Mufti Gulzar Ahmed Naeemi 143

عالمی یوم خواتین پر بے ہودگی

54 / 100

عالمی یوم خواتین پر بے ہودگی
تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
عالمی یوم خواتین کے پس منظر میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں کچھ استحصال زدہ مظلوم خواتین نے اپنی تنخواہوں اور دیگر مسائل کے حل کےلیے احتجاجی جلوس نکالا تھا۔اس جلوس کی شرکاء خواتین پر امریکی انتظامیہ نے گھوڑے چڑھا دیے۔متعدد معصوم خواتین کو گھوڑوں کی سموں کے نیچےبے دردی سےکچل دیا گیا۔ان مقتولات کی یاد میں 28 فروری 1909 کو پہلی مرتبہ امریکہ میں بین الاقوامی یوم خواتین منایا گیا۔1910 کو ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں پہلی بین الاقوامی خواتین کانفرنس منعقد ہوئی۔پھر 8 مارچ 1913 کو پورے یورپ میں عالمی یوم خواتین منایا گیا۔تب سے لیکر آج تک یہ دن 8 مارچ کوپوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا اصل مقصد پوری دنیا میں ظلم وستم کا شکار خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔
آج کی دنیا میں عورت کے مسائل کے حل کی طرف توجہ نہیں دی جارہی بلکہ عورت کی آزادی اور اسے مردوں کے برابر کھڑا کرنے پر سارا زور صرف ہورہا ہے۔آج عورت آزادی مانگ رہی ہے۔خاندانی روایات سے آزادی، اخلاقیات سے آزادی اور مذہب سے آزادی۔وہ یہ سمجھ رہی ہے کہ اگر وہ مذہب، اخلاق اور خاندانی روایات کی پابندیوں سے آزاد ہوجائے تو وہ حقیقی معنوں میں آزاد ہوجائے گی۔
یورپ اور امریکہ میں خواتین و حضرات نے اپنے آپ کو مذہبی پابندیوں سے آزاد کر لیا ہے۔انہوں نے خاندان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔اب وہاں شادی کی معنویت ختم ہوگئی ہے۔شادی اور نکاح کی جگہ شراکت داری نے لے لی ہے۔اب وہاں میاں بیوی کا تصور مٹ گیا ہے اسکی جگہ “لائف پارٹنر” کا تصور آگیا ہے۔مرد اور عورت کے ملاپ کا مقصد محض جنسی تسکین ہے۔
سوال یہ ہے کہ عورت کو کیا چاہیے؟ عزت یا آزادی؟ اگر اسے عزت چاہیےتو اسے اسلام کے علاوہ کہیں اور نہیں ملے گی۔اسلام نے اسے گھر کی مالکہ اور ملکہ کا مقام دیا ہے۔اسلامی معاشروں میں اسے عزت وتکریم کا مقام حاصل ہے۔گھر سے لیکر بازار تک اسے ہر جگہ عزت ملتی ہے۔وہ بس میں سوار ہو تو مرداس کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیتے ہیں۔اگر عورت اپنی عزت وتقدس کی پامالی اور جسم فروشی کو آزادی سمجھتی ہے تو یہ بالکل ایک غیر فطری مطالبہ ہے جسکی اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔اسلام نے عورت کو عزت کا مقام اس کے محض عورت ہونے کی وجہ سے دیا ہے۔اس کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کی وجہ سے نہیں۔اسلام کے علاوہ دنیا کی کسی تہذیب میں یہ عظمت نہیں پائی جاتی۔ابھی چند ہفتہ پہلے بھارتی فوج کے دس درندوں نےبیاسی سالہ (82)ایک مظلوم معمر کشمیری خاتون سے زنا بالجبر کیا ہے۔یہ کسی معاشرے کے لیے قیامت سے کم نہیں کہ اس دھرتی کی 82 سالہ بوڑھی خاتون کی عصمت کو یوں تارتار کیا جائے۔اس کے مقابلہ میں کسی بھی اسلامی معاشرے میں ایسی معمر غیر مسلم خاتوں سے زیادتی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
آج دنیا کی زمام اقتدار مغرب کے پاس ہےاور وہ دنیا کو علم اور دلیل کی بنیاد پر اپنے موقف سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے۔اس کے پاس عورت کی آزادی کا نعرہ لگانے کے جواز کی کوئی مسکت دلیل نہیں ہے۔وہ دنیا کو علمی اور فکری دلائل سے قائل نہیں کر سکتا۔اس نے انسانی جبلت سے سوئے استفادہ کیا ہے۔عورت کو برسر بازار عریاں کر کے کہا کہ یہ تیری آزادی ہے۔
آجکل پاکستان میں بھی حقوق نسواں کی بنیاد پر پاکستانی تہذیب و ثقافت پر خطرناک حملے کیے جارہے ہیں۔پاکستان میں چند گنی چنی مادر پدر آزاد خواتین پاکستان کی پوری معاشرت کو گدلا کرنا چاہتی ہیں۔ان کے پیچھے اسلام مخالف اور پاکستان مخالف این جی اوز کار فرما ہیں جو پاکستان کو ہر سطح پر کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ہر سال یہ خواتین نئی حکمت عملی اور نئے نعروں کے ساتھ ہماری روایات پر حملہ آور ہوتی ہیں۔پچھلے سال انکا نعرہ تھا “میرا جسم میری مرضی” اس سال آزادی کے نام پر انہوں اللہ اور اس کے رسول کی اتھارٹی کو بھی چلینج کیا۔قائد اعظم اور علامہ اقبال، ریاست اور حکومت سے بھی علی اعلان برآت کا اظہار کیا۔ان نعروں سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ یہاں الحاد اور سیکولرزم کو فروع دینے کی حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے۔اسی دن لاہور میں بھی کچھ نوجوانوں نےآزادی کے نعرے لگائے۔ان اوباش عورتوں اور مردوں کا مقصد جنسی آزادی کو فروغ دینا ہے۔یہ ہم جنس پرستی کوقانونی حیثیت دلوانا چاہتے ہیں۔چونکہ مذہب انکے ان مذموم مقاصد کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لیے وہ مذہب پر اپنی پوری توانائی اور شدت کے ساتھ حملہ آور ہیں۔ان کےبپیش نظر خواتین کے مسائل بالکل نہیں ہیں۔یہ دیہات میں رہنے والی مظلوم خواتین کی بات نہیں کرتے، یہ ملوں اور فیکٹریوں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی ہوس کا نشانہ بننے والی عفت مآب خواتین کی بات بالکل نہیں کرتے۔انہوں نے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حقوق کی بات نہیں کی۔یہ اللہ اور اسکے رسول سے آزادی کا تقاضہ کررہے تھے۔یہ قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال سے آزادی کا مطالبہ کررہے تھے۔یہ اعلی انسانی قدروں سے آزادی کا مطالبہ کررہے تھے۔یہ ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔یہ علی اعلان کہہ رہے تھے کہ اگر ہمارے اس مطالبہ کی وجہ سے پاکستانی قوم پر عذاب الہی آتا ہے تو آتا رہے۔
ان کے اس طرح کے نعروں سے اسلام سے انحراف اور آئین پاکستان سے انحراف بالکل واضح ہے۔انہوں نے اللہ اور اسکے رسول کی توہین کی ہے انہوں آئین پاکستان کی توہین کی ہے۔ان کی ایسی شنیع اور بدبخت حرکتوں پر حکومت اور ریاستی اداروں کا خاموش رہنا سمجھ سے بالا تر اور بہت ہی قابل افسوس ہے۔ہم حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان مٹھی بھر چند ملک دشمن عناصر کو قانون کے دائرے میں لائیں۔اگر حکومت نے ان مادر پدر آزاد لوگوں کو قانونی لگام نہ دی تو پاکستان میں امن و امان کی فضا ایسی خراب ہوگی کہ پھر اس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں