khutba juma 98

اتحاد امت مسلمہ اور ہماری ذمہ داری .خطاب جمعہ: مفتی گلزار احمد نعیمی

اتحاد امت مسلمہ
اور
ہماری ذمہ داری
خطاب جمعہ: مفتی گلزار احمد نعیمی
مورخہ:07-05-2021
امت مسلمہ جس طرح انتشار اور افتراق کا شکار ہے، باہمی روابط کا فقدان ، سیاسی اختلافات، مذہبی اختلافات ،لسانی اور ملکی اختلافات نے امت کے شیرازے کو بکھیر دیاہے جو نہایت ہی قابل افسوس اور بہت ہی خطر ناک صورتحال ہے۔ ہمارے جتنے بھی مذہبی تہوار ہیں یا مذہبی تعلیمات ہیں ان میں ہمیں اتحاد و وحدت کا اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کا سبق ملتا ہے۔ قرآن مجید ہماری بنیادی کتاب ہے جس کے ذریعے سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں دین اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا ہے۔ رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ اور سیرت طیبہ کو قرآن کی عملی شکل میں ڈھال کر قیامت تک کے آنے والے مسلمانوں کے لیے اسے بہترین عملی نمونہ قرار دیا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات بھی نقطہ اتحاد ہےاور اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات بھی نقطہ اتحاد ہے، قرآن مجید بھی نقطہ اتحاد ہے۔جس قبلہ کی طرف ہم منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں وہ بھی نقطہ اتحاد ہے۔ ہم ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں ، ایک سمت منہ کر کے نماز پڑھتے ہیںاورروئے زمین کے تمام مسلمان قیام میں سورۃ فاتح اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں ۔روئے زمین کے تمام مسلمان رکوع میں ’’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیْم‘‘کہتے ہیں اور سجدے میں ’’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی‘‘کہتے ہیں۔
دنیا کی قوموں میں ترقی اور عروج باہمی اتحاد کی وجہ ہوتی ہے ۔ کسی قوم کو قوم کہلانے کا حق اسی وقت ہوتا ہے جب وہ ایک جسم کی مانند ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا”کہ مسلمان کی مثال اس کی باہمی محبت میں ، باہمی رحمت میں ایک جسم کی مانند ہے۔ إذا اشتكَى منْهُ عضوٌ تدَاعَى لَهُ سائِرُ الجسَدِ بالسَّهَرِ والْحُمَّى۔کہ جس طرح جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف ہو تو وہ تکلیف پورا جسم محسوس کرتا ہے مسلمان کی بھی یہی مثال ہے کہ کسی ایک مسلمان کو تکلیف ہوتی ہے تو روئے زمین کے تمام مسلمان اس تکلیف کو محسوس کرتے ہیں۔ تمام مسلمان اس تکلیف کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں آنکھ کو درد ہو تو پورا جسم بے قرار ہوتا ہے، جسم کے کسی عضو میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو بخار ہو جاتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کی بھی مثال بالکل اسی طرح ہے کہ جب ایک مسلم کو بھی تکلیف ہو تو اس کی تکلیف پورا جسم محسوس کرے،یہ اسلام ہے۔ اگر ہزار افراد منتشر کھڑے ہوں تو ان کی طاقت نہیں ہے لیکن ان کے مقابلے میں اگر سو افراد متحد کھڑے ہوں تو وہ زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ یہی مثال خاندان ، گلی محلے ، شہر کی ہے اور یہی مثال ممالک کی ہے، اگر پچاس سے زائد ممالک کاآپس میں اتحاد و اتفاق نہیں ہے تو ان پچاس ممالک کی کوئ حیثیت نہیں ہے۔ اگر آپ ایک قوم ہیں اور ایک ملک میں رہتے ہیں اور آپ متحد و متفق ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو شکست نہیں دے سکتی ہے۔علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا تھا
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
ایک شخص کا مقام اور مضبوطی ملت کے ارتباط کے ساتھ ہے، اکیلے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، کہ وہ موج جس کا ایک تھپیڑاایک بڑے جہاز کو غرق کر دیتا ہے اس کی مضبوطی اس وجہ سے ہے کہ وہ دریا کے ساتھ مربوط ہے ۔ وہ سمندر کے ساتھ مربوط ہے اگر اسی موج کو دریا سے باہر نکال دیں تو وہ پانی رہ جائے گا۔ اس کے اندر طاقت نہیں رہتی وہ کمزور ہو جاتی ہے۔ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے اور اپنے مد مقابل کے لیے ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہونا چاہیے۔اپنے مد مقابل کے لیے امت مسلمہ کو ہر قسم کی تیاری کرنی چاہیے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایاوَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍاور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو(سورۃالانفال، آیت نمبر60)جتنی قوت اپنے مخالفین کے لیے اکھٹی کر سکتے ہو کر لویہی تمہارے اتحاد و یگانگت کا سبب ہے۔ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو بھگائو اور خوف زدہ کرو ، مقابلہ کرواس طاقت کے ذریعے سے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں واضح حکم ارشاد فرمایا کہ اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ،وَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِیہ تمہاری امت یقینا امت واحدہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں لہٰذا تم صرف میری عبادت کرو۔(سورۃالانبیاء، آیت نمبر92) یہ امت مسلہ امت واحدہ ہےاور میں تمہارا رب ہوں،روئے زمین پر اور کوئی تمہارا رب نہیں ہے ،نہ قوت کے اعتبار سے نہ رزق دینے کے اعتبار سے نہ اولاد دینے کے اعتبار سے نہ دیگر حوالوں سے ، تمہارا صرف میں ہی رب ہوں جو تمہیں سب کچھ عطا کرتا ہوں، صرف میری عبادت کرو اور کسی کی عبادت نہ کرو اور عبادت صرف سجدے، رکوع یاقیام کا نام نہیں ہے۔ اگر انسان سجدے، رکوع اور قیام بھی کرے لیکن اس کے دل میں اللہ کا خوف نہ ہو کسی اور کا خوف ہو توپھر بھی مسلمان ، مسلمان نہیں ہے۔ مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا ، وہ صرف اللہ جل شانہ کی محبت کو اپنے دل میں رکھتا ہے ، اللہ کی محبت سے بڑھ کر اپنے دل میں کسی کی محبت کو نہیں رکھتا۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت او ر اللہ کی محبت کسی مسلم کے دل میں کسی بھی بڑی سے بڑی ذات کی محبت سے زیادہ نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ہونی چاہیے۔ یہ ہستیاں ہمارے لیے نقطہ اتحاد ہیں۔ اس لیے ہمیں اتحاد امت کا ایسا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ جس سے اللہ کا دشمن بھی خوف کھائے اور مسلمانوں کاد شمن بھی خوف کھائے۔ جب اللہ جل شانہ کا خوف دل میںآتا ہے تو تمام خوف ختم ہو جاتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال ؒ نے اپنے ایک فارسی کے شعر میں بڑی خوبصورت بات کہی کہ اگر آپ اللہ جل شانہ سے بھی ڈرتے ہیں اور کسی اور سے بھی ڈرتے ہیں تو آپ خوف میں شرک کر رہے ہیں۔
ہر کہ رمز مصطفی فہمیدہ است مشرک را در خوف مضمر دیدہ است
اگر آپ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے ڈریں ۔ اگر آ پ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے بھی ڈرتے ہیں تو پھر خوف میں آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا رہے ہیں۔ اس لیے صرف اور صرف اللہ کا ڈر ہونا چاہیے ، خوف خدا ہونا چاہیے اور خوف خدا انسان کی زندگی کے باہر کو بھی اور اندر کو بھی روشن کر دیتا ہے ، روشنی عطا کر تا ہے۔ جب انسان اس سطح پر پہنچتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا تو پھر وہ پکا اور سچا مسلمان بنتا ہے ، اس کی جلوت اور خلوت ایک ہوتی ہے ۔ وہ اکیلا کمرے میں بیٹھ کر بھی اللہ تعالیٰ سے ڈررہا ہوتا ہے اور وہ بازار اور آفس میں بیٹھ کر بھی اللہ تعالیٰ سے ڈر رہا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا اور اللہ تعالیٰ ہر جگہ پر موجود ہوتا ہے۔ اس لیے وہ جہاں بھی ہوتا ہے وہ اللہ سے ڈرتا ہے، ایک مسلمان اپنی خلوت میں بھی ایمانداری کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنی جلوت میں بھی ایمانداری کا مظاہرہ کرتاہے۔ اس لیے وہ دنیا کے کسی فرد یا طاقت سے نہیں ڈرتا وہ صرف اس طاقت سے ڈرتا ہے جو نہ صرف کمرے میں انسان کے افعال کا مشاہدہ کر رہی ہوتی ہے، بلکہ دل سے اٹھنے والے خیالات کو بھی دیکھ رہی ہوتی ہےکہ خیالات کا تخلیق کرنے والا بھی تو وہی ہے۔ اس لیے وہ ذات ہمیں متحد رکھتی ہے، اس کی عبادت ہمیں متحد رکھتی ہے۔ اسی لیے اللہ پاک نے ارشاد فرمایا وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو(سورۃ الاعمران، آیت نمبر103)تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو ۔ یہ نہیں ہے کہ ایک ٹولی ادھر بنی رہے اور دوسری ٹولی ادھر بنی رہے، اللہ کی رسی کو ہم نے مضبوطی سے تھامنا ہے اور وہ رسی کیا ہے ؟ وہ اللہ کا کلام ہے۔ قرآن مجید کی صورت میں ، وہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے سنت کی صورت میں ، ہم نے اس رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہے ، رسالت مآب ﷺ نے فرمایا تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا: کِتَابُ اﷲِ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِہٖ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہوسکتے۔ وہ کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنت رسول اللہ (احادیث) ہیں” (مشکوۃشریف، جلد اول، 181)آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری سنت ان کو مضبوطی سے پکڑو ایک حدیث کے الفاظ ہیں کہ ان کو داڑوں (پچھلے دانت)سے پکڑو کہ چھوٹنے نہ پائیں۔ جس طرح تم کسی چیز کو اپنے پچھلے دانتوں کے ساتھ پکڑتے ہو کہ وہ اتنی مضبوطی سے پکڑتے ہو کہ کوئی چھڑا نہیں سکتا اسی طرح تم اللہ کی اس رسی کو اتنی مضبوطی سے تھامو، قرآن و سنت کو اتنی مضبوطی سے تھامو کہ دنیا کی تمام مشکلات آ جائیں ، مخالف ہوائیں چلنا شروع کردیں، حالات تمہاری مخالف سمت میں جار ہے ہوں لیکن قرآن و سنت کی رسی کو تم اتنا مضبوطی کے ساتھ تھام کر کھڑے ہو کہ یہ تم سے چھوٹنے نہ پائے۔ پھر تم کامیاب ہو پھر تم احترام کے لائق ہو۔ پھر تمہارا وزن ہو گا۔
اس دنیا میں اتحاد کسی بھی قوم کا سب سے بنیادی ہتھیار ہے اور کسی قوم کو اگر آپ نے دیکھنا ہو کہ مضبوط یا کمزور کتنی ہے تو دیکھ لو کہ ان کے افراد میں اتحاد کتنا ہے؟قوموں کو ناپنے کا بنیادی معیار یہ ہے کہ اگر وہ متحد ہیں تو وہ مضبوط ہیں اور اگروہ متفرق ہیں تو وہ کمزور ہیں ۔ ایک گھر میں اگر چار بھائی ہیں اور چاروں کی سمتیں الگ الگ ہیں تو وہ کبھی بھی مضبوط خاندان کی تشکیل نہیں کر سکتے ہیں ۔ اگر روئے زمین پر 58 ممالک ہیں سب کی سمت الگ الگ ہوتو وہ کبھی بھی مضبوط امت نہیں بنا سکتے ۔ اس لیے بنیاد یہ ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق کو اپنائیں اختلافات اور انتشار کے قریب بھی نہ جائیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں بار بار حکم ارشاد فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہتے تو پھر تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ متفق اور متحد رہنا ہوگا۔ یہ جو مسلکی مذہبی اور فقہی اختلاف ہے اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ امت ٹکروں میں تقسیم ہو کر اپنی قوت کو ختم کر بیٹھے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قرآن و سنت کی زیادہ سے زیادہ بہتر تشریح مل سکے۔ لیکن ہم نے ان مسالک کو دین سمجھ لیا ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ میرا مسلک میرا دین ہے اور یہی سب کچھ ہے دوسرا غلط ہےاس کا مسلک ٹھیک نہیں ہے اس کا مذہب ٹھیک نہیں ہے ، بس میرا مذہب ٹھیک ہےاور میں خوش ہوں اپنے مذہب پر کہ جنت میں صرف میں جائوں گا اور کوئی بھی نہیں جائے گا۔ہم نے قرآن مجید کی عظیم آیات کو اور رسول اللہ ﷺ کے مبارک ترین فرامین کو یوں سمجھتے ہیں کہ یہ تو میرے مسلک کے لیے آئے ہیں باقی تو سب گمراہ ہیںبس ہدایت تو اللہ نے مجھے ہی عطا فرمائی ہے۔خدا را ہمیں اس روش سے باز آنا ہو گا ۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس اختلاف کو شرک قرار دیا ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ۔مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًاؕ-كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ۔
اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں میں سے نہ ہونا۔ان لوگوں میں سے (نہ ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیااور خود گروہ گروہ بن گئے۔ ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے(سورۃ الروم، آیت نمبر31،32)
فرمایا ان مشرکوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور گرہوں میں تقسیم ہو گئے ہر گروہ خوش ہے کہ میرا دین ٹھیک ہے کہ میں کامیاب ہو گیا باقی ختم ہو گئے۔ قرآن مجید نے فرمایا کہ یہ مشرکوں کی روش ہے ۔ یہ اللہ کو نہ ماننے والوں کی روش ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی درست ہیں کوئی دوسرا درست نہیں ہے۔
ہم مسلمان ہیں۔ فقہی اور مسلکی اختلاف کو جنگ و جدل بنانا للہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ اور دین کے ساتھ دشمنی ہے اور اس دشمنی سے ہمیں با ز رہنا چاہیے۔ اس مسلکی اورمذہبی اختلاف کو انتشار کی صورت قرار دے دینا اسلام کے ساتھ ظلم ہے اس وطن عزیز کے ساتھ ظلم ہے جس جگہ پر رہ رہے ہیں اس کے ساتھ ظلم ہے۔ جس دین کو اپنایا ہوا ہے اس دین کے ساتھ ظلم ہے۔ہر شخص کو احترام کی نظر سے دیکھیں ہر مسلک کو احترام کی نظر سے دیکھیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ دل سے اپنے مسلک اور مذہب کو نکال کر دوسرے مسلک کو بسا لیں، احترام انسان کے دل کی کیفیات کا نام ہے ، احترام دل سے ہوتا ہے ۔ جب تک دل میں احترام نہیں ہے تو وہ احترام احترام نہیںکہلاتا ۔ لیکن کم از کم ہم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ جو الفاظ استعمال کریں وہ ایسے ہوں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ کسی کے جذبات مجروح نہیں ہونے چاہیے ۔ کسی کے نظریہ کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے ۔ تم اگر اپنے مسلک کو، اپنے مذہب کو حق سمجھتے ہو تو ٹھیک ہے آپ سمجھیں لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی دوسرے کے مسلکی نظریات کی توہین کرے اسی لیے اللہ پاک نے ارشاد فرمایاوَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ۪-ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ “اور اُنہیں برابھلا نہ کہو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ زیادتی کرتے ہوئے جہالت کی وجہ سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل کو آراستہ کردیا پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے تو وہ انہیں بتادے گا جووہ کرتے تھے”(سورۃ الانعام آیت نمبر108) اللہ کے علاوہ جو لوگ کسی کی بھی عبادت کرتے ہیں انہیں تم گالی مت دو انہیں برا بھلا مت کہو اگر تم ایسا کرو گے توہ ناحق کی پوجا کرنے والے ہیں تم انہیں برا بھلا کہو گے تم حق کی پوجا کرنے والے ہو وہ تمہارے اللہ کو برا بھلا کہیں گے ۔ جب تم سخت الفاظ استعمال کرو گے تو وہ اہل حق کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کریں گے۔جھوٹے خدائوں کو بھی اللہ پاک نے گالی دینے سے منع فرمایا ہے جھوٹے نظریات پر عمل پیرا لوگوں کو بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے احترام دینے کی بات کی ہے۔ ان کو بھی احترام دو تا کہ وہ تمہارے سچے جذبات اور نظریات کواحترام دیں ۔ان کے جھوٹے خدائوں کو گالی مت دو اگر تم جھوٹے خدائوں کو گالی دو گے تو وہ تمہارے سچے خدا کو کو گالی دیں گے۔ باہمی احترام کا حکم اللہ جل شانہ خود ارشاد فرما رہا ہے۔ اس دنیا میں شرک سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہے اور شرک سے بڑھ کر اور کوئی بڑا گناہ نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ نے ان کے بارے میں بھی فرمایا ہے کہ ا ن کو بھی برا بھلا مت کہو۔ ان کو بھی دشنام طرازی مت کرو اس کی وجہ بیان کر دی کہ وہ تمہارے سچے خدا کو پھر برا بھلا کہیں گے ۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ مسلکی اور مذہبی اختلاف نہیں تھے ، قبائلی اختلاف تھے۔ آرا ءکا اختلاف بھی کسی سطح پر موجود تھا۔ لیکن وہ جنگ و جدل کا باعث کبھی بھی نہیں بنا۔ البتہ قبائلی اختلاف کی وجہ سے لڑائیاں اور جھگڑے ہوئے تھے۔ مدینہ میں جب اوس اور خزرج نے اسلام قبول کیا تو معمولی معمولی باتوں پر لڑنے والےیہ قبائل جن کی دہائیوں تک لڑائیاں جاری رہتی تھیں اسلام کی رحمت اور برکت سے لڑائیوں سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ۔ یہودیوں نے سوچا کہ اب اسلحہ تو بکنا بند ہو گیا اور ہم سے جو سود پر پیسے لیتے تھے وہ بھی بند ہو گئے ہیں اب ان کے اندر لڑائی بھڑکائی جائے کہ اسلحہ بھی بکے گا اور سود پر پیسے بھی لیںگے۔جب جنگ ہو گی تو او س اور خزرج کمائی نہیں کریں گے تو ان کو پیسوں کی ضرورت ہوگی۔ اسلحہ بھی ہم بنائیں گے پیسے بھی ہم دیں گے اس طرح ڈبل منافع کمائیں گے۔انہوں نے اپنے دو ایجنٹوں کو چھوڑ ا کہ انکو آپس میں لڑاو۔ یہ یہودی چودہ سو سال ہو گئے ہیںہم سے لڑائی لڑ رہا ہے۔ قوموں کی زندگیوں میں جو عادات ہوتی ہیں وہ نسل در نسل چلتی ہیں۔ اوس اور خزرج سازشوں کی وجہ سے جب لڑائی کے لیے آمنے سامنے میدان کارزار میں کھڑے ہو گئے ، نیاموںسے تلواریں نکل آئیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کو پتہ چلا تو آپ ﷺان کے سامنے جا کر درمیان میں کھڑے ہو گئے ۔آپ ﷺ نے فرمایا میں تم میں موجود ہوں اور تم آپس میں لڑ رہے ہو جس طرح تم زمانہ جاہلیت میں لڑ رہتے تھے۔ آج بھی اپنے مخالفین کو خوش کرنے کے لیے تم لڑ رہے ہو۔ تمہیں خدا کا خوف کرنا چاہیے ۔ میری موجودگی میں تم کیوں لڑ رہے ہو۔ اللہ کے رسول ﷺ نے نہایت ہی پر اثر گفتگو فرمائی اور اوس اور خزرج کی جو تلواریں نیاموں سے نکلی ہوئی تھیں نیاموں میں ڈال کر زارو قطار رونا شروع ہو گئے، ایک دوسرے کو گلے لگایا ، ایک دوسرے سے معافی مانگی ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تمہارے اندر موجود ہوں۔ سامعین! آج بھی رسول اکرم ﷺ کی ذات ہمارے اندر موجود ہے ۔رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات موجود ہیں رسول اکرم ﷺ کا لایا ہوا نظام موجود ہے ۔ جب رسول اکرم ﷺ کی ذات ہمارے اندر موجود ہے تو یہ مسلکی اور مذہبی اختلاف کرتے ہوئے ہمیں شرم آنی چاہیے ، ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں ۔ ہم اسی یہودی کو، اسی اسلام دشمن کو آج بھی خوش کر رہے ہیں جو چودہ سو سال سے ہمارے اندر اختلاف اور انتشار پیدا کر رہا ہے۔آج وہ ہماری تہذیب پر غالب ہو چکا ہے ،پردے کا مخالف ہے۔ وہ جہاد کا مخالف ہے، وہ رسول اکرم ﷺ کی عزت اور توقیر کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔ ہمارے عظیم رہنمائوں نے ہمیں بتایا ہے۔ علامہ محمد اقبال ؒ نے کہا،
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج ملا کو ان کے کوہ ، دمن سے نکال دو
اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو
آج سے کئی دہائیاں پہلے علامہ محمد اقبال ؒ نے ہمیں با خبر کر دیا تھا کہ آج کا طاغوت ہم سے یہی چاہتا ہے کہ روح محمد تمہارے بدن سے نکل جائے ۔ دنیا کی قوموں میں یہ کبھی نہیں ہوتا کہ آپ بزنس کے ایگریمنٹ مذہب کے ساتھ جوڑ دیں ۔ آپ نے اپنے لیے تو یہ کہا کہ مذہب تمہارا پرائیوٹ معاملہ ہے اور ہمیں آپ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو جی ایس پی پلس تب دیں گے جب آپ 295-Cختم کریں گے۔ کیا آپ اپنے معاملات میں بھی مذہب کو لے کر آرہے ہیں۔ ہم اتنے کمزور ہو گئے ہیںکہ تمہاری ڈکٹیشن لے کر ہم اسلام پر عمل کریں گے تم بتائو گے کہ ہم نے کون سا دین اپنانا ہے ، جہاد کو تم نے عملی طور پر ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو جہاد کی بات کرتا ہے تم اسے دہشت گرد اورا نتہاء پسند قرار دے دیتے ہو۔
ہم اللہ کے فضل سے اللہ سے محبت کرنے والے ہیں رسول اکرم ﷺ سے محبت کرنے والے ہیں ۔لیکن ہمیں بھی کچھ اقدامات کرنے چاہیں ۔ فرقہ واریت کی جو ہوا بدقسمتی سے بریلی اور دیو بند سے چلی ہے اور آج تک اس فرقہ واریت کی ہوا کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہم اپنی مساجد اور مدارس میں وہی باتیں کرتے ہیں جو اختلافات پر مبنی ہوتی ہیں ۔ امت کو جوڑنے کی بات نہیں کرتے۔ میری یہ خواہش ہے کہ بریلی سے بھی اتحاد امت کا فتوی آنا چاہیے ، دیو بند سے بھی اتحاد امت کا فتوی آنا چاہیے ۔ دنیا کو دیکھانے کے لیےیہ ضروری ہے کہ آج کی اس دنیا میں ۔ایران میں رہبر معظم علی خامنہ ای نے اتحاد امت کی بات کی ہے اور عملی طور پر یہ فتوی جاری کیا ہے کہ اتحاد امت اللہ کا حکم ہے۔ جو شیعہ اس کو نہیں مانتا وہ گمراہ ہے۔ بریلی سے بھی یہی فتوی آنا چاہیے۔ دیو بند سے بھی یہی فتوی آنا چاہیے۔امت کو متحد کرنے کے لیے علماء کا کردار ضروری ہے۔ امت کو متحد کرنے کے لیے مشائخ کا کردار بھی ضروری ہے ۔ ہمیں اللہ کے حکم کو فروغ دینا ہے ۔ ہمیں باہمی محبتوں کو بڑھانا ہے۔ نفرتوں کو مٹانا ہے۔ کتنی خوبصورت بات ہے کہ ہم مسجدوں میں آتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ دنیا میں آپ کہیں بھی جائیں کیا آپ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں؟صرف مسجد ہے اور صف میں کھڑے ہیں ۔علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
ہم ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح ہمارے دل بھی ایک دوسرے کے ساتھ ملنے چاہیں۔ معمولی معمولی اختلافات ہمیں ایک دوسرے کی دشمنی اور عداوت پر مت اکسائیں۔اگر ہم اس دنیا میں باعزت طریقہ سے جینا چاہتے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا خوف اور محبت ہمارے دل میں ہونی چاہیے ۔ یہ ایک بنیادی بات ہے کہ ہمیںدین کی محبت میں ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے رہنا ہے ۔
آئیں ! ہم ایک دوسرے کے ساتھ عہد و پیما کریں کہ دنیاوی لالچ کے لیے ایک دوسرے سے دشمنی نہیں کریں گے۔ مسلکی اختلافات کی بنیاد پہ ایک دوسرے کو کافر نہیں کہیں گے اور محبتوں کو فروغ دیں گے ، امت مسلمہ کو ہم اپنی محبتوں کے ذریعے سے مضبوط اور مستحکم کریں گے۔ یہود و ہنود اور مغرب کی استعماری قوتوں کے اور صیہونی قوتوں کے بچھائے ہوئے جالوں کو تار تار کریں گے اپنی محبت کے ساتھ اپنی روایات کے ساتھ اور اپنے اتحاد و اتفاق کے ساتھ۔ یہ عملی طور پر ہمیں نظر آنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور ایک دوسرے پر جان دیتے ہیں۔نفسانی خواہشات ہمیں ایک دوسرے کے قریب نہیں ہونے دیتیں لیکن اللہ نے ہمیں حکم ارشاد فرمایا ہے کہ تم اکھٹے ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ چلو اور زندگی گزارو ، آج کی دنیا کا ، آج کی زندگی کا ،آج کے وقت کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ باہم محبت کے ساتھ رہنا ہے شیروشکر ہو کر رہنا ہے کسی سے کوئی دشمنی نہیں کرنی ہے ، محبت کو فروغ دینا ہے نفرتوں کو مٹانا ہے ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ امت کی دستگیری فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں