لاہور، بہار اور جواد قریشی 26

لاہور، بہار اور جواد قریشی

57 / 100

لاہور، بہار اور جواد قریشی

صدیق اظہر
فارسی اور اردو شاعری کی عشق کے حوالے سے مشقِ سخن پر نظر ڈالیں تو اداب عشق کا نازک ترین دور موسم بہار ہے۔ یہ وہی موسم ہے جب چمن میں کلی پھول بنتی ہے اور شجر نئے لباس پہنتے ہیں۔ ایسے میں فارسی اور اردو شاعری محبوب، عشق اور بہار کے مناظر میں سر مستی و جنون کا پیراہن بنتے نظر آتی ہے۔ عشق بے ساختہ جنون کا شکار ہوتا ہے اور چاک گریبان کوچہ محبوب میں دریوزہ گری کرتا ہے۔ بابا جی ظہیر کاشمیری کہتے ہیں

فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے

ظہیرکاشمیری کے حوالے سے ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ بابا جی کی فصلِ بہار انسانی زندگی کے دکھوں کے خاتمے کا موسم ہے۔ زمین پر خاک سے پیوست محنت کشوں کی زندگی کے خوابوں کی تعبیر کا موسم۔ چاک گریباں مجنوں وہ ہیں جو اس راہ میں جاں سے گزر گئے۔ اسی حوالے سے شاید میر نے کہا تھا۔

سر منصورہی کا بار آیا

یہ ایک اور کہانی ہے لیکن ہمارے حسن و مستی کے موسمِ بہار کا تعلق پنجاب کے کھیتوں میں سرسوں کے پھولوں کی پھیلتی روشنی اور گندم کی بالیوں کے سنہرے ہونے کے دنوں سے ہے۔ پنجاب کی بہار گلوں میں رنگ بھرتی ہے اور ابھرتی ہوئی جوانیوں کو زندگی کی مہک سے آشنا کرتی ہے۔ لاہور کے گلستانوں میں خاص طور پر اس موسم کے استقبال کی تیاریاں کی جاتی ہیں۔ شہر کے چمن زار سردی کے آخری مہینوں سے ہی نئے پودوں اور بیجوں سے آشنا ہوتے ہیں۔ جنہیں بہار میں اپنے رنگ دکھانے ہوتے ہیں، شہر کے بیچوں بیچ لہراتی ہوئی ندی کے دونوں کناروں پر سبزہ اور اس میں چھپے ہوئے پھول چہرہ دکھانا شروع کرتے ہیں اور بقول فیض احمد فیض بے داغ سبزے کی بہار رنگ جماتی ہے۔

لاہور میں گزشتہ برسوں سے پی ایچ اے نے خوب رنگ جمایا ہے۔ لاہور کے چمن زار مارچ کے آغاز میں ایسے دھلے دھلائے اور سجیلے نظر آتے ہیں کہ اس دور کی زندگی کی کلفتیں بھولنے لگتی ہیں۔ چمن کو چلنے کو جی چاہتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پی ایچ اے جیلانی پارک میں ایک مشاعرہ بھی منعقد کرواتی تھی۔ میں نے ان مشاعروں میں مرحوم منیر نیازی کو سنا۔ خالد احمد آتے تھے۔ زندگی کی گھڑیاں طویل ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے میں نے نجیب احمد کو سنا ہے۔ کیا غزل گو ہیں کہ غزل کو ایک نیا رنگ دیا ہے۔ اس بار لاہور کی بہار اور پی ایچ اے شاید پہلے سے زیادہ ہم آہنگ ہوتے،مگر کورونا کے باعث میلہ بہاراں چند روز چلا بعد میں ملتوی کرنا پڑا۔پی ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل جواد احمد قریشی نے مال روڈ پر درختوں کے ساتھ روشنی کے گولے باندھے، لیکن یہ نہیں کھل رہا کہ وہ پرندوں کے گھونسلے ہیں یا پھر پتنگ کی ڈور والے پنے۔ خیر کچھ بھی ہو خوبصورت نظر آ رہے ہیں اگر یہ ڈور کے پنے ہیں تو بھی بہار اور بسنت تو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ میاں نوازشریف نے اپنے تیسرے دورِ حکومت میں بسنت کو پنجاب کے لئے ممنوع قرار دیا۔ شاید اس لئے کہ مشرف دور میں بسنت لاہور کا سب سے بڑا تہوار بن گئی تھی پورے ملک سے لوگ لاہور آتے۔ شوقین حضرات پنج ستارہ ہوٹلوں میں قیام کرتے اور اس میں لطف کی بات یہ تھی کہ آواری ہوٹل کے منیجر سید قاسم جعفری ہوٹل کے مہمانوں کو ڈور اور پتنگ بلا معاوضہ فراہم کرتے تھے۔ سید قاسم جعفری ایک سخن فہم اور کمال کے خوش گفتار آدمی ہیں۔ شاید اگلے وقتوں کے اساتذہ کی روح ان میں سرایت کر چکی ہے۔ کلامِ میر کا ایک خوبصورت منتخب پاکٹ ایڈیشن انہوں نے آواری ہوٹل کی طرف سے شائع کیا، ہوٹل کے مہمانوں اور دوستوں کو فراہم کیا اور یہ بھی شاید ان دنوں جب بہار ہر سو رنگ بکھیر رہی تھی۔

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

شام ہوتے ہی ہوٹل کی چھت پر سرچ لائٹ روشن ہو جاتیں اور بڑے بڑے گڈے اور پتنگ ان سرچ لائٹوں میں پیچ لڑاتے نظر آتے جس شہر پر مشرف آمریت کے ابتدائی دنوں میں ایسا ہی ہول طاری تھا جیسا ضیاء الحق کے پہلے چند برسوں میں پورے ملک پر محیط تھا۔ اس شہر میں شام بسنت رنگارنگ ہو گئی۔ لاہور کے اندرون کی ایک حویلی خود مشرف کی پسندیدہ بنی، زرق برق لباس میں ملبوس شوبز کی خواتین کا میلہ سجتا اور بوکاٹا کی مدھر مترنم اور مخمور آوازیں فضا میں گونجتیں دور آمریت نے ایک شام تو اہل لاہور کو بخش ہی دی تھی شریف برادران اگرچہ پنجاب کی تاریخ میں طویل ترین حکمرانی کا اعزاز رکھتے ہیں، لیکن یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ انہیں پنجاب کی زبان، ثقافت اور میلوں ٹھیلوں سے کبھی انس نہیں رہا۔یہ وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کا دور تھا جب پنجاب میں زبان کے فروغ اور ثقافت کے احیا کے حوالے سے PILAL قائم ہوا اور صغریٰ صدف نے اپنی ہنر مندی اور جان توڑ محنت سے ایک ادارہ بنایا شہباز شریف سے بھی اس حوالے سے درخواست کی گئی لیکن انہوں نے تو پنجاب اسمبلی میں بھی پنجاب کی زبان کو ممنوع قرار دیا تھا۔ یہ واحد صوبہ ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی منتخب پارلیمان میں مادری زبان ممنوع ہے۔ تو پھر بسنت بہار کو کون جانتا ہے۔ جان لیوا ڈور بیچنے والے تاجر تو محفوظ ہیں لیکن بچوں کے ہاتھوں پکڑی پتنگ دھماکہ خیز روپ اختیار کر چکی ہے۔
لاہور کے بیچوں بیچ بہنے والی نہر میں کشتیاں ڈال دی گئی ہیں۔ جن میں رنگا رنگ پھولوں کے گلدستے اور گملے ایک سماں پیدا کر رہے ہیں پی ایچ اے کے زیر انتظام جتنے بھی چمن ہیں وہ خوب مہک رہے ہیں۔ہماری صحافی کالونی کا پارک بھی رنگ دے رہا ہے۔ یہاں کے ملازم اپنے میٹ افضال احمد کے ساتھ نئے جنگل کی کاشت کر چکے ہیں جو پارک میں ایک خوبصورت گوشہ کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر رات کے وقت چکا چوند اچھی لگتی ہے، لیکن برا ہو Covid 19 کا اس نے شہر کی رونق چھین لی ہے پی ایچ اے کو شہر کے پوش علاقوں سے بھی باہر نکلنا ہوگا۔ اگرچہ گنجان آباد علاقوں میں سبزہ اگانے کے لئے زمین میسر نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی بعض مقامات پر یہ موجود ہے۔ جواد احمد قریشی کے لئے یہ ایک چیلنج ہے۔ لاہور میں پھیلتی ہوئی اور بڑھتی ہوئی سموگ کا ایک حل درخت اور پودے ہیں اور کارپوریشن کا یہ فرض ہے کہ اس کے پانی کی گاڑیاں علی الصبح شہر کی سڑکوں کے کنارے درختوں اور پودوں پر پانی چھڑکانے کے عمل کو مسلسل بنائیں اگر یہ کامیابی سے پوری گرمیاں جاری رہے تو سموگ پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
لاہور چھاؤنی کے مرکزی علاقوں میں کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں یہ کام کرتی ہیں۔ اگرچہ سویلین آبادی کی طرف ان کا رجوع نہیں ہوتا۔ لیکن جن پوش علاقوں میں یعنی مین چھاؤنی میں یہ کیا جاتا ہے وہاں لاہور شہر کی نسبت سموگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ لاہور میٹرو پولٹین کارپوریشن تو عوامی نمائندگی کے بغیر چل رہی ہے۔ شاید اسی لئے اس کی توجہ اس طرف نہیں اور صفائی کا مسئلہ اسے مزید پریشان کر رہا ہے۔ لیکن ریس کورس پارک۔ دیگر پارکوں اور نہر کناروں پر جو کام پی ایچ اے کر رہی ہے اس سے کارپوریشن بھی استفادہ کر سکتی ہے وہاں پی ایچ اے کے سربراہ جیسا کوئی محب لاہور ضرور ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں