Mufti gulzar Ahmed Naeemi with Zulfi Bukhari 127

آصف غلوی کی خباثت(2) مفتی گلزاراحمدنعیمی

(2 ) آصف غلوی کی خباثت 

مفتی گلزاراحمد نعیمی

کل میری ملاقات وزیر اعظم کے معاون خصوصی جناب زلفی بخاری سے ہوئی۔میں انکا شکرگزار ہوں کہ وہ ہمیشہ بہت پرتباک طریقہ سے ملتے ہیں اور بہت احترام دیتے ہیں۔بیٹھتے ہی انہوں نے کہا کہ باقی باتیں بعد میں سب سے پہلے میں اس شخص کےبارے میں بات کرتا ہوں جس نے آگ لگانے کی کوشش کی اور ہمیں بھی بدنام کیا۔بخاری صاحب نے کہا کہ یہ چند ذاکرین میرے پاس ملنے آئے اور کہا کہ حکومت ہمیں کوئی اہمیت نہیں دیتی تمام میٹنگز میں صرف علماء کو ہی بلاتی ہے جبکہ 70 فیصد شیعہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ ہم علماء کو اس لیے بلاتے ہیں کہ علماء ذمہ دار لوگ ہیں اور وہ قیام امن وامان میں ہماری معاونت کرتے ہیں جبکہ آپ کی وجہ سے بہت زیادہ فرقہ واریت پھیلتی ہے اور پھیل رہی ہے۔اس لیے ہم آپکو نہیں بلاتے۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو حلف دیتے ہیں کہ ہم اپنی مجلسوں میں کوئی فرقہ وارانہ بات نہیں کریں گے۔اس پر میں نے قادری صاحب سے بات کی اور کچھ دیگر اداروں کے لوگ بھی تھے۔ہم نے انہیں کہا کہ اس محرم میں آپ حکومت کے طے کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل کرکے دکھائیں گے تو اگلے سال پھر علماء کرام کو بلا کر آپ سے گارنٹیز لیں گے۔(وہ تفصیل انہوں نے بھی بیان کی جو میں صاحبزادہ صاحب کے حوالہ سے بیان کر چکا ہوں اپنےپچھلے کالم میں)

میں نے بخاری صاحب سے گزارش کی کہ جب آپکا علمائے اہل تشیع سے رابطہ ہے اور آپ انکو میٹنگز میں بھی بلاتے ہیں توایسے بدبختوں کے ساتھ ملاقات کی کیا ضرورت تھی؟ اس پر بخاری صاحب نے جواب دیا “کہ ہمیں علماء کی طرف سے امن وامان کے حوالہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔مسائل ہمیشہ ان ذاکروں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، جب ہم علماء سے انہیں کنٹرول کرنے کا کہتے ہیں تو وہ ان ذاکروں اور امام بارگاہوں کی کمیٹیوں کے حوالہ سےاپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔اس لیے مجبورا ان کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر کے ان کو مین سٹریم میں لایا جاسکے۔ہم اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں تاکہ امن وامان کی صورت حال مذہبی لوگوں کی وجہ سے خراب نہ ہواور مذہب بدنام نہ ہو۔آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس علوی کے ساتھ جوذاکرین آئے تھے وہ ایس او پیز پر عمل کرریے ہیں، انکی ابھی تک کوئی شکایت نہیں آئی۔صرف اس نے وعدہ خلافی کی ہے۔اس کی اس وعدہ خلافی کی وجہ سے میں نے خود ڈی سی اسلام آباد کو اس کے خلاف ایف آئی آر لانچ کرنے اور اسکو گرفتار کرنے کا کہا۔”میں نے بخاری صاحب سے گزارش کی کہ شنید ہے کہ وہ انگلینڈ بھاگ گیا ہے اور اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے بھاگنے میں اسکی معاونت کی ہے۔اس پر بخاری صاحب نے کہا” میں حلفا کہتا ہوں کہ میرا اس سے اس میٹنگ سے پہلے یا بعد میں یا اس کے یہ آگ لگانے کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا مجھے بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ پتہ چلا ہے کہ وہ بھاگ گیا ہے۔میں اگر اسے تحفظ دیتا تو اس کو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی؟۔آپ دیکھیں گے کہ جب بھی پاکستان میں اسکی موجودگی کا پتہ چلا تو میں خود اسے گرفتار کرواؤں گا اور اسے اسکے جرم کے مطابق سزا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم مسالک کے درمیان ہم آہنگی چاہتے پاکستان فرقہ وارانہ تشدد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔جلالی کے معاملے میں مجھ پر پریشر ڈالا گیا کہ آپ اس پر 295 c لگانے میں آپ اپنا کردار ادا کریں تو میں نے انکار کردیا اور کہا کہ کل آپکی طرف سے ایسی غلطی ہوگی تو وہ پریشر ڈالیں گے کہ 295c لگنی چاہیے اس طرح بہت خطرناک صورت حال پیدا ہوجائے گی اور ہم یہ نہیں چاہتے۔مفتی صاحب آپ جانتے ہیں کہ ہم محبتیں پھیلانے والے لوگ ہیں”۔
میں نے بخاری صاحب سے کہا کہ میری شیعہ علماء سےاکٹر اس موضوع کے حوالہ سے بات چیت رہتی ہے وہ اس تمام تر فساد کا موجب امام بارگاہوں ک

کمیٹیوں اور بانیان مجالس کو قرار دیتے اور میری بھی یہی رائے ہے تو آپ ذاکرین کے ساتھ مذاکرات کے بجائے بانیان مجالس کے ساتھ بات کیوں نہیں کرتے؟؟
اس پر بخاری صاحب نے کہا کہ ہم علماء کے ساتھ ملکر بانیان مجالس کے ساتھ بھی بات کریں گے اور انہیں ضابطہ اخلاق کا پابند کریں گے تاکہ یہ فساد پھیلانے والے اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔۔۔

ہمارے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ شاید بخاری صاحب نے عمدا ایسا کیا ہے۔میں نہ بخاری صاحب کا ترجمان ہوں اور نہ خلیفہ اول سیدناابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی معمولی سی بھی توہین برداشت کر سکتا ہوں۔ہم اہل بیت رسول اور اصحاب ہیغمبر کی ناموس کے لیے ایک نہیں ہزاروں ایسے تعلقات قربان کرنے کو تیار ہیں۔مگر خدا لگتی بات یہ ہے کہ میں نے پوری نشست میں بخاری صاحب کو اس واقعہ کے حوالہ سے بہت پریشان پایا۔بہت سخت الفاظ میں اس لعین کی مذمت بھی کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس نے میری شہرت کو خراب کیا ہے اور میرے بہت سے دوست میرے ساتھ اسکی وجہ سے ناراض بھی ہوئے ہیں مگر میری نیت بالکل صاف تھی میرا مقصد انکو مین سٹریم میں لانا تھا تاکہ یہ مسائل حل ہوں مگر اس نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
باقی دلوں کے حال اللہ تعالی سب سے بہتر جانتا ہے۔میرا خیال ہے کہ ہمیں حسن ظن رکھنا چاہیے۔اتنے بڑے منصب پر بیٹھ کر کوئی شخص ایسی حماقت کبھی بھی نہیں کرتا جس سے اسکی شہرت داغدار ہو، اس کے دوست اس سے ناراض ہوں اور اسکی کارکردگی متاثر ہو۔لیکن میں نے بخاری صاحب کو ان کمینوں سے دور رہنے اور اپنے علماء اور اہل فکرو دانش سے مربوط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔مجھے امیدواثق ہے کہ اب وہ اس سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسے جائیں گے۔ایک دفعہ پھر ہم بخاری صاحب کی خدمت میں عرض کریں گے کہ آپکی معمولی سی بھول یا پھسلن آپ کو کم اور پاکستان کو زیادہ متاثر کرے گی۔
اللہ میرے وطن عزیز کی خیر فرمائے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں