12

اسرائیل کا ایرانی جاسوسائیں گرفتار کرنے کا دعوی

اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی کی ایجنسی نے ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں پانچ اسرائیلی باشندوں کو گرفتار کیا ہے۔
اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی کی ایجنسی شین بیت نے کہا ہے کہ ایرانی نژاد چار یہودی خواتین اس معاملے میں ملوث پائی گئی ہیں جنہیں ایجنسی کے دعوے کے مطابق ایران میں مقیم ایک یہودی نے جاسوسی پر لگایا تھا۔
ان خواتین کو ہزاروں ڈالر کے عوض حساس نوعیت کی تنصیبات کی تصاویر لینے، سیکیورٹی کے انتظامات کی نگرانی کرنے اور سیاست دانوں سے تعلقات بنانے کے لیے کہا گیا تھا۔
ان خواتین کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان خواتین کو معلوم نہیں تھا کہ ان سے کام لینے والا شخص ایران کے لیے کام کرتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان خواتین کا اسرائیل کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
لیکن سرکاری خفیہ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بڑا سنگین نوعیت کا ہے جس کا مقصد ملک کے اندر جاسوس کا ایک مکمل جال بچھانے کا تھا اور ان خواتین کو بڑے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔
ایرانی جاسوس جس نے اپنے آپ کو رامبود نامدار کے نام سے متعارف کروایا تھا اس نے مبینہ طور پر ان خواتین سے فیس بک پر رابطہ کیا اور ان سے کئی سال سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘واٹس ایپ’ پر ‘اینکرپٹج’ پیغامات کا تبادلہ کرتا ہے۔
شین بیت نے کہا ہے کہ ‘ان خواتین کو یہ معلوم ہو جانے کے باوجود کہ مذکورہ شخص ایرانی خفیہ اداروں کا اہلکار ہے انھوں نے اس سے رابطہ برقرار رکھا اور اس کے کہنے پر مختلف خواتین کام کرنے کے لیے تیار ہو گئیں اور اس سے بھاری رقوم وصول کرتی رہیں۔’
ایجنسی کے مطابق ان چاروں ‘جاسوساؤں’ میں شامل چالیس برس کی خاتون، جو کہ ہولن کے مضافاتی علاقہ تل ابیب کی رہائشی ہے، امریکی سفارت خانے کی عمارت جو اس وقت شہر میں تھی، اسرائیل کی وزارتِ داخلہ اور سماجی امور کی وزارتِ کی عمارات کے اندرونی حصوں اور ایک شاپنگ سینٹر کی تصاویر اتارنے پر تیار ہو گئی تھیں۔
ایرانی اہلکار نے جو ان مبینہ جاسوساؤں سے کام لے رہا تھا اُس نے اِس خاتون سے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے یقینی بنائیں کہ وہ فوج میں لازمی سروس کے دوران اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے شعبے میں شمولیت اختیار کرے۔
ایک اور 57 سالہ خاتون نے جو بیت شیمش کی رہائشی ہے اُس نے مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو ملٹری انٹیلی جنس میں شامل ہونے پر زور دیا اور اس کی فوجی دستاویزات بھی فراہم کیں۔
شین بیت نے مزید کہا کہ اس خاتون کو یہ کام بھی سونپا گیا تھا کہ وہ ایران سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی شہریوں کا ایک گروپ بنائیں اور ان کی ذاتی معلومات فراہم کریں اور اسرائیل کی خواتین ارکان پارلیمان سے تعلقات بنائیں۔
اس کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے ایک خفیہ کیمرہ اپنے ‘مساج روم’ میں لگایا تاکہ اپنے سے رابطہ رکھنے والوں کی باعث ندامت ویڈیوز اکھٹی کی جا سکیں۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی ریاست ایران کے ساتھ مسلسل کشمکش میں ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ ہمیں ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے اسرائیل کے شہریوں کو جاسوسی کے جال میں پھنسانے کے مستقل اور ختم نہ ہونے والے خطرات کا سامنا رہے گا۔’
انھوں نے مزید کہا کہ ‘یہ خطرات سیکیورٹی اور انٹیلی جنس تک محدود نہیں ہیں۔ اسرائیلی شہروں اور اسرائیلی معاشرے پر اثر انداز ہونے، اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے اور اسرائیل کے سیاسی استحکام کو نقصان پہنچانے اور حکومت پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں