22

اسلامی نظریاتی کونسل کا فیصلہ

اسلامی نظریاتی کونسل (آئی آئی سی) نے اپنے 225ویں دو روزہ اجلاس میں کہا ہےکہ فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس 2020کے تحت ریپ کے مجرم کو نامرد بنانے کا قانون غیر اسلامی ہے، متبادل سزائیں تجویز کی جائیں۔خیال رہے کہ 15دسمبر 2020کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں ریپ کے واقعات کی روک تھام اور اس سے متعلق کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020کی باضابطہ منظوری دی تھی جس کے تحت ریپ کے مجرم کو نامرد بنانے سے قبل اس کی رضامندی حاصل کرنے کی شرط ختم کردی گئی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں خواتین اور نوعمر بچوں تک کو ریپ کے بعد قتل کرنے کے ایسے ہولناک سانحے رونما ہوئے کہ پوری قوم اس پر سراپا احتجاج بن گئی ،قصور میں6سالہ زینب کے قتل کے بعد مجرم کوسرعام پھانسی کی سزا دینے کا عوامی مطالبہ سامنے آیا تو لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اس کے بچوں کی موجودگی میں زیادتی کے بعدیہ رائے سامنے آئی کہ ایسے افراد کو ان کی مرضی جانے بغیر نا مرد کر دیا جائے ،جسے اینٹی ریپ آرڈیننس 2020کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا ۔تاہم یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی تھا ،جس کے سامنے نہ صرف ملکی قوانین تھے بلکہ اسلامی احکامات بھی ۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں معاشرے میں امن و امان کے قیام اور حدود کی خلاف ورزی پر سزائوں کا تعین اور وضاحت بھی موجود ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق کسی فرد کے ارتکابِ زنا کے ثابت ہو جانے پر سنگساری کی سزا تو موجود ہے، اسے نامرد بنانے کی سزا موجود نہیں،شاید اسی لیے مذکورہ سزا کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے دیگر موثر سزائیں نافذ کرنے کی بات کی گئی ہے۔ریپ جیسے قبیح جرم کے سد باب کیلئے ہمیں نہ صرف موثر سزائوں کے نفاذ بلکہ اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی بھی ضرورت ہےتاکہ خوف خدا و سزا کے باعث کوئی ایسے جرم کا مرتکب ہی نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں