اشرافیہ کی باندی 73

اور پیشی منسوخ ہو گئ

53 / 100

اور پیشی منسوخ ہو گئ
نسیم شاہد
نیب کے لئے یہ ہے تو بڑی ہزیمت کہ اُسے آخری وقت پر مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کی پیشی منسوخ کرنا پڑی۔ اس حوالے سے نیب لاہور نے جو پریس ریلیز جاری کیا، وہ اس ہزیمت کو چھپانے کی ناکام کوشش تھی، اگر پریس ریلیز میں یہ کہا جاتا کہ مریم نواز کی آمد پر امن و امان کو خطرات لاحق ہو سکتے تھے اِس لئے پیشی منسوخ کی گئی تو یہ بات قرین قیاس ہوتی، مگر اُس میں تو ایک لمبی داستان بیان کی گئی ہے، جس کے ایک ایک جملے سے یہ بات جھلک رہی ہے کہ نیب میدان چھوڑ کر بھاگا ہے، مثلاً اُس کا یہ کہنا کہ کورونا کی وجہ سے لوگوں کا جمع ہونا این سی او سی کے احکامات کی نفی ہوتا،اِس لئے پیشی منسوخ کی گئی،اس لحاظ سے مضحکہ خیز ہے کہ نیب کو اچانک پیشی سے بارہ گھنٹے پہلے کیسے یہ پتہ چلا کہ کورونا کی وجہ سے اجتماعات پر پابندی ہے اور این سی او سی نے اس کی ممانعت کر رکھی ہے۔ کورونا کوئی آج کا مسئلہ تو ہے نہیں،یہ تو ایک سال سے چل رہا ہے،جہاں تک کورونا کی تیسری لہر میں شدت کی بات ہے تو وہ تین ہفتے پہلے سے جاری ہے،اس کے باوجود نیب نے 26مارچ کو مریم نواز کی پیشی رکھی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ پچھلی پیشی پر ایک بڑا ہنگامہ ہوا تھا اور اس بار تو معاملہ اِس لئے بھی زیادہ گھمبیر ہو سکتا ہے کہ حکومت کے خلاف باقاعدہ پی ڈی ایم کی تحریک چل رہی ہے۔ نیب نے کیا یہ سمجھا تھا کہ مریم نواز اپنا ہینڈ بیگ اٹھائیں گی اور گاڑی میں بیٹھ کے نیب دفتر آ جائیں گی۔اگر واقعی ایسا سوچا تھا تو پھر نیب والوں کی بے خبری اور خوش فہمی پر انہیں تمغہئ ذہانت ملنا چاہئے۔

نیب کی حالت یہ ہے کہ وہ مریم نواز کی ضمانت منسوخ کرانے کے لئے پہلے لاہور ہائی کورٹ گئی، جب فوری ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست نہ مانی گئی تو اُس سے اگلے دن نیب میں پیشی کا نوٹس بھیج دیا۔مریم نواز نے ضمانت قبل ازگرفتاری کرائی تو نیب کو خیال آیا کہ اب عدالت کے ذریعے مریم نواز کو تنہا پیشی پر آنے کا حکم نامہ لیا جائے۔لاہور ہائی کورٹ نے یہ درخواست بھی مسترد کر دی اور کہا کہ یہ عدالت کی نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جب سارے حربے ناکام ہو گئے تو نیب والوں نے کورونا کا سہارا لیا اور مریم نواز کی پیشی چند گھنٹے پہلے منسوخ کر دی۔اب ایسی باتوں کو سامنے رکھ کر اگر مریم نواز یہ کہہ رہی ہیں کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ بن گیا ہے تو اُن کی بات کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وہ نیب کی حراست میں تقریباً50 دن رہیں، اُن سے جو پوچھا گیا اُس کا جواب دیا، جس کے بعد وہ ضمانت پر رہا ہوئیں اور نیب ڈیڑھ برس تک چپ سادھ کے بیٹھا رہا، اُس نے طلبی کا کوئی نوٹس بھیجا اور نہ ہی انکوائری کی، سیاسی تحریک گرم ہوئی، لانگ مارچ کی تاریخ رکھی گئی، تو نیب کو بھی پیشی کے لئے وہی 26مارچ یاد آئی۔

اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے لئے دی گئی درخواست میں نیب نے یہ عجیب و غریب موقف اپنایا کہ مریم نواز ضمانت پر رہا ہو کر اداروں کے خلاف تقریریں کر رہی ہیں،اس کی ضمانت منسوخ کی جائے۔ ایسی احمقانہ باتیں نیب کے اہلکاروں کو کون بتاتا ہے۔ کیا ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرتے وقت مریم نواز پر ایسی کوئی پابندی لگائی تھی کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں گی، کیا عدالتیں کبھی ایسا حکم دیتی ہیں تو پھر نیب نے اپنی درخواست میں یہ جملے کیوں شامل کئے؟کیا نیب والے جان بوجھ کر سیاسی کھیل کھیلتے ہیں؟کیا وہ جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ حکومت اور نیب کا گٹھ جوڑ ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر نیب کی ٹائمنگ اور ہدف سیاسی کیوں لگتا ہے، کیوں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ نیب ہر اُس سیاست دان کے بارے میں متحرک ہو جاتا ہے، جو حکومت کے خلاف سرگرم کردار ادا کر رہا ہو۔

نیب نے اگر یہی کرنا تھا کہ جو منسوخی کا اعلان کر کے کیا، تو پھر اتنا ہنگامہ کیوں برپا کیا گیا،پنجاب حکومت کو رینجرز کے لئے خط لکھا اور نیب آفس کو ریڈ زون قرار دینے کی درخواست بھیجی۔ کیا اُس وقت کورونا یاد نہیں تھا اور یہ بھی علم نہیں تھا کہ مریم نواز ایک ریلی کی صورت میں نیب آفس آئیں گی؟ کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں کہ آپ بارات کے آنے کا انتظار بھی کریں اور انتظامات بھی، مگر عین وقت پر یہ اعلان کر دیں کہ کورونا پھیلنے کے پیش ِ نظر شادی منسوخ کر دی گئی ہے۔پورے لاہور میں ٹریفک کے مسائل پیدا کر کے، جگہ جگہ کنٹینرز لگائے، جنگی ماحول بنانے کے بعد اچانک پسپائی اختیار کرنا اور اُس کے لئے بھی عجیب و غریب تاویلیں گھڑنا ایک ایسا عمل ہے، جو نیب افسران کی بے تدبیری، کسی حد تک ہٹ دھرمی اور عقل و خرد سے بیگانگی کو ظاہر کرتا ے۔اب نہیں لگتا کہ نیب پھر کبھی مریم نواز کو بُلا پائے گا۔ ہر بار یہی صورتِ حال پیدا ہو گی کہ ہر مرتبہ نیب کوئی لولا لنگڑا بہانہ کر کے اپنی جان چھڑائے گا۔سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کو جس طرح نیب نے مذاق بنائے رکھا ہے، اب شاید یہ کام ممکن نہ رہے،کئی کئی ماہ تک سیاسی نمائندوں کو گرفتار رکھا جاتا ہے، کوئی ریفرنس پیش ہوتا ہے اور نہ کسی کو سزا ہوتی ہے، ضمانت پر رہائی کے بعد باہر آ کر ان کا یہی سوال ہوتا ہے کہ نیب کے پاس اُن کے خلاف ثبوت تھے تو اتنا عرصہ حراست میں کیوں رکھا؟کیوں ریفرنس بنا کر سزا نہیں دلوائی۔

اب حکومت کے وزرا یہ لاکھ کہتے رہیں کہ یہ ایک مافیا ہے جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے، مگر اُن کے پاس اِس سوال کا کیا جواب ہے کہ نیب نے اب تک جتنے سیاست دان وقتاً فوقتاً گرفتار کئے ہیں، اُن کے خلاف کیسز کیا بنائے ہیں اور کتنوں کو سزا دلوائی یا لوٹی دولت نکلوائی ہے، اگر کسی ایک کو بھی سزا نہیں ملی تو پھر یہ گرفتاری کا شغل میلہ کب تک چل سکتا ہے۔مریم نواز نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اب نیب کے لئے آسان شکار ثابت نہیں ہوں گی،گویا اُن کی گرفتاری کے لئے نیب کو اب غیر معمولی اقدامات کرنے پڑیں گے، وہی غیر معمولی اقدامات جو اُس نے مریم نواز کی پیشی کے واسطے کئے تھے، رینجرز بلائی تھی، دفتر کو ریڈ زون قرار دیا تھا،مگر معاملہ دفتر تک تو محدود نہیں رہنا، جاتی امراء رائیونڈ سے نیب آفس تک جو میدان لگے گا، وہ تو ریڈ زون سے باہر ہو گا، پھر جب ہزاروں افراد ریڈ زون کے قریب پہنچیں گے تو انہیں روکنے کے لئے کیا ریاستی طاقت استعمال ہو گی،اُس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ سو یہ بیل اب منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی، نیب جلد بازی میں اپنے سارے پتے کھیل چکا ہے، جس طرح اُس نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف کارروائی کے لئے نوٹس جاری کر کے گھٹنے ٹیکے اسی طرح مریم نواز کی پیشی کو منسوخ کر کے اپنی بے بسی پر مہر لگا دی ہے۔ نیب کہتا ہے پیشی ملتوی ہو گئی، حالانکہ پیشی منسوخ ہو گئی ہے اور وہ بھی شاید ہمیشہ کے لئے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں