اشرافیہ کی باندی 55

پاکستان، میری جنت

53 / 100

پاکستان، میری جنت
نسیم شاہد

میں صدق دل سے یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے پیارے وطن پاکستان کی وجہ سے ہوں میرا نام، میری شناخت، میری روزی روٹی اور میرا حسب نسب اس وطن کی وجہ سے ہے ہاں مجھے بہت سی شکایات ہوتی ہیں، لوگوں سے، سرکاری اداروں سے، سیاستدانوں سے، نظام انصاف سے اور اس معاشرے کی طاقتور اشرافیہ سے، مگر مجھے اپنے وطن سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ میں کبھی یہ کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا میں پاکستان نہیں کسی گٹر میں رہ رہا ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان تو میری پناہ گاہ ہے۔ میری حفاظت ہے، میری زندگی ہے، یہ نہیں ہے تو میں نہیں، اس کے بغیر میری کیا شناخت ہے کیا زندگی ہے۔ میں جب دیکھتا ہوں کہ جن قوموں کے وطن چھن گئے، آزادیاں چھن گئیں، ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے، وہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے طور پر زندگی گزار رہی ہیں، ان کے اپنے ملک پر قبضے ہو چکے ہیں، آزادی ان کے لئے ایک خواب بن گئی ہے سر اٹھا کے جینا اور فخر سے زندگی گزارنا ان کے لئے نا ممکن سی بات ہے کوئی ان سے پوچھے اپنے ملک کی قدر کیا ہوتی ہے یہ بھرے ہوئے پیٹ والوں کے چونچلے ہیں کہ وہ آزادی کو رتی بھر اہمیت نہیں دیتے اور پاؤں میں راہ چلتے کانٹا بھی چبھ جائے تو پہلی گالی وطن کو نکالتے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ راستے کے کانٹے صاف کرنا کچھ ان کا بھی تو فرض تھا۔ یہ وطن ان سے بھی تو کچھ تقاضا کرتا ہے، اپنے حصے کا فرض ادا نہ کر کے پاکستان کو کوسنے والے صرف وطن عزیز ہی میں پائے جاتے ہیں، دنیا میں شاید ہی اس مخلوق کا کہیں وجود ہو۔

اشفاق احمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ پاکستان کو کسی ان پڑھ نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اس بات میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے پاکستان کو برا بھی کسی ان پڑھ نے نہیں کہا۔ یہ کام بھی انہی لوگوں کا ہے جنہیں اس ملک نے روڑی سے سونا بنا دیا جو لکھ پتی سے ارب پتی بن گئے ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسے لوگ ساری زندگی پاکستان کے گن گاتے رہیں اسے جنت ارضی کہیں۔ اس پر صدقے واری جائیں مگر مشاہدے میں یہی آیا ہے کہ محنت مزدوری کر کے روکھی سوکھی کھانے والے پاکستان پر جان چھڑکتے ہیں، اس کے بارے میں کوئی ایک غلط بات بھی نہیں سننا چاہتے اور جن کی اس ملک خدا داد کی وجہ سے پانچوں گھی میں ہیں، وہ بات بے بات اس میں کیڑے نکالتے ہیں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اگر پاکستان نہ ہوتا تو شاید وہ بھی کسی غلام ملک میں کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی گزار رہے ہوتے ان کی شناخت ہوتی اور نہ کروفر ہوتا، اربوں روپے کی اندرون و بیرون ملک جائیدادیں ہوتیں اور نہ سرکاری خرچ پر شاہانہ زندگی گزارنے کے مواقع ملتے۔

یہ سب کچھ تو انہیں پاکستان کی وجہ سے ملا ہے اور ذہنی پستی کی حد یہ ہے کہ پاکستان کو ہی برا بھلا کہتے ہیں پاکستان برا نہیں ہے بھائی تم برے ہو، تمہارا ذہن برا ہے، تمہاری سوچ گھٹیا ہے اور تم اس تمیز سے عاری ہو چکے ہو، جو ملک اور اس کے نظام میں ہوتی ہے۔ کس ملک میں نظام اور اس کے اداروں سے شکایات پیدا نہیں ہوتیں، امریکہ جیسے ملک میں پولیس کالے کو مار دیتی ہے پورے ملک میں احتجاج ہوتا ہے، امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ پولیس کے خلاف وہاں کوئی یہ نہیں کہتا کہ ہم امریکہ نہیں گٹر میں رہ رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں امریکہ ان کی ریاست ہے، ان کا گھر ہے، اگر کچھ افراد سے شکایت بھی پیدا ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکہ کو گالی دی جائے۔

یہاں پوری آزادی اور سہولتوں سے فیض یاب ہونے والا کسی ایک واقعہ کی وجہ سے یہ بیان جاری کر دیتا ہے کہ پاکستان اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ کوئی اسے پولیس اسٹیٹ کہتا ہے اور کوئی مافیا کی جنت، جن کے پاس وسائل ہیں، جن کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں وہ تو بڑی سہولت سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ پاکستان رہنے کے قابل نہیں مگر وہ کروڑوں پاکستانی جن کا جینا مرنا پاکستان میں ہے وہ اس طرح نہیں سوچتے بلکہ ان کی سوچ کا محور یہ خیال ہوتا ہے کہ پاکستان کو برائیوں سے بچانے کے لئے ہمیں جدوجہد کرنی ہو گی، اسے ٹھیک کرنا ہوگا، کیونکہ یہ ہمارا گھر ہے اور گھر کی حفاظت و تکریم ہم پر فرض ہے۔ وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ انہیں یہ ملک چھوڑ دینا چاہئے یہ کام تو انہیں موت سے بھی زیادہ بھیانک لگتا ہے وہ اس مٹی میں دفن ہونا چاہتے ہیں اور ان کے ذہن میں ہمیشہ وہ قربانیاں زندہ رہتی ہیں جو ان کے آباؤ اجداد نے اس ملک کو بنانے کے لئے دیں۔ وہ اس ملک کو عطیہ خداوندی سمجھتے ہیں حالانکہ انہیں یہاں کوئی بہت بڑا سرکاری منصب ملا، نہ ایسی شناخت ملی کہ دنیا رشک کرے، نہ اتنی آمدنی ہوئی کہ ڈھنگ کا گھر ہی بنا لیتے، مگر ان سب باتوں سے ہٹ کر ان کی سوچ اس نکتے پر ٹکی رہی کہ ہم پاکستانی ہیں۔ پاکستان ہمارا ملک ہے، ہم ایک آزاد ملک کے باشندے ہیں محرومیاں ان کے اندر بھی ابال پیدا کرتی ہیں، نظام کے ہاتھوں وہ بھی زچ ہوئے ہیں ظالم و مظلوم کے لئے قانون کے دہرے معیار پر انہیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ افراد اور اس نظام تک محدود رہتا ہے، وہ پاکستان پر کبھی حملہ آور نہیں ہوتے، وہ اسے ایک مقدس دھرتی سمجھتے ہیں، جس کی بنیادوں میں ان بزرگوں کا لہو موجود ہے۔

نجانے ہماری ہر نوع کی اشرافیہ کب اس بات کو سمجھے گی کہ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل پر آگ بگولا ہو کر پاکستان کو برا کہنے سے ان کا قد بڑا نہیں ہوتا بلکہ ان کے اندر کی خباثت باہر آ جاتی ہے۔ یہ حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں سب کچھ ان کی مرضی و منشاء کے مطابق ہوتا رہے تو یہ ملک ٹھیک ہے لیکن جونہی ان کی کسی کرپشن اور زیادتی پر اس ملک کے اداروں نے ان کی پکڑ کی، تو یہ ملک ان کے نزدیک کوڑا دان بن گیا۔ یہ ایسا گھٹیا عمل ہے، جس کے بارے میں سوچ کر ہی گھن آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں