ایل او سی پر تازہ جنگ بندی 25

مودی کا فریبی خط!

51 / 100

مودی کا فریبی خط!
لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

”ایک ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے انڈیا کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان سے خوشگوار تعلقات قائم رکھے اور اس کے حصول کے لئے ایک ایسے بااعتماد ماحول کی موجودگی ناگزیر ہے جو دہشت گردی اور دشمنی سے خالی ہو“۔

یہ ہے اس پیغام کے متن کا وہ حصہ جو وزیراعظم مودی نے اپنے ہم منصب وزیراعظم عمران خان کو یومِ پاکستان کے موقع پر بھیجا ہے۔مودی نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ وہ پاکستان کی ان کوششوں کو سراہتا ہے جو کووڈ19- سے نمٹنے کے لئے پاکستان بروئے عمل لا رہا ہے۔

ہمارا میڈیا مودی کے اس پیغام کو بنگاہِ تحسین دیکھ رہا ہے۔اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ برف پگھلنے لگی ہے اور باہمی تعلقات میں بہتری کے آثار افق پر نمایاں ہو رہے ہیں۔اگرچہ یہ امر باعث ِ تعریف ہے کہ انڈیا نے گزشتہ ماہ یکایک ایل او سی پر فائرنگ کے تبادلے پر بندش کی تجویز پیش کر دی اور اس پر عمل بھی کیا جا رہا ہے لیکن یومِ پاکستان(23 مارچ) کو بھیجا جانے والا یہ پیغام، پیامِ تہنیت کم اور اپنے اس گھسے پٹے بیانیئے کا اصرار زیادہ ہے جو انڈیا پچھلے کئی برسوں سے بین الاقوامی فورموں پر دیئے جا رہا ہے۔اس مختصر سے خط میں بھی انڈیا نے جو دو الفاظ ”دہشت گردی“ اور ”دشمنی“ استعمال کئے ہیں اور اعادہ ازکیا ہے کہ انڈیا ایسے ماحول کو دیکھنے کا آرزو مند ہے جو ان ہر دو آزاروں سے پاک ہو تو یہ اس کے خبث ِ باطن کا واضح ثبوت ہے۔ ……بندہ پوچھے کہ دہشت گردی اور دشمنی کا ارتکاب تو انڈیا کر رہا ہے اور امید پاکستان سے رکھ رہا ہے کہ وہ یہ ”حرکتیں“ نہ کرے۔ یعنی بھارتی گائے نے دودھ دیا بھی تو اس میں ”موتر“ ڈال کر……

سوال یہ ہے کہ انڈیا کو آج یہ ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہ اس ”قلب ِ ماہیت“ کا تحریری اظہار کرے۔یہی وہ سٹرٹیجک داؤ پیچ ہیں جن کو انگریزی میں Stratagems کا نام دیا جاتا ہے۔ آج سے2500 برس پہلے چین کے ایک جنرل سن تزو نے اپنی کتاب ”دی آرٹ آف وار“ کے باب نمبر3 میں اس کا ذکر کیا تھا۔ اس بات کا عنوان ہے ”فریب سے لبریز حملہ(Attack by Stratagem)…… چلتے چلتے اس باب کا ایک جملہ دیکھ لیجئے۔ سن تزو کہتا ہے:

”پس جنگ لڑنا اور تمام لڑائیوں میں فتح حاصل کرنا آپ کا کوئی شاندار کارنامہ نہیں۔شاندار کارنامہ یہ ہے کہ بغیر لڑائی لڑے دشمن کی تاپ مزاحمت توڑ دی جائے“……

1910ء میں اس چھوٹی سی (50صفحات اور13ابواب پر مشتمل) کتاب کا انگریزی ترجمہ ایک برطانوی مصنف لیونل جائلز (Lionel Jiles) نے کیا تھا۔ اگرچہ1772ء میں اس کا ایک ترجمہ فرانسیسی زبان میں بھی شائع ہوا تھا، لیکن انگریزی زبان میں جائلز کا یہ ترجمہ پہلا انگریزی ترجمہ تھا جو چینی زبان سے کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کے کئی تراجم شائع ہوئے اور اردو زبان میں بھی کئی مترجمین نے اس پر طبع آزمائی کی۔ اگر قارئین کے لئے بارِ خاطر نہ ہو تو درج بالا فقرے کا انگریزی متن بھی دیکھ لیجئے:

Hence to fight and conquer in all your battles is not spreme excellance; supreme excellance consists in breaking the enemy’s resistance without fighting.

انڈیا اگرچہ چانکیا اور میکاولی کے افکار کا پیرو کار رہا ہے لیکن جب سے پاکستان نے انڈیا کے جوہری تجربات کے جواب میں اپنے تجربات کئے ہیں تب سے ان دونوں ممالک میں گرم اور دست بدست جنگ کے امکانات معدوم ہو کر رہ گئے ہیں۔اب ہائی برڈ وار فیئر کا زمانہ ہے جس میں حریف کا عزم توڑا جاتا ہے،اس کے ہاتھ پاؤں نہیں۔انڈیا نے اب سن تزو کے فرمودات پر عمل شروع کر دیا ہے…… اور صرف انڈیا ہی پر کیا منحصر پورا مشرق و مغرب سن تزو کی بائبل کا قاری اور عاملہے۔ قارئین سے درخواست کروں گا کہ اگر اس مختصر سی کتاب ”دی آرٹ آف وار“ کا اُردو ترجمہ پڑھ لیں تو ان کو ہائی برڈ وار فیئر کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہو گی۔ اور جو حضرات انگریزی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں ان سے درخواست ہے کہ وہ اس ”مقالے“ کا مطالعہ ضرور کریں۔

سن تزو کا ذکر جملہئ معترضہ بن کر بیچ میں آ گیا، ہم مودی کے اس خط کا ذکر کر رہے تھے جس پر آج کل ہمارا میڈیا ٹاک شوز کر رہا ہے۔ کئی مبصروں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انڈیا کے اس خط کے پیچھے بہت سی کوششوں اور کاوشوں کا ثمر ہے۔یہ کاوشیں اگست2018ء سے بھی پہلے کے دور کو محیط ہیں۔ اب انڈیا کی طرف سے پہلے فروری میں ایل او سی پر جنگ بندی کرنے اور اب مارچ میں مفاہمت کا ہاتھ بڑھانے میں ISI اور RAW کے مابین بہت سی پس پردہ مساعی کا ہاتھ ہے جن کو ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ کئی برسوں کے بعد انڈیا کو یکایک اس پیغامِ تہنیت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟…… اس سوال کا جواب پانے کے لئے درج ذیل نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے:

-1 افغانستان میں امریکی انتظامیہ نے افغان صدر اشرف غنی کو یہ الٹی میٹم دے دیا ہے کہ وہ ماہِ اپریل2021)ء(میں کابل میں ایک عبوری حکومت قائم کرے اور اس میں طالبان کو بھی شامل کرے۔

-2 اگر افغانستان نے ایسا نہ کیا تو امریکی انتظامیہ یکم مئی2021)ء(کو اپنی ساری فوج 2500)امریکن اور چند ہزار ناٹو ٹروپس( واپس بُلا لے گی او وہ مالی امداد بھی بند کر دے گی جو ایک عرصے سے امریکہ، افغان حکومت کو دے رہا ہے۔

-3 امریکہ نے اقوام متحدہ کے پرچم تلے جس کانفرنس کے انعقاد کا ذکر کیا ہے اور جس میں امریکہ، روس، چین، ایران، پاکستان اور انڈیا کے وزرائے خارجہ کی شرکت کا ذکر کیا ہے تو پاکستان، بائیڈن انتظامیہ کی اس تجویز کو مسترد کر چکا ہے۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ انڈیا کی کوئی سرحد، افغانستان سے نہیں ملتی جبکہ باقی تمام ممالک کی سرحدات ملتی ہیں تو پھر انڈیا کو اس کانفرنس میں دعوت دینے کی کیا تُک ہے؟

-4 پاکستان نے امریکہ کو بتا دیا ہے کہ وہ اس ہر حوالے سے اس مجوزہ کانفرنس میں بھارتی شرکت کا شدید مخالف ہے۔

-5 انڈیا نے افغانستان میں جو سرمایہ کاری کر رکھی ہے اس کا حشر اب اس کے سامنے ہے اگر بقول صدرِ امریکہ یکم مئی کی تاریخ تک امریکی ٹروپس کی واپسی ایک ”ٹف“ فیصلہ ہو گا اور شاید امریکی ٹروپس اس تاریخ تک واپس نہ بلائے جا سکیں اور ان کے قیام میں توسیع کر دی جائے تو اس توسیع کا بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا…… پہلے20 برسوں میں امریکی اور ناٹو فورسز نے مل کر طالبان کا کیا ”بگاڑ“ لیا ہے جو وہ آئندہ20 ماہ یا20ہفتوں میں بگاڑ لیں گے؟

-6 انڈین اقتدار کے ایوانوں میں آج کل کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع جنرل لائڈ آسٹن دہلی جاتے ہیں اور پھر کابل میں افغان صدر سے ملاقات کرتے ہیں اور واپس واشنگٹن جاتے ہوئے پاکستانی آرمی چیف کو امریکی حمایت کا یقین دلاتے ہیں تو بھارتی اربابِ اختیار کے سینوں پر سانپ لوٹ جاتے ہیں اور وہ یومِ پاکستان پر صدرِ پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کو مبارک بادی خط لکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

-7 انڈیا کے داخلی حالات بھی خاصے دگرگوں ہیں۔وادی میں کشمیری مسلمانوں پر مظالم اور کسان تحریک کے لاکھوں مظاہرین پر جود و ستم اپنا رنگ لانے والے ہیں۔

-8 انڈیا، پاکستان پر حملے کی جرأت نہیں کر سکتا۔26 اور 27 فروری 2019ء کو اس نے یہ حماقت کر کے دیکھ لی تھی اور اس کا جو نتیجہ نکلا تھا اس کے زخم ابھی تک انڈیا ائر فورس کے سینے پر تازہ ہیں۔انڈین نیوی کی وہ آبدوز جو گوادر کی طرف بڑھ رہی تھی اور جسے پاک بحریہ نے انٹر سیپٹ کر کے بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا، وہ بھی انڈیا کو یاد ہے۔

-9 پاکستان۔ انڈیا کے مقابلے میں ایک چھوٹا ملک ضرور ہے، لیکن چھوٹا قدو قامت ایک بات ہے اور چھوٹے پن میں بڑے پن کی جو بجلیاں بھری ہوئی ہیں ان کا ادراک نہ صرف مودی کو بلکہ مودی کی سہ گانہ افواج کو بھی کرنا ہے۔

پاکستان اپنے کارڈ بڑی زیرکی اور دانشمندی سے کھیل رہا ہے۔چند روز پہلے قومی سلامتی کے ڈائیلاگ میں وزیراعظم اور آرمی چیف نے جس مفاہمانہ انداز کا اظہار کیا تھا، وہ بھی شاید اسی ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ انڈیا اپنے اندرونی اور بیرونی محاذوں کے افق پر شکستوں کے بادل امنڈتے دیکھ رہا ہے۔کسان تحریک اور کشمیری مقاومت ویسے کی ویسی ہی ہے۔ ر یاستی الیکشنوں میں بی جے پی کی شکستیں شروع ہو چکی ہیں۔ انڈین مسلح افواج بیک وقت دو محاذوں اور دو ہمسایوں سے نہیں لڑ سکتیں۔امریکہ، انڈیا کا حلیف اور اتحادی ضرور ہے،لیکن وہ بھی پاکستان سے پنگا لینے کے حق میں نہیں۔اس نے 20 سال تک افغانستان میں پنگا لے کر دیکھ لیا ہے…… جس روز امریکی اور ناٹو فورسز کا افغانستان سے انخلاء مکمل ہوا، انڈیا کو بھی افغانستان سے نکلنا پڑے گا۔اس نے بلوچستان اور سابق فاٹا کے علاقوں میں اپنے جو ”دہشت گر سیل“ بنا رکھے ہیں ان کا سارا کچا چٹھا کھل جانے کے قریب ہے۔…… بھارت کے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کو فُل بریک لگائے اور اس دست ِ مفاہمت کا مثبت جواب دے جو عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی سلامتی ڈائیلاگ میں انڈیا کی طرف بڑھایا ہے۔…… مودی کا یہ خط ایک فریب کارانہ داؤ (Stratagem) ہے اور پاکستان اس دام میں آنے کا نہیں!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں