97

اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف اور فردوس عاشق اعوان کے واقعے پر قوم بٹ گئی ہے۔

8 / 100

سونیا صدف اور فردوس عاشق اعوان انکاؤنٹر پر لکھنے کا سوچا تھا کہ میں اس ضمن میں آنے والے فیڈ بیک سے انگشت بدنداں تھا. جہاں اعوان پر لعن طعن ہوئی وہاں بہت کھل کر افسر شاہی کے لتے لیے گئے اور محسوس ہوا کہ عوام کا ایک کافی بڑا طبقہ ان سے باقاعدہ نفرت کرتا ہے. کل ہی عاشر عظیم سے بات ہوئی کہ اس موضوع پر ایک شو کرنے کا پروگرام ہے. رئوف کلاسرا نے شاندار آرٹیکل لکھا ہے اور چبھتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں. آج وزیر اعظم نے بھی اسی ضمن میں بیرون وطن پاکستانی سفارت خانوں کی کارگزاری پر سوالات اٹھائے ہیں. اس موضوع پر گفتگو جاری رہنی چاہیے.
سات دریا ‘ سات جنگل
اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف اور فردوس عاشق اعوان کے واقعے پر قوم بٹ گئی ہے۔
سیاستدانوں اور بیوروکریسی کیلئے یہ معاملہ اب اَنا کا مسئلہ بن گیا ہے۔پاکستان کا ایک بڑا طبقہ اگر سونیا صدف کے ساتھ کھڑا ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے بہت زیادتی کی تو دوسری طرف بیوروکریسی پر کھل کر تبرا کیا جارہا ہے۔ لوگ اپنی اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ ایک طبقے کو اگر بیوروکریسی پر غصہ ہے تو دوسرے کو سیاستدانوں کی بدزبانی پر شدید اعتراض ہے۔سوال یہ ہے کہ لوگ بیوروکریسی سے اتنے متنفر کیوں ہیں؟ بیورو کریسی کا تو واسطہ عوام سے رہتا ہے ‘ انہیں سول سرونٹس کہا جاتا ہے اور وہ اسی کام کی تنخواہ لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر کہا جاتا ہے کہ انگریز اپنی باقیات بیوروکریٹس کی شکل میں چھوڑ گئے ہیں ۔ میری بھی کچھ عرصہ پہلے تک یہی رائے تھے کہ شاید انگریز بیوروکریسی ایسی تھی لیکن جب میں نے انگریز کمشنر پینڈرل مون کی کتاب Strangers in Indiaپڑھی تو میری انگریز بیوروکریسی بارے سوچ بدل گئی۔ انگریز اس خطے پر قابض ضرور تھے لیکن اپنی ڈیوٹی کے حوالے سے بہت سخت تھے۔ ان کے کام کی ایمانداری پر کوئی سوال نہیں اُٹھ سکتا۔ اس کتاب میں دو گورے افسران کا ایک دوسرے سے مکالمہ آپ کو بتاتا ہے کہ اس خطے پر حکمرانی کرنا مشکل تھا لیکن اسے یورپ کی طرح تہذیب یافتہ معاشرہ بنانے کی کوشش کرنا اپنی جگہ وہ حماقت تھی جس کااظہار بار بار اس کتاب میں ہوتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں افسر لگنا جہاں جھوٹ مجبوراً نہیں بلکہ عادتاً بولا جاتا ہو‘ آسان کام نہ تھا۔ گورے بیوروکریٹس اس بات پر حیران تھے کہ ہندوستان میں لوگ جھوٹی گواہی دے کر بے گناہ لوگوں کو پھانسی لگوانا شرمندگی نہیں بہادری اور چلاکی سمجھتے تھے۔ اس کتاب کے ایک اہم کردار انگریز افسر گرین لین نے ہندوستان کی عوام کی عادتوں کا پوسٹ مارٹم کر کے جس دکھ کا اظہار کیا وہ آپ کو کافی دن تکلیف کا شکار رکھتا ہے۔
ہم میں سے کتنے لوگ سی ایس ایس کر کے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ آئیں اپنے ساتھ سچ بولیں۔ ہم سب سی ایس ایس سے پہلے اس طرح عوامی خدمت کرنے پر یقین رکھتے ہیں جیسے ایف ایس سی کا طالبعلم میڈیکل کالج میں داخلہ لیتے وقت دکھی انسانیت کی خدمت کا نعرہ مارتا ہے اور پھر وہی نوجوان ڈاکٹر بن کر پرائیویٹ ہسپتالوں کے ہاتھ لگ کر جو خدمت کرتا ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔ اس طرح جو سی ایس ایس کر کے خدمت کرتے ہیں ان سے بھی ہم اچھی طرح واقف ہیں۔ میں نہیں کہتا سب افسران ایک جیسے ہیں‘ میں ذاتی طور پر چند بہت بہترین افسران کو جانتا ہوں جنہوں نے کیریئر دائو پر لگا کر غلط کام نہیں کیے اور بڑی بڑی پوسٹنگ سے محروم ہوئے لیکن انہوں نے حق سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ ایک وفاقی سیکرٹری نام لکھنے کی اجازت نہیں دے گا ورنہ بتاتا کہ کیسے انہوں نے ایک دفعہ وزیراعظم کو ناں کر کے اپنے کیریئرکی سب سے بڑی پوسٹنگ دائو پر لگا دی۔ کبھی انہیں پچھتاتے نہیں دیکھا۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان بیوروکریٹس کا رول ماڈل کون رہ گیا ہے؟ ہرپروفیشن میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کی پروفیشنل لائف پر جونیئر رشک کرتے ہیں۔ پولیس کے محکمہ میں مَیں نے نوجوان پولیس افسران کوطارق کھوسہ‘ میر زبیر محمود‘ شعیب سڈل‘ مرحوم ناصر درانی کا نام عزت سے لیتے دیکھا ہے۔ ڈی ایم جی میں ایک کلاس ہوتی تھی جو دھیرے دھیرے غائب ہوگئی۔ ایک کلاس تھی جو کتاب پڑھتی تھی‘ جس میں کریکٹر تھا‘ جو کسی بھی فائل پر حکمرانوں کی مرضی کے خلاف نوٹ لکھ کر غلط کام کرنے سے انکارکر دیتے۔ اپنے جونیئر افسران کیلئے سٹینڈ لیتے تھے۔ او ایس ڈی بن جاتے لیکن وزیروں کے گھروں یا ایم این ایز ‘ایم پی ایز کے ڈیروں کا چکر نہ لگاتے تھے۔ ڈاکٹر ظفر الطاف یا رئوف چوہدری جیسے بیوروکریٹ اب کہاں ملتے ہیں۔ آج کل بھی بیورو کریسی میں چند ایسے لوگ ہیں جوکابینہ اجلاسوں میں وزیراعظم اور وزیروں کے سامنے سچی بات کہہ دیتے ہیں۔ انکار تک کردیتے ہیں‘ عام لوگوں سے انٹریکٹ کرتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے میں کوشاں رہتے ہیں ورنہ گریڈ بائیس کا کوئی افسراپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے کہ وہ عام بندے ساتھ ٹویٹر پر بات کرے۔ میجر اعظم سلیمان نے چیف سیکرٹری کے طور پر پنجاب کو تین ماہ میں راہ راست پرلانے کی کوشش کی تھی۔ پہلی دفعہ میرٹ پر ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز لگنا شروع ہوئے۔ صوبائی سیکرٹریز بھی میرٹ پر لگے تو وزیروں اور ایم پی ایز کا دھندہ مندا ہونے لگا اور بنی گالا سے تبادلے کے آرڈر جاری ہوگئے‘ یوں پنجاب ایک اچھے افسر سے محروم ہوا۔ اب جو پنجاب کی بیوروکریسی کی حالت ہے اس کاسوچ کر ہی ترس آتا ہے۔ ایک دور تھا کسی ایماندار افسر کو غلط کام نہ کرنے پر اس لیے بھی نہیں بدلہ جاتا تھا کہ پتا تھا اس کی جگہ دوسرا بیوروکریٹ بھی غلط کام نہیں کرے گا لہٰذا اس کے تبادلے کا فائدہ نہیں تھا۔اب ایک اچھے افسر کا تبادلہ کیا جائے تو اس کی جگہ لینے کے لیے دس بابوز ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک چھوڑیں دس غلط کام کروا لیں لیکن پوسٹنگ لے دیں۔ بیوروکریسی میں جو نئی نسل آرہی ہے وہ درسی کتب کے سہارے اوپر آئی ہے۔ اس کا مقصد سی ایس ایس سے اپنی زندگی بدلنا تھا‘ عوام کی نہیں۔ انہیں ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر ہاؤس‘ ڈی پی او کی کوٹھی‘گاڑیوں کا ہجوم اور ہٹو بچو پروٹوکول نظر آتا ہے۔ ہم مانیں یا نہ مانیں اب بیوروکریسی میں ایوریج لوگ آ رہے ہیں۔ اَپر مڈل کلاس یا اَپر کلاس سی ایس ایس نہیں کرتی نہ اسے دلچسپی ہے۔ یوں یہ میدان ہمارے جیسے عام نوجوانوں کیلئے خالی ہے۔ میرے جیسے عام لوگ صرف پیسہ ‘ رعب دبدبہ اور اختیارات چاہتے ہیں۔ مجھے خودفیڈرل پبلک سروس کے ممبر نے بتایا تھا ایک سال انٹرویوز میں امیدواروں کی پرفارمنس اتنی بری تھی کہ ان کا دل کیا اس سال چند کے علاوہ باقی سب سیٹیں خالی چھوڑ دی جائیں۔ ایک اور دوست جو خود بیوروکریٹ ہیں‘ نے بتایا وہ گریڈ بیس پروموشن کورس کیلئے گئے وہاں سب بیس سالہ سروس والے افسران تھے۔ ان کا کہنا تھا ایمانداری کی بات ہے ماسوائے فارن آفس کے افسران کے کوئی ایسا نہ لگا جو groomed ہو۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو بہترین بیوروکریٹس تھے انہیں سول سروس اکیڈمی میں لگایا جاتا تاکہ وہ مستقبل کے افسران کی بہترین تربیت کرتے اُلٹا اکیڈمی میں وہ افسران تعینات ہوتے ہیں جنہیں کھڈے لائن لگانا ہو۔ انہوں نے خاک وہاں تربیت کرنی ہے جو سزا سمجھ کر تین سال پورے کرتے ہیں۔
ہمارے افسران کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ وقت بدل رہا ہے۔ اس ملک کی پچاس فیصد سے زائد نوجوان آبادی بہت مسائل کا شکار ہے۔ انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اب یہ نوجوان ہر اس بندے سے نفرت کرتے ہیں جس کے پاس اچھی گاڑی یا اچھی نوکری ہے‘ چاہے اس نے محنت اور حلال کمائی سے لی ہو۔ انہیں سیاستدان یا بیوروکریٹ‘ حکمران یا صحافی کوئی راستہ دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک طرف انہیں سیاست اور سیاستدانوں سے نفرت ہوچکی تو دوسری طرف وہ بیوروکریسی سے نفرت کرنے لگے ہیں جو محض اپنے رعب ‘دبدبہ اور ہٹو بچو پر لگی ہوئی ہے۔اپنے دفتروں سے باہر نکلنے کو تیار نہیں اور افسران کا مشن پیسہ کمانا ہے یا پیسے کما کر غیر ملکی شہریت اور بچے کینیڈا سیٹل کرنا۔یہی وجہ ہے کہ آدھے پاکستانی نوجوان سونیا صدف کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو آدھے فردوس عاشق اعوان کو۔عزت مفت نہیں ملتی‘ عزت کمانا پڑتی ہے۔ عزت کیلئے سات دریا اور سات جنگل عبور کرنا پڑتے ہیں۔ کیا کبھی بیوروکریٹس اور سیاستدانوں نے یہ منہ زور دریا اور خوفناک جنگل عبور کرنے کی کوشش کی ہے جن کے دوسرے کونے اور کنارے پر عزت اوراحترام کا خوبصورت تاج رکھا ہے؟
رؤوف کلاسرا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں