naseem akhter 26

آصف زرداری، سب سے بڑا کھلاڑی

53 / 100

آصف زرداری، سب سے بڑا کھلاڑی
نسیم شاہد

پس ثابت ہوا کہ آصف علی زرداری پاکستانی سیاست کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔ تحریک چلانی ہو یا چلتی تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہو، آصف علی زرداری سے بہتر کوئی کھلاڑی نہیں پہلے پی ڈی ایم بنوائی اور اب پی ڈی ایم گرائی ایک ہی شخص ایسے جادوئی کرتب اس وقت دکھا سکتا ہے جب اس کی نظر شطرنج کے سب مہروں پر ہو اور کھیل پر مکمل گرفت بھی رکھتا ہو۔ کتنے جوش و خروش سے پی ڈی ایم کی تحریک شروع ہوئی تھی اور کتنی بے دلی کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا کہ 26 مارچ کا لانگ مارچ نہیں ہوگا۔ مایوسی کا یہ عالم تھا کہ مولانا فضل الرحمن دو جملے کہہ کر رخصت ہو گئے، بعد میں کچھ اشک شوئی مریم نواز اور یوسف رضا گیلانی نے کی۔ آصف علی زرداری نے ایک ضدی بچے کی طرح بات اس نکتے پر ختم کی کہ نوازشریف واپس آئیں، تحریک میں شامل ہوں، تو استعفوں پر غور کیا جائے گا۔

اب کوئی پوچھے کہ حضرت آج سے تین ماہ پہلے جب استعفے پارٹی سربراہوں کے پاس جمع کرانے کا فیصلہ ہوا تھا، تو اس وقت آپ نے یہ شرط کیوں نہ لگائی کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس وقت تحریک کا ٹمپو بنانا مقصود تھا، اب چونکہ تحریک کو ختم کرنا مقصود ہے اس لئے اچانک شرط رکھ دی کہ نوازشریف واپس آئیں ایک عام آدمی کو بھی معلوم ہے کہ فی الوقت نوازشریف کا واپس آنا ناممکنات میں سے ہے اس لئے آصف علی زرداری نے وہ شرط رکھی جو پوری نہ ہو سکے۔ کیا اعلیٰ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ گیند بھی شریف فیملی کی کورٹ میں ڈال دی اور جنہیں خوش کرنا تھا انہیں خوش بھی کر دیا۔ اب یہ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے والی بات ہے کہ استعفوں کا معاملہ پیپلزپارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا سب جانتے ہیں کہ سی ای سی کس چڑیا کا نام ہے اور وہ آصف علی زرداری کے آگے پر مارنے کی جرأت نہیں رکھتی، اس لئے اب کسی خوش فہمی میں رہنے کی بجائے پی ڈی ایم کی جماعتیں یہ مان لیں کہ عملاً اس کا وجود ختم ہو چکا ہے، کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے۔

یہ تو وقت بتائے گا آصف علی زرداری نے کیا ٹرمپ کارڈ استعمال کیا اور حکومت کے خلاف تحریک کو سرد کرنے پر کہاں کہاں کیا کیا معاملات طے کئے۔ تاہم ایک بات واضح ہو گئی کہ سیاست میں حقیقت وہ نہیں ہوتی جو سامنے نظر آتی ہے بلکہ وہ ہوتی ہے جو ایسے مواقع پر ابھرتی ہے کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی تھی کہ شروع دن سے آصف علی زرداری پی ڈی ایم کی باقی سیاسی جماعتوں سے دوسری رائے رکھتے تھے۔ حتٰی کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کی بھی نفی کر دیتے تھے جب پہلی بار استعفوں کا شور اٹھا تو بلاول بھٹو زرداری بھی بڑھ چڑھ کر اس میں آواز ملا رہے تھے۔ تاہم 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی برسی پر آصف علی زرداری نے جو تقریر کی وہ سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔

انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ اداروں سے لڑائی مناسب نہیں اور جدوجہد پارلیمینٹ کے اندر رہ کر کی جائے۔ اس کے بعد پھر پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی آڑ لے کر آصف علی زرداری کے ایجنڈے کو پیپلزپارٹی نے آگے بڑھایا اور استعفوں کا معاملہ ٹھپ کر دیا۔ یہ سب کچھ پی ڈی ایم کی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہونا چاہئے تھا مگر وہ آصف علی زرداری کی گرفت سے نہ نکل سکیں۔ پھر شیڈول پر شیڈول دیئے جاتے رہے حتیٰ کہ 26 کے لانگ مارچ کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس لانگ مارچ کے لئے خوب ماحول بنایا آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ سب کچھ آصف علی زرداری کے عین منصوبے کا حصہ تھا ماحول کو اتنا گرما دو کہ اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو کسی ہاتھ کی ضرورت پڑ جائے۔

آصف علی زرداری نے اس سارے عرصے کے دوران ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دیدیا ہے کہ آج بھی پاکستانی سیاست کی نبض پر ان کا ہاتھ ہے، وہ جب چاہیں نبض کو تیز کر سکتے ہیں اور جب چاہیں اسے روک سکتے ہیں، دوسرا شکار انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) جو آصف علی زرداری کو چور، لٹیرا کہتی نہیں تھکتی تھی اس عرصے کے دوران آصف علی زرداری کے گن گاتی رہی۔ مریم نواز، بے نظیر بھٹو کی برسی پر لاڑکانہ گئیں، بلاول ہاؤس کراچی کا دورہ کیا، آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کی تعریفوں کے پل باندھے۔ پیپلزپارٹی کی جمہوریت کے لئے قربانیوں پر خراج تحسین پیش کیا اور بلاول بھٹو زرداری کو اپنا چھوٹابھائی بنا لیا۔ ان ساری باتوں میں آصف علی زرداری کے لئے خیر ہی خیر تھی، فائدہ ہی فائدہ تھا۔ ٹی وی چینلز وہ ویڈیو کلپس دکھا دکھا کر ہلکان ہو گئے جن میں نوازشریف، آصف علی زرداری کو قومی خزانہ لوٹنے والا قرار دیتے تھے اور شہباز شریف انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے نیز پیٹ پھاڑ کر سرمایہ واپس لانے کا اعلان کرتے تھے۔
ان ساری باتوں، سارے الزامات پر خود مسلم لیگ (ن) نے پانی پھیر کر انہیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا۔ کل پی ڈی ایم کے اجلاس میں آصف علی زرداری کی ویڈیو لنک پر باتیں سن کر مریم نواز کو رونا آ گیا۔ شاید یہ باندھی گئی امیدیں ٹوٹنے کا اثر تھا۔ مریم نواز تو آصف علی زرداری کی مہارتوں کو نہیں جانتی تھیں۔ نوازشریف تو اچھی طرح جانتے تھے پھر وہ اس سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیوں نہ کر سکے جو آصف علی زرداری نے دکھائی، کیوں مسلم لیگ (ن) کو پیپلزپارٹی کی جھولی میں ڈال دیا۔

سیاست بڑی ظالم شے ہے خاص طور پر اقتدار کی سیاست تو بے رحمی کی انتہا کر دیتی ہے استعفوں کی امید رکھنے والوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ پی ڈی ایم کے اتحاد میں صرف پیپلزپارٹی ہی وہ جماعت ہے جو ایک صوبے کی حکومت سنبھالے ہوئے ہے۔ سندھ میں سیاہ و سفید کے مالک آصف علی زرداری کو کیا پڑی ہے کہ ایک سونے کی چڑیا کو چھوڑ کر وہ ان لوگوں کے ساتھ آکھڑے ہوں جو اقتدار کے لئے بیتاب ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ انتخابات جب بھی ہوں سندھ میں پیپلزپارٹی اقتدار میں آئے گی۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ استعفے دے کر تحریک انصاف، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کو سندھ میں حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔ یہ ایسی سادہ سی بات ہے کہ ایک کند ذہن کو بھی سمجھ آ سکتی ہے مگر نوازشریف کو سمجھ آئی اور نہ مولانا فضل الرحمن کو، وہ یہ امید لگا کے بیٹھ گئے کہ آصف علی زرداری جمہوریت کی خاطر یہ قربانی بھی دے ڈالیں گے۔ خوش فہمی کے اس غبارے سے سوئی مار کر آصف علی زرداری نے ہوا نکال دی ہے وہ ایک فاتح کی طرح مسکرا رہے ہیں اور پی ڈی ایم کے متاثرین دور کھڑے پیچ و تاب کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں