mazhar-barlas articles 42

اب وہاں کیا جانا. مظہربرلاس

مشاعروں میں جانے کی عادت تھی مگر پھر 1998ءمیں اسلم کھوکھر نے مری آرٹس کونسل میں ایک ایسا مشاعرہ کروایا کہ شعر سنتے سناتے سحری کا وقت ہوگیا، اسلام آباد پہنچتے پہنچتے صبح ہوگئی یہ مشاعرہ بڑا یاد گار تھا، اس میں شرکت کرنے والے تین شاعر احمد فراز، ثمینہ راجا اور منو بھائی اب اس دنیا میں نہیں ہیں جبکہ امجد اسلام امجد، انور مسعود اور ڈاکٹر انعام الحق جاویدسمیت باقی شعراء نہ صرف حیات ہیں بلکہ ادبی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہیں۔ یہ مشاعرہ تاخیر سے شروع ہوا تھا اس لئے پوری رات نہ سو سکا، اگلے دن اخبار کےصفحے کی تیاری میں مصروف رہا، اس دن سوچا کہ آج کے بعد مشاعروں میں نہیں جائوں گا کیونکہ ہمارے شعراء کرام وقت کی پابندی نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں وقت کا احساس ہے، اس دن کے بعد وقت کی قدر نہ کرنے والوں کی تقریبات میں جانا چھوڑ دیا، دوستیاں عجیب ہوتی ہیں، انسان دوستوں کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے، 2005ء میں منصور آفاق نے میانوالی میں ایک مشاعرہ کروایا، عطا الحق قاسمی کا درشن بھی مطلوب تھا، سو میانوالی چلا گیا مگر شعراء کا وہی پرانا چلن، وقت کی ناقدری یہاںبھی نظر آئی، منصور آفاق ویسے بھی شعراء کی بس بھر کر لے آتے ہیں پھر سوچا کہ اب بس، اب مشاعرے بند۔ 2018ء میں ادب بستی امریکہ کے منتظمین نے مدعو کیا، غزالہ حبیب نے دعوت دیتے وقت فرمایا کہ ’’ہم نے امریکہ کے باہر سے آپ کے علاوہ نوشی گیلانی اور وصی شاہ کو بلایا ہے ‘‘۔ میرے لئے دوہری دلکشی تھی، ایک تو نوشی گیلانی کے ساتھ کبھی کوئی مشاعرہ نہیں پڑھا تھا، دوسرا کئی دوستوں سے ملاقات ہوئے عرصہ بیت گیا تھا پھر وصی شاہ کا ساتھ بھی تھا۔ نئی نسل سےگزارش ہے کہ آپ کو کہیںسے سبق نہ ملے تو آپ وصی شاہ سے ضرور مل لیں، وصی شاہ آپ کو بزرگوں کا احترام سکھا دے گا، آپ کو اعلیٰ اخلاق سے آگاہ کر دے گا، بڑوں کاادب سکھا دے گا، ایسے مؤدب انسان ہمارے معاشرے میںبہت کم ہوگئے ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔

خیر امریکہ میں مشاعروں کی برسات اچھی رہی، یہاں سید یونس اعجازسے خوبصورت ملاقاتیں رہیں، مشاعروں اور شعری نشستوں کے اہتمام میں غزالہ حبیب، مبشر وڑائچ اور مبینہ جنجوعہ خاصے سرگرم نظر آئے۔ اسی دوران ڈیلس میں ایک کمیونٹی فنکشن بھی ہوا جس کے لئے میں برادرم ساجد تارڑ کے ساتھ میری لینڈ سے ڈیلس گیا۔

واشنگٹن میں پاکستانی صحافیوں سے بھی خوب گپ شپ رہی، جانی بشیر، سعادت رانا اور رضوان سیان سے تحریک انصاف سے متعلق گفتگو رہی۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے دو سابق اراکین عارفہ خالد پرویز اور سینیٹر اکبر خواجہ کے ساتھ سیاست زیر بحث رہی۔ 2019ء کے آخری ایام سے لوگوں کو عجیب وبائی مرض نے گھیرا ہوا ہے۔ دنیا تبدیل بھی ہوئی ہےاور تقسیم بھی۔ اس دوران کئی دوست ہم سے بچھڑ گئے، واشنگٹن سے بہت پیارے ندیم ہوتیانہ دنیا میں نہ رہے، ابھی چند دن پہلے پیپلز پارٹی کے میانوالی سے قومی اسمبلی کے امیدوار ملک خالد اعوان بھی کوچ کرگئے۔ ملک صاحب بڑے ہنس مکھ انسان تھے، سب نے چلے جانا ہے مگر دوستوں کو پیار سے یاد رکھنا چاہئے۔

ایساکورونائی دور شروع ہوا کہ بقول ایمان قیصرانی :

ہنسنے رونے سے گئے، ربط بڑھانے سے گئے

ایسی افتاد پڑی سارے زمانے سے گئے

اس آفت کے دوران حالات ایسے بدلے کہ مشاعرے بھی آن لائن ہونے لگے، کلاسیں آن لائن ہونے لگیں، ویب نار شروع ہوگئے، میٹنگیں بھی زوم پر شروع ہوگئیں، ایسے میں ایک دن کاروانِ قلم اسلام آباد کی چیئرپرسن راشدہ ماہین ملک کا فون آیا کہ ’’ ہم ایک شعری نشست کا اہتمام کر رہے ہیں، انجم سلیمی کی صدارت ہوگی اور مظہر نیازی مہمان خصوصی ہوںگے ‘‘ میں نے ہامی بھر لی مگر شاعروں کی وہی عادت، مشاعرہ وقت پر شروع نہ ہوا، چار بجے کاوقت تھا اور مشاعرہ ساڑھے سات بجے شروع ہوا، میری ساڑھے آٹھ بجے انتہائی اہم میٹنگ تھی، مجھے ہر حال میں مشاعرے کو آٹھ بج کر دس منٹ پر چھوڑ دینا تھا، سو ایسا ہی ہوا، میں وہاں کچھ بھی سنائے بغیر اٹھ کر چلاآیا۔ میری باری نہیں آرہی تھی، ادبی محافل کی بڑی مجبوریاں ہوتی ہیں، منتظمین جسے اہمیت دیتے ہیں اس کی باری بہت بعد میں آتی ہے۔ خیر اس مشاعرے میں صدر اور مہمان خصوصی کے علاوہ اقبال ساروبہ، رانا سعید دوشی، سلیم شہزاد، صغیر انور وٹو، رباب تبسم، راحت ڈار، عابد سیال، محمد سلیم اختر، انجمن بنجمن، شہاز چوہان، طاہر بلوچ اور میزبان راشدہ ماہین ملک سمیت چند اور شعرا شریک ہوئے۔ تمام شعراء کے اشعار تو کالم کی زینت نہیں بنائے جا سکتے، بس ذائقے کے طور پر چند اشعار شامل کر رہا ہوں۔

منظر نکال لائوں گی خواب و خیال سے

کاغذ پہ ایسے نقش نگاری کروں گی میں

(راشدہ ماہین ملک)

آئینہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے تُو

جسم کی دیوارسے کیسے گزر آتا ہے تُو

(سلیم شہزاد)

گھر کھلے ہونے کا مطلب دل کھلے ہونا نہیں

اپنے اندر سے بھی دیواریں گرانی چاہئیں

(صغیر انور وٹو)

تو نے مجھ کو ڈال دیا

شام سویرے چکر میں

(سلیم اختر)

ایک وعدہ ہے تیرا ملنے کا

تو نے قسمت پہ ٹال رکھا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں