اسلام کی شہید کی عظمت اور شہادت کا مقام 22

کچھ جماعتِ اسلامی کے بارے میں

53 / 100

نسیم شاہد
کچھ جماعتِ اسلامی کے بارے میں

کچھ عرصہ پہلے جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کا لاہور سے فون آیا انہوں نے مجھے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ شامل ہوں، ہمیں جنوبی پنجاب میں آپ جیسے اہل فکر و نظر کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا میں تو گاہے بہ گاہے اپنے کالموں میں جماعتِ اسلامی کی عمدہ کاوشوں کو سراہتا رہتا ہوں، کہنے لگے وہ تو ٹھیک ہے مگر ہم چاہتے ہیں آپ عملی طور پر ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔ میں نے کہا سوچتا ہوں اس بارے میں ایک روز پہلے جماعتِ اسلامی ملتان کے میڈیا کوآرڈینیٹر برائے جنوبی پنجاب کنور محمد صدیق گھر تشریف لائے۔ تو انہوں نے باضابطہ طور پر مجھے جماعتِ اسلامی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ میں نے کہا کنور صاحب اس عمر میں کیا سیاست کرنی، اب تو قلم و قرطاس کا تعلق ہی مناسب لگتا ہے۔

کہنے لگے آپ جماعتِ اسلامی میں شامل ہو کر یہی شعبہ سنبھال لیں اب میں کیا جواب دیتا کہ جس قلم کو بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑنے کی عادت ہے، وہ کسی کھونٹے سے کیسے بندھ سکتا ہے۔ بہرحال میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے توسط سے سراج الحق کا بھی کہ وہ اتنی محبت سے یاد کرتے ہیں اس موقع پر میں نے کنور محمد صدیق کو جماعتِ اسلامی کے لئے ایک سلوگن تخفتاً دیا اور کہا اگر جماعتِ اسلامی اس سلوگن کو عوام کے دلوں میں اتارنے کی حکمتِ عملی بنا لیتی ہے تو آنے والے انتخابات میں عوام اس کے حق میں فیصلہ دے سکتے ہیں، وہ سلوگن تھا۔ ”سب کو آزما لیا، اب صرف جماعت اسلامی“ کنور صدیق نے کہا کہ وہ اس سلوگن کو ملتان سے لانچ کریں گے اور پھر پورے پاکستان میں یہ آواز پہنچائی جائے گی۔
جماعتِ اسلامی نے چند روز پہلے ملتان میں ایک جلسہ کیا، اس جلسے کو مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف عوام کی آواز قرار دیا۔ جلسہ بھرپور نہیں تھا، مگر اس کے باوجود اس میں جو باتیں امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق اور دیگر رہنماؤں نے کیں وہ آج کے تناظر میں ضروری تھیں وگرنہ تو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے سیاسی مخالفت ہی کی جا رہی ہے، عوام کے مسائل اور مہنگائی پر آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ کل ہی میں نے دیکھا کہ بلاول بھٹو زرداری امیر جماعتِ اسلامی سے ملاقات کرنے منصورہ لاہور گئے۔ اس موقع پر سراج الحق نے کہا کہ آصف زرداری بھی دو بار منصورہ آ چکے ہیں یہ اچھی بات ہے کہ جماعتِ اسلامی نے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں پیپلزپارٹی سے جماعتِ اسلامی کی پاکستان کے سیاسی محاذ پر کبھی نہیں بنی۔ بھٹو کے زمانے میں اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں صرف جماعتِ اسلامی تھی۔ حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی لاڑکانہ سے جماعتِ اسلامی کے جان محمد عباسی ہی نے انتخاب لڑنے کی جرأت کی تھی۔

جماعتِ اسلامی نے تقریباً ہر جماعت سے سیاسی اتحاد کیا سوائے پیپلزپارٹی کے مگر اب حالات بدل رہے ہیں، سب سے پہلے آصف علی زرداری نے منصورہ جا کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی اور اب بلاول بھٹو زرداری بھی وہاں گئے۔ فوری مقصد تو سینٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر بنوانے کے لئے جماعت اسلامی کے ایک ووٹ کی حمایت حاصل کرنا تھا جو اتفاق سے یوسف رضا گیلانی کو نہ مل سکا تھا تاہم دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں جو باتیں کیں، وہ اس لحاظ سے حوصلہ افزا تھیں کہ جس قسم کی سیاسی پولرائزیشن کا ہم شکار ہیں، اس میں ایسی مفاہمت کی ہوائیں چلتی رہنی چاہئیں۔ دونوں رہنماؤں نے یہ تسلیم کیا کہ جماعتِ اسلامی اور پیپلزپارٹی کے نظریات میں بہت فرق ہے، تاہم جمہوریت اور قومی اداروں کی خود مختاری اور بلا امتیاز احتساب کے معاملے پر ہم ایک ہیں۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ جماعتِ اسلامی کو اب ایک علیحدہ سیاسی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ میں نے دو سال پہلے ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان جماعتِ اسلامی تنہا پرواز کب کرے گی؟ تھا اس کالم میں جماعتِ اسلامی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ نظریہئ ضرورت کے تحت مختلف سیاسی اتحادوں میں شامل ہونے کی بجائے اپنا علیحدہ تشخص منوائے۔

کنور محمد صدیق نے دورانِ گفتگو مجھے بتایا کہ جماعتِ اسلامی اصولی طور پر یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ اب کسی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بننا اور عام انتخابات میں بھی صرف جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے امیدوار کھڑے کئے جائیں گے۔ جماعتِ اسلامی حکومت اور پی ڈی ایم دونوں کے خلاف یکساں موقف اپنائے ہوئے ہے۔کنور محمد صدیق جو ایک کارکن کے طور پر جماعتِ اسلامی میں شامل ہوئے اور آج انہیں جماعتِ اسلامی کے ساتھ جڑے کئی دہائیاں بیت گئی ہیں بتا رہے تھے کہ جماعتِ اسلامی کا کارکن خود کنفیوژن کا شکار تھا کہ جماعتِ اسلامی کا سیاسی تشخص کیا ہے، 1970ء کے انتخابات سے لے کر 2018ء کے انتخابات تک جماعتِ اسلامی اپنے انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑی، مختلف سیاسی و انتخابی اتحادوں میں شامل ہو کر انتخابات میں حصہ لیا اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی صرف اپنی سیاست کرے گی اور عوام کو یہ احساس دلائے گی کہ صرف یہی وہ جماعت ہے جو ان کے اور قوم کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے اور پروگرام بھی۔

میرے نزدیک جماعتِ اسلامی نے اگر یہ فیصلہ کر لیا ہے تو بہت اچھا کیا ہے۔ اس وقت حالات کچھ ایسے بن گئے ہیں کہ ایک طرف وہ دو جماعتیں ہیں جنہوں نے تین تین بار اس ملک میں حکومتیں بنائیں اور ملک کی تقدیر نہ بدل سکیں۔ دوسری طرف موجودہ حکومت ہے، جو نیا پاکستان اور خوشحالی کا نعرہ لگا کر میدان میں آئی لیکن ہر شعبے میں اپنی بدترین پرفارمنس کی وجہ سے عوام کی توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔ یہ سوال تو لوگ اکثر مجھ سے بھی پوچھتے ہیں کہ اگر عمران خان کو ہٹایا جاتا ہے تو کیا پھر وہی پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ (ن) آ جائیں گی، اب ایسے لوگوں کو اگر یقین دلا دیا جائے کہ جماعتِ اسلامی ایک تیسرا آپشن ہے، جس پر لوٹ مار کا کوئی الزام نہیں اور جس کے پاس قومی مسائل کے حل کا ایک جامع پروگرام بھی ہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے۔ کام مشکل ضرور ہے مگر سیاست میں کایا پلٹتے دیر نہیں لگتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں