38

اسلامی ممالک افغانستان کی امداد پر متفق، دنیا افغان عوام اور طالبان کو الگ کر کے دیکھے، عمران خان

اسلامی ممالک افغانستان کی امداد پر متفق،OIC کانفرنس میں فوڈسیکورٹی پروگرام، ٹرسٹ فنڈ بنانے پر اتفاق، اسلامی ترقیاتی بینک کا خاص خصوصی اکائونٹ، نمائندہ خصوصی بھی مقررہوگا،اجلاس میں منظور قرارداد میں تمام شعبوں میں افغان خواتین کی بامعنی شرکت، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق، توانائی، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی منصوبوں پر عملدرآمد پر زوردیاگیا، بند کمرے میں افغان قیادت کی بات بھی سنی گئی.

پاکستان نے انتباہ کیاہےکہ افغان معاشی بدحالی سے دہشتگردی پھیل سکتی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے کہاہےکہ دنیا افغان عوام اور طالبان کو الگ کرکے دیکھے،اجلاس میں 30ممالک کے علاوہ طالبان اور ان کے مخالف امریکا، جاپان، جرمنی، اٹلی کے نمائندے بھی شریک ہوئے،چار دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی۔

اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی کونسل کا غیر معمولی اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں منعقد ہوا،سعودی عرب نے اسلامی سربراہی اجلاس کے سربراہ کے طور پر افغانستان میں انسانی صورتحال پر او آئی سی کے وزراء خارجہ کونسل کا غیر معمولی اجلاس بلانے کے اقدام کا خیرمقدم کیا۔

سلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کونسل کے 17ویں غیر معمولی اجلاس میں منظور کی گئی متفقہ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں معاشی بدحالی مہاجرین کے بڑے پیمانے پر انخلاء کا باعث بنے گی، انتہا پسندی، دہشت گردی اور عدم استحکام کو فروغ ملے گا جس کے سنگین نتائج علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام پر پڑیں گے۔

غربت سے نمٹنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اپنے شہریوں کو ضروری خدمات خاص طور پر خوراک، صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت کی خدمات کی فراہمی میں افغانستان کی مدد کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے افغانستان کے لئے انسانی امداد کی فوری فراہمی میں بین الاقوامی برادری، پڑوسی ممالک، ڈونر ایجنسیوں اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی کوششوں پر زور دیا گیا، افغانستان کے مالی وسائل تک اس کی رسائی تباہی کو روکنے اور اقتصادی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں اہم ہو گی، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے زیراہتمام ایک ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے اور افغان تحفظ خوراک پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے افغانستان کی خود مختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کے بھرپور عزم کا اعادہ کیا گیا، اجلاس میں کہاگیاکہ اقوام متحدہ کے اندازوں سے زیادہ افغانستان کے 38ملین افراد میں سے60فیصد لوگوں کو’’بھوک کے بحران‘‘ کا سامنا ہے اور یہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے، قرارداد میں افغانستان میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا، خاص طور پر ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے جاری کردہ انتباہ کہ 22.8ملین افراد افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

3.2ملین بچے اور سات لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین شدید غذائی قلت کے خطرے کا شکار ہیں۔ قرارداد میں افغانستان میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اقتصادی تعاون کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں بڑے پیمانے پر توانائی، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی منصوبوں بشمول تاپی پائپ لائن بجلی کی ترسیل کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ افغان عوام کی زیادہ سے زیادہ فلاح و بہبود ہو سکے۔

قرارداد میں افغانستان کے صحت کے نظام کی بدحالی، بیماریوں میں اضافہ بالخصوص کورونا وبا کی صورتحال اور شدید غذائی قلت اور افغان پنازہ گزینوں کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے مطابق جنوری سے ستمبر 2021ء کے دوران 6لاکھ 65ہزار افراد افغانستان کے اندر بے گھر ہوئے ، اس کے علاوہ افغانستان میں تنازعات کی وجہ سے پہلے ہی اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 2.9ملین ہے۔

پڑوسی ممالک پر افغانستان کی انسانی صورتحال کے غیر متناسب اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے خاص طور پر پناہ گزینوں کی حالیہ آمد اور غیر قانونی نقل مکانی کے حوالے سے کہا گیا کہ لاکھوں افغان مہاجرین طویل تنازعات اور اس کے نتیجہ میں 40سالوں پر محیط معاشی اور سماجی چیلنجوں کی وجہ سے پہلے ہی پڑوسی ممالک اور اس باہر مقیم ہیں۔

چار دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان اور ایران کی مہمان نوازی کی تعریف کی گئی، جس کی سخاوت اور ہمدردی کے اسلامی فضائل سے رہنمائی ملتی ہے، قرارداد میں کہاگیاکہ اگر منفی رفتار کو روکنے کے لئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو ریاستی اداروں اور ضروری استعداد کار کی بحالی میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔

بین الاقوامی برادری کی ان توقعات کو دہراتے ہوئے کہا گیا کہ تمام افغان قومی مفاہمت کو فروغ دینے، بین الاقوامی کنونشنز اور معاہدوں کی پابندی کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی قراردادوں میں درج بین الاقوامی حکمرانی کے اصولوں پر عمل کرنے کیلئے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں، اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (یو ڈی ایچ آر) کی تعمیل میں افغانستان کے لوگوں کی زندگی، سلامتی اور عزت کے حق کے تحفظ اور احترام کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے ان پر عمل کریں۔

قرارداد میں افغانستان اور خطے کے پائیدار امن، سلامتی، تحفظ اور طویل مدتی خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کے مقصد سے افغانستان کے پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ طرز عمل کے ساتھ ساتھ جامع حکومتی ڈھانچہ کے قیام کی اہمیت پر زور دیا گیا جو اعتدال پسند اور مستحکم ملکی اور خارجہ پالیسیوں کیلئے اہم ہے۔

قرارداد میں تمام شعبوں میں خواتین کی بامعنی شرکت کی اہمیت، انسانی حقوق بشمول خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق پر زور دیا گیا۔ قرارداد میں افغانستان کے لوگوں کے مصائب پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی کا اعادہ کیا گیا اور انہیں مناسب مدد فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ قرارداد میں زور دیا گیا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد گروہ کے اڈے یا محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہئے۔

صوبہ خراسان میں نام نہاد داعش (آئی ایس کے پی) کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی، افغانستان میں سفارتی عملے، امدادی اور بین الاقوامی تنظیموں کے کارکنوں کی حفاظت اور سلامتی کی یقین دہانیوں، عام معافی، انتقامی کارروائیوں سے گریز اور ان تمام لوگوں کو محفوظ راستے کی اجازت دینے کا خیرمقدم کیا گیا جو افغانستان کے اندر یا باہر کا سفر کرنا چاہتے ہیں، افغانستان سے47ممالک کے83ہزار سے زائد افراد کے انخلاء میں پاکستان کے اہم کردار کو سراہا گیا۔

افغانستان سے انخلاء میں سہولت فراہم کرنے پر قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، ایران، آذربائیجان، ترکی اور دیگر ممالک کے اہم کردار کو بھی سراہا گیا۔ بین الاقوامی برادری بالخصوص او آئی سی کے رکن ممالک کے لئے افغانستان کے لوگوں کو تنہا نہ چھوڑنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

قرارداد میں او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، چین، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، جاپان، جرمنی، اٹلی، یورپی یونین، اقتصادی تعاون تنظیم، لیگ آف عرب سٹیٹ، خلیج تعاون کونسل کے نمائندوں کی موجودگی کا خیرمقدم کیا گیا۔

افغان حکام کے نمائندے کے بیان کو بھی نوٹ کیا گیا، یہ کانفرنس پرامن، متحد، مستحکم، خودمختار اور خوشحال افغانستان کیلئے افغان عوام کے ساتھ او آئی سی کے رکن ممالک کی یکجہتی کا ثبوت ہے۔

قرارداد میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے بڑے ممالک کو فوری اور پائیدار انسانی امداد فراہم کرے۔

قرارداد میں جنرل سیکرٹریٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کابل میں او آئی سی مشن کو انسانی، مالی اور لاجسٹک وسائل سے مضبوط کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے تاکہ اسے عالمی شراکت داری قائم کرنے اور زمینی امدادی کارروائیوں کو خوش اسلوبی سے ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کو لیکویڈیٹی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور جائز بینکنگ خدمات تک رسائی کو آسان بنانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔

قرارداد میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ، اسلامی ترقیاتی بینک اور ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ بات چیت شروع کرے گا تاکہ متعلقہ فورمز پر اقدامات کو فعال بنانے کے لئے ایک حکمت عملی تیار کی جا سکے تاکہ مالیاتی اور بینکنگ چینلز کو کھولا جا سکے۔

اسلامی ترقیاتی بینک سے 2022ء کی پہلی سہ ماہی تک ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ کو فوری طور پر فعال بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔

او آئی سی کے رکن ممالک، اسلامی مالیاتی اداروں، عطیہ دہندگان اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے لئے ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ کے ساتھ ساتھ افغانستان کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کے وعدوں کا اعلان کریں،اسلامک آرگنائزیشن فار فوڈ سکیورٹی سے اپیل کی گئی ہے کہ جب ضروری ہو تنظیم خوراک کے ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرے۔

او آئی سی کے رکن ممالک، بین الاقوامی برادری بشمول اقوام متحدہ کے نظام، بین الاقوامی تنظیموں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فوری طور پر اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان کے لئے پالیسی ذرائع کے طور پر ہر ممکن اور ضروری بحالی، تعمیر نو، ترقی، مالی، تعلیمی، تکنیکی اور مادی امداد فراہم کرتے رہیں۔

قرارداد میں تمام افغان شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ اور افغانستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد گروہ یا تنظیم کے ذریعے ایک پلیٹ فارم یا محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ ہو۔

افغانستان سے تمام دہشت گرد تنظیموں بالخصوص القاعدہ، داعش اور اس سے وابستہ تنظیموں، ای ٹی آئی ایم اور ٹی ٹی پی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔دہشت گردی، منشیات، سمگلنگ، منی لانڈرنگ، منظم جرائم اور بے قاعدہ نقل مکانی سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے افغانستان کے متعلقہ ریاستی اداروں کی ضروری صلاحیت کی تعمیر نو کے لئے ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے انسانی ہمدردی، ثقافتی اور خاندانی امور سفیر طارق علی بکیت کو او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ میں افغانستان کے لئے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسے سیکرٹریٹ اور او آئی سی کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں، وہاں سالہا سال کرپٹ حکومتیں رہیں، افغانستان کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا،کوئی اقدام نہ اٹھایا گیا تو افغانستان میں سب سے بڑا انسانی بحران دیکھنا پڑیگا، اگر دنیا کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے تو افغانستان کو مستحکم کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہر معاشرے میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا تصور ہے،ہمیں انسانی اورخواتین کے حقوق کے حوالے سے حساسیت کا ادراک کرناچاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ترقی یافتہ ممالک کے لئے مہاجرین مسئلہ ہے تو پاکستان جیسے غریب ممالک کیسے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی برداشت کر سکتے ہیں؟ امید ہے کہ او آئی سی پر امن افغانستان کے لئے اپنا کردار اداکرے گی۔

اجلاس سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ ، اسلامی ترقیاتی بینک کےچیئرمین ڈاکٹر محمد سلمان الجاسر، اقوام متحدہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری برائے انسانی حقوق ، سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکی کے وزیرخارجہ میولت کائوسگلو، اردون کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی، نائیجیر کے وزیرخارجہ یوسف محمد اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا۔

علاوہ ازیں وزیراعظم سے ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر امیر حسین عبداﷲ نے بھی ملاقات کی ،اس موقع پر وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں طویل مدتی تعمیرنو اور انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کیلئے اضافی طریقے تلاش کرے، افغانستان میں معیار زندگی کو بہتر بنانے اور معاشی انہدام سے بچنے کیلئے بین الاقوامی انسانی امداد کی فوری ضروری ہے ۔

انہوں نے ایران بالخصوص سپریم لیڈر کی جانب سے تنازعہ کشمیر پر مسلسل حمایت کو سراہا، وزیراعظم نے ایران کے صدر کو دورہ کی دعوت دی،ایرانی وزیر خارجہ نے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کے فیصلہ پر پاکستان کی تعریف کی اور باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے ایران کے مکمل تعاون کا یقین دلایا،دریں اثناء وزیراعظم سے ملائیشیا کے وزیر خارجہ داتو سری سیف الدین عبداللہ نے ملاقات کی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ملائیشیاء کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے، ملائیشیا کے وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی اور استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں