mufti gulzar ahmed Naeei article azadi march 535

آزادی مارچ : تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

55 / 100

آزادی مارچ
پاکستانی سیاست کو استحکام نصیب ہوگا یا یہ یونہی چلتی رہے گی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔موجودہ حکومت کے آنے سے قبل ہر پاکستانی آس لگائے بیٹھا تھا کہ اب خوشحالی آئے گی،اب ہریالی آئےگی۔مگراہل پاکستان کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔اس حکومت کے وزیر اعظم جناب عمران خان اپنے طور پر بہت جدوجہد کررہے ہیں مگر کامیابی ابھی تک بہت دور دکھائی دیتی ہے۔جان توڑ مہنگائی نے موجودہ حکومت اور عوام کے درمیانی فاصلوں کو بڑھا دیا ہے۔اسی اثناء میں اپوزیشن حکومت کے خلاف سرگرم عمل ہوگئی اور سب سے زیادہ متحرک مولانا فضل الرحمن ہوئے ہیں۔مولانا فضل الرحمن مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں اور کامیابی کےساتھ سیاست میں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے واحد سیاست دان ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی حیثیت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔مجھے مولانا کی سیاست سے بالکل اتفاق نہیں ہے اور انکی سیاست کا ناقد بھی ہوں لیکن بعض حوالوں سے مولانا کی سیاسی تدابیر کا معترف بھی ہوں مثلا مولانا وہ واحد مذہبی سیاسی رہنماء ہیں جو اپنے دوستوں کو نوازتے ہیں اور ان سے براہ راست رابطہ میں رہتے ہیں۔اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے کارکن ہر محکمہ میں آپکو نظر آتے ہیں۔یہ صفت دیگر سیاسی یا غیر سیاسی مذہبی رہنماؤں میں موجود نہیں ہے۔وہ کارکنوں سے کام لیتے ہیں اور انکے کام بھی آتے ہیں۔بایں ہمہ انہوں نے اپنے مکتب کے تمام رہنماؤں کو بچھاڑ کر ایک منفرد حیثیت حاصل کر لی ہے۔
مولانا کی سیاست کا تاریک پہلو یہ ہے کہ وہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہے اور اس میں وہ بہت ماہر سمجھے جاتے ہیں۔سیاست میں مذہبی کارڈ کے استعمال کی اصطلاح مولانا کے دم قدم سے ہے۔جب انہیں اپنے سیاسی مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آتے تو وہ فورا گھنٹی بجا دیتے ہیں کہ مذہب شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ہمارے ملک میں بہت دفعہ مذہب سیاست کے لیے استعمال ہوا ہے۔صرف ستر کی دہائی میں اٹھنے والی تحریک نظام مصطفے اہل مذہب کی طرف سے ایک سنجیدہ تحریک شمار کی جاسکتی ہے جس کے کچھ نہ کچھ نتائج ہمارے سامنے دکھتے ہیں۔ورنہ مجھے کوئی ایسی تحریک نظر نہیں آتی جس سے اسلام کو فائدہ ہوا ہو بلکہ میری دانست میں پاکستان میں مذہب کو بند گلی کی طرف لے جانےمیں سیکولر رہنماؤں سے زیادہ مذہبی رہنماؤں کا زیادہ کردار ہے۔اہل مذہب کو دہشت گرد اور اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دلوانے میں اہل مذہب کے انقلابوں اور دھرنوں کا بڑا ہاتھ ہے۔آج بھی مولانا کا آزادی مارچ مذہب کو بند گلی کی طرف دھکیلنے کا بہت بڑا ذریعہ بنے گا۔پاکستان میں مذہبی سیاست کا کوئی مسقبل نہیں رہااور اس مارچ کی تیاریوں سے مذہبی سیاست مزید خطرات کی لپیٹ میں چلی گئی ہے۔اہل مذہب کے غیر دانشمندانہ اقدامات نے ملک سے مذہبی آزادی کو سلب کرلیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ مزید سلب ہوگی۔اہل مذہب پہلے ہی سختیوں کا شکار ہیں اور یہ مارچ ان سختیوں میں اضافہ کرے گا۔مولانا تو شاید کچھ نہ کچھ حاصل کر لیں مگر مذہب مزید دشواریوں کا سامنا کرے گا۔
مولانا نے بڑی دانشمندی سے اپوزیشن کی سرداری بڑی سیاسی جماعتوں سے چھین لی ہےاور آج وہ اپوزیشن کی گاڑی کے ڈرائیور ہیں۔اس گاڑی میں ہمیں نون،پی پی پی اے این پی اور دیگر اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی نظر آتی ہیں۔لیکن مولانا کی بدقسمتی یہ ہے کہ گاڑی تو ان کے پاس آگئی ہےمگر ان کے پاس گاڑی کو پارک کرنے کا اڈا نہیں ہے۔وہ گاڑی یا تو نون کے اڈے پر کھڑی کریں گے یا پی پی پی کے۔زیادہ امکانات یہ ہیں کہ وہ اپنی گاڑی نون کے اڈے پر ہی پارک کریں گے کیونکہ جس تحرّک کے ساتھ نون کے اسیر قائد نواز شریف مولانا کی گاڑی میں ڈیزل ڈال رہے ہیں اور سواریاں بٹھا رہے ہیں،اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔میری معلومات کے مطابق نون اس آزادی مارچ پر لاکھوں نہیں کروڑوں کی سرمایہ کاری کررہی ہے۔میری معلومات غلط بھی ہوسکتی ہیں مگر ابھی تک جو مولانا کے مطالبات کی بازگشت میں نے سنی ہے ان میں ایک مائنس ون فارمولا ہے۔یعنی جیسے کل نوازشریف مائینس ون ہوا تھا اسی طرح آج عمران کے خلاف بھی یہ فارمولا مطالبے کی شکل اختیار کرنے جارہا ہے۔دوسرا ممکنہ مطالبہ یہ ہوگا کہ جے یو آئی کو کے پی اور بلوچستان میں وہی طاقت دی جائے جو پہلے دی گئی تھی۔ان دو ممکنہ مطالبات کی روشنی میں تو یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ڈرائیور اپنی گاڑی نون کے اڈے پر ہی پارک کرے گا۔
جب میں نے یہ کہا کہ مولانا کا مارچ مذہب کو مزید بند گلی میں دھکیل دے گا تو میری نظر اس گارڈ آف آنر پر ہے جو انہوں نے اپنے مجاہدوں سے لیا۔اس گارڈ آف آنر نے اس تصور کو مزید پختہ کیا ہے کہ اہل مذہب ابھی تک ریاست کے اندر ریاست کے قیام پر مصر ہیں۔اس کی بالکل ضرورت نہیں تھی میرے نزدیک یہ بالکل ایک بچگانہ حرکت تھی جو بازار سیاست کے ایک بڑے کامیاب تاجر سے سرزد ہوئی ہے۔اس کے اثرات بد خود مولانا کی سیاست بھی پڑیں گے اور مذہب پر بھی۔
میں نے پہلے بھی لکھا ہے اور اب بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ایک وقت تھا جب بین الاقوامی ایسٹبلشمنٹ کو مذہب کی ضرورت تھی اور انہوں نےپاکستانی اہل مذہب کو استعمال کیااوراہل مذہب استعمال ہوئے۔اب انہیں ضرورت نہیں رہی اس لیے پاکستانی سیاست میں مذہب کا مستقبل میں کوئی رول نہیں ہے۔اور ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں نفاذ اسلام کے لیے کوئی مستقل تحریک موجود نہیں ہے۔تحریک نظام مصطفے کو ضیاء الحق نے بہت بری طرح بکھیرا تھا،تحریک منہاج القرآن کے اندر پوٹنشل موجود تھا اور وہ مصطفوی انقلاب کو عملی جامہ پہنا سکتی تھے مگر وہ سازشوں کا شکار ہوکر اپنے کارکنوں کو شھید کروا کےانقلاب کے نعرے سے عملا دستبردار ہوگئی۔ممتاز قادری شھید کے ایشو پر اٹھنے والی تحریک اپنے ابتدائی مرحلہ میں ہی ناکام ہوگئی۔اب ہمیں خالصتا مذہبی تحریک کا وجود دور دور تک کہیں بھی نظر نہین آتا۔مذہب سیاسی مفادات کے لیے پے بھی استعمال ہوا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا مگر پاکستان میں مذہب جمہوریت پر غالب آئے گا یہ مشکل نظر آتا ہے۔ اللہ کی تدبیر کے سامنے سب کمزور ہیں اگر وہ غالب کردے تو اس کے خزانوں میں کمی نہیں ہے۔
پاکستان کے معروضی حالات پاکستان کو مذہب سے بہت دور کررہے ہیں۔آنے والا وقت مذہب کے لیے اور کٹھن ہے۔
وماتوفیقی الا باللہ
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں