126

بھارتی ریاست آسام میں ایک اور اسلامی مدرسہ بلڈوز کر دیا گیا

بھارتی ریاست آسام میں ایک اور اسلامی مدرسہ بلڈوز کر دیا گیا
بھارتی ریاست آسام میں بی جے پی کی حکومت شدت پسند تنظیموں سے روابط کے الزام میں اب تک تین اسلامی مدرسوں کو بلڈوز کر چکی ہے۔ اپنی نوعیت کے تازہ ترین واقعے میں مرکز المعارف قرآنیہ نامی مدرسے کی عمارت منہدم کر دی گئی۔
بھارتی ریاست آسام میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی انتظامیہ نے اس الزام کے تحت ایک اور مدرسے کو بلڈوزر سے ڈھا دیا کہ اس اسلامی تعلیمی ادارے کے دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ سے مبینہ روابط تھے۔ یہ تازہ واقعہ ضلع بوگائیں گاؤں کا ہے، جس کے ایک دیہی علاقے میں واقع مرکز المعارف قرآنیہ نامی مدرسے کی عمارت بدھ کے روز بلڈوزر سے گرا دی گئی۔
اس سے قبل پولیس نے بنگلہ دیش کے ایک شدت پسند گروپ سے مبینہ تعلق کے الزام میں اس مدرسے سے پانچ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ مقامی افراد کی مدد سے مدرسے کی انتظامیہ نے گزشتہ رات ہی سے اپنا سامان وہاں سے نکالنا شروع کر دیا تھا۔
مقامی پولیس افسر سواپنیل ڈیکا نے بھارتی میڈیا سے بات چیت میں اس مدرسے کے منہدم کیے جانے کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ضلعی انتظامیہ نے اپنے ایک حکم میں اس مدرسے کو تعمیراتی ڈھانچے کے طور پر کمزور اور رہائش کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا تھا۔ اس مدرسے کی ذیلی عمارتیں بھی مقامی انتظامیہ کے طے کردہ اصول و ضوابط کے مطابق تعمیر نہیں کی گئی تھیں۔‘‘
ڈیکا کا مزید کہنا تھا، ’’گولپارہ ضلع کی پولیس نے شدت پسندی کے الزام میں گرفتار شدہ ایک شخص کے ساتھ اسی مدرسے پر گزشتہ روز چھاپہ بھی مارا تھا اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایت کے مطابق ہم نے اس مدرسے کو مسمار کرنے کی کارروائی شروع کی۔‘‘
اس سے قبل 29 اگست پیر کے روز ریاست کے بارپیٹا ضلع میں بھی مقامی انتظامیہ اور پولیس نے ایک اسلامی مدرسے کو منہدم کر دیا تھا۔ اسے دو مقامی مسلم باشندے مولوی اکبر علی اور ان کے بھائی ابوالکلام آزاد چلا رہے تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں افراد کا تعلق بنگلہ دیش میں قائم دہشت گرد تنظیم ’برصغیر میں القاعدہ‘ اور ’انصار اللہ بنگلہ ٹیم‘ سے تھا۔
بارپیٹا مدرسے کا نام ’شیخ الہند محمود الحسن جامع الہدیٰ اسلام اکیڈمی‘ بتایا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مدرسہ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔
پولیس نے اس مدرسے کے سربراہ مامون الرشید کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ اس مدرسے میں بنگلہ دیشی دہشت گرد محمد سمن عرف سیف الاسلام کو ٹھہرنے کے لیے جگہ دی گئی تھی۔ آسام پولیس نے انہیں اسی برس مارچ میں گرفتار کیا تھا۔ مبینہ طور پر محمد سمن اپنے ایک ایسے ساتھی کے ساتھ وہاں ٹھہرے ہوئے تھے، جو ابھی تک مفرور ہے۔
حکومت اس سے قبل بھی اسی سلسلے میں ایک مدرسے پر بلڈوزر چلا چکی ہے۔ یوں اس بھارتی ریاست میں اب تک تین اسلامی مدارس ڈھائے جا چکے ہیں۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں تیس فیصد سے بھی زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے اور وہاں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہے، جو پہلے بھی مسلم اداروں کے حوالے سے متنازعہ پالیسیوں کا اعلان کرتی رہی ہے۔
چند روز قبل ریاستی پولیس نے ایک اور مدرسے سے تعلق رکھنے والے دو ایسے اساتذہ کو بھی گرفتار کر لینے کا دعویٰ کیا تھا جن کا تعلق مبینہ طور پر دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ سے بتایا گیا تھا۔ اس کے بعد ہی سے ریاستی حکومت کی مسلم مدارس اور مساجد کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ ہفتے ہی ریاستی حکومت نے مساجد اور اسلامی مدارس سے متعلق ایک نیا حکم نامہ بھی جاری کیا تھا، جس کے تحت غیر مقامی آئمہ اور مدارس کے اساتذہ کی ایک حکومتی ویب سائٹ پر رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی تھی۔
ریاستی وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے حال ہی میں کہا تھا کہ آسام ‘جہادی سرگرمیوں‘ کا گڑھ بن چکا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی دہشت گرد گروہ انصار الاسلام سے تعلق رکھنے والے پانچ ‘ماڈیولز‘ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
بھارتی ميڈیا کے مطابق اس سلسلے میں پولیس نے رواں برس مارچ سے اب تک 40 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے اور خاص طور پر زیریں اور وسطی آسام کے مسلم اکثریتی علاقوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
بی جے پی بالخصوص آسام میں مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مسلم تارکین وطن کے مسئلے کو ایک بڑے سیاسی، سماجی، اقتصادی اور سکیورٹی مسئلے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اکثر تشدد کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں