49

یومِ خواتین اور ہم (1)

53 / 100

یومِ خواتین اور ہم (1)

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان
کل پاکستان بھر میں عالمی یومِ خواتین منایا گیا…… اس طرح کے نجانے کتنے ’ایام‘ ہم پاکستانی مناتے اور ’عالمی غلامی‘ کا تاج سر پر سجاتے ہیں۔ یوم والد، یومِ والدہ، یومِ مزدوراں، یومِ بزرگاں، یومِ طفلاں وغیرہ درجنوں ’یوم‘ ہمارے ہاں منائے جاتے ہیں۔ اگر آپ یورپ اور امریکہ میں رہتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں یومِ شب برات، یومِ ساون، یومِ بیساکھ، یومِ بہار، یومِ خزاں، یومِ حقوقِ زوجین، یومِ ڈاکہ زنی، یومِ منی لانڈرنگ، یومِ خاتمہ ء مارشل لاء، یومِ پس ماندگی اور یومِ جمہوریت نہیں منائے جاتے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خالصتاً اسلامی یا پاکستانی ’یوم‘ ہیں۔ ان کو صرف اہلِ مشرق ہی مناتے ہیں کہ جہاں مارشل لاؤں کا دور دورہ رہا ہے، منی لانڈرنگ کا چلن عام ہے اور جمہوریت کے حسن کا ماہتاب جگمگا رہا ہے۔ یہ لکھتے ہوئے مجھے ندامت محسوس ہوتی ہے کہ ہم ویلنٹائن ڈے تو مناتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ جس کلچر کے تتبع میں یہ یوم منایا جاتا ہے وہ ہمارا کلچر اور ہماری ثقافت کی ضد ہے…… یومِ خواتین کا حال بھی یہی ہے۔

ساری دنیا میں یومِ مئی منایا جاتا ہے لیکن جہاں مغرب میں یہ دن اب مزدوروں کی آزادی اور نجات کا دن ہے وہاں مشرق میں (میری مراد برصغیر سے ہے) یہی دن غریب غرباء اور مزدوروں کی حالتِ زار کی عکاسی کا دن بھی ہے۔ اہلِ مغرب نے 1889ء میں یہ یومِ مئی مزدوروں کی سپورٹ میں منایا تھا۔ لیکن آج وہ مغرب اس دن کو ’یومِ بہار‘ کے طور پر مناتا ہے اور یکم مئی کو ”لیبر ڈے“ کا لیبل لگا کر ختم کر چکا ہے۔ ہمارے ہاں بسنت، بیساکھی اور بہار ایک ہی موسم کے نام تھے۔ لیکن ہم نے بسنت کو راہگیروں کے گلے پر ڈور پھیر کر یومِ قتل میں تبدیل کر دیا اور بیساکھ کے مہینے میں جب سرسوں پھولتی تھی تو ہم نے اسے ایک ہندوانہ رسم قرار دے دیا اور اس کی جگہ ’یوم بہاراں‘ کا نام اپنا لیا۔ لیکن گرین گیسوں کے طفیل آج کل تو بہار آتی ہی نہیں …… سردیاں ختم ہوتی ہیں اور ہیٹرز بند کئے جاتے ہیں تو اگلے روز ACکھل جاتے ہیں!

ہمارے پاکستان میں یومِ خواتین کا وہ تصور نہیں جو مغرب میں مروج ہے۔ وہاں کی خواتین کے حقوق اور طرح کے ہیں اور ہماری خواتین کے شب و روز کسی اور طرح سے گزرتے ہیں۔ ہم جب یومِ مئی مناتے ہیں تو اخباروں میں بھٹہ مزدوروں کو اینٹیں بناتے ہوئے دکھاتے ہیں۔ مزدور کا پورا خاندان بھٹہ پر خشت سازی میں مصروف دکھایا جاتا ہے۔ ننگ دھڑنگ بچے اور بچیاں، نحیف و نزار خواتین اور افلاس زدگی کا شکار مزدوروں کے چہرے!…… یا یہ ہوتا ہے کہ ایک 80سالہ بوڑھے کو لکڑیوں کا ایک بڑا سا گٹھا سر پر اٹھائے دکھایا جاتا ہے۔ اس کی تہمد گھٹنوں سے اوپر اور قمیض جگہ جگہ سے تار تار، چہرے پر اَن گنت جھریاں اور ہاتھ میں پکڑی ایک منحنی سی لکڑی جس کو ٹیکتا ہوا وہ مردِ ہشتاد سالہ آہستہ آہستہ چلا جا رہا ہے۔ اخبار والوں نے اس تصویر کے نیچے جو عنوان (Caption) لگایا ہوتا ہے وہ اقبال کا یہ مصرع ہے:

یومِ خواتین منانے کا پاکستانی میڈیائی تصور بھی یہ ہے کہ کسی خاتون کو گندم کی کٹائی اور کپاس کی چنائی کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، کوئی سیاہ بخت کوئلے کی کان سے سر پر کوئلوں بھری ٹوکری اٹھا کر نکل رہی ہے اور ایک 70سالہ بزرگ خاتون کسی سبزی کی دکان پر بیٹھی سبزی تول رہی ہے۔ لاہور کینال کے کناروں پر یہ مناظر عام ہیں کہ خواتین مختلف پھلوں کی ٹوکریاں سامنے رکھے ہاتھ میں ترازو پکڑے گاہکوں کو بھگتا رہی ہیں۔ کل کے خواتین ڈے پر بھی یہی مناظر میڈیا کی زینت بنے دیکھے جا سکتے تھے۔ یہ ’جھوٹ‘ کئی عشروں سے بولا جا رہا ہے۔ہمارے میڈیا کو خبر ہی نہیں کہ پاکستانی خواتین کہاں سے کہاں جا پہنچی ہیں …… کون سا شعبہ ہے جس میں خواتین کی بھرپور نمائندگی نہیں۔ میڈیکل اور ٹیچنگ کے شعبے بھی وہ پہلے والے نہیں رہے۔
خواتین ان روائتی شعبوں میں بھی مردوں سے آگے ہیں (اور بہت آگے ہیں) پاکستان میں ہر شعبہ ء زندگی میں خواتین کا عمل دخل روز افزوں ہے۔ اور تواور، سیکیورٹی سروسز (افواجِ پاکستان، پولیس فورس اور انٹیلی جنس کمیونٹی) میں بھی ان کی کارکردگی حیران کن اور قابل صد ستائش ہے۔ ہمارا میڈیا ان خواتین کو کم کم دکھاتا ہے اور یومِ خواتین کا استحصال کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ ہم یہ بھی نہیں دیکھتے کہ جو مناظر اور جو خبریں ہم اپنے میڈیا پر دکھاتے اور شائع کرتے ہیں ان کو دیکھ اور پڑھ کر غیر ملکی ناظر اور قاری پاکستان کا کیسا تصور ذہن میں لائے گا۔

میرے ایک محترم دوست جو پولیس میں اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائر ہوئے ان کی طرف سے کل ایک وڈیو موصول ہوئی جس میں دس گیارہ تصاویر تھیں اور ساتھ ان پر یہ تبصرہ بھی تھا کہ یہ اندرون لاہور کی ایک ”گلی سجان سنگھ“ کی وہ تصاویر ہیں جو والڈ سٹی اتھارٹی (Walled City Authority) کی طرف سے جاری کی گئی ہیں ……
سیوریج لائن ڈال دی گئی ہے۔ دائیں بائیں کے مکانات تو وہی ہیں لیکن ان پر رنگ و روغن کرکے ان کو دیدہ زیب بنا دیا گیا ہے۔ گلی کے درمیان زمین سے 15فٹ اونچی خوبصورت قمقموں اور روشنیوں کی ایک قطار بنا دی گئی ہے۔ ان کو آپ مغل دور کے فانوس بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد چار تصاویر وہ ہیں جن میں غیر ملکی سیاح گلی کے فرش پر بیٹھے ہیں۔ ایک خوبصورت گوری خاتون جو غیر ملکی ہے وہ نقارہ سامنے رکھ کر اس پر ہاتھوں کی تھاپ سے ایک ڈھولک کی سی موسیقی کا سماں پیدا کر رہی ہے۔ ساتھ میں ایک 70سالہ سیاہ رنگت کا بابا جو پاکستانی ہے وہ گھڑے پر ہاتھ مار کر ڈھولک بدست سیم تن حسینہ کے ساتھ سنگت کر رہا ہے اور ایک پاکستانی اپنے موبائل میں اس منظر کو عکس بند کررہا ہے۔ سامنے گلی سجان سنگھ کا وہی منظر ہے جو دس بارہ میٹر تک دعوتِ نظارہ دے رہا ہے۔ میرے دوست نے اس پر جو تبصرہ لکھا ہے وہ یہ ہے: ”اندرونِ شہر لاہور کی ایک گلی جس کا نام گلی سجان سنگھ ہے، جس کو والڈ سٹی اتھارٹی لاہور نے تزئینِ نو کرکے ایک قابلِ دید منظر میں بدل دیا ہے“۔

میرا تبصرہ ان سے بہت مختلف تھا…… وہ میں یہاں درج کرکے آپ کی چشم خراشی کرنا نہیں چاہوں گا لیکن ”خیال خراشی“ تو کر سکتا ہوں۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ ہم آج پون صدی گزر جانے کے بعد بھی برصغیر کی غلامانہ ذہنیت سے باہر نہیں نکل سکے۔ وہ سیاح خواتین جو گلی میں بیٹھی نقارہ پیٹ رہی اور پنجابی بابا کے گھڑے کی تھاپ پر کسی پنجابی لوک دھن کی نقالی کر رہی تھیں وہ گویا مغرب کی ’میم صاحبہ‘ تھیں جن کا رنگ و روپ دیدنی تھا لیکن ان کے ساتھ جو کالے رنگ کا پاکستانی بابا گھڑا بجا رہا تھا اس کا سراپا بھی قابلِ دید تھا۔ وہ گھڑا بجا رہا تھا اور میں یہ دیکھ رہا تھا کہ وہ اپنی غربت کا ماتم کر رہا ہے اور جن خواتین کے آگے کر رہا ہے وہ گویا اگست 1947ء سے پہلے والی گوری رنگت اور سڈول جسم و جاں کی وہ خواتین ہیں جو کبھی ملکہ وکٹوریہ کے نام سے پورے ہندوستان کی ملکہ ء معظمہ تھیں اور آج ملکہ الزبتھ دوم کے نام سے لندن میں فروکش ہو کر بھی پاکستانی ثقافت کو بہ نگاہِ تحقیر دیکھ رہی ہیں لیکن ہنس رہی ہیں اور اداکاری کرکے ہمیں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ دیکھو ہم اس تنگ سی پاکستانی گلی کی تزئین و آرائش کے درمیان کالے کلوٹے بوڑھے گھڑا بجانے والی کی ہنسی اڑا رہی ہیں!……

ہماری یہ روش، میرے نزدیک ایک غلامانہ روش ہے۔ آپ اسے میرا احساسِ محرومی یا کمتری بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ شائد ٹھیک ہوں گے اور میں ہی غلط ہوں گا۔ لیکن ہم جو یومِ خواتین منانے کا تصور اپنے ذہن میں رکھتے ہیں، وہ اس تصور سے بالکل 180ڈگری اُلٹ ہے جو مغرب میں ہے اور الحمدللہ اب پاکستان میں بھی ہماری خواتین اسلامی تہذیب و تمدن کی حدود و قیود میں رہ کر مغرب کی خواتین کے نہ صرف ہم پلہ ہیں بلکہ کئی شعبوں میں ان سے آگے نکل گئی ہیں اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں