Mufti Gulzar Ahmed naeemi articles 291

آصف رضا علوی کی خباثت. مفتی گلزار احمدنعیمی

آصف رضا علوی کی خباثت.

مفتی گلزار احمدنعیمی

تین دن قبل امام بارگاہ قصرخدیجۃ الکبری ترلائی کلاں اسلام آباد میں ایک ملعون نےخلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں نہ صرف گستاخی کی بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کی تکفیر کی بھی جسارت کر ڈالی۔اس پر اسلام آباد اور پورے ملک میں اہل سنت شدید غم و غصہ میں ہیں۔میری رائے اس ملعون کے بارے میں بالکل واضح ہے کہ وہ جہنمی کتا ہےجس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وقتا فوقتا ایسے بدبخت نمودار ہوتے رہتے ہیں جنکا مقصد شر اور فساد پھیلانا ہوتاہے۔ہمارے اہل تشیع مسلک کے احباب ایسے لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ انکا اہل تشیع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں جسے یہ کہہ کر ختم کردیا جائے۔دیکھیں ان بدبختوں کوایک امام بارگاہ میں بلایا جاتا ہے، وہاں ایک انتظامیہ ہوتی ہے اور وہاں ان کے لیے پرجوش سامعین منتظر ہوتےہیں۔امام بارگاہ بھی شیعہ کی، انتظامیہ کمیٹی بھی شیعہ کی اور سامعین بھی شیعہ ہی ہوتے ہیں۔اس لیے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انکا اہل تشیع سے کوئی تعلق نہیں۔اگر واقعا انکا اہل تشیع سے کوئی تعلق نہیں ہےتو اہل تشیع انہیں پھر کیوں بلاتے ہیں۔کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انکو بلانے والے اور سننے والوں کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں؟؟۔کیا اگر انتظامیہ کسی ایسی امام بارگاہ جس میں انکو بلایا جاتا ہے ا سے ان ہرزہ سرائیوں کی وجہ سے سیل کردے تو لوگ خاموش رہیں گے؟؟؟
اہل تشیع کے کچھ علماء ان کے خلاف بہت جدوجہد کررہے ہیں۔انہوں نے ان ملعونوں کے خلاف تھانوں میں باقاعدہ ایف آئی آرز درج کرائی ہوئی ہیں۔اور وہ انکو مسلمان بھی نہیں سمجھتے۔میری تمام صالح فکر رکھنے والے اہل تشیع سے گزارش ہے کہ وہ ان علماء کی تقویت کریں جو ان ملعونوں کے خلاف روبعمل ہیں۔
سوشل میڈیا پر صاحبزادہ نورالحق قادری وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور زلفی بخاری صاحب ایڈوائزر ٹو وزیراعظم برائے اوورسیزپاکستانی پر بہت تنقید ہورہی ہے کہ ان دوشخصیات نے اس ملعون آصف رضا علوی کے اسلام آباد داخلے پر پابندی اٹھوائی اور یوں اس شخص نے فساد پھیلایا۔جناب زلفی بخاری صاحب سے تو میری بات نہیں ہوئی اور وہ اگر مناسب سمجھیں گے تو وضاحت فرمادیں گے لیکن صاحبزادہ صاحب کے ساتھ آج میں نے اسی حوالہ سے ملاقات کی۔یہ انکی محبت ہے کہ جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے وہ وقت عنایت فرمادیتے ہیں۔اللہ تعالی انکی عزتوں میں اور اضافہ فرمائے۔آمین۔
میں نے صاحبزادہ صاحب سے ان غالیوں کے ساتھ ملاقات کے بارے میں عرض کیا تو انہوں نے فرمایا” میں ایک پبلک فگر ہوں ایک حکومت کا وزیر ہوں اس لیے میں نے ہر کسی سے ملنا ہے۔اچھے برے شریف غیر شریف امیر غریب مسلم غیر مسلم شیعہ سنی سب پاکستانی ہیں اورہمارے پاس وہ آتے ہیں اور ہم ان سے ملتے ہیں” میرا خیال ہے آپ کی یہ بات بالکل درست ہےاور انہیں واقعی ایسا ہی کرنا چاہیے۔اپنے جاب اور وزارت کی نیچر کے مطابق انہیں تعامل رکھنا ہے نہ کہ کسی کی خواہش کے مطابق۔دوسری اہم بات جو ان پر پابندی کے حوالہ سے تھی اور انکے فورتھ شیڈول کی بات تھی۔اس پر صاحبزادہ صاحب نے فرمایا” میں نے ان سے کہا کہ اس سال تو یہ ممکن نہیں ہے ۔اگلے سال اگر میں زندہ رہا،پی ٹی آئی کی حکومت رہی اورمیں وزارت مذہبی امور کا وزیر رہا تو آپکو بلاؤں گا آپکے علماء علامہ راجہ ناصرعباس، علامہ نیاز نقوی، علامہ عارف حسین واحدی، شہنشاہ نقوی اور علامہ امین شھیدی کے علاوہ کچھ علمائے اہل سنت کو بھی بلاؤں گا۔اگر ان مذکورہ علمائے اہل تشیع نے آپکی ذمہ داری اٹھائی کہ یہ لوگ پاکستان میں فساد بپا نہیں کریں گے تو پھر آپکے علماء کی گارنٹی پر وزارت لکھ کردے گی کہ انہیں فورتھ شیڈول سے خارج کیا جائے۔”
صاحبزادہ صاحب کی گفتگو سننے کے بعد میں بالکل مطمئن ہوگیا ہوں کہ آپ کا ان غالیوں کے ساتھ نہ کوئی تعلق تھا اور نہ ہے، نہ آپ نے انکی کسی سطح پر حمایت کی۔اس لیے ترلائی امام بارگاہ کی گستاخی کو کسی طور پر بھی صاحبزادہ صاحب کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔تصویر پر بھی صاحبزادہ صاحب کو بڑے تحفظات تھے مگر ظاہر ہے کہ کولیگز کی کچھ باتیں ماننا پڑتی ہیں۔ہمارے اہل سنت بھائی جو آپ پر تنقید کررہے ہیں انہین سوچنا ہوگا کہ اگر صاحبزادہ صاحب کا ان غالیوں کے لیے کوئی نرم گوشہ ہوتا تو وہ انہیں اپنے آفس میں بلاتے۔
اب جب میں یہ سطور لکھ رہا تھا تو محترم زلفی بخاری صاحب کا فون آگیا۔انہوں نے کچھ اہم باتیں بتائیں۔انکا موقف بھی میں اپنے دوستوں کی خدمت میں عرض کرونگا مگر ان سے ملاقات کے بعد۔ایک بات جو صاحبزادہ صاحب اور بخاری صاحب کی ٹیلیفونک گفتگو میں مشترک ہے وہ یہ ان دونوں وزراء نے ان غالیوں سے بڑے دوٹوک انداز مین کہا تھا کہ ہم حکومتی طے کردہ ایس او پیز پر عمل کے بغیر کسی کوئی مجلس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔بخاری صاحب نے یقین دلایا کہ وہ اب پاکستان میں کہیں بھی مجلس نہیں کر سکے گا۔
میں تمام دوستوں سے گزارش کرونگا کہ یہ لعین کوئی ایک نہیں اس جیسے کئی بدبخت ہیں جن سے خود اچھی سوچ رکھنے والے اہل تشیع بھی بہت تنگ ہیں۔ان کے اندر بہت خوفناک طریقہ سے یہ لوگ نصیریت پھلا رہے ہیں۔ہمیں مل ان فتنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اس ملک میں مرزائیت کا فتنہ، الحاد کا فتنہ اور یہ نصیریت کا فتنہ بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ہم بہت بکھرے ہوئے ہیں۔اگر ہم متحد نہ ہوئے تو ہم ان فتنوں کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں