65

آئی ایم ایف کا پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہو جائے گاوزیرخزانہ مفتاح اسماعیل

آئی ایم ایف کا پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہو جائے گاوزیرخزانہ مفتاح اسماعیل
(خبرایجنسیاں)وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہےکہ IMF پروگرام ایک آدھ دن میں ہوجائیگا، تنخواہوں کے معاملے سے عالمی ادارےکاتعلق نہیں، امیروں پر ٹیکس لگےگا، غریبوں کو ریلیف دینگے، ہر سال ملک میں 15کلو سونا قانونی طریقے سے اور 80 ٹن اسمگل ہوکرآتا ہے اس پر درآمد ڈیوٹی کم کررہے ہیں،فارما سیوٹیکل کے ریفنڈ آئندہ 4روز سے ادا کرنے شروع کر دیں گے، ادھر اسٹیٹ بینک نےکہاہےکہ درآمد کنندگان کوایک لاکھ ڈالرز خریدنے کیلئے ایک دن پہلے اطلاع دینی ہوگی جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے در آمدات کیلئے زرمبادلہ کی فراہمی بند کرنے کی خبروںکی تردید کی گئی ہے، ادھر ڈالر کی بھی اونچی اڑان جاری ہے، اوپن مارکیٹ میں میں 213.5 روپے کا ہوگیا۔پیرکوپارلیمنٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیرخزانہ ومحصولات مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے جلد معاہدہ ہوگا، نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں امیروں پربوجھ ڈالاگیاہے ، 12 لاکھ سالانہ آمدنی پرٹیکس چھوٹ برقراررہیں گی،وزیرخزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان رابطے میں ہے اورامید ہے کہ بہت جلد سٹاف سطح کامعاہدہ ہوجائیگا جس کے بعد پاکستان کیلئے قسط جاری ہوگی،آئی ایم ایف نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور12 لاکھ سالانہ آمدنی پرٹیکس چھوٹ دینے پرکوئی اعتراض نہیں ، آئی ایم ایف کاتنخواہیں بڑھانے یا کم کرنے کے معاملہ سے کوئی تعلق نہیں،حکومت نے مشکل حالات میں متوازن اورعوام دوست بجٹ دیاہے، حکومت نے کوشش کی ہے کہ امیروں اورصاحب ثروت افراد پرزیادہ بوجھ ڈالا جائے ، اس کے برعکس تنخواہ دار اورکم آمدنی رکھنے والے لوگوں کیلئے ریلیف کے جامع اقدامات کئے گئے ہیں۔دوسری جانب پیر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا، جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے شرکت کی، مفتاح اسماعیل نے کمیٹی کو بتایا کہ فارما سیوٹیکل کے ریفنڈ آئندہ چار روز سے ادا کرنے شروع کر دیں گے، اگر چار دنوں میں ریفنڈ کا سلسلہ شروع نہ ہو سکا تو آئندہ دو ماہ میں پیسے کلیئر کر دیں گے۔ وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ مالی سال 14سے15کلو گرام سونا قانونی طریقے سے پاکستان آیا جبکہ 80 ٹن سونا ملک میں اسمگلنگ سے آ رہا ہے،جیولرز ایسے بھی ہیں جن کی روزانہ کروڑ روپے سے زائد کی آمدن ہوتی ہے، جب دکاندار سے پوچھا تو کہا روزانہ چار ہزار کی سیلز ہوتی ہے۔ اجلاس کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیز کے لیے سیلز ٹیکس دستاویزی بنانے کے لیے کیا، ادویات سازی کے ساتھ وہی فیکٹری جوسز بنا رہی ہے،ادویات ساز میک اپ کا سامان بنارہے ہیں اور سیلز ٹیکس نہیں دیتے، اگر انہیں 17 کی بجائے کم سیلز ٹیکس لگائیں گے تو یہ ادا ہی نہیں کریں گے،ایف بی آر نے ری فنڈ کا نظام خودکار بنایا ہے،اگر فارما والوں کا ری فنڈ رک گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی ڈکیومنٹشین پوری نہیں، سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس طرح کے مشکل فیصلے سے واپس نہیں ہٹنا چاہئے۔ خزانہ کمیٹی اجلاس کے دوران ممبران کمیٹی اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے درمیان ا دلچسپ مکالمہ بھی ہوا،کمیٹی ممبران نے مفتاح اسماعیل کو وفاقی بجٹ میں ٹیکس غریبوں پر لگانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ، چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 300سے اوپر جس کا ایک بھی ہندسہ جاتا تو اس کو سارے پر ٹیکس دینا ہوگا، مفتاح اسماعیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی بات میں وزن ہے،لیکن پیسوں کی بہت ضرورت ہے، ا س دوران مداخلت کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہاکہ کسی اور کی جیب کاٹیں غریبوں کے بجائے، جس پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جواب دیا کہ و ہ بھی کاٹیں گے بے غم رہیں، کمیٹی اجلاس میں مفتاح اسماعیل کے جواب پر قہقے لگ گئے۔ادھر اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ اقدام زرمبادلہ کے مسلسل گرتے ہوئے ذخائر کو مد نظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے ،اس سے قبل پیشگی آگاہی کیلئے در آمدات کی مد میںرقم کی حد 5 لاکھ ڈالرز مقررر تھی،اسٹیٹ بینک کے مطابق اس فیصلہ سے تمام کمرشل بینکوںکو آگاہ کردیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں