ابتلا ء و آزمائش میں قیادت کا کردار 125

ابتلا ء و آزمائش میں قیادت کا کردار، تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

ابتلا ء و آزمائش میں قیادت کا کردار

سورۃ قریش میں اللہ تعالیٰ نے عربوں کی حالت زار کو بیان فرمایا۔ یہ لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترستے تھے ۔ پیٹ بھر کر کھانا انہیں نصیب نہیں ہوتا تھا۔ پھر ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے سفر اور تجارت کی محبت پیدا فرما دی۔ یہ لوگ گرمیوں اور سردیوں میں سفر تجارت جاری رکھتے تھے۔ جسے قرآن مجید نے فرمایا :اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْف(سورۃ قریش آیت نمبر 2)(انکی سردی اور گرمیوں میں سفر کے ساتھ محبت)اس تجارتی سفر کے بانی رسول اللہ ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم تھے۔انہیں عرب میں “صاحب ایلاف” کہا جاتا تھا۔ حافظ ابن کثیر نے البدایہ و النھایہ میں لکھا ہے کہ سردی اور گرمی کے یہ دو سفر حضرت ہاشم نے شروع کیے تھے ۔ سردیوں میں ان کے تجارتی قافلے حبشہ اور یمن کی طرف جاتے تھے اور گرمیوں میں اہل مکہ اپنے تجارتی قافلوں کو شام اور مصر کی طرف روانہ کرتے تھے۔ حبشہ اور یمن گرم جبکہ شام و مصر ٹھنڈے علاقے تھے ۔ اسی مناسبت سے سفر تجارت ترتیب دیا جاتا تھا۔
حضرت ہاشم نے ایک اور اہم کام کیا تھا انہو ں نے عربوں کے آس پاس کی ریاستوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ آپ ایک ماہر تاجر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سخی شخصیت کے حامل تھے۔ بطور خاص حجاج کرام کے لیے ہمیشہ خدمت گزاری کرتے تھے۔ انہیں گوشت کے شوربے میں روٹی بھگو کر ثرید بنا کر کھلاتے تھے۔ چاہ زم ز م جو صدیوں سے بند پڑا تھا اسے صاف کروا کر اسکا پانی جاری کروایا اور حاجیوں کے لیے منی، مزدلفہ اور عرفات میں چمڑے کے مشکیزے بھر کررکھتے تھے۔
ان کے دور میں جب مکہ میں قحط پڑا تو آپ شام کے سفر پر تجارتی قافلہ کے ساتھ تھے۔ واپس آ کر روزانہ ایک اونٹ ذبح کرتے تھے۔ گندم کی روٹیاں زیتون کا تیل اور شوربہ مکس کر کے لوگوں کو پیٹ بھر کے کھلاتے تھے۔ جب تک قحط جاری رہا اپنا لنگر بند نہیں کیا اور نہ ہی دستر خوان سمیٹا ۔ اس میں دیگر اہل خیر نے بھی حصہ ڈالا مگر حضرت ہاشم نے اپنا پورا تجارتی سامان غریبوں اور مساکین کے لیے وقف کر دیا ۔ یہاں تک کہ اہل مکہ کو اس آزمائش سے چھٹکارہ مل گیا۔
حضرت ہاشم کو اعلیٰ اور ارفع خوبیوں کی وجہ سے”العلا” کے لقب سے ملقب کرتے تھے ۔ صاحب سبل الھدی و الرشاد لکھتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ جب کسی آفت یا کسی اور وجہ سے کسی شخص کے معاشی حالات دگر گوں ہو جاتے تو وہ صحرا میں جا کر خیمہ زن ہو جاتا تھا کہ مجھے کسی سے مانگنا نہ پڑے اور لوگ بھی اسکی معاشی حالت سے واقف نہ ہوں اور کمزور سمجھ کر اسکی مدد نہ کرنے لگ جائیں حضرت ہاشم نے سرداران قریش کی میٹینگ بلائی اور ایسے لوگوں کے حالات کو ان کے سامنے رکھا۔ سرداروں نے کہا کہ جو آپ حکم دیں گے ہم لبیک کہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں ایسے لوگوں کو اپنے مالوں اور تجارت میں شریک کرنا چاہیے تا کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں۔ یقیناً یہ وہ تجارت ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین ہےاور یہ وہ تاجر ہیں جو اللہ کے محبوب بندوں میں شمار ہوتے ہیں ۔یہ وہ صاحب ایلاف تھے جنہوں نے نہ صرف اپنوں میں بلکہ غیروں کے دلوں میں بھی ایسی لافانی محبت پیدا کی کہ ہر شخص حضرت ہاشم سے محبت کرتا تھا۔ اس الفت و محبت کے ماحول کی وجہ سے اہل عرب کو اللہ تعالیٰ نے بہت معاشی ترقی دی۔
ابتلاء و آزمائش کا دور ہو یا عمومی حالات ایک قائد کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ محبت والفت کے جذبات پیدا کرے۔طبقات ابن سعد میں ہے کہ حضرت ہاشم کو قیصر کے دربار میں خصوصی عزت کا مقام حاصل تھا ۔ قیصر انکی خدمت میں تحائف بھیجتا تھا۔ ایک لیڈر کو ایسا ہی ہونا چاہیے وہ سپر پاور کی غلامی نہ کرے بلکہ برابری کی سطح پر تعلقات رکھے اور عزت و تکریم کو دائو پر نہ لگائے ۔ اس سے بڑھ کر اور ذلت کیا ہو سکتی ہےکہ ایک عظیم اسلامی ریاست پاکستان کا قائد کہے کہ ہمیں چھینک مارنے کے لیے بھی آئی ایم ایف سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ اس سے بڑھ کر قائدین اور قوم کی رسوائی کوئی نہیں ہو سکتی ۔
آج پاکستان کا 1/3حصہ سیلاب کی آفت کا شکار ہے ۔سیلاب زدہ علاقوں میں زندگی مفقود ہے ۔ انسان ، جانور اور فصلیں تباہ و برباد ہو چکی ہیں ۔ درختوں سے پرندوں کے آشیانے ختم ہونے کے بعد وہ بھی ان علاقوں سے کوچ کر چکے ہیں ، موت ہے کہ وہ ہر طرف رقصاں ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد اس سیلاب میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں جانور بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں ۔ لاکھوں ایکٹر زمین اور بے شمار مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
ہر سال سیلاب آتا ہے اور ہولناک تباہی اپنے ساتھ لاتا ہے۔مگر اس دفعہ تباہی کچھ زیادہ ہی ہے ۔ صرف سندھ کے پانچ سو سے زیادہ دیہات میں تباہی دیکھنے کو ملی ہے۔ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کئی اہم دیہات اور شہر اس سیلاب سے بہت شدید متاثر ہوئے ہیں ۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں حکومت متاثرین کی مدد کرنے میں قطعی طور پر ناکا م رہی ہے ۔ کوئی قابل ستائش پروگرام حکومت کی طرف سے ابھی تک سامنے نہیں آیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے اور یہ سامنے کی حقیقت ہے کہ اہل مذہب نے اپنی استعداد سے بڑھ کر سیلاب متاثرین کی مدد کی ہے۔ میں نے علماء کو دیکھا کہ وہ سامان اٹھائے متاثرین تک پہنچا رہے ہیں۔ ایک بڑی خانقاہ کے سجادہ نشین کو اپنے کندھوں پہ آٹے کا تھیلا اٹھائے دیکھا۔ اہل مسجد، اہل مدرسہ اور اہل امام بارگاہ نے متاثرین کی بہت مدد کی اور کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس میں نے سندھ کے ایک زمین دار کا ویڈیو کلپ دیکھا جو کشتی پر سوار تھااور غریب متاثرین سیلاب اسکی کشتی کے پاس پہنچے تو اس نے ان بے چاروں سے ہاتھ ملانا بھی گوارہ نہ کیا ۔ پتہ چلا کہ وہ کشتی پر اپنی زمینوں کو دیکھنے آیا تھا۔
ہمارے علماء اور دیگر ساتھیوں کا کام بہت قابل ستائش ہے۔ اس ملک میں ان کی جتنی کردار کشی کی گئی اس کو اگر دیکھا جائے تو ان کے حوصلے پست ہو جانے چاہیے تھے مگر وہ اپنی غیرت ایمانی کے ساتھ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مذہبی جماعتوں میں لبیک پاکستان، جماعت اسلامی، پاکستان عوامی تحریک اور مجلس وحدت مسلمین کے قائدین اور اراکین نے بہت محنت اور لگن کے ساتھ اپنے بھائیوں کے پاس ضروریات زندگی کا سامان پہنچایا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔
ابتلاء و آزمائش کے اس دور میں پاکستا ن تحریک انصاف کے لوگوں نے بھی بہت کام کیا ہے، پی ٹی آئی کے قائد جناب عمران خان ٹیلی تھون پر چندہ اکھٹا کر رہے ہیں اور امدادی کیمپس میں خود جا کر انکی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔ وہ سیلاب متاثری کی بھی مدد کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی حریفوں کا مقابلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جب کسی قو م پر کبھی کٹھن مرحلہ آتا ہےتو اس کے قائدین ہی اسے آزمائش کے منجدھار سے نکالتے ہیں خصوصا وہ لوگ جو مذہب کی طاقت کو بروئے کار لا کر قوم کو متحد رکھنے کا فن جانتے ہیں۔ اگر قیادت صاحب ایمان اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے والی ہو تو وہ کسی کے سامنے اپنا دامن نہیں پھیلاتی بلکہ وہ اس رب کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے جو ابتلاء و آزمائش سے دوچار کرتا ہے۔ اور اس سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ اور صاحبان ایمان کو اس سے آبرو مندانہ نجات بھی عطا کرتا ہے۔
سیلاب زدگان کے حوالہ سے بہت سی قابل افسوس کہانیاں بھی سننے کو مل رہی ہیں، مثلا جن علاقوں میں سیلاب کی تباہی آئی ہے وہاں کے وڈیرے اور سیاست دان اپنے غنڈوں کے ذریعے اپنے مجبور بھائیوں کی مدد کے لیے سامان لانے والے لوگوں سے سامان چھین لیتے ہیں جو بہت ہی قابل مذمت ہے۔ ہمارے کچھ جوان اسلام آباد سے سامان لیکر کر گئے ان سے علاقے کے ایک سیاست دان نےسارا سامان چھین لیا۔اس سامان میں اشیاء خوردونوش کے علاوہ 200 سلینڈر بھی تھے جو یہ لوگ اپنے بھائیوں کا چولھا جلانے کے لیے لے کر گئے تھے۔ اس کے علاوہ بہت سی اور بھی دل کو دکھی کرنے والی باتیں ہیں جو لکھنا مناسب نہیں سمجھتا۔
ایک اور بات جو بہت قابل افسوس ہے وہ یہ کہ کچھ افراد آٹے کی گھتیاں اور دیگر سامان تقسیم کرتے ہوئے ان بے گھر و بے آسرا لوگوں کی تصاویر بنا کر اپنی وال پر لگاتے ہیں اور وہ یوں ان مجبوروں کی بے بسی کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ہم نے بھی الحمدللہ ان علاقوں کا وزٹ کیا ہے اور اپنی بساط کے مطابق معاونت بھی کی ہے مگر اس حوالہ ایک تصویر بھی نہیں بنائی ۔ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہوتا ہے ۔ اسکو سوشل میڈیا کی نظر نہیں کرنا چاہیے ۔
بہر حال جو لوگ ، افراد اور تنظیمات اپنے بھائیوں کا مشکل گھڑی میں حقیقی طور پر ساتھ دے رہے ہیں اللہ انکے خلوص کو دیکھ رہا ہے اور جو اس سیلاب کے نام پر چندہ اکھٹا کر کے اپنی تجوریا ں بھر رہے ہیں اللہ ان کے عمل سے بھی بالکل غافل نہیں ہے۔
ابتلاء و آزمائش کی اس گھڑی میں ان لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں جو اس آفت سے محفوظ ہیں ۔ سندھ بلوچستان ، خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے ان اضلاع اور انتظامیہ پر فرض ہے جو محفوظ ہیں کہ وہ اپنے بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں تا کہ وہ اس مصیبت سے نجات پا سکیں ۔ خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اہل مدینہ پر قحط کا شدید ترین قہر ٹوٹا ، لوگوں کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ پرندے اس علاقہ سے چلے گئے ، درندوں نے مدینہ کا رخ کر لیا کہ انسانوں کو اپنی خوارک بنائیں ۔ خلیفہ نے اپنے تمام عاملوں کو خطوط لکھے کہ مدینہ کے لوگ قحط سے مر رہے ہیں اور تم ان کی مدد کو ابھی تک نہیں پہنچے۔ اس پر تمام گورنروں نے اہل مدینہ کی طرف اشیاء خوردونوش اونٹوں پر لاد کر بھیجیں ۔ لیکن گورنر مصر حضرت عمر و بن العاص نے کمال سخاوت کا مظاہرہ کیا ۔ جب انہیں امیر المومنین کا خط موصول ہوا تو انہوں نے خلیہ کو جوابی خط لکھا اور عرض کی خلیفہ میں اہل مدینہ کے لیے اتنی کمک بھیجوں گا کہ لوگ حیران رہ جائیں گے۔ مئو رخین لکھتے ہیں حضرت عمرو بن العاص نے اونٹوں پر سامان لدوانا شروع کیا۔ آپ نے اونٹوں کی اتنی بری تعداد پر سامان بھیجا کہ مدینہ میں جب پہلا اونٹ پہنچا اس سے سامان اتارا جا رہا تھا اور مصر میں ابھی تک اونٹوں پر سامان لادا جا رہا تھا۔
آج بھی حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ مختلف اضلاع کے عمال اخلاص کے ساتھ ان متاثرین کو دل کھول کر ساما ن بھیجیں ، انکی معاونت کریں اور مشکل کی اس گھڑی میں مخیر حضرات کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں۔ بلکہ رکاوٹیں دور کر کے اپنی ایمانی اور ملی غیرت کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی خیر فرماتے۔ (آمین )

اپنا تبصرہ بھیجیں