28

اتحادیوں کے انکار کی صورت میں حکومت کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟

پانچ ووٹوں کی حامل اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ ہم فیصلہ کر چکے ہیں، لیکن انھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے ابھی یہ واضح نہیں۔
مقامی میڈیا پر یہ خبر نشر ہو رہی ہے کہ وزیراعظم کی چوہدری برادران سے ملاقات متوقع ہے۔ ابھی 13 روز پہلے بھی وزیراعظم نے چوہدری برادران سے ملاقات کی تھی۔
پی ٹی آئی کے رہنما فیصل جاوید نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ستائیس مارچ کے بعد ہو گی۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں جہاں اتحادیوں کے اتحاد قائم رہنے کی بات کی وہیں یہ بھی کہا کہ ابھی دیکھیے کہ یہ عدم اعتماد کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بھی ہو گی یا نہیں۔انھیں یقین ہے کہ ایم کیو ایم کے سات، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے پانچ، مسلم لیگ ق کے بھی پانچ اراکین، گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس (جی ڈی اے) کے تین اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہی رہیں گے۔لیکن اگر یہ ساتھ چھوٹ گیا یعنی اتحادیوں نے اعلان کیا کہ حکومت کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے تو ایسے میں ہو گا کیا؟ کیا پھر ایسے میں پہلے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا یا پھر عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری ہو گی؟اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی، پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے کہا کہ اس حوالے سے کچھ بھی مخصوص تو نہیں کیونکہ ایسی صورتحال کبھی تاریخ میں سامنے نہیں آئی۔وہ کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر یہ ہو گا کہ عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی جائے گی اور پھر اس صورتحال میں وزیراعظم کے لیے یہ ضروری ہو جائے گا کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔
احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ 23 مارچ سے پہلے پہلے پارلیمنٹ کا اجلاس بلوانا ہو گا کیونکہ اس کا نوٹس ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی تاریخ میں پہلے کبھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہو لیکن اگر اتحادیوں نے حکومت کا ساتھ چھوڑا تو یہ ملک کے لیے بڑا بحران ہو گا۔
’ان کے (اپوزیشن کے) اس اعلان کا مطلب تو یہ ہو گا کہ حکومت گِر گئی، پھر تو بس یہ وقت کی بات ہو گی کہ اسے اسمبلی میں ثابت بھی کر دیا جائے تو حکومت کے لیے یہ بہت بڑا بحران ہو گا۔‘
’وزیراعظم کے پاس اکثریت تو ہے نہیں 172 نمبر پورے کرنے کے لیے انھیں کم ازکم 2 اتحادی چاہیے۔‘
احمد بلال کہتے ہیں کہ جب تک عدم اعتماد کی تحریک موجود ہے جس کا نوٹس سیکریٹیریٹ میں فائل ہو چکا ہے اس کے بعد وزیراعظم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر وہ عدم اعتماد کی تحریک واپس لیں تو وزیراعظم سمبلیاں توڑ سکتے ہیں جس کے 90 دن کے اندر الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانا ہوں گے۔
وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لیے پارلیمنٹ کے اجلاس کی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی، تاہم وزیراعظم اور ان کے وزرا کے جلسوں سے خطاب ہوں یا پریس کانفرنسیں ان میں عدم اعتماد کی ناکامی کا دعویٰ اوّل روز سے کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں موجود سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار راؤ خالد کا خیال ہے کہ بظاہر اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں اور عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
وہ چوہدری پرویز الہیٰ کی گذشتہ شام کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔
راؤ خالد کہتے ہیں کہ اپوزیشن تو چاہتی ہے کہ فوری طور پر اسمبلیاں توڑ کر چار چھ ہفتوں میں انتخابات ہوں۔
’کل سے اتحادیوں کا موڈ تبدیل دکھائی دے رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آج شام یا کل تک کھل کر ہمیں کوئی بات سننے کو ملے۔‘
راؤ خالد نے کہا کہ وہ گو مگو کی کیفیت میں دکھائی دیتے ہیں۔ ’اگر انھوں نے جانا ہوتا تو کب کے جا چکے ہوتے، جن کے اشاروں کے وہ منتظر ہیں ابھی انھیں اشارہ نہیں ملا، وہ گومگو کی کیفیت میں ہیں‘
حکومتی وزرا نے پیر کو پریس کانفرنس میں کہا کہ دارالحکومت میں ایک بہت بڑا جلسہ ہو گا جس میں 10 لاکھ شرکت کریں گے۔ انھوں نے عدم اعتماد کا ووٹ ڈالنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس لاکھوں کے سمندر سے گزر کر جانا ہو گا۔
راؤ خالد کہتے ہیں کہ وزیراعظم جلسوں اور تقاریب سے خطاب میں دو پیغامات دے رہے ہیں ایک تو یہ کہ میں آج بھی پاپولر ہوں اور وہ اپنی پاور دکھا رہے ہیں، دوسرا یہ کہ اپنی جماعت کے لوگوں کو بھی دکھا رہے ہیں کہ اگر وہ پی ٹی آئی کو چھوڑیں گے تو ن لیگ میں جانے سے ان کو کیا فائدہ ہو گا۔
احمد بلال محبوب اسٹیبلشمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ صورتحال کا اس نہج پر پہنچ جانا ان لوگوں کی سپورٹ کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے۔ سگنل مل گئے ہیں کہ سیاسی طور پر وہ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ تاریخ کا تسلسل ہے۔
’صورتحال کا اس حد تک بڑھ جانا بغیر ان لوگوں کی سپورٹ کے ممکن نہیں ہوتا جن کی حمایت لازمی ہوتی ہے۔ اگر یہ کہتے ہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ادھر سے اشارے ملے ہیں کہ وہ سیاسی سطح ہر ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ اور یہ ماضی کا تسلسل ہے۔‘
خیال رہے کہ حکومتی جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں خود پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے سات، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے پانچ، مسلم لیگ ق کے بھی پانچ اراکین، گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس (جی ڈی اے) کے تین اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب حزب اختلاف کے کُل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے چار جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ دو آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔
اگر پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو حزب مخالف کو 10 مزید اراکین کی حمایت درکار ہے۔ جماعت اسلامی نے، جن کے پاس قومی اسمبلی کی ایک نشست ہے، فی الحال کسی کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کیا۔
حزب اختلاف کی جانب سے حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کے علاوہ جہانگیر ترین گروپ سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں