175

اسرائیلی سافٹ ویئر سے پاکستانی حکام کی جاسوسی کی کوشش، برطانوی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا

ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے پاکستان کے دفاع کو خطرے میں دال دیا۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ جاسوسی کے اسرائیلی سافٹ وئیر کے ذریعے سینئر پاکستانی حکام کے فونز کو بھی ہدف بنایا گیا۔

دی گارڈین کے مطابق رواں سال کے آغاز میں کم از کم 2 درجن پاکستانی حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی این ایس او گروپ کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ پاکستانی حکام کی مبینہ ہدف کی نشاندہی اس وقت سامنے آئی جب مئی میں 1400 ایسے افراد کا تجزیہ کیا گیا جن کے فون ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ پاکستانی سرکاری حکام کو کون ہدف بنانا چاہتا تھا تاہم تفصیلات سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت ملکی اور بین الاقوامی نگرانی کے لیے این ایس او ٹیکنالوجی کا استعمال کرسکتا تھا۔

اخبار کے مطابق بھارت 2018 میں این ایس او سے اس وقت لنک ہوا جب سٹیزن لیب کی ایک رپورٹ میں 36 پیگاسس آپریٹرز کی نشاندہی کی گئی تھی جو 45 ممالک میں مالویئر استعمال کررہے تھے۔ بھارت میں مبینہ طور پر 121 واٹس ایپ صارفین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب دی گارڈین کے مطابق لندن اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانوں کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جب کہ اسرائیلی کمپنی این ایس او نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں