47

”ارطغرل“ پاکستان میں کیسے ہِٹ ہوا؟ – عرفان راجا

ترک سیریز ”دیریلیس ارطغرل“ باہمی اتحاد سے اُمت مسلمہ کے لیے ایک بروقت اور بہت ضروری پیغام دیتی ہے کہ جسے بدعنوانی، بے انصافی اور عدم مساوات کے یکساں چیلنجز کا سامنا ہے۔

اس سیریز کا بنیادی پیغام ہے مسلمانوں کے اس شاندار ماضی پر ایک نظر ڈالنا اور غوروفکر کرنا کہ جس کی بنیادیں اسلام کے اصولوں میں پیوست تھیں۔ ایک ایسے مذہب میں کہ جسے آج ایک زبردست اسلاموفوبیا کا سامنا ہے اور آج مسلمان خود سیاسی کشمکش کا شکار ہیں، باہم دست وگربیاں ہیں اور بدنظامی سے دوچار ہیں۔

کئی پاکستانی ناظرین سمجھتے ہیں کہ اس سیریز نے ایک ایسے حقیقی اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے ان کے اعتماد ویقین میں اضافہ کیا ہے جو اپنے باشندوں کے ساتھ انصاف برتے۔ ارطغرل ڈرامہ معاشرے کے قیام کے اس تصور کو واپس لایا جو انصاف اور مساوات پر مبنی ہو اور ظلم، نااہلیت اور بدعنوانی کے خلاف کھڑا ہو۔

”دریلس ارطغرل“ 13 ویں صدی کے ایک مسلم اوغوز ترک راہنما کی کہانی بیان کرتا ہے جو منزل تک پہنچنے کا غیرمعمولی عزم اور طاقت رکھتے تھے۔ ایک ایسی شخصیت جو ہر امتحان، ہر حملے، ہر غداری اور دشمنی کے بعد زیادہ طاقت کے ساتھ اُبھری اور اپنے ہدف حاصل کرنے کے لیے غیرمعمولی ثابت قدمی دکھائی ہے۔

اب تک ریکارڈ 133.38 ملین تک پاکستانی یہ ڈرامہ دیکھ چکے ہیں۔ کبھی کسی فلم، ڈرامے یا ڈاکومنٹری نے اتنے زیادہ پاکستانیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کروائی تھی۔

آج نومولود بچوں کے نام اس ڈرامے کے کرداروں پر رکھے جارہے ہیں اور پاکستان کے کاروباری ادارے اشتہاروں میں کام کرنے کے لیے اس ڈرامے کے اداکاروں سے رابطے کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ کرکٹ ٹیمیں بھی ان اداکاروں کو اپنا برانڈ سفیر بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ آخر پاکستانی ارطغرل کے اتنے دیوانے کیوں ہیں؟ آئیے اس ڈرامے کے پاکستان سے تعلق، رابطے اور پرستاروں کی اتنی زیادہ تعداد کی وجہ دیکھتے ہیں۔

ایک مبنی برانصاف ریاست کا خواب:
ارطغرل کا بنیادی تصور ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جو بالکل ویسی ہے جیسے بانی پاکستان محمد علی جناح قائم کرنا چاہتے تھے۔ ایک ایسی جگہ جہاں آیندہ نسلیں احکام خداوندی پر عمل کرسکیں اور جو انصاف اور برابری کی ضمانت دیتی ہو۔

پاکستان جیسی مسلم ریاست کے قیام کا نتیجہ وہ عظیم ہجرت تھی جو مذہب کے نام پر کی گئی۔ یہ تحریک اور ہجرت قائی قبیلے کی جدوجہد کو ظاہر کرتی ہے جو اسلامی نظریات کے مطابق ایک ریاست کے قیام کی جدوجہد کرتا ہے۔

پاکستان علامہ محمد اقبال کے خواب کی تعبیر ، جن کی شاعری قرآن مجید کی تعلیمات کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمیں ارطغرل کے کردار میں اقبال کے اسی شاہین کی صفات نظر آتی ہیں جو انصاف کا عزم لیے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔

ایک نیا اُجالا، ایک نئی زندگی:
ارطغرل نے آیندہ نسلوں کے لیے ایک پرامن مقام کی تلاش میں اپنا بھائی، اپنا قبیلہ اور بچپن کی یادیں تک چھوڑدیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بانی پاکستان نے اپنی اکلوتی بیٹی کو چھوڑا اور ان حالات کا سامنا کیا کہ جن کا اختتام ان کی افسوسناک موت کی صورت میں ہوا۔

ڈرامے کی ہر قسط میں ارطغرل یک ایسی ریاست کا عہد کرتے ہیں جو اللہ کے بتائے گئے قوانین کے مطابق چلے اور مساوات، انصاف اور آزادی کی ضمانت دے۔ قائداعظم نے بھی قرآن مجید کی دعوت سے متاثر ہوکر ”اتحاد، یقین اور نظم“ کے اصولوں کو بنیاد بناکر کام کیا۔

ارطغرل سے تعلق:
ارطغرل ڈرامہ مسلمانوں کو انہی کے ماضی سے دورِ جدید کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ یہ اس جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے جس میں اسلامی ریاست کے قیام کے لیے مسلمانوں کو مظالم، ہجرت، جنگوں اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔

آج ہمیں شام، لیبیا، یمن اور صومالیہ جیسے ممالک نہ تھمنے والے تنازعات میں پھنسے نظر آتے ہیں۔ دو بڑے مسلم ممالک سعودی عرب اور ایران علاقائی سطح پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے دست وگریباں ہیں۔ اسلام کے دو بڑے فرقے جنگ میں ایک دوسرے کے مقابلے ہوئے اور لاکھوں مسلمان قتل ہوئے یا بے گھر ہوئے۔ آج شام اور یمن کی بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟

آج پوری مسلم دنیا میں بدعنوانی، بے انصافی، عدم مساوات اور ظلم وجبر کا راج ہے اور مسلمان ایک ایسے راہنما کا انتظار کررہے ہیں جو پوری اُمت کو پھر متحد کردے۔

ارطغرل ڈرامہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو بھی ایک سبق دے رہا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی آتی ہے۔ پھر یاد کریں کہ ارطغرل نے کس طرح اپنے مرشد ابن عربی سے فہم، علم اور فیضان حاصل کیا؟ پوری سیریز میں ابن عربی نے ارطغرل پر آنے والی مصیبتوں کو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں سے تشبیہ دی اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرکے کس طرح ان چیلنجز سے نمٹا جائے، کیونکہ تعلق باللہ ہی مسلمان کی اساس ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، سائنسی دریافتوں اور ایک مضبوط معیشت قائم کرنے کی کوششوں کا پیغام بھی مسلمان دنیا کو دیا گیا جو اس وقت جدید سائنس میں بہت پیچھے ہے۔

ارطغرل ان سب کا منہ بند کرنے کے لیے کافی ہے جو اسلام کو ایک دقیانوسی مذہب سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں دکھایا گیاہے کہ عثمانی سلطنت کے بانی اسلامی اصولوں سے متاثر تھے۔ مثال کے طور پر ارطغرل اپنے بھائی کی جانب سے ہی تنقید اور عداوت کا سامنا تھا لیکن انہوں نے مظلوم کے حق میں کھڑے ہونے سے کبھی پیٹھ نہیں پھیری۔

پاکستانی ناظرین:
صدیوں تک جنوبی ایشیا میں مسلمان اور غیرمسلم ساتھ رہے، جنہوں نے ترک نسل کے سلاطین دہلی کی حکومت میں انصاف پر مبنی معاشرے دیکھے۔
ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے TRT نے ایک دستاویزی فلم Pakistan daki Hazara Karluk Tukleri یعنی ”پاکستان میں ہزارہِ قارلوق ترک“ نشر کی جو ہزاروں قارلوق ترکوں کی موجودگی کے بارے میں بتاتی ہے جو امیر تیمور اور اوغوز خان کی اولادیں ہیں اور ہزارہ، کشمیر، گلگت اور چترال میں صدیوں سے آباد ہیں۔ چترال کے مہتر اور سلطان راجا محمد افتخار خان کی زیرقیادت پکھلی سرکار کے قارلوق دراصل قائی قبیلے کے حقیقی بھائی تھے۔

بالی ووڈ نے 1939ء میں پکار 1983ء میں رضیہ سلطان اور 2008ء میں جودھا اکبر کے ذریعے مختلف فلمیں بنائیں جو مبنی برانصاف معاشروں اور مختلف اعتقادات رکھنے کے باوجود پرامن انداز میں رہنے کو بیان کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے اب بالی ووڈ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ اپنے انداز سے بیان کررہا ہے اور اسلاموفوبیا پھیلارہا ہے۔

آج کا پاکستانی نوجوان ایک ایسے معاشرے کے قیام کا خواب دیکھ رہا ہے جو انصاف، مساوات اور اہلیت پر مبنی ہو، کیونکہ ہر آنے والی حکومت بدعنوانی اور عدم مساوات کے خاتمے میں ناکام ہوئی ہے۔

اس پس منظر کے ساتھ بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ آخر پاکستانی ترکی سے، اس کے عثمانی ماضی سے، ترک سلاطینِ دہلی سے اور یہاں تک کہ آج رجب طیب اردگان سے بھی اتنی محبت کیوں کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ سب ایک عام پاکستانی کا خواب ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں