mazhar-barlas 55

اجڑے ہوئے ہم وطن

اجڑے ہوئے ہم وطن
مظہر برلاس
ابھی پاکستانی میڈیا پر سیاسی لڑائیاں پیش ہو رہی تھیں کہ بیس اگست کو ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے مجھے فون کیا اور کہنے لگیں، ’’سندھ میں قیامت کا منظرہے، لوگوں کو سیلاب کا سامنا ہے ہر طرف بھوک پھیلی ہوئی ہے، بے سہارا لوگ کدھر جائیں؟ سندھ کے حکمراں سوئے ہوئے ہیں مگر مجھے میڈیا پر حیرت ہے کہ اسے یہ سب کچھ نظر نہیں آ رہا، میڈیا اجڑے ہوئے لوگوں کو کیوں نہیں دکھا رہا، ان کے لئے آواز بلند کیوں نہیں کر رہا، سندھ پر حکومت کرنے والے تو شاید یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خدا کو کوئی جواب ہی نہیں دینا، میرا سندھ برباد ہو گیا، بلوچستان میں بھی قیامت کا سماں ہے مگر حکمرانوں کو مخالفین کے خلاف کارروائیاں کرنے سے فرصت نہیں، میڈیا تو سیلاب زدگان کی آواز بنے۔ ‘‘ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی باتیں سن کر میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ سے میرا 1997ء سے تعلق ہے، مجھے اندازہ ہے کہ آپ کا دل دُکھی ہے، آپ خاص طور پر سندھ کے لوگوں کا دُکھ دیکھ نہیں سکتیں۔ آپ کی بات درست ہے، آج رات ہی میں اپنے ٹی وی ٹاک شو میں سندھ کا تذکرہ کروں گا اور آپ کو بھی پروگرام کا حصہ بنائوں گا ۔جب پروگرام ہو گیا تو اگلے ہی دن سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صوبے کے 23اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ٹی وی پروگرام سے قبل مراد علی شاہ کو پانی میں ڈوبا ہوا سندھ نظر نہیں آ رہا تھا؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو سندھ سے متعلق مراد علی شاہ سے زیادہ خبر ہے، وہ سندھ کے حالات زیادہ جانتی ہیں۔ رہی وفاقی حکومت تو اسے اپنے مقدمات درست کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا ، یا پھر اپنے مخالفین پر مقدمات بنانا آتے ہیں۔ بلوچستان سے دل ہلا دینے والے مناظر کی ویڈیوز یا تصاویر آنکھوں کے سامنے سے گزرتی ہیں تو دل چیر کے رکھ دیتی ہیں ۔سندھ سے جو ویڈیوز دیکھنے کو ملی ہیں وہ بھی قیامت کا منظر پیش کرتی ہیں۔ دکھ تو یہ بھی ہے کہ ووٹ دینے والے ڈوب گئے اور ووٹ لینے و الے بچ گئے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سندھ میں ایک خاص شخصیت کی زمینیں بچانے کے لئے دو شہر ڈبوئے جارہے ہیں، ادھر جنوبی پنجاب کے دو تین اضلاع میں سیلاب بستیاں اجاڑ گیا ہے ، مجھے تو شاید اس کی بھی خبر نہ ہوتی مگر ہماری دوست شاعرہ ایمان قیصرانی نے روہی کے روتے ہی دکھ بیان کر دیئے۔ لکھتی ہیں ’’ہر طرف سے مایوس ہو کر نظرآپ کے قلم کی طرف دیکھ رہی ہے، خدا کے لئے کچھ ہمارے وسیب کی ترجمانی کیجئے ۔جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان پہ گزری قیامت اور’’ طوفان نوح ثانی‘‘ پہ کوئی کالم لکھئے ۔معذرت مگر شاید حکمرانوں اور ایوانوں کو اقتدار کی رسہ کشی اور اپنے من چاہوں کی وکالتوں سے کچھ آگے یہ رینگتے ہوئے کیڑے مکوڑے بھی نظر آ جائیں ‘‘۔

حکمرانوں کو اقتدار کی غلام گردشوں سے فرصت نہیں وہ تو بھاری بھر کم وفود کے ہمراہ بیرونی دوروں پر ہیں ۔
کس قدر تباہی ہوئی ہوگی کہ ڈی جی خان کی یہ شاعرہ اپنے وسیب کے لئے رو پڑی ہے، یہ وہی ایمان قیصرانی ہے جس نے کورونا کے دنوں میں حالات پر پوری غزل لکھی تھی، اس کا ایک شعرآج بھی زبان زد عام ہے کہ

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو
کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے میرے خدا جب تو کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو ناراضی کا اظہار کیسے کرتا ہے ؟حضرت موسیٰؑ کے سوال پر رب کائنات نے جواب دیا، ’’ اے موسیٰ ؑ میں اس قوم پر ایسے حکمران مسلط کر دیتا ہوں جو اچھے نہیں ہوتے ۔‘‘ آپ ذرا غور کیجئے کہ اس وقت جو ٹولہ اقتدار میں ہے اسے لوگوں کیلئے سوچنے کی فرصت ہی نہیں ،جب سے یہ ٹولہ مسلط ہوا ہے لوگ مہنگائی کی چکی میں پس گئے ہیں اور اب تو ملک کے زیادہ حصے میں سیلاب بستیاں کھاگیا، انسانوں کو نگل گیا ہے جو بچ گئے ہیں وہ زندگی بچانےکیلئے بھوک سے لڑ رہے ہیں ۔جب لوگوں کے سانس کی ڈوریاں کٹ رہی ہیں تو ہمارے حکمران بیرونی دوروں پر ہیں یا پھر محفوظ مقامات پر ہیں انہی حکمرانوں میں سے ایک نے کہا کہ ’’یہ لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہے، خدا لوگوں سے ناراض ہے‘۔‘ کوئی اس سے پوچھے کہ جب خدا ناراض ہوتا ہے تو پھرکیا آپ جیسے لوگوں کو مسلط کر دیتا ہے ۔؟

کسی کو اس پاکستان کی فکر ہے، ہے کوئی جو سوچتا ہو کہ کتنے انسان پانی کی نذر ہوگئے، کتنے جانور بہہ گئے کتنی بستیاں برباد ہوگئیں، کتنے لوگ اجڑ گئے اور کتنی فصلیں برباد ہوگئیں، ایک قیامت کی گھڑی ہے اور اہل اقتدار کی فوج کہاں کھڑی ہے ؟

ہے کوئی جو یہ سوچتا ہو کہ آخر منصوبہ بندی کیوں نہیں ہوتی ، بند باندھنے کے نام پر ہر سال پیسہ کہاں چلا جاتا ہے ، چھوٹے ڈیمز کیوں نہیں بنائے جاتے، جو بنائے گئے وہ اس قدر ناقص کیوں تھے؟ہمارے حکمران کیوں نہیں سوچتے کہ صرف حکمرانی کرنا ہی ان کا کام نہیں ملک سنوارنا بھی ان کا فرض ہے، کس نے قدرتی آبی گزرگاہوں پر کالونیاں بنانے دیں؟ کس نے شہروں میں نکاسیٔ آب کا بندوبست نہ کیا ؟اس کے لئے کون جواب دہ ہے اور اب سیلاب زدگان تک خوراک اور دیگر اشیاء نہ پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے ؟یقین کیجئے مجھے تو وہ نوجوان نہیں بھولتا جو اپنی زندگی کا کل اثاثہ دو بکریاں بچاتے بچاتے خود پانی کی نذر ہو گیا، اپنے پالتو جانوروں کی محبت میں اپنی زندگی لہروں کے سپرد کر گیا۔کاش کوئی سوچتا مگر اہلِ اقتدا ر کو فرصت کہاں ؟ صورتِ حال یہ ہے کہ بقول اسلم گورداسپوری،

زندگی میں ہر طرف سیلاب ہی سیلاب ہیں

کیا قیامت ہے یہاں دریا بھی زیر آب ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں