106

اسلام میں موسیقی جائز یا ناجائز؟ تحقیق: توصیف راحت

اسلام میں موسیقی جائز یا ناجائز؟
تحقیق: توصیف راحت

گانے اور موسیقی کے سلسلے میں لوگ اکثر بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف آراء ہیں۔ بعض لوگ ہر طرح کے گانے اور ہر طرح کی موسیقی کو شوق سے سنتے ہیں اور اسے ان مباح چیزوں میں شمار کرتے ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے حلال قراردیا ہے۔ جب کہ کچھ لوگ ہر طرح کی موسیقی اور ہر طرح کے گانے کو حرام تصور کرتے ہیں ان کی رائے میں گانا شیطان کی بانسری ہے اور ایسا لہو ولعب ہے جواللہ کی یاد سے غافل کر دیتا ہے گانے والی اگر عورت ہو تو اس کی حرمت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک تیسرا گروہ ہے وہ دونوں ہی گروہوں کی طرف مائل نظر آتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گانا اور موسیقی آج کے دور کا ایک بڑا اہم مسئلہ ہے روز مرہ کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں کچھ اس طرح گھل مل گئی ہیں کہ ان سے صرف نظر کرنا بہت مشکل ہے ۔ خاص کر ایسی صورت میں کہ شاید ہی کوئی گھر موبائل یا ٹی وی سے خالی ہو۔ ایسی صورت میں ہم صرف یہ فتوی دے کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ گانا اور میوزک حرام ہے۔ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پوری سنجیدگی اور غیر جانب داری کے ساتھ مسئلے کے تمام پہلوؤں پر تحقیق کر کے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا حل تلاش کریں۔

اسلامی شریعت کا ایک متفقہ اصول یہ ہے کہ بنیادی طور پر ہمیں ہر چیز کو جائز اور حلال تصور کرنا چاہیے سوائے ان چیزوں کے جنھیں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر حرام قراردے دیا ہو۔

اہلِ علم کے مطابق کسی چیز کو تین بنیادوں پہ حرام قرار دیا جاسکتا ہے:
۱۔ کسی ’صریح ‘قرآنی آیت کی بنیاد پہ
۲۔ کسی ’صحیح اور صریح ‘حدیث کی بنیاد پہ
۳۔ اجماع کی بنیاد پہ

یعنی اگر اس کو الٹ دیا جائے تو غیر واضح آیت ، ضعیف حدیث یا اجماعِ امت کے بغیر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایک اور انفرادی بنیاد قیاس یا اجتہادبھی ہے جو دلیلِ شرعی کے طور پہ استعمال ہوتی ہے لیکن یہ دلیلِ قطعی نہیں بن سکتی تا وقتیکہ اجماع قائم ہوجائے۔ تو۔۔۔ اگر کسی معاملے میں امت کے اندر ایک سے زائد آرا معروف ہیں تو کھلے طور پہ ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ معاملہ ترجیح عدمِ ترجیح ، بہتر اور بہترین ، کم درست زیادہ درست کا ہوسکتا ہے پر حلال و حرام کا نہیں۔ اور فردکو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ دلیل کی بنیاد پہ (خواہشِ نفسی پر نہیں)کسی رائے کو اختیار کرلے اور دوسرے کے خلوص پر شک نہ کرے۔خدا نے حرام کو مبہم نہیں رہنے دیا ۔

برصغیر کا مخصوص مزاج ، مخصوص حالات کے زیرِ اثر منفیت کی طرف زیادہ رجحان رکھتا رہاہے۔یہ نہایت عجیب ہوگا کہ ہم اپنے ذاتی رجحانات اور تعصبات کے تحت حق تک پہنچنے کی کوشش کریں ۔ ایسا شخص خدا کی راہ کھوٹی کر بیٹھے گا۔موسیقی کی معاملے میں بھی امت میں ایک سے زائد آرا ہمیشہ سے موجود رہیں ہیں اور رہیں گی۔کوئی کہے مسلمانوں میں یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا تو ہم کہیں گے آپ درست کہتے ہیں لیکن کوئی کہے کہ موسیقی حرام ہے تو مندرجہ بالا اصولوں کے تحت اِسے ثابت کرنا پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ کا فرماتا ہے:

﴿هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَرضِ جَميعًا…﴿٢٩﴾… سورة البقرة

’’اسی نے تمھاری خاطر زمین کی ساری چیزیں تخلیق کی ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہی واسطے اور ہمارے ہی استعمال کے لیے دنیا کی تمام چیزیں بنائی ہیں اس لیے اصولی طور پر تمام چیزیں ہمارے لیے حلال ہیں۔ البتہ وہ چیزیں حرام قراردی جائیں گی جنھیں اللہ نے واضح طور پر حرام قراردے دیا ہے۔ کوئی چیز اگر واضح طور پر قرآن و حدیث میں حرام نہیں ہے تو پھر ہمیں اسے حرام قراردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو گناہ گارہوں گے ۔ اس لیے کہ یہ بات اللہ کی مرضی کے خلاف ہو گی۔کسی شے کو حرام یا حلال قراردینا صرف اللہ کا حق ہے۔ ہمارا اور آپ کا نہیں ۔کسی چیز کو اگر اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں قراردیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز اصلاً حلال اور جائز ہے اسی لیے فقہائے کرام کہتے ہیں کہ کسی شے کو حلال ثابت کرنے کے لیے دلیل پیش کرنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن اسے حرام ثابت کرنے کے لیے دلیل ضروری ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم انسانوں کے لیے جو چیزیں حرام ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن و سنت میں ان کی وضاحت کر دی ہے اللہ فرماتا ہے:

﴿وَقَد فَصَّلَ لَكُم ما حَرَّمَ عَلَيكُم إِلّا مَا اضطُرِرتُم إِلَيهِ …﴿١١٩﴾… سورة الانعام

’’حالانکہ اللہ نے تمھارے لیے ان سب چیزوں کی تفصیل بیان کر دی ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں سوائے یہ کہ تم حالت اضطرار میں ہو۔‘‘

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“مَا أَحَلَّ اللهُ في كِتَابِهِ فَهُوَ حُلالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنهُ فَهُوَ عَفوٌ فَاقبَلُوا مِنَ اللهِ عَافِيَتَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ لم يَكُنْ لِيَنسَى شَيئًا” (حاکم)

’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جسے حلال قراردیا ہے وہ حلال ہے اور جسے حرام قراردیا ہے وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے وہ اس کی طرف سے چھوٹ ہے تو اللہ کی اس چھوٹ کو قبول کرو کیوں کہ ایسا نہیں ہے کہ اللہ اس کا حکم بیان کرنا بھول گیا۔‘‘

اس اصول کی بنیاد پر ہمیں دیکھنا ہو گا کہ قرآن و حدیث میں گانے اور موسیقی کی حرمت کی صراحت ہے یا نہیں ہے۔ اگر واقعی قرآن و حدیث میں انھیں صراحت کے ساتھ حرام قراردیا گیا ہے تو ان کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے تو ان کے حلال ہونے میں کوئی شک نہیں ہے جو لوگ گانے اور موسیقی کو حرام قراردیتے ہیں وہ قرآن و حدیث سے مندرجہ ذیل دلیلیں پیش کرتے ہیں۔

(1)پہلی دلیل یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین مثلاً عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ گانے کو حرام تصور کرتے تھے کیوں کہ اللہ کا فرمان ہے:

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَرى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ ﴿٦﴾… سورة لقمان

’’اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو بیہودہ کلام اختیار کرتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں بغیر کسی علم کے اور اللہ کے راستے کا مذاق اڑائیں ۔ ان لوگوں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘

اس آیت میں “لہو الحدیث”کی تشریح کرتے ہوئے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے مراد گانا ہے۔ لیکن اگر ہم آیت کے سیاق و سباق پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں گانے کو حرام قراردینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور نہ لہو الحدیث سے مراد گانا ہی ہے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے اور انھیں سخت عذاب کی دھمکی دے رہا ہے جو محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے “لہو الحدیث ” اختیار کرتے ہیں لہو الحدیث کا مفہوم ہے فضول اور بے کار بات۔ کسی کو گمراہ کرنے کے لیے قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کو استعمال کیا جائےتب بھی یہ عمل قابل مذمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں “لہو الحدیث “پر سرزنش نہیں کی گئی ہے بلکہ گمراہ کرنے کے عمل کو قابل مذمت قراردیا گیا ہے۔

اس آیت سے یہ مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ گانا سننا حرام ہے علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،کہ مذکوہ آیت کی بنیاد پر گانے کو حرام قراردینا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ محض چند صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی اپنی ذاتی رائے تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی رائے کو بہ طور دلیل نہیں پیش کیا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ بیشتر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس رائے سے اختلاف رکھتے تھے۔

(2)گانے کو حرام قراردینے کے لیے یہ لوگ قرآن کی اس آیت کو بھی بہ طور دلیل پیش کرتے ہیں۔

﴿وَإِذا سَمِعُوا اللَّغوَ أَعرَضوا عَنهُ …﴿٥٥﴾… سورة القصص

’’اور جب وہ بیہودہ گفتگو سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔‘‘

چونکہ گانا لغو میں شامل ہے اس لیے مومنین کو اس کے سننے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں بھی اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ گانا لغوں میں شامل اور حرام ہے۔ اس آیت میں لغو سے مراد گالم گلوچ فضول گوئی اور لڑائی جھگڑے کی باتیں ہیں۔یعنی جب کوئی شخص ان مومنین سے گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے پر اتر آتا ہے تو یہ مومنین ان سے الجھنے کے بجائے درگزر کر کے اپنی راہ لیتے ہیں اور اگر بالفرض لغو سے مراد گانا تسلیم کر لیں تب بھی اس آیت میں یہ بات نہیں ہے کہ لغو حرام ہے بلکہ صرف اتنی سی بات ہے کہ مومنین اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ کسی شے سے پرہیز کرنا اور بات ہے اور اس کا حرام ہونا بالکل دوسری بات ہے۔ کوئی ضروری نہیں کہ ہر لغو بات گناہ ہو۔ شخص لغو باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن پر اللہ گرفت نہیں کرتا ملا حظہ کریں۔

﴿لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمـٰنِكُم…﴿٨٩﴾… سورة المائدة

’’تم جو لغو قسم کی قسمیں کھا لیتے ہو اللہ ان پر گرفت نہیں کرتا۔‘‘

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا مواخذہ نہیں کرے گا جو لغو طریقے سے اللہ کے نام کی قسم کھاتےہیں تو ان لوگوں کا مواخذا کیسے کرے گا جو اشعار کو نغموں اور گانوں کی شکل میں گاتے اور سنتے ہیں۔

علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چونکہ اعمال کا دارومدارنیت پر ہے اس لیے جو شخص گمراہی اور اللہ کی نا فرمانی کے لیے گانا بجانا کرتا ہے وہ فاسق ہے۔ اس لیے کہ اس کی نیت اللہ کی نا فرمانی ہے لیکن محض تفریح سکون اور ذہنی نشاط کے لیے گانے گانا یا سننا گناہ نہیں ہے۔ اور جو شخص اس نیت کے ساتھ نغمے سنتا ہے کہ وہ تازہ دم ہو کر اللہ کی عبادت بہتر طور پر کر سکے۔ اس کا یہ عمل باعث اجرو ثواب ہے۔

(3)گانے کو ناجائز قراردینے والوں کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث بھی ہے:

“لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ” (بخاری)

’’میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو زنا ریشم شراب اور گانے بجانے کوحلال کر لیں گے۔‘‘

لیکن یہ حدیث بھی بہ طور دلیل نہیں پیش کی جا سکتی ۔ اس لیے کہ بخاری شریف میں ہونے کے باوجود علمائے حدیث اسے”متعلق “شمار کرتے ہیں اور اس بنا پر ضعیف حدیث ہے اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کسی شے کو حرام قرار دینے کے لیے ضعیف حدیث کو بہ طور دلیل نہیں پیش کیا جا سکتا ۔

(4) ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔

“إن الله حرم الْقَيْنَة وَبَيْعهَا وَثمنهَا وَتَعْليمهَا “(روح المعانی سورہ لقمان)

’’اللہ تعالیٰ نے گانے بجانے والی لونڈیوں کی خریدو فروخت اس سے حاصل شدہ رقم اور اس کی تعلیم کو حرام قراردیا ہے۔‘‘

لیکن یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ اس لیے بطور دلیل نہیں پیش کی جا سکتی خاص کر اس حالت میں کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کو گاتے بجاتے سنا اور انھیں منع نہیں فرمایا اس حدیث کا تذکرہ آگے چل کر آئے گا۔

(5)ان کی دلیل یہ روایت بھی ہے:

“إِنَّ الْغِنَاءَ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ”

’’گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔‘‘

لیکن یہ کوئی حدیث نہیں ہے کہ اسے بہ طور دلیل پیش کیا جا سکے ۔ یہ کسی صحابی کا قول ہے اور یہ ان کی اپنی ذاتی رائے ہے کہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم ان کی ذاتی رائے سے اتفاق کریں عملی طور پر بھی ہم مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ گانا دل میں نفاق پیدا نہیں کرتا بلکہ اس سے دل میں تازگی اور ذہن میں نشاط پیدا ہوتا ہے۔

(2)ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ عورت کی آواز پردہ ہے اس لیے عورت کا گانا سننا حرام ہے یہ ایک بوگس دلیل ہے۔ کیوں کہ اسلامی شریعت میں کہیں یہ بات نہیں آتی کہ عورت کی آواز پردہ ہے اور اس کا سننا حرام ہے بلکہ اس کے برعکس صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کو گاتے سنا اور انھیں منع نہیں فرمایا۔

خلاصہ کلام یہ کہ گانے کو حرام قراردینے والے اپنی رائے کے حق میں جتنی دلیلیں پیش کرتے ہیں وہ یا تو گانے کی حرمت کے سلسلے میں صریح اور واضح نہیں ہیں یا پھر صحیح اور ثابت نہیں ہیں علامہ قاضی ابو بکر اپنی کتاب “الاحکام ” میں کہتے ہیں کہ گانے کو حرام قراردینے والی کوئی دلیل صحیح اور ثابت نہیں ہے۔ علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ گانے کی حرمت ثابت کرنے کے لیے جتنی احادیث پیش کی جاتی ہیں وہ سب کی سب ضعیف اور موضوع ہیں۔

جائز قراردینے والوں کی دلیلیں

ہم واضح کر چکے ہیں کہ بنیادی طور پر ہر چیز حلال ہے۔ سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر حرام قراردیا ہو۔ اس لیے کسی چیز کے حرام ہونے کے لیے دلیل پیش کرنا تو ضروری ہے لیکن اس کے حلال ہونے کے لیے دلیل پیش کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف یہی دلیل کافی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں قراردیا ہے اوپر کی گفتگو میں ہم نے واضح کیا ہے کہ گانے کو حرام قراردینے کے لیے جتنی دلیلیں پیش کی جا تی ہیں وہ ضعیف اور غیر ثابت شدہ ہیں۔ اس لیے گانے کو حلال قراردینے کے لیے مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم بعض دلیلیں پیش کرتے ہیں۔

قرآن وحدیث سے دلائل

﴿ وَإِذا رَأَوا تِجـٰرَةً أَو لَهوًا انفَضّوا إِلَيها وَتَرَكوكَ قائِمًا قُل ما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ مِنَ اللَّهوِ وَمِنَ التِّجـٰرَةِ وَاللَّهُ خَيرُ الرّ‌ٰزِقينَ ﴿١١﴾… سورةالجمعة

’’اور جب انھوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمھیں کھڑا چھوڑدیا۔ ان سے کہو کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ سب سے بہترین رزق دینے والا ہے۔‘‘

اس آیت میں لہو ولعب اور تجارت دونوں کا تذکرہ ایک ساتھ ہے اس میں ان دونوں چیزوں کی مذمت محض اس وجہ سے کی گئی ہے۔ کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جمعہ کا خطبہ چھوڑ کر ان میں مشغول ہو گئے تھے ظاہر ہے کہ اگر وہ جمعہ کا خطبہ نہ چھوڑتے تو نہ تجارت پر ان کی مذمت ہوتی اور نہ لہو پر۔

بخاری شریف میں یہ مشہور واقعہ درج ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے۔ گھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ کچھ لڑکیاں بیٹھ کر گا رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں گانے سے روکنا چاہا اور کہنے لگے “کیا شیطان کی بانسری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بجائی جا رہی ہے؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ موسیقی کے ساتھ گا رہی تھیں ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھا کہ ایسا کرنا اور وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گناہ ہے۔لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کوگانے سے روکنے کے بجائے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ انھیں گانے دو۔ ذرا یہودی بھی جان لیں کہ ہمارے دین میں بھی تفریح اور وسعت ہے۔

اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کو گانے دیا اور اس بنا پر یہ ایک جائز چیز ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم دوسری قوموں کی نظر میں دین اسلام کی تصویر کو بہتر اور عمدہ بنانے کی کوشش کریں۔

بخاری شریف ہی کی ایک اور حدیث ہے کہ ایک لڑکی کی رخصتی ہو رہی تھی اور اس خوشی کے موقع پر کسی گانے بجانے کا انتظام نہیں کیا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ کوئی گانا بجانا کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ انصار کو تو گانا بجانا بہت پسند ہے۔ نسائی اور حاکم کی صحیح حدیث ہے کہ حضرت عامہ بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک شادی کی تقریب میں قرظہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو مسعودانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا۔وہاں کچھ لڑکیاں گانا گارہی تھیں۔ انھوں نے ان دونوں سے پوچھا”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو!تمھاری نگاہوں کے سامنے یہ سب ہو رہاہے؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ تمھیں گانا سنناہے تو سنو۔ نہیں سننا ہے تو جاؤ شادی بیاہ کے موقع پر گانا بجانا جائز ہے۔

محمد بن حاطب بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ حلال اور حرام کےدرمیان فرق ہی نکاح میں صرف آواز (گانا) اوردف بجانا ہے۔ (احمد، نسائی، ابنِ ماجہ، ترمذی)

حضور ﷺ ایک غزوے سے واپس آئے تو ایک حبشی عورت جس نے مزامیر کے ساتھ گانے کی منت مانی تھی، اس نے حضورﷺ کی اجازت سے گایا۔ (ترمذی)

حضرت عائشہ نے ایک لڑکی کی شادی کی جس کی انصار میں قرابت تھی۔ آپ نے کہا کاش تم ان کے ساتھ کوئی گانے والا بھیجتیں۔ انصار کے ہاں گانے کا رواج ہے۔ (ابنِ ماجہ)

ربیع بنتِ معوذ کی شادی پہ آپ ﷺ تشریف لے گئے، دلہن کے سامنے اس کے بستر پہ بیٹھے۔ لڑکیوں نے آپ کے سامنے گایا۔ (بخاری و مسلم)

ان کے علاوہ متعدد صحیح احادیث ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گانا حلال اور جائز ہے۔

اب آئیے تیسرے اصول کی طرف۔۔۔ تو موسیقی کی حرمت پہ اجماع کسی دور میں بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اتنے بڑے بڑے کوہِ ہمالہ بزرگ موسیقی کے حق میں ہیں کہ اگر نام لیے جائیں تو آنکھیں ان کی عظمت کی وجہ سے بے اختیار جھک جائیں۔ جن کی علمی سیادت اور تقوٰی پر امت متفق ہے۔دورِ صحابہؓ سے لے کے آج تک اثبات میں طویل فہرست ہے جو کبھی کسی حرام کے سلسلے میں فراہم کی ہی نہیں جاسکتی۔ ایک دو تین کو سہو ہو سکتا ، غلطی ہو سکتی ہے لیکن برابر ہردور میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔۔۔ طوالت سے بچنے کےلیے صرف چند نمائندہ نام اور کچھ حوالے پیش کروں گا جو مزید تحقیق کا ذوق رکھنے والوں کے لیے راہنمائی کریں گے جیسے:

دورِ صحابہؓ سے: حضرت عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب جو جعفر طیارؓ کے بیٹے، حضرت علیؓ کے داماد ، بھتیجے اور جلیل القدر صحابی ہیں۔ یہ دھنیں خود سے بھی ترتیب دیتے تھے اور لونڈیاں بھی پاس تھیں۔ عبداللہ بن زبیرؓ جو حضرت عائشہؓ کے بھانجے، یکے از عشرہ مبشرہ زبیر بن العوامؓ اور حضرتِ اسماؓ کے بیٹے اور مشہور صحابی ہیں جن کی خلافت بھی کچھ عرصہ موجود رہی۔حضرات مغیرہؓ بن شعبہ ،امیر معاویہؓ ، عمروؓ بن عاص اور ایک روایت کی حد تک عبداللہؓ بن مسعود، حسّان بن ثابت، عثمانؓ بن عفان، براؓ بن مالک وغیرہ۔

دورِ تابعین و تبع تا بعین سے: حضرت شریح بن حارث جو 50سال حضرت عمرؓ کے دور سے لے کر چیف جسٹس رہے۔ یہ ماہرِ موسیقی تھے۔ سید التابعین سعید بن مسیّب ، ابنِ جریج، ابنِ دقیق العید، امام شعبی، ابنِ ابی عتیق،امامِ مکہ عطا بن ابی رباح،مفتی ءِ مدینہ عبد الملک بن ماجشون ،مشہور محدث شعبہ ،حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پڑپوتے اور امام شافعی ، امام بخاری ، امام احمد بن حنبل ، امام لیث بن سعد، شعبہ کے استادابراہیم بن سعد۔۔۔امام ابو حنیفہ جامع صغیر کی ایک روایت کی رو سے ،امام داؤد طائی، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، وغیرہ۔ یہاں ہم آثارِ صحابہ و تابعین بھی نقل کررہے ہیں تاکہ بات میں مزید وضاحت پیدا ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کے اُس دورِ زریں میں غنا کوئی اجنبی چیز نہیں تھی۔

سعد بن وقاص سفرِ حج میں غنا کرتے جاتےاور وہ کلامِ ہجر ہوتا۔ (ابنِ قتیبہ)

عقبہ بن عمرو انصاری ‘نصب’ راگ کے ساتھ غنا کیا کرتے جب کہ وہ امیرِ لشکر ہوتے ۔ (بیہقی بروایت امام زہری)

حضرت بلال تکیہ لگائے غنا کرتے۔ کسی نے پوچھا ایسا کام کیوں؟ فرمایا: انصار و مہاجرین میں سے کون ہے جسے ہم نے ‘نصب’ راگ کرتے ہوئے نہیں سنا؟ (بیہقی بروایت وہب بن کیسان)

حضرت عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر فقیہ اور عبادت گزار تھے اور لونڈیوں کو غنا سکھایا کرتے۔ ابنِ عتیق نے لکھا ہے محدثین کا اس روایت میں کوئی اختلاف نہیں۔ امام بخاری و مسلم نے ان سے احادیث روایت کی ہیں۔

سید التابعین امام مکہ عطا بن ابی رباح راگوں کے ماہر تھے۔ اپنے بیٹے کے ختنے کے موقع پر اپنے پاس موجود ‘ابجر سارنگی نما آلہ’ سے غنا کیا۔ (ابنِ قتیبہ)

حضرت امام ابراہیم زہری امام شافعی کے شیوخ میں سے ہیں۔ آپ اس وقت طلبہ سے اس وقت تک حدیث کا سماع نہ کرتے جب تک انہیں نشید و بسیط و غنا نہ سنا لیتے۔ بغداد میں بعض محدثین آپ سے حدیث کے سماع کے لیے حاضر ہوئے، دیکھا کہ غنا سنتے ہیں، کہنے لگے اب ہم آپ سے کبھی سماعِ حدیث نہیں کریں گے۔ آپ نے ناگوار انداز میں فرمایا: مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، میں جب تک بغداد میں ہوں بغیر سماعِ غنا کے حدیث بیان نہیں کروں گا۔ ہارون الرشید کے پاس گئے تو انہوں نے قبیلہ مخزومیہ والی عورت کی حدیث کے متعلق استفسار کیا۔ آپ نے ہارون سے ‘عود’ ساز منگوانے کو کہا اور یہ شعر پڑھا:

‘اے ام طلحٰہ، بےشک جدائی نے مجھے فنا کردیا ہے۔ تو اپنے فرار اور دور ہونے کو کم کر، کاش یہ تیرا کوچ کرنا کل پر پڑ جائے’۔ امام مزنی اور خطیب بغدادی فرماتے ہیں کہ خاص طور پہ احکامِ شرع میں آپ کو 17000 احادیث حفظ تھیں۔ آپ سے امام احمد بن حنبل اور امام شافعی جیسے بزرگوں نے روایات کیں۔

امام احمد بن حنبل نے غنا اپنے بیٹے سے سنا۔ بیٹے نے دریافت کیا کہ آپ تو اسے مکروہ فرماتے ہیں۔ فرمایا، کہاجاتا تھا کہ اس میں منکر و فحش کا استعمال ہوتا ہے (یعنی اگر نہ ہو تو جائز ہے)۔ (الفصول۔ ابوالوفا)

امام قتیبہ اور امام فزاری نے جوازِ سماع پر علمائے حرمین شریفین کا اجماع نقل کیا ہے۔ حنفیہ میں سے ‘صاحب البدائع ‘ نے کہا کہ سماع میں کوئی حرج نہیں اس سے دل نرم ہوتا ہے۔ ابو طالب مکی کہتے ہیں کہ غنا صحابی اور تابعی دونوں نے سنا اور اہلِ حجاز اس کی ہمیشہ رخصت دیا کرتے تھے۔

بعد کے ادوار سے:

مسلمانوں نے علمِ موسیقی کی سرپرستی کی اور اسے عروج تک پہنچایا۔ انہوں نے سْر ، تانیں، ساز، راگ ایجاد کیے اور پھیلائے بھی۔حجتہ الاسلام حضرت امام غزالی نے اپنی معرکتہ الآرا تصنیف احیاالعلوم میں اس پورے موضوع کا عقلی نقلی طور پہ ٹھوس تجزیہ پیش کیا ، اعتراضات کا جواب دیا اور حدود بھی بیان کی ہیں۔امام عبدالغنی نابلْسی نے پوری کتاب لکھی اور مسکت دلائل دیے۔ دنیا کی تاریخ کے بہت بڑے نام اور امامِ اہلِ مغرب ابنِ حزم نے تجزیہ پیش کیا اور اثبات کے حق میں وزن ڈالا۔۔۔ ابو نصر فارابی ، ابنِ سینا، ابوالوفا جوزجانی ،مشہور محدث، فقیہ اور شیخ الصوفیہ ابو طالب مکی،امام الفقہا والمحدثین عزالدین بن عبد السلام، امام عبدالوہاب شعرانی،شیخ الاسلام امام تقی الدین سبکی،امام شوکانی، ابنِ عربی، معروف حنفی فقیہ علامہ ابن عابدین شامی،امام عسقلانی اور اقبال کے مرشد مولائے روم ،مشہور مفسر علامہ طنطاوی وغیرہ وغیرہ

برصغیر میں علمِ حدیث جس شخصیت کی وجہ سے متعارف ہوا وہ حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی ہیں۔ یہ موسیقی کے اتنے بڑے ماہر تھے کہ دہلی کے موسیقاروں میں اختلاف ہوتا تو فیصلہ شاہ صاحب فرمایا کرتے۔حضرت نظام الدین اولیا زندگی میں صرف ایک بار دربار میں گئے اور وہ بھی غنا کے دفاع کے لیے۔ وہاں موجود تمام مخالفین کو کمزور دلائل کے باعث خاموش ہونا پڑا۔ مشہور ولی اور حضرت نظام الدین کے شاگردِ خاص جناب امیر خسرو نے انسانی نفسیات کے مطابق مشہور زمانہ سات سروں کی سرگم متعارف کروائی جس میں آٹھویں سْر کا اضافہ آج تک نہ کیا جاسکا۔حضرت خواجہ میر درد، خواجہ ناصرالدین عندلیب، خواجہ سعد اللہ گلشن، بہا الدین زکریا ملتانی، حضرت معین الدین چشتی سمیت لامتناہی سلسلہ ہے۔۔۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علومِ موسیقی کے ماہرین میں سے تھے جن کی علمی دھاک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر انگریزوں کی بہت لائق حکومت درمیان میں نہ آتی تو ہر طرف شاہ صاحب کے علوم کا چرچا ہوتا۔نواب محمد صدیق حسن خان جو مشہور عالم ہیں باقاعدگی سے محفل آراستہ کرتے۔ اردو میں مشکوٰۃ کی سب اہم شرح ’مظاہرِ حق‘ ہے جس کے مولف نواب محمد قطب الدین خان دہلوی ہیں اور یہ موسیقی کے حق میں نہیں لیکن۔۔۔ اپنی شرح میں غنا سے متعلق ایک سے زائد جگہوں پہ بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ: فقہا نے اس معاملے میں تشدد اختیار کیا اور انکار کیا، محدثین نے اقرار کیا اور صوفیا نے اختیار کیا۔۔۔اسی طرح حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں، قاضی ثنااللہ پانی پتی، اورنگزیب عالمگیر کے استاد ملا جیون جو مخالف واقع ہوئے ہیں پر حلّت و حرمت کی بحث میں فراخ دلی کے ساتھ اختلاف بیان کرتے ہیں۔

دورِ جدید میں:

مولانا ابو الکلام آزاد جو کچھ کے نزدیک امام الہند ہیں، نے اپنی کتاب میں راگوں اور سروں کا تفصیلی تعارف کروایا۔ مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی نے اردو زبان کی مبسوط کتاب جو 180کتب کا نچوڑ ہے پیش کی۔ مجددِ علوم سیرت اور قراردادِ مقاصد کے خالقوں میں سے ایک ڈاکٹر حمید اللہ نے مشہور خطباتِ بہاول پور میں حق کے اندر دلائل اختیار کیے۔ قرآنِ حکیم کے مشہور انگلش مترجم علامہ اسدکو پڑھیے، جن کے بارے میں مولانا مودودی نے کہا تھا کہ مغرب نے سب سے قیمتی ہیرا جو ہماری جھولی میں ڈالا ہے وہ اسد ہیں۔ یہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک چئیر کے بانی ہیں، پاکستان بننے کے بعد Department of Islamic Reconstruction کے صدر قائدِ اعظم کی جانب سے مقرر ہوئے، اس ڈیپارٹمنٹ کا کام ملک کے شعبہ جات کو اسلامی رنگ میں رنگنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینا تھا۔موجودہ دور میں روئے ارض کے ممتاز ترین فقیہ او ر مشہور اخوانی راہنما ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اپنے مخصوص انداز میں قلم اٹھایا اور تفصیلی جائزہ پیش کرنے کے بعد موسیقی کو جائز قرار دیا۔ سنا ہے ان کی کتاب ’اسلام میں حلال و حرام‘ کے بارے میں مولانا مودودی نے فرمایا کہ یہ ہر گھر کی لائبریری میں موجود ہونی چاہیے، اس کتاب میں بھی یہ بحث 5صفحات پہ پھیلی ہوئی ملتی ہے۔ گو مولانا مودودی حلّت کے حق میں نہیں لیکن ان کا جنازہ پڑھانے والے ڈاکٹر قرضاوی اس کو انسانی نفسیات کی ضرورت اور خوبصورت معتدل معاشرت کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔اسی طرح دورِ حاضر میں پروفیسر احمد رفیق اختر، سید سرفراز اے شاہ وغیرہ۔

عقلی دلیل :
ذرا آپ غور کریں کہ گانا کیا چیز ہے؟ گانا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ یہ ایک عمدہ اور خوش گوارشے ہے جس کا سننا اچھا لگتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں گانا کان کی عمدہ غذا ہے۔ اسی طرح جس طرح کھانا پیٹ کی غذا ہوتا ہے۔ اچھے مناظر آنکھوں کی غذا ہوتے ہیں اور اچھی خوشبو ناک کی غذا ہوتی ہے۔ جس طرح خوشبو اور بھلے مناظر حرام نہیں ہیں اسی طرح کانوں کی غذا (گانا) بھی حرام نہیں ہونی چاہیے اسلام کا مزاج یہ نہیں ہے کہ اچھی بھلی چیزوں کو حرام قراردے۔ بعض لوگ اور خاص کر سخت گیر قسم کے لوگ اسلام کے سلسلے میں یہ انتہائی غلط تصور رکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو عمدہ لگے اور اس میں مزہ آئے وہ اسلامی نقطہ نظر سے درست نہیں ہے یہ تصور صحیح نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ہر عمدہ اور بھلی چیز کو ہمارے لیے حلال قرار دیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔

﴿يَسـَٔلونَكَ ماذا أُحِلَّ لَهُم قُل أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبـٰتُ…﴿٤﴾… سورة المائدة

’’یہ تم سے سوال کرتے ہیں ان کے لیے کیا چیز یں حلال کی گئی ہیں ان سے کہو کہ تمھارے لیے عمدہ اور بھلی چیز یں حلال کی گئی ہیں۔‘‘

کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام یا حرام کردہ چیزوں کو حلال قراردے۔

مزید یہ کہ گانا سننا اور اس سے محفوظ ہونا بالکل فطری (Natuaral)بات ہے۔آپ اکثریت گانے کو مباح اور جائز تصور کرتی تھی چنانچہ مدینے کے لوگ اپنے زہدو تقوی میں مشہور ہونے اہل ظاہر قرآن و سنت کے ظاہری الفاظ پر عمل کرنے اور صوفیائے کرام دنیوی لذات سے بے نیاز رہنے کے باوجود گانے کو جائز اور حلال سمجھتے تھے امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہورکتاب “نیل الاوطار” میں رقم طراز ہیں کہ اہل مدینہ اور اہل ظاہر گانے کو جائز سمجھتے ہیں خواہ یہ گانے عود(ستار) کی موسیقی کے ساتھ ہو۔ امام الحرمین فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چند لونڈیاں تھیں جو عود(ستار) پر گانا گایا کرتی تھیں اور عبداللہ بن زبیر انھیں سنتے تھے۔ مشہور تاریخ داں ابو الفرج اصفہانی لکھتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بعض اشعار ستار پر بجا کرسنے۔ اہل مدینہ اس بات پر متفق ہیں کہ ستار کا بجانا جائز ہے مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے تھی کہ معازف (موسیقی) کے آلات مباح اور جائز ہیں ان کے علاوہ بہت سارے تابعین مثلاًقاضی شریح سعید بن المیسب رحمۃ اللہ علیہ عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ گانے کو حلال اور جائز تصور کرتے تھے ۔یہ تمام لوگ موسیقی کے ساتھ بھی گانے کو مباح سمجھتے تھے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بغیر موسقی کے گانے کے جائز ہونے پر تو تمام لوگ متفق ہیں انھوں نے اپنی مشہور تصنیف میں متعدد صحابہ کرام اور تابعین کے نام گنائے ہیں جو گانے کو مباح سمجھتے تھے مثلاً حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہم تابعین و تبع تابعین میں سے انھوں نے نے سعید بن المیسب قاضی شریح سعید بن جبیر زہری امام ابو حنیفہ ، شافعی اور مالک وغیرہم کے نام گنائے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر طرح کے گانے جائز ہیں اور ہر طرح کی موسیقی مباح ہے۔ اسے جائز اور مباح سمجھنے کے بعد چند باتوں کی رعایت ضروری ہے۔

(1)گانےکے بول اسلامی تعلیمات و آداب کے خلاف نہ ہوں ۔ مثلاًگانے میں شراب اور زنا وغیرہ سے دلچسپی کا اظہار نہ ہویا اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا دین اسلام کی مخالفت میں کوئی بات نہ کہی گئی ہویا ظالموں اور فاسقوں کی مدح سرائی نہ کی گئی ہو۔گانے کے مباح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ گانے کے بول بھی جائز اور مباح ہوں۔

(2)ان کی ادائی کا طریقہ بھی شائشتہ اور اسلامی آداب کے مطابق ہو۔ ناز دادا کے ساتھ یا رقص کے ساتھ گانا جائز نہیں ہے خواہ اس کے بول جائز اور مباح ہی کیوں نہ ہوں،

(3)جذبات کو بھڑکانے والے اور انسان کو محبت میں مست رکھنے والے گانے درست نہیں ہیں۔

(4)گانوں کے ساتھ شراب و شباب کی آمیزش نہ ہو۔ ایسی محفلیں نہ ہوں جہاں شراب پی جارہی ہو اور مردوں اور عورتوں کا باہم اختلاط ہو۔

یہاں ایک بات کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ پرانے زمانے میں ریڈیو، موبایل یا ٹی وی وغيره کے نہ ہونے کی وجہ سے گانا سننے کے لیے ضروری تھا کہ گانے کی محفلوں میں شرکت کی جائے۔جہاں عام طور پر شراب و شباب کا انتظام ہوا کرتا تھا کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ یہ محفلیں ناجائز باتوں سے پاک ہوں۔ البتہ آج کے دور میں انسان ان محفلوں میں شرکت کیے بغیر گھر بیٹھےریڈیو اور دوسرے ذرائع سے گانے سن سکتا ہے۔ اور اس میں بلا شبہ گانا سننے والوں کے لیے گنجائش کا پہلو نکلتا ہے۔

(5) زندگی صرف محبت تفریح اور مستی کا نام نہیں ہے۔ گانے وغیرہ کے ذریعے تفریح حاصل کرنا جائز ہے لیکن ہر وقت تفریح اور مستی حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ ساری توجہ ہمیشہ فرائض انجام دہی اور اہم کاموں کی تکمیل کی طرف ہونی چاہیے۔ہماری زندگی کو بامقصد ہونا چاہیے کبھی کبھار ان جائز چیزوں سے تفریح حاصل کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(6)انسان کا قلب و ضمیر سب سے بڑا مفتی اور جج ہوتا ہے۔وہ حق و ناحق کا فیصلہ خود کر سکتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان جائز چیزوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے ضمیر کو جگاتارہےکہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان چیزوں کے ساتھ ساتھ وہ ناجائز چیزوں کا بھی مرتکب ہو تارہےاگر ایسا ہے تو اسے ان ناجائز باتوں سے فوری پر ہیز کرنا چاہیے ۔

آخر میں میں علمائے کرام کو ایک نہایت اہم بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ خاص ان علمائے کرام، کو جو لفظ حرام کو کھیل اور مذاق تصور کرتے ہیں اور اپنے فتووں میں بڑی آسانی کے ساتھ کسی بھی چیز کو حرام قراردیتے ہیں ان کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ حلال چیز کو حرام قرار دیتے ہوئے انھیں اللہ کا خوف دامن گیر ہونا چاہیے۔ لفظ حرام کوئی معمولی نہیں ہے کسی شے کو حرام قراردینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کے بارے میں اللہ کا حکم ہوتےہوئے اس پر پابندی لگادی ہے۔ اگر واقعی یہ چیز اللہ کی نظر میں حرام نہ ہوئی تو آپ اللہ پرافترا پردرازی کے گناہ گارہوں گے جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔

﴿وَلا تَقولوا لِما تَصِفُ أَلسِنَتُكُمُ الكَذِبَ هـٰذا حَلـٰلٌ وَهـٰذا حَرامٌ لِتَفتَروا عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ إِنَّ الَّذينَ يَفتَرونَ عَلَى اللَّهِ الكَذِبَ لا يُفلِحونَ ﴿١١٦﴾… سورة النحل

’’اور یہ جو تمھاری زبانیں جھوٹے احکام لگاتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے۔‘‘

کسی چیز کو حرام قراردینا اتنا آسان معاملہ نہیں ہے کہ آپ محض اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے یہ محض اندازے کی بنیاد پر یا کسی ضعیف حدیث کی بنیاد پر کسی شے کو حرام قراردیں ۔ جب تک کہ اس کی حرمت ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث سے کوئی واضح اور صریح دلیل موجودہ نہ ہو۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے لیے اس بات سے سخت اور کوئی بات نہیں ہے کہ مجھ سے کسی چیز کے حلال یا حرام ہونےکے بارےمیں پوچھا جائے۔ اس لیے کہ کسی چیز کو حرام یا حلال قراردینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اور یہ کام انتہائی ذمے داری کا ہے۔

سلف صالحین کا منہج یہ رہا ہے کہ وہ کسی شے کو حرام کہنے کی بجائے یہ کہتے تھے کہ میری رائے میں یہ چیز نامناسب ہے۔ناپسندیدہ ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ جو کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردرشید تھے فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے اہل علم و مشائخ اپنے فتووں میں یہ کہنے سے گریز کرتے تھے کہ فلاں چیز حرام ہے یا فلاں چیز حلال۔محض اندازے کی بنیاد پریا اپنے مخصوص اور سخت گیر مزاج کی وجہ سے کسی چیز کو حرام یا حلال قراردینا سلف صالحین کا طریقہ نہیں رہا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اس بات کا خاص خیال رکھیں۔

والله اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں