80

اسلام کی تعمیر وترقی میں امھات المومنین کا کردار. حافظ محمد جمیل

اسلام کی تعمیر وترقی میں امھات المومنین کا کردار

حافظ محمد جمیل(ریسرچ سکالر دارالعلوم جامعہ نعیمیہ، اسلام آباد)

ابتداء اسلام سے لے کر اس وقت تک سینکڑوں ہزاروں پردہ نشین خواتین نے حدود شریعت میں رہتے ہوئے گوشہ امن وفن سے لے کر میدان جنگ تک ہر شعبہ زندگی میں حصہ لیا ہے اور اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
امھات المومنین کی فضیلت قرآن مجید سے ثابت ہے
ینساء النبی لستن کاحد من النساء کے لقب سے سرفراز فرمایا۔جس سے ازواج مطہرات کا مقربات درگاہ الہی میں ہونا ثابت ہوتا ہے۔ازواج مطہرات کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
سیدہ حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا ،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا،سیدہ حفصہ رضی اللہ عنھا، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنھا،سیدہ سودہ رضی اللہ عنھاقبیلہ قریش سے ہیں۔اور سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا،سیدہ میمونہ رضی اللہ عنھا،سیدہ زینب خزیمہ رضی اللہ عنھا،سیدہ جویریہ رضی اللہ عنھاعربیات غیر قریش ہیں او ایک سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا غیر عربیہ بنی اسرائیل سے ہے۔
النبی اولی بالمومنین من انفسھم وازواجہ امھاتھم
آیہ ھذا میں مذکور ہے کہ تم میں وہ وصف ہے جو اوروں میں نہیں ہے یعنی تم تحریم نکاح اور احترام و تعظیم کے لحاظ سے مومنوں کی مائیں ہو اور زوجات سید المرسلین ہو ۔ام المومنین کا علمی مقام ومرتبہ ، دینی خدمات اوراسلامی اشاعت کسی سے پوشیدہ نہیں۔
علامہ ابن حزم نے اپنی کتاب ’’السماء الصحابیہ الرواۃ ومالکل واحد من العدد‘‘کے اندر کم و بیش صحابیات سے مروی احادیث کی کل تعداد 2560 لکھی ہے۔جن میں سب سے زیادہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہیں۔ ان مرویات کی تعداد 2210 ہے۔(بقی بن مخلد القرطبی ،ص 79 )
جن میں 286 احادیثیں بخاری و مسلم میں موجود ہیں۔مرویات کی کثرت کے لحاظ سے صحابہ کرام میں ان کا چھٹا نمبر ہے۔
(خدمت احادیث میں خواتین کا کردار ص17 تالیف مجیب اللہ نووی)
مرویات کی کثرت کیساتھ احادیث سے استدلال اور استنباط مسائل کے علل و اسباب کی تلاش و تحقیق ،فقہ و قانون ،تاریخ ،علم الانساب ،شعر،طب ،علم نجوم میں بھی آپ کو خاص امتیاز حاصل تھا۔
کتب حدیث میں کثرت سے انکی مثالیں موجود ہیں۔انکی صفت میں بہت کم صحابہ ان کے شریک تھے۔استفادہ رسول ﷺ کے معاملہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسب سے آگے تھی۔
امام زھری جو قبائل تابعین میں سے تھے وہ فرماتے ہیں
کانت عائشۃ علم الناس بسائھا الا اکبر من اصحاب رسول ﷺ
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی تھی بڑے بڑے صحابہ کرام ان سے مسائل دریا فت کرتے تھے۔
دوسری جگہ اسی طرح راقم طراز ہے کہ اگر تمام امھات المومنین کا علم بلکہ تمام مسلمان عورتوں کا علم جمع کیا جائے تو حضرت عائشہ کا علم سب سے افضل و اعلی ہو گا
(تہذیب التھذیب)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھافتوی اور درس دیا کرتی تھی ،یہی نہیں بلکہ آپ نے صحابہ کرام کی لغزشوں کی بھی نشاند ہی کروائی ۔
علامہ جلال الدین سیوطی نے اس موضوع پر ’’الاصحابتہ فیما استدرکتہ عائشہ علی الصحابہ ‘‘کے نام پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے روایات کرنے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ تجاوز ہے۔
انکے شاگرد خاص او ر بھانجے عروہ بن زبیر کہتے ہیں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاکی صحبت میںرہا۔میں نے ان سے زیادہ آیات کی شان و نزول ،فرائض و سنت ،شعر وادب ،عرب کی تاریخ او ر قبائل کے انساب وغیرہ کا جاننے والا کسی کو نہیں دیکھا۔(سیر الاعلام انبلد،ذہبی)
حضرت موسی اشعری کا بیان ہے کہ صحابہ کرام کو کوئی ایسا مشکل مسئلہ پیش نہیں آیا کہ جس کا حل انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس نہ پایا ہو۔
محمود بن لبید کا بیا ن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کو بہت سی حدیثیں یاد تھیں مگر حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھما ان میں ممتاز تھیں ۔حضور ﷺ سے استفادہ کے دوران ان کے ذہن میں جو بھی اشکال پیدا ہوتا ۔آپ وہ اشکال فورا آپ ﷺکے سامنے اظہار کرتیں اور آپ ﷺ اس کی وضاحت فرما دیتے تھے۔
ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا روز قیامت جس کا حساب لیا جائے گا، گرفتار عذاب ہو گا ۔اس پر اماں عائشہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا اے اللہ کے حضور ﷺ قرآن میں تو کہاگیا ہے کہ
فسو ف یحاسب حسابا یسیرا
پس عنقریب اس سے آسان حسا ب لیا جائے گا۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس سے مراد اعمال کی پیش گوئی ہے ۔جس کے اعمال میں جرح شدید ہو گی وہ تو ھلاک ہو گیا۔(بخاری کتاب العلم ص103 )
آپ رضی اللہ عنھا آپ ﷺ کے بعد تقریبا 50 سال زندہ رہیں ۔چنانچہ لوگوں نے آپ رضی اللہ عنھا سے بہت استفادہ کیا ۔آپ رضی اللہ عنھا نے غزوہ احد میں شرکت کی ۔
شریعت کے ایک چوتھائی کا م ان سے منقول ہیں (فتح الباری ابن حجر 4797 )
ازواج مطہرات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے بعد حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا حدیث میں ممتاز نظر آتی ہیں۔علم حدیث میں ان کے مقام و مرتبہ کے متعلق محمد بن لبید فرماتے ہیں کہ’’عام طور پر ازواج مطہرات آپ کی احادیث بہت محفوظ رکھتی تھیں ۔مگر حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھما ا س سلسلے میں سب سے ممتاز تھیں‘‘۔ (طبقات ابن سعد ص378 ج دوم(
انکے فتوی بکثر ت پائے جاتے ہیں ۔علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ اگر ام سلمہ کے فتوے جمع کیے جائیں تو ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے۔ان کا شمار محدثین کے تیسرے طبقے میں ہے ان کے تلامذہ حدیث میں بے شمار تابعین اور بعض صحابہ کرام بھی شامل ہیں۔
ان دونوں کی طرح دوسری ازواج مطہرات نے بھی حدیث کی روایات اور اشاعت میں حصہ لیا اور ان سے بھی بڑے جلیل القدر صحابہ و تابعین نے حدیث حاصل کی ۔جیسے حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا ہیں ان سے 76 احادیث مروی ہیں جن میں سے 7 متفق علیہ ہیں۔حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے 65 حدیثیں مروی ہیں جن میں سے 2 متفق علیہ ہیں ۔حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا سے 60 حدیثیں مروی ہیںجن میں سے 5 بخاری میں ہیں ۔حضرت زینب بن جحش رضی اللہ عنھا سے 11 احادیث مروی ہیں جن میں سے 2 متفق علیہ ہیں ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ میں نے کوئی عورت زینب سے دین میں بہتر خدا سے زیادہ ڈرنے والی زیادہ سچ بولنے والی زیادہ صلح رحم اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی ۔آپ رضی اللہ عنھا اپنے ہاتھ سے معاش پیدا کرتی اور اللہ کی راہ میں لوٹا دیتی۔حضرت سیدہ جویریہ رضی اللہ عنھا سے 7 احادیث مروی ہیں جن میں سے 2 مسلم میں باقی دیگر کتب میں ہیں ۔سیدہ حضرت سودہ رضی اللہ عنھا سے 5 احادیث مروی ہیں جن میں سے ایک بخاری میں ہے ۔سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے ایک حدیث مروی ہے ۔آپ رضی اللہ عنھا وہ خاتون اول ہیں جو اسلام سے قبل بھی پردہ نشین رہ کر اپنے والد کی وفات کے بعد تجارت کیا کرتی تھی۔آ پ رضی اللہ عنھا نے کبھی کسی غیر محرم سے بات نہیں کی نہ کبھی مارکیٹ گئی ۔کاشان نبوت میں آنے سے پہلے بھی آپ رضی اللہ عنھا کو تجارت میںبہت نفع حاصل ہوا تھا۔آپ رضی اللہ عنھا اپنی غلام نفیسہ کے ذریعے تجارت فرماتی رہی۔
حضرت خدیجہرضی اللہ عنھا اسلام کو سب سے پہلے لبیک کہنے والی اول محسن ہیں ۔ان کی رفاقت اور عظمت تو جبرائیل امین بھی مژدہ لے کر آتے رہے اور تمام ازواج مطہرات اپنے علمی اور اسلام کی ترقی میں اپنی مثل نہیں رکھتی۔
حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنھا غزوہ احد میں شریک ہوئی اور پہلی مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے والی خاتون ہیں ۔آپ کی لونڈی میمونہ اور ماریہ قبطیہ سے 2-2 احادیث مروی ہیں۔ایک تابعہ حضر ت صہیرہ بنت جیفررضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں ہم چند خواتین حج سے فارغ ہونے کے بعد مدینہ گئی تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا کی خدمت میں حاضری کی ۔دیکھا کہ وھاں پہلے ہی سے کسی قوم کی چند خواتین بھی بیٹھی ہوئی تھیں ہم نے ان سے زن و شوہر کے متعلق مختلف مسائل اور نبیذ کے احکام دریافت کیے ۔(مسند احمد حدیث صفیہ ام المومنین26314 )
امھات المومنین کے علاوہ صحابیات میں مشکل سے کوئی ایسی ہوں جن سے کوئی روایت نہ ہو ۔چنانچہ آپ ﷺکی پیاری بیٹی، لخت جگر حضر ت سید ہ فاطمہ زھرہ سلام اللہ علیھا سے 18 اور آپ کی پھوپھی حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا سے 11 احادیث مروی ہیں۔(بقی بن مخلد ص 84 )
ان امھات المومنین کی سوجھ بوجھ اور بصیرت و دانائی نے راہ حق واضح کیا ۔ان سے چھوٹوں نے بھی رجوع کیا ،بڑوں نے بھی ،مردوں نے بھی ،عورتوں نے بھی،اصحاب قرب وجوار اور دورودانہ کے رہنے والوں نے بھی ۔(عورت اسلامی معاشرہ میں،سید جلال الدین عمری ،مرکزی مکتبہ اسلامی ،نئی دہلی ص154 )
امام احمد بن حنبل نے 140 سے زائد صحابیات کا تذکرہ لکھا ہے۔ اسی طرح اسد الغابہ میں 500 سے زائد صحابیات ہیں جن میں 233 خواتین مترجم ہیں۔(تہذیب التہذیب ص 426 )۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں