172

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ -آپﷺ کے آخری ایام

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ -آپﷺ کے آخری ایام

آنحضرت ﷺ پر ان سات مشکوں کا پانی ڈالنا شروع کیا گیا۔یہاں تک کہ آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا:
“بس کافی ہے۔”
زندگی کے ان آخری ایام میں آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے:
“اے عائشہ!مجھے خیبر میں جو زہر دیا گیا تھا،اس کی تکلیف میں اب محسوس کرتا ہوں ۔”
اس کا مطلب ہے کہ آخری دنوں میں اس زہر کا اثر دوبار ظاہر ہوگیا تھا اور اس طرح حضور ﷺ کی رحلت درجہ شہادت کو پہنچتی ہے۔
پانی اپنے اوپر ڈلوانے کے بعد آپ ﷺ حجرہ مبارک سے باہر نکلے۔اس وقت بھی آپ ﷺ کے سر مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔سب سے پہلے آپ ﷺ نے شہداء احد کے لیے دعا مانگی۔بہت دیر تک ان کے لیے دعا فرماتے رہے،پھر ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے سامنے ایک طرف دنیا رکھی اور دوسری طرف وہ سب کچھ رکھا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔پھر اس بندے کو اختیار دیا کہ وہ ان دونوں چیزوں میں سے کوئی ایک چن لے۔اس بندے نے اپنے لیے وہ پسند کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔”
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان باتوں کا مطلب فوراً سمجھ گئے آنحضرت ﷺ کی ان سے مراد اپنی ذات ہے،چنانچہ رونے لگے اور عرض کیا
” اے اللہ کے رسول ہم اپنی جانیں اور اپنی اولادیں آپ پر قربان کر دیں گے۔”
آنحضرت ﷺ نے انہیں روتے ہوئے دیکھ کر فرمایا :
” ابوبکر خود کو سنبھالو”
پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:
” لوگو!ساتھ دینے کے اعتبار سے اور اپنی دولت خرچ کرنے کے اعتبار سے جس شخص کا مجھ پر سب سے زیادہ احسان ہے وہ ابوبکر ہیں ۔ ”
یہ حدیث صحیح ہے اس کو دس سے زیادہ صحابہ نے نقل کیا ہے۔
پھر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
” مسجد سے ملے ہوئے تمام دروازے بند کر دیے جاییں ٬ بس ابوبکر کا دروازہ رہنے دیا جائے،کیونکہ میں اس دروازہ میں نور دیکھتا ہوں ،
صحبت اور رفاقت کے اعتبار سے میں کسی کو ابوبکر سے افضل نہیں سمجھتا،”
ایک روایت میں ہے۔
“ابوبکر میرے ساتھی ہیں اور میرے غمگسار ہیں ،اس لئے مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی بند کر دو،سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے۔”
آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بھی ارشاد فرمایا:
“میرے ساتھی ابوبکر کے بارے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ۔”
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا یہ بھی ارشاد مبارک ہے۔
“جب لوگوں نے مجھے جھوٹا کہا تھا تو ابوبکر نے مجھے سچا کہا تھا،جب لوگوں نے اپنا مال روک لیا تھا تو ابوبکر نے میرے لئے اپنے مال کو فیاضی سے خرچ کیا۔
جب لوگوں نے مجھے بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا تو ابوبکر نے میری غم خواری کی تھی۔”
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا :
“اے اللہ کے رسول! یہ کیا بات ہے کہ آپ نے ابوبکر کا دروازہ تو کھلا رہنے دیا اور باقی لوگوں کے دروازے بند کروادیے”
ان کی بات کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اے عباس نہ میں نے اپنے حکم سے کھلوایے اور نہ بند کروا ۓ”
مطلب یہ تھا کہ ایسا کرنے ک حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
اپنے اوپر سات مشکوں کا پانی ڈلوانے کے بعد آنحضرت ﷺ نے افاقہ محسوس فرمایا تو مہاجرین سے ارشاد فرمایا :
” اے مہاجرین انصار کے ساتھ نیک سلوک کرنا،خیر کا سلوک کرنا،کیونکہ یہ لوگ میری پناہ گاہ تھے،ان کے پاس مجھے ٹھکانہ ملا،اس لئے ان کی بھلائیوں کے بدلے میں ان کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کی برایٔوں سے درگزر کرنا ”
اتنا فرمانے کے بعد آنحضرت ﷺ منبر سے اتر آئے۔
اپنے مرض وفات میں آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں ۔وہ نماز عشاء کی تھی…جب حضرت بلال نے اذان دی تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا :”میرے لئے برتن میں پانی لاؤ” آپ ﷺ نے وضو کیا،پھر مسجد میں جانے کا ارادہ فرمایا مگر غشی طاری ہوگئ۔
کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو دریافت فرمایا :
“کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟”
صحابہ کرام نے عرض کیا:”لوگ آپکا انتظار کر رہے ہیں ” اس وقت آپ ﷺ نے پھر پانی لانے کا حکم دیا،وضو کیا،پھر مسجد میں جانے کا ارادہ فرمایا،لیکن پھر غشی طاری ہوگئ۔اس کے بعد پھر افاقہ ہوا تو پوچھا :
“کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟”
صحابہ کرام نے پھر عرض کیا:” نہیں ،لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ”
اب پھر آپ ﷺ نے وضو کیا،نماز کا ارادہ فرمایا ،لیکن غشی طاری ہوگئ۔
افاقہ ہونے پر آپ ﷺ نے پھر یہی پوچھا اور آپ ﷺ کو یہی بتایا گیا، تب آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم بھیجا کہ وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یہ حکم ملا توانھوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا :
“اے عمر تم نماز پڑھا دو”
اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:
“آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں ”
آخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھائی…اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی وفات تک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نمازیں پڑھاتے رہے۔
آنحضرت ﷺ کی زندگی مبارک میں اس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سترہ نمازیں پڑھائیں ۔
اس دوران صبح کی ایک نماز میں آنحضرت ﷺ ان کی امامت میں دوسری رکعت میں شریک ہوئے اور اپنی پہلی رکعت بعد میں ادا فرمائی۔
اس نماز کے لیئے آپ ﷺ دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد تک آۓ تھے۔ان دو میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت نماز پڑھا رہے تھے …انہوں نے آنحضرت ﷺ کو تشریف لاتے دیکھا تو فوراً پیچھے ہٹنے لگے تاکہ آنحضرت ﷺ امامت فرمایٔں مگر آپ ﷺ نے انہیں اشارہ سے فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں ۔پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ساتھیوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے بائیں جانب بٹھادیا۔
اس طرح حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کھڑے ہوکر نماز ادا کی،ان کے پیچھے باقی تمام صحابہ نے بھی کھڑے رہ کر نماز ادا کی اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پوری فرمائی۔
امام ترمذیؒ نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ کے پیچھے تین مرتبہ نماز پڑھی۔
اس بارے میں یہ روایت بھی ہے کہ پہلی مرتبہ حضرت عمر رضی الله عنہ امامت کرنے لگے تھے۔آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو ارشاد فرمایا:
“نہیں …نہیں …نہیں …ابوبکر ہی نماز پڑھائیں ۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر حضرت عمر رضی الله عنہ پیچھے ہٹ آئے تھے اور حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی تھی۔
پھر آخری روز آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے سر مبارک پردے کے باہر سے نکال کر مسجد میں دیکھا۔لوگ حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہہ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے…یہ دیکھ کر آپ صلی الله علیہ وسلم مسکرا دیے…یہ دن پیر کا دن تھا…وہی دن جس میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی۔مسکرا کر صحابہ کرام کو دیکھنے کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے پردہ گرادیا۔
اس وقت لوگوں نے محسوس کیا کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی طبیعت اب پہلے سے بہت بہتر ہے اور یہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی تکلیف میں کمی ہوگئی ہے…سو آپ کے آس پاس موجود صحابہ اپنے گھروں کو چلے گئے۔حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ بھی مدینہ منوره کے قریب”مسخ”نامی دیہات چلے گئے جہاں ان کی دوسری زوجہ محترمہ کا گھر تھا۔یہ جگہ مدینہ منوره سے ایک یا ڈیڑھ میل کے فاصلے پر تھی۔جانے سے پہلے حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے اجازت لی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس روز صبح آپ صلی الله علیہ وسلم کے رُخ انور پر بہت بشاشت تھی۔چہرہ انور چمک رہا تھا،لہذا لوگوں نے خیال کیا تھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی حالت سنبھل گئی ہے۔لیکن دوپہر کے قریب آپ صلی الله علیہ وسلم کا بخار تیز ہوگیا۔یہ خبر سنتے ہی تمام ازواج مطہرات پھر آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آگئیں ۔آپ صلی الله علیہ وسلم پر اس وقت بار بار غشی طاری ہو رہی تھی،ہوش میں آتے تو فرماتے:
“میں اپنے رفیق اعلیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں ۔”Top

اپنا تبصرہ بھیجیں