40

استعفیٰ نہیں سرپرائز دوں گا، لکھ لیں تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی، مر جاؤں گا، حکومت چھوڑ دوں گا، چوروں کیساتھ نہیں بیٹھوں گا، عمران خان

اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی صورت استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تو لڑائی شروع ہوئی ہے ‘وقت بتائے گا استعفیٰ کون دیتاہے ‘ہار ماننے والا نہیں ‘کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ گھر بیٹھ جائوں گا‘حکومت گر گئی تو چپ نہیں بیٹھوں گا‘ کیا لڑائی سے پہلے ہی مخالفین سے شکست قبول کرکے ہاتھ کھڑے کردوں، ایسا ہرگز نہیں کروں گا‘آخری گیندتک ان کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا‘حکومت جائے یا جان جائے اصولوں پر سمجھوتہ کروں گا نہ چوروں کے ساتھ بیٹھوں گا‘ اپوزیشن نے اپنے تمام کارڈ ز ظاہر کر دیئے ہیں‘ ووٹنگ سے ایک دن پہلے حزب اختلاف کو سرپرائز ملے گا‘میں نے ترپ کا پتہ ابھی شوہی نہیں کیا‘اپوزیشن کو ووٹنگ سے ایک دن پہلے پتا چلے گا کتنے لوگ ان کے ساتھ نہیں‘ یہ لکھ لیں کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی‘میچ ہم جیتیں گے، مضبوط فوج ملک کی ضرورت ہے، سیاست کیلئے فوج کو بدنام نہ کیا جائے‘فوج کے ساتھ آج بھی اچھے تعلقات ہیں ‘آرمی چیف سے دوریوں کی بات غلط ہے‘میری نیوٹرل والی بات کا غلط مطلب لیا گیا‘ نیوٹرل والی بات دراصل اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے تناظر میں کی‘ اتحادی 27مارچ کے جلسے کے بعد حکومت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے‘ نواز شریف نے صحافیوں کو لفافے دینا شروع کیا۔ میڈیا ہاؤسزکواس نے خریدا ہوا ہے‘ چوہدری نثار سے ملاقات ہوئی ہے ،ان سے 40 سال پرانا تعلق ہے۔ بدھ کو وزیراعظم ہائوس میں صحافیوںسے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک تین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا ‘افواجِ پاکستان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، فوج کو غلط تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان سیاست کا 12واں کھلاڑی ہے ،فضل الرحمان کے ٹیم سے باہر ہونے کا وقت ہو گیا ہے‘اب وہ 12واں کھلاڑی بھی نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست چوری کرنا اور ایک دوسرے کی چوری چھپانا ہے۔کیا چوروں کے دبائو پر استعفیٰ دے دوں ۔ عمران خان کا کہناتھاکہ زرداری کے پاس پیسے کے علاوہ کونسا نظریہ ہے‘زرداری اور شریف برادران کرپشن کے برانڈزہیں ‘زرداری الٹا بھی لٹک جائے تو کوئی اس کے ساتھ نہیں جائے گا‘ شہباز شریف جیسے بڑے مجرم کے ساتھ بیٹھ کر اپنی توہین کیوںکروں‘ مشاورت تو دور کی بات ہے شہباز شریف کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کروں گا‘ کرپشن میں ڈوبے ہوئے شخص کےساتھ ہاتھ نہیں ملاسکتا‘ ہر حکمران جماعت سے لوگ ناراض ہوتے رہتے ہیں ۔وزیر نہ بن سکنے والوں کی ناراضی ہوتی ہے ‘ 60سے 65فیصد باعزت عوام میرے ساتھ ہیں۔ 27 مارچ کے بعد میری سپورٹ90فیصد سے اوپر جائے گی‘میرے دو بنیادی اصول ہیں‘احتساب میں این آر و نہیں دے سکتا، میں اپنے اللہ سے اور ملک سے غداری نہیں کر سکتا۔وزیراعظم نے مزیدکہاکہ تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن کی سیاست ختم ہو چکی ہے، یہ کس آئین میں ہے کہ پیسے خرچ کرکے حکومت گرا دی جائے‘میں جو کچھ کر رہا ہوں وزارت عظمی کے لیے نہیں کر رہا‘ہم سے جو دور جائے گا وہ پیسے کے لیے جائے گا‘کسی بھی صورت انہیں این آر او نہیں دیا جائے گا‘عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے بہت سے لوگوں کو پیسے کی آفر ہوئی، پیشکش آنے کے بعد ہمارے بھی سارے ارکان کوپتہ چل گیا کیا ریٹ چل رہا ہے، 15ارب میں سب کو خرید سکتا تھا‘ کیا آپ 20 لوگ خرید کر حکومت گرا دیں گے۔صحافی نے سوال کیا آپ بلیک میل کیوں نہیں ہوتے؟ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ میری ذات کا نہیں، اس لیے میں بلیک میل نہیں ہوتا،وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے بعد کتنا بڑا طوفان آئے گا اپوزیشن کو اندازہ نہیں۔ اگر پارٹی کا کوئی رکن ناراض ہے تواستعفیٰ دے ‘حکومت گرگئی تو چپ نہیں بیٹھوں گا ‘ وزیراعظم نے کہاکہ اتحادی آخری وقت تک عوام کی رائے دیکھیں گے ‘اتحادیوں کو پتہ ہے ووٹ انہوں نے بھی عوام سے ہی لینا ہے ‘حکومت چھوڑنے کو تیار ہوںمگر استعفیٰ نہیں دوں گا‘خفیہ ویڈیوز مریم نوازکا کام ہے ہمارانہیں ‘امریکا کو عراق کی طرح پاکستان پر بمباری نہیں کرنا پڑے گی ‘پیسے کی زورپر حکومت بدل جائے تو بمباری کی کیا ضرورت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں