی ہر آن ضرورت ہے کہ سیدہ کی رضا اللہ کی رضا ہے۔
طول تاریخ میں علماء، خطباء،شعراء اور سیرت نگار جگر گوشہء رسالت مآب، سیدہ کائنات، خاتون جنت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہ کو اپنے اپنے انداز اور معرفت کے مطابق خراج عقیدت پیش کرتے رہے ہیں۔ مگر حضرت علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم میں جو ان کی مثنوی ”رموز بیخودی” میں شامل ہے، جس اندازِمودت و محبت میں آپ کی مدح سرآئی کی ہے، کہا جاتا ہے کہ فارسی اور اردو ادب میں اس کی کوئی اس جیسی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اقبال نے حضرت سیدہ کی فضیلت ان کے سیرت و کرداراور ان کی نسبتوں کی عظمت کے حوالے سے پیش کی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقبال امت مسلمہ کو جہاں مقام زہرا سلام اللہ علیہاسے آشنا کرنے کی کاوش کرتے ہیں وہاں سیرت سیدہ کو سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔
اقبال اپنی مثنوی ”رموز بیخودی” میں اس نظم کوجناب سیدہ کی نذر کرتے ہوئے عنوان ِنظم میں انہیں تمام خواتین عالم کے لیے اسوہ کاملہ قرار دیتے ہیں۔ فرما تے ہیں، ” مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز، از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز”۔ یعنی حضرت مریم خواتین عالم میں ایک بہت با فضیلت مقام کی حامل ہیں مگر صرف ایک نسبت کے باعث اور وہ حضرت عیسیٰ کی بدولت۔ حضرت مریم علیہا السلام یقینا” ایک نہایت با فضیلت خاتون ہیں کہ جن کی عظمت پر قرآن پاک نے مہر فضیلت ثبت کی۔ مگر حضرت سیدہ کو تین نسبتوں سے فضیلت حاصل ہے۔ فرما تے ہیں، ” نورِ چشم رحمت للعالمین، آن امام اولین و آخرین” آپ رحمت عالم کی آنکھوں کا نور اور لخت جگر ہیں۔ وہ رحمت عالم جو اول و آخر کے امام اور خاتم المرسلین ہیں۔ گویا اس پیمانے کے مطابق جو نسبت حضرت عیسیٰ اور خاتم النبین کے درمیان ہے وہی جناب مریم اور جناب سیدہ میں ہے۔ اسی لیے رسول پاک نے فرما یا تھا کہ مریم اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں اور حضرت فاطمہ (س)تمام خواتین عالم کی سردار ہیں۔ اقبال نے جناب سیدہ کی ہر نسبت سے متعلق دو دو شعر رقم کیے۔ آپ کی دوسری با کمال نسبت مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب (ع)سے ہے۔ ” بانوئے آن تاجدارِ ہل اتیٰ، مرتضیٰ ،مشکل کشاء ،شیرِ خدا”۔ آپ تاجدار ہل اتیٰ کی زوجہ ہیں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرات حسنین کریمین علیہم السلام بیمار ہوتے ہیں اور اور مولا علی اور جناب سیدہ ان کی صحت یابی کے لیے روزوں کی نذر مانتے ہیں۔ جب سردارانِ جوانانانِ جنت صحت یاب ہوتے ہیں تو پورا خاندان رسالت اللہ کی بارگاہ میں قبولیت دعا پر شکرانے اور ادائیگی نذر کے لیے روزے رکھتا ہے۔ وقت افطار ایک دن ایک مسکین کی آواز پر، دوسرے دن ایک یتیم اور تیسرے دن ایک اسیر کی صدا پر افطار کا تمام سامان ان بھوکھوں اور محتاجوں کو عطا کر دیتے ہیں اور خود تمام خاندان فقط پانی سے افطار کر تا ہے۔ خداوند باری تعالیٰ اس پاک و بابرکت خاندان کی شان میں سورہ دھر(ہل اتیٰ) کی آیات نازل فرماتا ہے۔۔ اقبال حضرت علی کو تاجدار ہل اتیٰ، خدا کا پسندیدہ، امت رسول اللہ کا مشکل کشاہ اور اور شیر خدا قرار دیتے ہیں۔ گویا حضرت زہرا کی یہ وہ عظیم الشان فضیلت و عظمت ہے جو حضرت مریم کے ہاں موجود نہیں۔ اس کے بعد اقبال امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے حوالے سے ایسی بلند مرتبہ فضیلتیں پیش کرتے ہیں کہ پوری تاریخ انسانی جن کا جواب لانے سے قاصر ہے۔ کہتے ہیں، ” مادرِآن مرکزِ پرکارِ عشق، مادرِ آن کاروانِ سالارِ عشق” امام حسن (ع) کو مرکز پر کار عشق قرار دیتے ہیں اور امام حسین(ع) کو کارواں سالار عشق۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اقبال کا تمام کلام تصور عشق کے گرد گھومتا ہے۔ اقبال عشق کو کائنات کے تسلسل کے لیے ایک ایندھن اور اس کی رگوں میں دوڑتا ہوا لہو قرار دیتے ہیں۔ اقبال نے مختلف عظیم شخصیات کو اور کبھی مختلف معرکہ آرائیوں کو عشق قرار دیا مگر کارواں سالار عشق اور امام عاشقاں صرف امام حسین(ع) کو ہی گردانا۔ اقبال کی فکر میں مقام و منصب حسین(ع) کو جو اہمیت حاصل ہے اسے اس بات سے جانا جا سکتا ہے۔ اور حضرت زہرا (س )کی اس فضیلت میں ان کا کوئی شریک نہیں کہ وہ جوانانانِ جنت کی والدہ گرامی ہیں۔
اقبال کی اس نظم میں کل 19 شعر ہیں، جو حضرت فاطمہ زہرا کی بطور دختر، زوجہ اور والدہ ایسی عظیم المرتبت نسبتیں بیان کرتی ہے کہ جن میں آپ سلام اللہ علیہا کے ساتھ کوئی اور شریک ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اقبال ان نسبتوں کو جہاں جناب سیدہ کی مقدس ہستی کی مدحت کے حوالے سے پیش کرتے ہیں، وہاں ان نسبتوں کو انسانوں اور خصوصا” امت مسلمہ سے بھی جوڑتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں، ” مزرع تسلیم را حاصل بتول، مادراں را اسوہ کامل بتول” تو پھر وہ بتانا چاہتے ہیں مسلماں ماؤوں کے لیے لازم ہے کہ تربیت اولاد اسوہ فاطمہ کے مطابق کریں کہ آپ ماؤوں کے لیے کامل نمونہ ہیں۔ ارمغان حجاز میں ایک جگہ اقبال کہتے ہیں کہ امتوں کی زندگی کا راز اسی میں ہے کہ حضرت بتول کی سنت کو اپناتے ہوئے خواتین زمانے کی نگا ہوں سے اوجھل ہوجائیں یعنی زمانے کی برائیوں اور کج فکری سے خود کو بچا لیں اور اپنی گود میں شبیر صفت نسل پروان چڑھائیں۔
اقبال اپنی اس عظیم الشان نظم کو حضرت فاطمہ زہرا کے حضور ایک ایسے نذرانہ عقیدت کے ساتھ حسن اختتام دیتے ہیں کہ ہر پڑھنے والے کی جبینِ عقیدت حضرت زہرا کی بارگاہ میں جھک جاتی ہے اور انسان اپنے تمام جذبات، عقیدت، محبت، مودت اور عشق جناب سیدہ کے حضورنچھاور کر دیتا ہے۔ اقبال عشق کے اس بلند ترین مقام پر کہتے ہیں، ” رشتہ آئین حق زنجیر پاست، پاس فرمان جنابِ مصطفیٰ است؛ ورنہ گرد تربتش گر دید مے، سجدہ ھا بر خاک او پاشید مے”
اللہ تعالیٰ کے آئین و شریعت کی بیڑیاں میرے پاؤں میں پڑی ہیں۔ اور حضور سرور کائنات کے فرامین کا پاس و لحاظ مجھے روکے ہوئے ہے، ورنہ اے سیدہ کونین میں تیری تربت اقدس کا طواف کرتا اور اسی خاک پر اپنے سجدے نچھاور کرتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں