101

آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات بےنتیجہ ختم، سبسڈی معاہدے کے خلاف تھی

آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات بےنتیجہ ختم، سبسڈی معاہدے کے خلاف تھی
حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قطر میں ہونے مزاکرات بے نتیجہ رہے ہیں جس کے بعد عالمی مالیاتی ادارے نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی اور تیل کی مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی طے شدہ معاہدے کے خلاف تھی۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قطر کے شہر دوحا میں ہونے والے مذاکرات کا حالیہ دور مکمل ہونے پر آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں تیل و بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے تاہم عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں پاکستان کے لیے قرضے کی اگلی قسط جاری کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان دوحا میں 18 سے 25 مئی تک مذاکرات ہوئے تاکہ پاکستان کے لیے قرضے پروگرام کو بحال کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام سے پالیسی اور اصلاحات پر مثبت بات چیت ہوئی جس سے آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔
’بات چیت کے دوران کافی معاملات پر مثبت بات ہوئی جن میں افراط زر کو کم کرنے کے لیے اقدامات اور کرنٹ اکاوئنٹ خسارے میں کمی سمیت معاشرے کے غریب طبقات کے تحفظ کے نکات شامل تھے۔‘
آئی ایم ایف کے مطابق 23 مئی کو پالیسی ریٹ میں اضافے کا فیصلہ ایک مثبت قدم تھا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی اور تیل کی مصنوعات پر سبسڈی کے فیصلے پر نظر ثانی کے ساتھ ساتھ ٹھوس پالیسی اقدامات لینے پر زور دیا گیا تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے مقاصد پورے کیے جا سکیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی تاکہ ملک کی عوام کے لیے فائدہ مند معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف کے اعلامیے میں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کو تو تعمیری قرار دیا گیا تاہم قسط جاری کرنے کا ذکر نہیں اور آئی ایم ایف کی جانب سے مستقبل میں مذاکرات جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط ملنے کی امید تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت کو ملک میں سیاسی چیلنج کا بھی سامنا ہے، مذاکرات کا بے نتیجہ ختم ہونا وزیر اعظم شہباز شریف کی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
تجزیہ کار مائیکل کگلمین نے ٹوئٹر پر اپنی رائے میں کہا کہ پاکستان کا معاشی اور سیاسی بحران کا نتیجہ اچھا نہیں نظر آ رہا۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے جب کہ حکومت کو قرضے کی اشد ضرورت تھی۔
تجزیہ کار عزیر یونس نے بھی کچھ ایسا ہی منظر نامہ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت جلد سبسڈی ختم نہیں کرے گی تو چار سے چھ ماہ کے اندر پاکستان کو معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران کہا کہ آئی ایم ایف سے گزشتہ حکومت کا معاہدہ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا اور ’اب حالات بدل چکے ہیں۔‘
روئٹرز سے گفتگو کے دوران بلاول بھٹو نے کہا کہ ’آئی ایم ایف سے جو ڈیل ہوئی وہ کورونا سے پہلے ہوئی۔ یہ یوکرین جنگ اور افراط زر سے پہلے کی ڈیل ہے۔‘
بلاول بھٹو نے روئٹرز کو بتایا کہ ’پاکستان جیسے ملک سے یہ توقع کرنا کہ موجودہ حالات میں اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد ممکن بنایا جائے گا، غیر حقیقی ہو گا۔‘
دوسری جانب پاکستان کی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے مزاکرات اگلے ہفتے جاری رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں